کاروباری دنیا کا مفت ظہرانہ

مفت ظہرانہ

کاروباری دنیا کا مفت ظہرانہ

تعارف: مفت ظہرانہ یا کاروباری فریب؟

کہتے ہیں کہ کاروباری دنیا میں کوئی مفت ظہرانہ نہیں ہوتا اور کوئی نہ کوئی اس کی قیمت ضرور ادا کرتا ہے۔ کبھی اس کے لیے ادائیں دکھانا پڑتی ہیں اور کبھی بہت کچھ سننا یا برداشت کرنا پڑتا ہیں۔ میرے نزدیک تو کاروباری دنیا کا مفت ظہرانہ کاروباری نہیں بلکہ کاروکاری ہے اور وقت ہی بتاتا ہے کہ کون کارو ہے اور کون کاری!

طاقت اور مفادات کی دنیا

تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اس کھیل میں عموماً طاقتور ہی کارو ہوتا ہے اور کمزور کو کاری بننا پڑتا ہے۔ رنگ، نسل، زبان یا لباس کچھ بھی ہو، اصل فرق طاقت کا ہوتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو گوری کاری بھی دیسی کاری سے کہیں زیادہ پسند کی جاتی ہے!

مفت ظہرانہ کیوں نہیں ہوتا؟

اب سوال یہ ہے کہ کاروباری دنیا میں مفت ظہرانہ کیوں نہیں ہوتا؟ اور آخر اس کہاوت کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟ پہلے سوال کا جواب تو خاصا آسان ہے۔ کاروباری دنیا دراصل مفادات کی دنیا ہے اور جہاں مفادات ہوں وہاں منافع بھی کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود ہوتا ہے۔

ایک فریق کا فائدہ اکثر دوسرے فریق کی قیمت پر حاصل ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کاروباری دنیا میں “مفت” کا لفظ ہمیشہ کچھ نہ کچھ سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔

اسٹاک ایکسچینج اور مفاداتی کھیل

اس کی ایک سامنے کی مثال اسٹاک ایکسچینج بھی ہے، جہاں ایک شخص کا فائدہ اکثر دوسرے کے نقصان سے جڑا ہوتا ہے۔ اسے سٹہ یا جوا کہا جائے یا کاروبار، اس بحث سے قطع نظر، ہمارے ہاں اب بھی اسے کاروبار ہی کہا اور سمجھا جاتا ہے۔

جوئے خانے کی حکمتِ عملی

آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں۔ دنیا کے بڑے بڑے جوئے خانوں میں جواری حضرات کے لیے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں بظاہر مفت ہوتی ہیں۔ ان کی قیمت کھانے کے بل میں نظر نہیں آتی، مگر حقیقتاً وہ جوئے کی میز پر خرچ ہونے والی رقم میں کہیں نہ کہیں شامل ہوتی ہے۔

جوئے خانے کے مالکان یہ نہیں چاہتے کہ ان کے گاہک کھانے کے لیے باہر جائیں، کیونکہ اگر ایک بار وہ باہر نکل گئے تو عین ممکن ہے کہ واپس اسی جوئے خانے میں نہ آئیں اور کسی دوسرے مقام کا رخ کرلیں۔

نتیجہ: مفت کھانا بھی دراصل گاہک کو اپنے پاس روکنے کی ایک کاروباری حکمتِ عملی ہے۔

مفت ظہرانے کی اصطلاح کہاں سے آئی؟

اب دوسرے سوال کی طرف آتے ہیں کہ آخر “مفت ظہرانے” کی اصطلاح کہاں سے آئی؟ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے، تاہم ایک مشہور روایت اسے انیسویں صدی کے بعض امریکی شراب خانوں سے جوڑتی ہے

جہاں گاہکوں کو مشروب کے ساتھ مفت کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ اس کھانے میں نمک کا تناسب نسبتاً زیادہ رکھا جاتا، جس کے نتیجے میں گاہک کو مزید پیاس لگتی اور وہ مزید مشروبات کا آرڈر دیتا۔ یوں جو چیز بظاہر مفت تھی، اس کی قیمت بالآخر کسی نہ کسی صورت وصول ہوجاتی تھی۔

کچھ بھی مفت نہیں ہوتا

King Richardاب تو شاید آپ کو یقین آگیا ہوگا کہ مفت ظہرانہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یہی سبق فلم

Will Smith میں بھی ایک دلچسپ انداز سے سامنے آتا ہے، جہاں رچرڈ ولیمز، جس کا کردار

 نے ادا کیا ہے، اپنی بیٹیوں وینس اور سرینا کو زندگی کے معاملات میں بظاہر مفت ملنے والی چیزوں کی پس پردہ حقیقت سمجھاتے ہیں۔ اگر آپ نے یہ فلم نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیے گا، یہ واقعی ایک شاندار فلم ہے۔

قیمت ہمیشہ کہیں نہ کہیں ضرور ادا ہوتی ہے

لیکن اس مفت ظہرانے کی پوری کہانی میں اصل مزے کی بات یہ ہے کہ جو کھانا کھا رہا ہوتا ہے، صرف اسی کو اس کی قیمت نظر نہیں آتی؛ ورنہ باقی سب کو تو اس ظہرانے کی قیمت بڑی بڑی لکھی ہوئی نظر آرہی ہوتی ہے۔

آپ بس اس تھوڑے لکھے کو بہت جانیں اور اس کالم کو ایک تار سمجھیں۔ اگر ممکن ہو تو ظہرانے کی قیمت جلد از جلد ادا کردیں، کیونکہ اس سے زیادہ لکھنا خطرے سے خالی نہیں!

معاشی اصول: کچھ لو اور کچھ دو

اس کائنات اور دنیا کا کاروبار دراصل کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر چلتا ہے اور یہی برابری کا بنیادی اصول بھی ہے۔ اگر آپ کچھ دیے بغیر صرف وصول کرنے پر یقین رکھتے ہیں تو اسے کاروبار نہیں کہا جاسکتا۔ اسے زیادہ سے زیادہ بھیک، صدقہ، خیرات یا امداد کہا جاسکتا ہے۔

اور ان سب کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔

کبھی یہ قیمت غیرت کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے، کبھی وقار کی، کبھی عزتِ نفس کی، کبھی خودداری کی اور کبھی اپنی آزادیِ فیصلہ کی، اور من حیث القوم ہم سے زیادہ اس حقیقت کا ادراک اور کس کو ہونا چاہیے؟

اختتامی کہانی: ڈونلڈ ڈک کا ظہرانہ

آخر میں حسبِ روایت ایک کہانی اور پھر اختتام۔

ایک صاحب تھے جن کا نام ڈونلڈ ڈک تھا۔ ان کے پاس یکایک بہت، بہت زیادہ پیسہ آگیا۔ اپنی اس نئی دولت اور امارت کا اظہار کرنے کے لیے انہوں نے اپنے دوستوں، عربی، عجمی، یورپی، پوربی، چینی، روسی، غرضیکہ اپنے تمام حامیوں اور غیر حامیوں کے لیے ایک شاندار دعوت کا اہتمام کیا۔

دعوت کے اختتام پر انہوں نے اپنے تمام مہمانوں کو اپنے محل نما گھر کی سیر کرائی، جو پورا سفید سنگِ مرمر کا بنا ہوا تھا۔ ایک بڑے کمرے میں ایک نہایت بارعب شخص کی بہت بڑی تصویر لگی ہوئی تھی۔

تمام مہمانوں نے پوچھا:

“یہ صاحب کون ہیں؟”

ڈونلڈ ڈک نے بڑے فخر سے جواب دیا:

یہ میرے جدِ امجد ہیں۔ انہی سے ہمارا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے جدِ امجد کی بہادری، شجاعت، سخاوت اور عظمت کی ایسی ایسی داستانیں سنانا شروع کردیں جن میں مبالغہ آرائی نے آخرکار دروغ گوئی کی سرحدوں کو بھی عبور کرلیا۔

اب چونکہ تمام مہمان ان کا مفت ظہرانہ کھا چکے تھے، اس لیے خاموشی سے سنتے رہے۔ لیکن ایک مہمان سے آخرکار برداشت نہ ہوا۔ وہ بول پڑا:

“تھوڑے سے پیسوں کی وجہ سے میرا سودا ٹوٹ گیا تھا، ورنہ آج یہ میرے جدِ امجد ہوتے!”

اگر اس کہانی کا کوئی تعلق آپ کو بین الاقوامی سیاست سے محسوس ہوتا ہے تو یہ آپ کے اپنے ذہن کا فتور ہے اور اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ ہاں، اس میں سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ضرور ہیں اگر وہ سمجھنا چاہیں

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

مفت ظہرانے