کلام یا مکالمے کی اہمیت

کلام

کلام یا مکالمے کی اہمیت

اللہ ربالعزت نے سب سے پہلے سے پہلا کلام قلم سے کیا کہ لوح محفوظ یعنی نورانی تختی پر لکھ جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے۔ پھر فرشتوں سے اور عزازیل سے کلام کیا۔ اس سے قلم اور تحریر کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

عرش پر تو اللہ پاک نے فرشتوں اور عزازیل سے مکالمہ کیا۔اور زمین پر سب سے پہلے حضرت موسئ علیہ السلام سے کلام کیا۔ حضرت موسئ علیہ السلام کا لقب بھی ل چنانچہ کلیم اللہ ہے ۔

انبیاء اور مخلوقات کا مکالمے

حضرت سلیمان علیہ السلام کا تمام جن و انس کے ساتھ قافلہ پانی کی تلاش میں جا رہا تھا تو چیونٹوں کی ملکہ نے اپنی چیونٹوں کو خبر دار کیا تھا کہ زیر زمین چلی جاو سلیمان علیہ السلام کا قافلہ آرہا ہے ہاتھیوں کے پاوں کے نیچے کچلی جاوگی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے سن لیا تھا کیونکہ انکو بھی اللہ پاک نے اعزاز بخشا تھا کہ وہ سب کی زبان سمجھتے تھے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے جانوروں اور بے جان چیزوں کا شکوہ

کون کون سے جانوروں یا بیجان چیزوں سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئ شکوہ یا شکایت کی ؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، اطاعت اور آپ کا ادب تمام مخلوقات کا شیوہ تھا، تاہم احادیثِ مبارکہ میں چند ایسےواقعات ملتے ہیں جہاں بعض جانوروں یا بے جان اشیاء نے آپ کے سامنے اپنی کسی تکلیف یا ضرورت کا اظہار کیا، جسے شکایت یا شکوہ کہا جا سکتا ہے۔

اونٹ کی شکایت: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ایک باغ میں تشریف لے گئے تو ایک اونٹ نے آپ کو دیکھ کر بلبلانا شروع کر دیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ نے اس کے کان کے پاس ہاتھ پھیر کر اسے تسلی دی اور اس کے مالک کو بلا کر نصیحت کی کہ یہ تمہاری زیادتی کی شکایت کرتا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور سخت کام لیتے ہو

ہرنی کا واقعہ: ایک صحابی نے جنگل میں ایک ہرنی کے بچے پکڑے تو وہ ماں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فریادی ہوئی، آپ نے اس کے بچوں کو واپس دلایا تو وہ مطمئن ہو گئی۔ اسی طرح ایک دیہاتی کے قید کیے ہوئے ہرن نے آپ سے اپنی رہائی کی التجا کی تھی۔

بے جان چیزوں کے واقعات

ستونِ حنان (کھجور کا تڑپنا): مسجدِ نبوی میں خطبہ دینے کے لیے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک سوکھے تنے کا سہارا لیا کرتے تھے۔ جب منبر تیار ہوا اور آپ اس پر کھڑے ہوئے تو اس پرانے تنے سے بچے کے رونے جیسی آوازیں آنے لگیں، یہاں تک کہ آپ نے نیچے اتر کر اسے گلے لگایا تو وہ چپ ہوا۔

کھانے کا شکوہ: فتحِ خیبر کے موقع پر ایک یہودی عورت نے آپ کو زہر آلود بھنی ہوئی بکری پیش کی۔ جیسے ہی آپ نے لقمہ منہ میں رکھا، اس بکری کے گوشت نے خود بول کر بتا دیا کہ مجھے زہر دیا گیا ہے، جسے حضور نے فوراً باہر پھینک دیا۔

جدید سائنسی تحقیق اور پرندوں کی زبان

ان سب واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ ، اللہ پاک نے ہر ذی روح کو گفت و شنید کا حق ریا۔ نا صرف جانوروں چرند پرند بلکہ پودوں کی بھی اپنی زبان ہے۔ اس پر تحقیق اور تجربات سے ثابت ہوجکا ہے

جاپان میں کوّوں کو ناپسندیدہ پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کچرے کے تھیلے پھاڑ کر سڑکوں پر گندگی پھیلا دیتے۔ کھیتوں اور سبزی و پھل کی فصلوں کو نقصان پہنچاتےانکا آواز بھی بہت ناگوار ہے۔

مصنوعی ذہانت اور کوّوں کی زبان پر جاپانی تجربہ

چونکہ جاپانی قانون جانوروں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا، اسکا حل یہ نکلا کہ کوّوں کی زبان سیکھی اور ساؤنڈ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔

یہ کام محقق “ناوکی تسوکاہارا” کو سونپا گیا جو کوّوں کے رویے کا ماہر ہے۔ اس نے نہایت حساس آلات سے کوّوں کی آوازیں ریکارڈ کیں اور ساتھ ہی ہر آواز کے بعد کوّوں کا رد عمل بھی نوٹ کیا۔

ڈیٹا کے تجزیے سے تقریباً 40 الفاظ کا پتہ چلا، جیسے “مجھے کھانا مل گیا”، “آؤ یہاں محفوظ ہے” اور “خطرہ ہے، یہاں سے بھاگ جاؤ”۔

تحقیق درست ثابت ہونے کے بعد یاماجاتا کے حکام نے کوڑا جمع کرنے کے مقامات کے پاس اسپیکر لگائے جو کوّؤں کی زبان میں پیغام “خطرہ ہے، یہاں سے بھاگ جاؤ” بجاتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر کوّے فوراً وہاں سے اڑ جاتے اور تب تک واپس نہ آتے جب تک صفائی کی گاڑیاں آکر کچرا اٹھا نہ لیتیں۔

پھر حکام نے ایک اور جگہ کوّؤں کے لیے کھانا رکھا اور وہاں اسپیکر سے “مجھے کھانا مل گیا” کا پیغام کوّؤں کی زبان میں چلایا۔ کوّے فوراً وہاں پہنچے اور وہیں کھانے لگے۔

اب جانوروں کے سائنس کے محکمے نے تجربے کو مزید آگے بڑھایا ہے اور پرندوں و جانوروں کی مختلف زبانیں سمجھنے کی ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے۔

قرآنی تعلیمات اور حاصلِ کلام

اللہ تعلی فرماتا ہے:(وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا طَائِرٖ يَطِيرُبِجَنَاحَيۡهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمۡثَالُكُمۚ﴾ سورۃ الانعام (آیت 38)

ترجمہ: اور زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں مگر وہ بھی تمہاری ہی طرح ایک امت ہے۔

اسی لئے میں کلام یعنی گفت و شنید کو اتنی اہمیت ریتی ہوں۔