پاکستان کی اصل بیماری اور اس کی جڑ
انیس سو اسی کی دہائی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ امیر العظیم جامعہ کراچی تشریف لائے۔ وہ مارشل لا دور میں جیل سے رہائی کے بعد ملک کی طلبہ برادری سے رابطے کی مہم پر تھے۔ جامعہ کراچی کی آرٹس لابی میں طلبہ کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ کی جمعیت پر بھرپور اعتماد کا شکریہ ادا کیا اور ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر گفتگو کی۔
اس کے ساتھ ہی اس وقت کے ملٹری آمر جنرل ضیاء الحق کے بارے میں ایک بہت ہی تاریخی جملہ کہا۔ یہ جملہ مجھے آج 40 سال سے زائد گزرنے کے باوجود بھی یاد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں جنرل ضیاء نے پاکستان کے مسائل کی نشاندہی کے لیے دانشوروں اور مختلف ماہرین کی ایک کمیٹی بنائی ہے۔ اس کمیٹی کو یہ ہدف دیا گیا ہے کہ وہ تعین کریں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک دلچسپ مگر سچی حقیقت بیان کی۔
انہوں نے جنرل ضیاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل صاحب، آپ کو ماہرین کی کمیٹی بنانے کی ضرورت نہیں، اس یونیورسٹی میں کھڑے کسی بھی طالبعلم سے دریافت کر لیجئے، وہ آپ کو بیماری کا بالکل درست علاج تجویز کر دے گا۔ بیماری بھی ایک ہے اور اس کا حل اور علاج بھی صرف ایک۔ وہ بتائے گا کہ جنرل صاحب، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نہ معاشی ہے نہ سیاسی، بلکہ سب سے بڑا مسئلہ آپ خود ہیں، آپ کی ذات ہی مسئلہ کی جڑ ہے۔ آپ اس ملک کی جان چھوڑ دیں، یہ ملک درست ہو جائے گا۔ ملک عوام کا ہے، انہیں ملک واپس کر دیجئے۔
جمہوری تحریکوں کی اصل ذمہ داری
مرحوم امیر العظیم کا یہ پیغام صرف اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کو ہی یاد نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ ہر اس سیاسی تحریک کو جو حقیقی جمہوری اصولوں پر یقین رکھتی ہے اور عوامی آزادی اور حق رائے دہی کی طاقت سے ملک میں جمہوری اور انصاف کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہے۔
اصلاحات اور جڑ کا مسئلہ
(اسلام کا نظریہ سیاست) Political Theory of Islam مولانا مودودی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب
کے مقدمے میں ایک استعارہ استعمال کیا جو اس کتاب کے مرکزی خیال کو واضح کرنے میں معاون ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ کسی بھی نظام کی بنیاد اس کے بنیادی عقائد (جڑیں) ہیں، نہ کہ سطحی اصلاحات (پتے)۔ اس تناظر میں انہوں نے وضاحت کی کہ اسلامی زندگی اور نظام اس بیج سے پھوٹتا ہے جس طرح درخت اپنی جڑوں سے جڑا رہتا ہے اور انہیں سے غذائیت پاتا ہے۔
آج بھی یہ استعارہ پاکستان کی سیاسی صورتحال پر من و عن درست بیٹھتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے مفادات، فوائد اور عوامی اور قومی سہولیات کا حصول بھی سیاسی جماعتوں کی تحریکوں کے اہم مقاصد ہیں۔ وہ کوشش جاری رہنی چاہیے، مگر اصل ہدف بیماری کی جڑ کو ختم کرنا ہونا چاہیے۔ پتوں اور شاخوں کو کاٹنے سے جڑ کی بیماری دور نہیں ہوگی۔




