بسم اللہ الرحمن الرحیم
نیکیوں میں سبقت لے جانے کا جذبہ
اللہ رب العزت نے سورۃ البقرہ کی آیت 147 میں فرمایا
“ہر شخص کسی نہ کسی (عمل) کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ پس (تمہیں چاہیے کہ) نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔”
عمومی طور پر ہر ہوش مند مسلمان نیکیوں میں سبقت لے جانے والا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ مگر دنیا میں ہم ہر طرح کی نیکی نہیں کر سکتے، کیونکہ ہر انسان کی قابلیت، صلاحیت اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔
مال دار مال خرچ کر سکتا ہے، مفلس نہیں کر سکتا۔ عالم علم پھیلا سکتا ہے، جاہل سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ صحت مند دوسروں کے لیے جسمانی بھاگ دوڑ کر سکتا ہے، مریض کے لیے یہ ممکن نہیں۔ گونگا زبان سے تقریر نہیں کر سکتا، نابینا راستہ نہیں بتا سکتا۔ اسی طرح بے شمار باتیں ہو سکتی ہیں جو ہر کسی کے دائرۂ کار میں نہیں آ سکتیں۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی
اللہ الرحمان الرحیم نے اسی لیے انسانوں کو باور کروا دیا کہ:
“اللہ کسی متنفّس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔”
البقرہ: 286
اور بازپرس اسی کی ہوگی جو صلاحیت عطا کی گئی ہوگی، مگر مومن تو نیکیوں کا حریص ہوتا ہے، ہر قسم کی نیکی میں حصہ دار بننا چاہتا ہے۔
کم خرچ، بالا نشین نیکی کا ایک طریقہ
اس خواہش کو پورا کرنے کا “کم خرچ، بالا نشین” کے مصداق ایک فارمولا یہ ہے کہ ہم ہر مومن کے ہر نیک کام کو سراہیں، خوش ہوں، اس کی قبولیت کے لیے دعا کریں اور اس کام کی حوصلہ افزائی کریں تو ہم بھی اس نیک کام میں حصہ دار ہو سکتے ہیں۔
زندگی کا اصل مزہ حقیقی اور بے لوث تعلقات بنانے میں ہے، کیونکہ ایسے تعلقات ہی ہماری زندگی کے طوفانوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہم ایک نیک مقصد کے لیے وقف ہونے والوں کی خوش دلی سے حوصلہ افزائی کرکے ایسی خوشی میں حصہ دار ہو سکتے ہیں جس کا پھل ہمیں نہ صرف دنیا میں نیک نام احباب کی صورت میں ملتا ہے بلکہ قیامت والے دن ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کے سامنےسرخرو ہوں گے اور متقی لوگوں کی معیت نصیب ہوگی، جو حشر کی ہولناکیوں میں ہمارا حوصلہ بڑھائیں گے، ہاتھ تھامیں گے، جب حسب و نسب سے جڑے رشتے منہ پھیر لیں گے۔
گویا کہ سب سے زیادہ ضروری چیز زندگی میں دوسروں کی معمولی اور مثبت صالح کارکردگی کو سراہنا ہے۔
دوسروں کی نیکی کو تسلیم کرنا
دوسروں کو ماننا، ان کو اہمیت دینا، ان کو تسلیم کرنا اور للہ فی اللہ ایسی محبت ہے جسے ہی انسانیت کی معراج کہا جا سکتا ہے۔
ہم دوسرے کی نیکی یا حسنِ کارکردگی کو سراہنے میں کنجوسی کرتے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ منہ پر تعریف کرنے کو ناپسند کیا گیا ہے، حالانکہ یہ بات چاپلوسی اور خوشامد کرنے پر صادق آتی ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کی صالحیت کو سراہتے اور حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
حقوق العباد میں دوسروں کا حصہ
حقوق العباد میں کچھ حقوق ایسے ہوتے ہیں جن کو ادا کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا، مثلاً وضعِ حمل کے وقت عورت کی مدد کرنا، میت کو نہلانا، کسی معذور، بوڑھے یا بیمار کی صفائی ستھرائی اور غسل وغیرہ کروانا، کسی ذہنی طور پر معذور کو سنبھالنا۔
جو لوگ یہ کام کرتے ہیں، ان کا اجر دوسری عبادتوں سے زیادہ ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے دعا، حوصلہ افزائی اور جیسا جس طرح ممکن ہو، تعاون کرنے والے ان کاموں میں بھی حصہ دار ہو سکتے ہیں۔
بڑے کام میں چھوٹی کوشش کی اہمیت
ہم جانتے ہیں کہ ایک بہت بڑے پیمانے پر ہونے والے پراجیکٹ کو کوئی بھی انسان اکیلا مکمل نہیں کر سکتا، مثلاً ایک مسجد، مدرسے، ہسپتال کی تعمیر یا رفاہِ عامہ کے کسی بھی کام میں ہزاروں لوگوں کا کم یا زیادہ حصہ ہوتا ہے۔
ہزاروں لوگوں کی اس پراجیکٹ میں کیا نیتیں اور ارادے ہیں، کوئی نہیں جانتا، مگر نیک نیتی سے کام کرنے والا ایک ان پڑھ معمولی مزدور اللہ کی رضا چاہنے کی نیت کرکے آخرت میں سب پر بازی لے جا سکتا ہے۔
اللہ رب العزت کے ہاں کام کا اعلیٰ معیار دھن، دولت یا وقت زیادہ لگانے سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس کے ہاں عملِ صالح کی کثیر تعداد نہیں بلکہ نیت کا خالص ہونا وزن رکھتا ہے۔ ذرّہ برابر نیکی پہاڑوں کے وزن پر ہو سکتی ہے اور بظاہر پہاڑوں جیسی نیکیاں بے وزن راکھ بن سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے نیکیوں کی تعداد کا نہیں، بلکہ تولنے کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ نیکی ایک ذرّہ بھی ہو سکتی ہے اور محض نیت اور سوچ بھی۔
قطرہ سمندر کا حصہ بن جائے
سمندر میں ایک قطرہ مل جائے تو وہ سمندر ہی بن جاتا ہے اور قطرہ تنہا ہو تو پلک جھپکتے میں فنا ہو جاتا ہے۔ اس لیے مومن اپنی معمولی سی کوشش کو بھی رائیگاں نہیں ہونے دیتا۔ وہ حریص ہوتا ہے کہ وہ اپنے سرمایۂ زندگی کا ہر لمحہ کسی بڑے احسن پراجیکٹ کے سمندر میں ملا دے۔
دعائے خیر کے ذریعے نیکیوں میں شمولیت
دعائے خیر اور شکر گزاری وہ عمل ہے جس کے ذریعے ہم صدیوں پہلے گزرنے والے صالح لوگوں کی نیکیوں میں حصہ دار ہو سکتے ہیں۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد کے ہر دور کے مصلحین اور عالمِ دین، جن کے ذریعے سے ہم تک دین پہنچا، ان کے درجات کی بلندی کی دعا کرنا، جو کتاب پڑھی جائے اس کے مصنف کی تصنیف کی قبولیت کے لیے دعا کرنا، ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننا اور ان کے گروہ میں شامل ہو جانے کی کوشش قابلِ قدر گردانی جا سکتی ہے۔
نیکیوں کا روحانی تعلق
ہر کسی کی چھوٹی یا بڑی نیکی ایک زنجیر کی طرح ایک دوسرے سے باہم ربط رکھتی ہے۔ یہی وہ روحانی تعلق ہے جو مومنوں میں دور بیٹھے بھی ہو جاتا ہے اور زمانے کے کم یا زیادہ فاصلے کوئی معنی نہیں رکھتے۔
انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کا ساتھ بھی اسی طرح نصیب ہوگا۔
محبت کا اجر: محبوب لوگوں کی معیت
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے اعمال کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اے ابوذر! تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو۔”
میں نے عرض کیا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اے ابوذر! تم جس سے محبت کرتے ہو (روزِ قیامت) اسی کے ساتھ ہو گے۔”
[الادب المفرد/کِتَابُ الزِّيَارَةِ/حدیث: 351]
رمضان المبارک: نیکیوں میں سبقت کا موقع
رمضان المبارک کا ہر لمحہ نیکیوں میں سبقت لے جانے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ روزہ داروں کی عبادتوں میں اپنا حصہ لگائیے، ان کی خدمت کرکے، ان سے محبت کا اظہار کرکے اور ان کی عبادتوں کی قبولیت کی دعا کرکے۔
خدمتِ خلق کے ذریعے قربتِ الٰہی سے دل روشن کیجیے۔ اسوۂ حسنہ کی روشنی میں اپنے شب و روز کو منور کیجیے۔
طاق راتوں کے لیے ایک جامع دعا
طاق راتوں میں نیکیوں میں سبقت لے جانے کی ایک کوشش یہ دعا کرکے بھی کر لی جائے:
“اے اللہ! اس آسمان کے نیچے کسی بھی زمانے میں کسی مسلمان نے بھی جو کوئی نیکی کی ہے، وہ قبول کر لیجیے اور ان کی مغفرت کر دیجیے۔ اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائیے، اگلے پچھلے صالحین میں شامل کر دیجیے۔”




