عزیز آباد کا محلہ: دہلی کے پڑوسی اور بچپن کی ایک یاد
دہلی والوں کا ذوقِ خوراک اور ہمارے پڑوسی
کھانے پینے میں دہلی والے اپنا ایک علیحدہ ذوق رکھتے ہیں۔ عزیز آباد، بلاک نمبر آٹھ میں جہاں میرا ابتدائی بچپن گزرا، ہمارے گھر کے بالکل سامنے ایک دہلی والا گھرانہ رہتا تھا۔
غالباً یہ وہ دور تھا جب کراچی میں دہی، دودھ اور کریم وغیرہ بیچنے کا کام پنجاب کے گوجروں کے علاوہ دہلی کے لوگ بھی کرتے تھے۔ ہمارے ان پڑوسی کی دکان کا نام “وینس ڈیری فارم” تھا، اور محلے کے لوگ انہیں “وینس والے” کے نام سے جانتے تھے۔ گھر کی خواتین کو بھی “وینس والی” یا “وینس والیاں” کہا جاتا تھا۔
دودھ دہی کا کاروبار کرنے والے صاحب، ماشاءاللہ، کثیر العیال تھے، اور اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو ان کے بچوں کی تعداد دس تھی۔ کاروبار چونکہ ان کا بہت اچھا چل رہا تھا۔ بلا شبہ وہ محلہ کا ایک اچھا کھاتا پیتا گھرانہ تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت عزیز آباد کے علاقے میں محدود دکانوں کو گھروں میں دکان بنانے کی اجازت تھی
یا شاید لوگ خود ہی کاروبار کی طرف آنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ یعنی کاروبار میں وہ سخت مقابلے کی فضا نہیں تھی جو آج نظر آتی ہے۔ پورے علاقے میں ہر چیز کی اکا دکا دکانیں ہی ہوا کرتی تھیں، اور وہ دکاندار پورے محلہ میں جانا پہچانا جاتا تھا، اور محلہ کے لوگوں کو بھی وہ بخوبی جانتا تھا۔ یعنی محلہ کیا تھا گویا ایک بڑا گھرانہ تھا جو عزیز آباد میں آباد تھا۔
عزیز آباد کا تہذیبی اور سماجی ماحول
محلہ کے زیادہ تر لوگ مختلف ملازمتوں سے منسلک تھے، جن میں کچھ کالجوں کے پروفیسر، مختلف اسکولوں کے اساتذہ، اور سرکاری محکموں اور پرائیویٹ دفاتر کے ملازمین شامل تھے۔
تقریباً تمام ہی علاقے کے لوگ پڑھے لکھے اور انتہائی سلیقہ مند اور تہذیب کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ علاقے کے تمام ہی لوگ شستہ یوپی، سی پی، دکن یا بہار کی اردو بولتے تھے۔ گجراتی بولنے والے میمن افراد بھی اس علاقے میں رہائش رکھتے تھے۔
سائیکلوں، اسکوٹروں اور بسوں کا زمانہ
یہ وہ دور تھا جب پورے محلہ میں کسی کے پاس کار نہیں تھی یا کم از کم مجھے یاد نہیں۔ البتہ میرے والد کے پاس اپنے وقت کی مشہور اسکوٹر “لمبریٹا” تھی، جبکہ ہمارے دودھ والے پڑوسی کے پاس “ویسپا” تھی۔ اکثر گھروں میں سائیکلیں تھیں، اور ہر عمر کا فرد سائیکل پر سواری کرتا تھا یا پیدل چلتا پھرتا تھا۔
اس علاقے میں دو بسیں آیا کرتی تھیں، “سکس” اور “سکس اے”، اور شاید “سکس بی” بھی ہوتی تھی، مگر مجھے یقین نہیں کہ وہ عزیز آباد کی اس مین سڑک پر آیا کرتی تھیں یا نہیں۔ تمام بسیں کریم آباد، لیاقت آباد، جہانگیر روڈ اور گرومندر ہوتی ہوئی صدر اور پھر ٹاور تک جایا کرتی تھیں۔ بسوں میں کوئی خاص ہجوم نہیں ہوتا تھا اور جلد ہی مسافر کو بیٹھنے کی جگہ مل جایا کرتی تھی۔
عزیز آباد کے محلہ کی مشہور شخصیات اور مقامات
جو حضرات عزیز آباد بلاک نمبر آٹھ اور اس سے ملحق بلاک نمبر دو، تین اور نو سے واقف ہیں، ان کی آسانی کے لیے محلہ کی مشہور شخصیات، دکانوں اور مساجد کا مختصر نقشہ پیش کرتا ہوں۔ہمارا گھر عزیز آباد کی اس مین سڑک پر واقع تھا، جو بلاک نمبر ایک فیڈرل بی ایریا سے ہوتی ہوئی سیدھی راشد منہاس روڈ پر آتی ہے۔
تقریباً سب ہی عزیز آباد کے رہائشی ڈاکٹر قرنی سے بخوبی واقف ہوں گے، جن کی کلینک سڑک کے کونے پر ایک ۱۲۰ گز کے مکان میں قائم تھی، اور جس کا بیرونی دروازہ لکڑی کا تھا۔ یہ میرے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر تھی، اور جہاں مجھے ویکسین کے ٹیکے بھی لگے تھے۔ ڈاکٹر قرنی علاقے کی نامور شخصیت تھے۔ ان کو ہمارا محلہ ہی نہیں بلکہ آس پاس کے تمام علاقے والے جانتے تھے۔
مجھے کسی نے بہت پہلے بتایا کہ وہ آرمی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے دور کے بنیادی جمہوریت طرز کے انتخابات میں جماعت اسلامی کی طرف سے نمائندے منتخب ہوئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ ہی سفید پاجامہ میں ملبوس نظر آتے تھے اور کبھی کبھی سفید لکھنوی ٹوپی بھی۔
اس کلینک کے دو کمپاؤنڈر مجھے آج بھی یاد ہیں، جن میں سے ایک کا نام مقصود تھا۔ بعد میں “الوہاج کلینک و اسپتال” کے نام سے ڈاکٹر صاحب نے ایک اسپتال کھول لیا تھا جو تھوڑے ہی فاصلے پر کمپری ہینیو اسکول کے نزدیک بلاک نو میں تھا۔
اختر لائبریری اور کتابوں سے بچپن کی محبت
ڈاکٹر قرنی کی دکان کے عین سامنے، سڑک کی دوسری جانب ایک لائبریری تھی جس کا نام “اختر لائبریری” تھا۔ یہ نام لائبریری کے مالک اختر بھائی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اختر بھائی بہت خوش اخلاق تھے۔ جب بھی میں ان کی لائبریری جاتا، وہ بہت متاثر ہوتے اور میری بہت حوصلہ افزائی کرتے۔
انہیں حیرانی ہوتی کہ مجھے عام بھوت پریت کی کہانیوں سے زیادہ تاریخی اور معلوماتی کتابوں میں دلچسپی ہے۔ وہ ہمیشہ گہرے بھورے رنگ کا چشمہ لگاتے تھے، جبکہ ان کی پیٹھ پر ایک کبھ (کوہان) بھی تھی۔ بچپن میں میں ان کی دکان سے پاکٹ سائز کی تاریخی کتابیں پڑھنے کے لیے کرائے پر لاتا تھا، جو فیروز سنز نے شائع کی تھیں۔
ان کتابوں میں مختلف مسلمانوں کی تاریخ، نامور شخصیات، ہندوستان کے بادشاہوں اور سپہ سالاروں کی زندگیوں پر مواد ہوتا تھا۔ یہ کتابیں آسان زبان میں شائع کی جاتی تھیں اور خاص طور پر بچوں کے لیے تیار کی گئی تھیں۔
مزار اور مینارہ مسجد
ڈاکٹر قرنی کی کلینک سے کچھ فاصلے پر ایک مزار بھی تھا، جس کی تاریخی حقیقت سے مجھے آگاہی نہیں ہے۔
نزدیک ہی ایک مینارہ مسجد تھی، جو اسی نام سے مشہور تھی، اور لوگوں کو اپنے بلند مینار کی وجہ سے دور سے نظر آتی تھی۔ ہمارے گھر کے سامنے گھروں کی وہ پٹی تھی جس میں “وینس ڈیری فارم” قائم تھا۔
اس کے بعد بڑی سڑک آتی تھی، اور بالکل اس کے سامنے علاقے کا ایک بڑا جنرل سٹور ہوا کرتا تھا، جسے غالباً “علوی سٹور” کہتے تھے۔ اس کے مالک بہت خوش اخلاق اور خوش اطوار تھے، جو ہمیشہ سر پر جناح کیپ پہنتے تھے، اور فرینچ کٹ داڑھی رکھتے تھے۔ یہ دکان اس وقت کی علاقے کی ایک بڑی دکان سمجھی جاتی تھی، جہاں سے محلے کے لوگ باقاعدہ گھر کا راشن وغیرہ خریدتے تھے۔
بچپن کا میدان اور مٹی کی پہاڑی
ہمارے گھر کے بالکل ساتھ ہی ایک میدان تھا، جو اتنا بڑا تھا کہ آگے جا کر جناح گراؤنڈ سے مل جاتا تھا، جبکہ دوسری طرف وہ عزیز آباد کے قبرستان تک پھیلا ہوا تھا۔ اس میدان میں کسی زمانے میں ایک کنواں ہوا کرتا تھا، اور غالباً اس کنویں کی مٹی جو باہر ڈھیر کی گئی تھی، وہ جم کر ایک تودہ بن گئی تھی۔ بچپن کی نگاہ سے اس جگہ کو دیکھتا ہوں تو وہ مجھے ایک پہاڑی کی طرح یاد ہے۔
بچپن میں ہم اس پہاڑی پر چڑھنا ایک بہت بڑا کام سمجھتے تھے۔ میں اکثر ہمت کر کے اپنی تین پہیوں والی سائیکل اوپر لے جاتا تھا، اور پھر وہاں سے نیچے تیزی سے اترتا تھا۔ کئی بار گر بھی چکا ہوں، اور اپنے گھٹنوں اور ٹانگوں پر چوٹیں بھی کھائی ہیں۔ بعد میں وہ کنواں مٹی سے پاٹ دیا گیا، اور ایک ہموار میدان بن گیا، جہاں ہم بڑے اطمینان سے کھیلا کودا کرتے تھے۔
ریڈیو کارنر اور بدلتا ہوا زمانہ
عزیز آباد مین روڈ پر ایک دکان ٹی وی اور ریڈیو کی مرمت کی بھی تھی، جس کا نام “ریڈیو کارنر” تھا۔ اس کا مالک ایک نوجوان سا شخص تھا جس کا نام نسیم تھا۔
یہ اپنی نوعیت کی ایک ہی دکان تھی جو ہمارے پورے علاقے میں تھی، کیونکہ نہ تو اس وقت الیکٹرانکس کی بھرمار کا دور تھا اور نہ ہی کسی کے پاس ایئر کنڈیشنر اور فرج وغیرہ تھے۔ خال خال ہی کسی کے پاس یہ چیزیں ہوا کرتی تھیں، لہٰذا مرمت کی دکانیں بھی کم کم تھیں۔ یہ دکان اس میدان کے ساتھ تقریباً متصل تھی، جس کا میں نے ابھی ذکر کیا۔
چوہدری ہومیو کلینک اور ایک شفیق ڈاکٹر
ریڈیو کارنر سے چند دکانیں چھوڑ کر “چوہدری ہومیو کلینک” تھی، جہاں ڈاکٹر چوہدری لوگوں کا علاج کرتے تھے۔ وہ وضع قطع کے اعتبار سے ڈاکٹر قرنی کی ہی کاپی تھے۔ لکھنؤ سے تعلق تھا۔ سر پر ہمیشہ لکھنوی طرز کی ٹوپی ہوتی تھی، شیروانی اور سفید پاجامہ، سفید موزے اور سفید ہی سلیم شاہی جوتے، ہاتھ میں چھڑی — ان کے لباس کا لازمی حصہ تھا۔
شیروانی کے نیچے وہ کلیوں والا ململ کا کرتا پہنتے تھے، جو گرمیوں میں جب وہ شیروانی کے بٹن کھول لیتے تھے تو صاف نظر آتا تھا۔ بچپن میں جب میں بیمار ہوتا تو میرے والد میرے لیے ان سے میٹھی گولیاں لاتے، جو ہم شوق سے کھاتے تھے۔
ڈاکٹر چوہدری اتنے شفیق اور محبت کرنے والے تھے کہ میں ایک عرصے تک یہ سمجھتا رہا کہ شاید یہ ہمارے کوئی قریبی عزیز ہیں۔ مجھے ان کی شستہ اور نستعلیق اردو اور شاندار لہجہ آج بھی یاد ہے۔
1970 کا الیکشن اور جماعت اسلامی کا انتخابی دفتر
ریڈیو کارنر جس مکانوں کی قطار میں واقع تھا، اس کے مخالف کونے پر ایک مٹھائی کی دکان ہوا کرتی تھی۔ جس کے بالکل سامنے، یعنی بڑی روڈ کراس کر کے، ایک دو سو گز کا مکان تھا، جہاں انیس سو سترکے الیکشن میں جماعت اسلامی کا الیکشن آفس بنایا گیا تھا۔ مجھے بہت حیرت ہوتی ہے ۔
اس حلقہ سے قومی اسمبلی کے ممبر پروفیسر عبدالغفور اور صوبائی اسمبلی کے ممبر افتخار احمدمنتخب ہوئے تھے اور یہ دونوں ہی جماعت اسلامی کے امیدوار تھے۔جب میں کبھی اس سڑک سے گزرتا ہوں کہ وہ مکان آج بھی ہو بہو اپنی اصل حالت میں موجود ہے، گو کہ اس کے پاس کے تمام مکانات اب اپنی ابتدائی ہیئت اور شکل و صورت کھو چکے ہیں۔
ان کا نقشہ ہی بدل دیا گیا ہے۔ وہ تمام مکانات جو کسی زمانے میں سنگل اسٹوری ہوا کرتے تھے، اب وہ سب اللہ کے حکم سے اور ہماری حکومت کی مہربانیوں سے تین تین، چار چار منزلہ ٹاور کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
پھر واپس وینس ڈیری فارم کی طرف
میں کیا بات لے کر شروع ہوا تھا، اور اب میں کہاں پہنچ چکا ہوں۔ لہٰذا میں آپ کو واپس دہلی کے لوگوں کے کھانے کے شوق کے اس قصے کی طرف لانا چاہتا ہوں، جس کے لیے یہ مضمون شروع کیا گیا تھا۔ “وینس ڈیری فارم” والے، جن کا تعلق دہلی سے تھا، خاندان کے تمام افراد شام کے عصرانے پر جمع ہوتے تھے جہاں طعام کا خصوصی اہتمام ہوتا تھا۔
دسترخوان پر پکوڑے، دال، چاول، پاپڑ، چیوڑا، مختلف موسم کے پھل، سموسے، اور نمک پارے اور ایک آدھ مٹھائی بھی موجود ہوتی تھی، اور ساتھ ہی لسی، دودھ، اور چائے روزانہ اس دسترخوان کی زینت ہوتے تھے۔ شاید یہی خوش خوراکی تھی جس کی وجہ سے ان کے گھر کے آدھے افراد نارمل سے زیادہ وزنی تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان میں ایک لڑکا، جو مجھ سے عمر میں شاید چند سال بڑا تھا، اس کے چہرے پر ہمیشہ پسینے کے قطرے نمایاں رہتے تھے، اور اس کے چہرے کو دیکھ کر ایسا گمان ہوتا تھا کہ گویا اس کے گال اور ماتھا مکھن اور کریم کے بنے ہوئے ہیں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ گھر کے آدھے افراد انتہائی دبلے پتلے تھے، جو ان کی خوش خوراکی کی عادت کے بالکل برعکس تھا۔
وہ رشتے جو یادوں میں زندہ رہتے ہیں
ان کے اور ہمارے گھرانے میں بہت دوستی تھی، ہمارے والدین اور بچے بھی سب کے مشترکہ دوست تھے۔ گو کہ اب ان سے ہمارا کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے، اور مدت ہوئی ہے یار کو مہمان کیے ہوئے، مگر یہ یادیں ہی میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔
بچپن واپس لوٹ آنے کی ایک ناممکن خواہش
دنیا روزبروز ترقی کے بلند ترین منازل کو چھونے اور نئی نئی ایجادات میں مصروف ہے۔ کیا کوئی ایسی بھی ایجاد ممکن ہے کہ میں اپنے عزیز آباد والے گھر سے ایک بچہ بن کر نکلوں اور ان تمام افراد اور مقامات پر جا کر انہیں دیکھ سکوں اور ان تمام کرداروں سے ملاقات کا شرف حاصل کرسکوں؟ اگر کوئی ایسی چیز آپ کے علم میں ہو تو ضرور مجھے بھی بتائیے گا۔ اے کاش! ایسا ہو۔
یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں




