تلخ مشروب کا میٹھا ذائقہ

تلخ مشروب کا میٹھا ذائقہ

ذائقوں کی دنیا اور کڑوی دوا کی حقیقت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

انسان دنیا میں آنے کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ مختلف ذائقوں سے آشنا ہوتا ہے۔ نومولود صرف ماں کے دودھ کی لذت سے آشنا ہوتا ہے۔ پہلی بار کھٹا ذائقہ زبان پہ آتے ہی بچے کا سارا جسم منفی ردعمل کا اظہار کرتا ہے، دوا کی کڑواہٹ اس کو پیٹ کی ہر شے اگلنے پہ مجبور کر دیتی ہے۔

بچے کو عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ذائقوں سے شناسائی ہوتی جاتی ہے اور پھر کڑوی دوا کا استعمال بھی آسان ہو جاتا ہے کیونکہ شعور اس کے فائدے سے واقف ہو جاتا ہے۔

انسان نے پیٹ پوجا کی تسکین کے لیے زبان کے ذائقے کا ایک پورا جہان آباد کر لیا ہے۔ میڈیا نے زندگی کی دیگر رنگینیوں کا پرچار کرنے کے ساتھ نت نئے ذائقوں کے پکوان کا بازار سجا رکھا ہے، گویا کہ زندگی کا مقصد صرف نت نئے ذائقوں کی شناسائی سے وابستہ ہے۔

انسان کی جسمانی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے بہترین غذا اور مختلف نعمتوں سے مستفید ہونا مستحسن ہے۔ اسی لیے رب العالمین نے بے شمار مختلف چیزیں پیدا کرکے حلال اور طیب غذا کا انتظام کیا اور اسے ہی اپنی بہترین مخلوق کے لیے پسند فرمایا، لیکن جب جسمانی بیماری کا علاج کرنا ہو تو کڑوی، بدذائقہ دوا لینا انسان کے اپنے مفاد میں ہے تاکہ وہ معمول کے مطابق خوش ذائقہ چیزوں سے لطف اندوز ہو سکے۔

انسان کا مادی اور روحانی وجود

انسان صرف مادی وجود نہیں رکھتا، اس کا ایک روحانی وجود بھی ہے۔ مادی وجود پہ مادی اشیاء کے اثرات ہوتے ہیں تو روحانی وجود کی صحت و بیماری کے اثرات بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ دراصل انسانی شخصیت کی آئیڈیل تعمیر ظاہری اور باطنی یا مادی و روحانی وجود میں باہم توازن سے ہی تشکیل پاتی ہے۔

دونوں کو غذا کی ضرورت ہے، دونوں کے ساتھ صحت و بیماری کا معاملہ ہے، دونوں کو رشتے ناتے کی محبت تسکین دیتی ہے اور دونوں اپنی اپنی خوراک میں نت نئے ذائقوں کا تجربہ کرکے خوش ہوتے ہیں۔

روحانی وجود جس خوراک سے پنپتا اور نشوونما پاتا ہے وہ صرف حلال و طیب ہے۔ روح کی حلال اور پاکیزہ غذا اخلاق عالیہ ہیں اور جو آفاقی تعلیمات کے مطابق ہر انسان کو پسند ہیں۔

سچ بولنا، امانت دار، وفادار ہونا، وعدے کی پابندی، نرم دلی، انسانی ہمدردی کے تحت دوسروں کے کام آنا وغیرہ وغیرہ، یہ سب روحانی غذا کے وہ میٹھے ذائقے ہیں جن سے ساری اولاد آدم فطرتاً واقف ہے اور اپنے وجود کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔

روح کی بیماریاں اور غصہ

روحانی وجود کی کچھ بیماریاں ایسی ہیں جن کے بد اثرات انسان کی اپنی شخصیت پہ تو اثرانداز ہوتے ہی ہیں، معاشرے میں بھی پراگندگی اور انتشار پھیلتا ہے۔

جھوٹ بولنا، بدعہدی، خیانت، حسد و بغض، غیبت و چغلی وغیرہ روح کی بیماریاں ہیں اور ان سب کے اثرات روح کو اتنا بوجھل اور بیمار کر دیتے ہیں کہ آخرکار غصہ جیسی کریہہ بیماری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو ایک جیسے احساسات و جذبات کے ساتھ تخلیق کیا ہے اور انسان انہی احساسات اور جذبات کا پرتو اپنے رویوں سے ظاہر کرتا ہے۔

وہ اپنی عزت کرنے اور حق ادا کرنے والے سے خوش ہوتا ہے اور یہ خوشی اس کے چہرے سے ظاہر ہوتی ہے اور فریقین کے باہم خوب صورت رویے روح کی طرف سے شکرگزار ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان اپنی ہتک کرنے والے سے ناراض ہوتا ہے تو باطن کی کیفیت چہرے سے ظاہر ہوتی اور رویے سے تصدیق ہوتی ہے۔

رب العالمین نے انسان کو نک سک سے درست بنایا ہے، اس کی مادی ضروریات کا اس کی تخلیق کے عین مطابق انتظام کیا اور معیارِ حلال و حرام مقرر کیا ہے۔ بالکل اسی طرح احساسات و جذبات کو فطرت کے عین مطابق تخلیق کیا اور اس میں بھی نفع و نقصان کا معیار مقرر کر دیا۔

روح کی سب بیماریوں کی آخری اسٹیج “غصہ” ہے۔

غصے کے درجات

راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غصے کا ذکر فرمایا:

”ان میں سے کچھ کو جلد غصہ آ جاتا ہے اور جلد ہی اتر جاتا ہے، ان میں سے ایک (خصلت) دوسری (خصلت) کا بدل ہے، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں غصہ دیر سے آتا ہے اور دیر سے جاتا ہے یہ بھی ایک (خصلت) دوسری کا بدل ہے، اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جسے غصہ دیر سے آتا ہو اور جلد زائل ہوتا ہو، اور تم میں سے بدترین شخص وہ ہے جسے غصہ تو جلد آتا ہو جبکہ وہ زائل دیر سے ہوتا ہو۔“ مشکوٰۃ المصابیح: باب الآداب حدیث نمبر: 5145

لہٰذا غضب کے اعتبار سے یہ تین درجے ہمارے سامنے ضرور رہنے چاہئیں۔

غصہ کیوں آتا ہے؟

سب سے زیادہ غصہ کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو متکبر ہوتے ہیں۔ وہ اپنی بات، رائے یا عمل کو حتمی سمجھتے ہیں۔ وہ گھر میں ہوں، کسی ادارے میں یا جماعت میں اپنی رائے سے اختلاف برداشت نہیں کر سکتے، اپنے اوپر تنقید یا نصیحت برداشت نہیں کر سکتے، حتیٰ کہ وہ دل میں تسلیم بھی کر رہے ہوں کہ دوسرے کی رائے درست ہے اور غلطی میری ہے، اس کے باوجود اپنے موقف پہ ڈٹے رہتے ہیں اور انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔

احساسِ کمتری کے مارے لوگ بھی غصہ ور ہوتے ہیں کیونکہ احساسِ برتری اور کمتری کے درمیان معمولی سا نفسیاتی فرق ہوتا ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسانی جذبات کو مثبت رکھنے کے لیے فطرتاً عقل و شعور اور علم و فہم حاصل کرنے کے مواقع سے نوازا ہے۔

غصہ پی جانے کی قرآنی تعلیم

اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر سے کام لیتے ہیں۔ الاعراف: 37

اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے وہ ہیں جو خوش حالی اور بدحالی میں اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، غصہ آئے تو پی جاتے ہیں، دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ایسے محسنین سے۔ آل عمران: 134 اس آیت میں “کاظمین” لفظ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

کاظم کے لغوی معنی

لغت میں کاظم کے بہت سے معنی ہیں، مثلاً:

غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھنے والا۔
اپنی باطنی کیفیت کو چھپانے پہ قادر۔
خاموش رہنے والا۔
مشک کو پانی سے بھر کر اس کا منہ سختی سے بند کر دینا۔
پانی کے راستے کو بند کر دینا۔
دو کنوؤں کے درمیان کی نالی جس سے ایک کنوئیں کا پانی دوسرے میں منتقل ہو جائے۔

عموماً کاظم کے معنی غصہ پی جانا ہی ہے۔ اور پینے کی چیز سے انسان کی ساری حسیات متاثر ہوتی ہیں، جیسے اسفنج پانی کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔

سیدنا یعقوب علیہ السلام اور صبرِ جمیل

قرآن پاک میں سیدنا یعقوب علیہ السلام کی رنج، صدمے، غصے اور دکھ بھرے دل کی کیفیت بتائی گئی ہے کہ:

“وَھُوَ کَظِیْمٌ”

اور نتیجہ “صبرِ جمیل” کے رویے کے ساتھ سامنے آتا ہے۔

یہ رنج و غم کی وہ کیفیت ہے جس پہ انسانی فطرت کا غصے میں مبتلا ہونا برحق اور جائز ہے اور صبر جمیل سے مراد ہے کہ انہی تکلیف دینے والے افراد کے ساتھ دن رات بسر کرنے ہیں لیکن رنج و غم، غصے سے “بھری مشک” کا منہ بند ہی رکھنا ہے۔

کیا ہم اس غصے کو ضبط کرنے کی کیفیت کا اندازہ کر سکتے ہیں جب کئی دہائیاں گزرنے پہ بھی اولاد نے باپ کو جتایا:

“اللہ کی قسم! آپ تو یوسف کی یاد اور اس کے غم میں جان گھلا کر ہلاک ہی ہو جائیں گے۔”

سیدنا یعقوب علیہ السلام کا اپنے غم و غصے پہ ضبط کے بارے میں سوچیں تو کلیجہ پھٹنے کو ہو جاتا ہے۔

جلیل القدر پیغمبر کو بیٹے کے خواب کے تناظر میں اللہ رب العزت کی ذات پہ مکمل بھروسہ ہونے کے باوجود، انسانی جذبات کے تحت مستقل رنج و محن کی کیفیت طاری رہتی تھی اور اسی حزن کے ساتھ مجرم بیٹوں کی زیادتی صبر جمیل کے ساتھ برداشت کرنا تھی۔ “صبر جمیل” دراصل رنج و محن، غم و غصے میں حسن اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے کا نام ہے۔

کتنا مشکل ہے اذیت یہ گوارا کرنا
دل سے اترے ہوئے لوگوں میں گزارا کرنا
— ساغر صدیقی

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور صبر

اسی طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی کیفیت کو چشم تصور سے دیکھیں، فرعون کے خلاف کیسا غصہ نہیں ہوگا؟ رب کے مکمل بھروسے پہ نومولود کو دریا کی موجوں کے حوالے کرتے ہوئے یقیناً یہ یاد ہوگا کہ رب القادر نے اس بچے کو بحفاظت واپس گود میں ڈالنے کا وعدہ کیا ہے اور اسے رسول بنانے کی خوشخبری بھی سنائی ہے۔

مگر مامتا کا دل غم و غصے اور صدمے سے سینے سے نکل کر بچے کے پیچھے اڑ جانے کو تیار تھا اور دل کی بے قراری چیخ چیخ کر اپنا اظہار چاہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مامتا کے دل کو ڈھارس بندھائی ہوئی تھی۔ بیٹے کی جدائی کا غم اور فرعون کے خلاف غصے کی ملی جلی کیفیت میں صبر جمیل کا دامن تھامے رکھنا ہی ایک ماں کی ہمت و حوصلے کا امتحان تھا۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور بہن نے ظالم فرعون کے محل میں جس طرح اپنے طوفان اٹھاتے اندرونی جذبات پہ بند باندھے رکھا، وہ بھی نادر مثال ہے۔

غصہ، شیطان اور نفس کی تربیت

ہر اخلاقی بیماری طبعاً ہر انسان کو بری لگتی ہے اور فطرتاً ہر انسان آفاقی بھلائیوں کا گرویدہ ہوتا ہے۔

انسان جب کسی پہ غضب ناک ہوتا ہے تو یہ شیطان کے وسوسے کی وجہ سے ہوتا ہے، وہ انسان کو آگ بگولہ کرنے کا ہر ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے۔ شیطان کے جال سے بچنے کے لیے اپنے نفس کی تربیت کرنا ہوتی ہے اور یہ کام نفس پہ جبر کرکے ہی ممکن ہوگا۔

غصے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا سب کو بخوبی علم ہے۔ آئیے ہم اس کے تدارک پہ غور و فکر کریں۔

غصے پر قابو پانے کے عملی طریقے

قرآن مجید میں غصہ پی جانے اور درگزر کرنے کی بابت تربیت کی گئی ہے اور احادیث صحیحہ کے مطابق بہت سی احادیث غصہ نہ کرنے کی بابت ملتی ہیں۔

نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں کرنے کے کام یہ ہیں:

° غصے کی کیفیت طاری ہونے لگے تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم دہرایا جائے۔ صحیح بخاری: 4048

° غصہ شیطانی وصف ہے، شیطان آگ سے بنا ہے اور پانی سے آگ بجھائی جاتی ہے، وضو کیا جائے۔ سنن ابی داؤد: ج 2، ص 304

° اپنی حالت میں تبدیلی لائی جائے۔ گویا کہ غصے کی کیفیت سے دھیان ہٹایا جائے۔ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، ابھی بھی دھیان نہ بٹے تو لیٹ جائے۔ سنن ابو داؤد: 4782

گویا کہ کاظم کے معنی واضح ہوتے ہیں کہ ایک نالی ہے جو ایک کنوئیں سے پانی دوسری جگہ منتقل کر رہی ہے۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“جس شخص نے غصہ ضبط کر لیا حالانکہ وہ اس پہ قادر یا غصہ کرنا اس کے لیے جائز تھا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو امن اور ایمان سے بھر دے گا۔”

جامع البیان، ج 4، ص 61

غصے کے انتباہی اشاروں کو پہچانیں

ہمیں چاہیے کہ ہم غصہ پیدا ہونے کے انتباہی اشاروں کا فہم رکھیں۔ جب جبڑے بے اختیار جڑ جائیں اور دبنے لگیں، دل کی دھڑکن تیز ہو جائے اور پسینہ نمودار ہونے لگے، کنپٹیوں پہ دباؤ محسوس ہو تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم آواز سے پڑھیں۔

گہری سانس لیں، اس سے ذہنی کیفیت بدل جائے گی۔

کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں۔

کوئی جسمانی حرکت کریں، پانی لا کر پی لیں۔ منظر سے ہٹنے اور جگہ بدلنے سے سوچ میں بھی تبدیلی آئے گی۔

آپ اپنے اردگرد کی چیزوں کو محسوس کریں، دور کی چیزوں پہ فوکس کریں جیسے آسمان، اڑتے پرندے وغیرہ۔ اپنے حواس کو کنٹرول کرنے کے لیے کیفیت و مقام کی تبدیلی مؤثر ثابت ہوگی۔

سب سے پہلے اپنی زبان کو کنٹرول کریں، بات کہنے کا انداز بدلیں یا خاموش رہیں۔ چند لمحے خاموش رہنے سے اعصاب کا تناؤ کم ہو جاتا ہے۔ یہ یاد رکھیں: “جو چپ رہا وہ نجات پا جاتا ہے۔”

غیر جذباتی عمل کرنا، جیسے الٹی گنتی گننا۔

دوسروں سے توقعات کم سے کم رکھنا بھی غصے سے بچاتا ہے۔ حقیقت پسندی کا رجحان اور خواہشات کو محدود رکھنا بھی نتیجہ خیز عمل ہے۔

عاجزی اور انکساری کی عادت پیدا کرنا۔

کھلی فضا میں پیدل چلنا، ورزش کرنا، اپنی صحت کا خیال رکھنا، دواؤں کا بروقت استعمال بھی طبیعت میں ٹھہراؤ لاتا ہے۔

تلخ ترین مشروب: غصہ

یاد رکھئے، غصہ کرنا ایسی برائی ہے جس سے باقی ساری خوبیوں پہ پانی پھر جاتا ہے۔ اسی لیے اسے شیطانی عمل کہا گیا ہے اور شیطانی عمل حرام قرار دیا گیا ہے۔ ہر وہ چیز جو حرام کی گئی ہے، برائیوں کی جڑ ہوتی ہے۔

یقیناً دنیا کا سب سے تلخ اور بدذائقہ مشروب، جس کا پینا پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، وہ “غصہ” ہے۔ لیکن اس کو دنیا میں پی جانے کی کامیاب مشق کرنے والوں کو اخروی زندگی میں شراب طہور پینے کو ملے گا اور کھولتے پانی، جہنمیوں کے زخموں سے نکلتے پیپ اور کچ لہو پینے سے بچا لیے جائیں گے۔

بے شک غصہ ایک نارمل رویہ ہے، ہر انسان کو آتا ہے۔ سیکھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک غصے جیسے تلخ مشروب کا ذائقہ جسم و جاں کو محسوس ہوتا رہے، غصہ دلانے والے سے اس موضوع پہ بات نہ کی جائے۔ جذبات و احساسات کے منفی اثرات پہ صبر، تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا جائے، اگرچہ اس کے لیے اپنے اوپر جبر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

جب قلب و ذہن تلخ احساسات سے نکل کر معمول پہ آ جائیں تو معاملہ فہمی آسان ہو جاتی ہے۔

غصہ کیوں پیدا کیا گیا؟

اللہ تعالیٰ نے غصے کے جذبات کیوں رکھے؟

غصہ دراصل غیرت کا اظہار ہے۔ اپنے نفسانی خواہشات پہ غیرت کا اظہار غصے کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور یہ غیرت نفسانی ہے۔

غصہ اگر اللہ کے دشمنوں اور ہر باطل کام کے خلاف ہے تو یہ غیرتِ ایمانی ہے۔ اور اس تلخ مشروب کا میٹھا ذائقہ اسی غیرت مندی کے مظاہرے سے محسوس ہوگا۔

غیرت، حمیت اور خودی کا درست مقام

آج اسلام دشمنوں کے ظلم و ستم پہ ہم سب کی غیرت سو رہی ہے کیونکہ مسلمان ظالموں کے سامنے اپنا مقام و مرتبہ کمتر تسلیم کر چکے، اس لیے ان کے غصے کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جس قوم کو اللہ تعالیٰ نے قوموں کا سردار بنایا، وہ غلاموں کے مرتبے پہ ہے اور اپنی اس بے غیرتی پہ کوئی احساس نہیں جاگتا۔

غیرت و حمیت غلط مقام پہ غلط طریقے سے استعمال ہو تو وہ انا ہے، غصہ ہے۔ اور غصہ صحیح طریقے سے درست مقام پہ ظاہر ہو تو یہ غیرت و حمیت اور خودی ہے۔ ہمیں اپنے ہر فطری جذبے کو “مسلمان” کرنے کی ضرورت ہے۔

  • Bushra Tasneem

    ڈاکٹر بشریٰ تسنیم ایک معروف مصنفہ، کالم نگار اور مبلغ ہیں جن کا تعلق جماعت اسلامی کے بانی گھرانے سے ہے۔ وہ درجنوں کتابوں اور سفرناموں کی مصنفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی تنظیم ”حریم ادب“ اور مجلہ ”حریم“ سے وابستہ رہی ہیں۔ انہوں نے ممتاز دینی اسکالرز سے کسبِ فیض کیا اور صحافت میں گریجویشن کی۔ وہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں خواتین کی تربیت اور دینی خدمات سرانجام دے رہی ہیں، اور آج کل اپنا تمام وقت قلم، قرآنی کلاسز اور سوشل میڈیا کے ذریعے تربیتی کام کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔

    View all posts