آزادیٔ اظہار اور پاکستان میں قانون کی بالادستی

پاکستان میں قانون کی بالادستی اور حساس موضوعات

میرے بہت سے دوست، کرم فرما، غیرکرم فرما، خیرخواہ اور غیرخیرخواہ اکثر میری تحاریر پر یہ کلمات لکھتے ہیں کہ میں ملک کی مقدس گائے یا مقدس گائیوں اور مقتدر حلقوں پر کچھ نہیں لکھتا، یا جہاں کہیں ان کے تذکرے کا مقام آتا ہے، وہاں میں ان کا ذکر گول کر جاتا ہوں، حالانکہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ ہر موضوع پر شفافیت سے بات کی جائے۔

میں مان لیتا ہوں کہ آپ کا خیال درست ہے، اور اس کی دو وجوہات ہیں۔

پہلی یہ کہ میں نے زندگی میں کوئی ایسا کھیل نہیں کھیلا جس میں گول کیا ہوں یا گول ہوا ہوں، اور دوسری یہ کہ میں گول ہونا بھی نہیں چاہتا، کیونکہ میں خاصا لمبوترا ہوں، اور اسی لیے پاکستان میں قانون کی بالادستی سے جڑے نازک معاملات میں احتیاط اختیار کرتا ہوں۔

آزادیٔ اظہار اور ’’گول‘‘ ہونے کا خوف

میں آپ کو آزادیٔ صحافت کے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں نہیں الجھانا چاہتا کہ پاکستان اس حوالے سے دنیا میں کس نمبر پر ہے، گزشتہ برس کتنے صحافی مارے گئے، کتنے غائب ہوئے اور کتنے خاموش ہوگئے؛ کیونکہ جہاں پاکستان میں قانون کی بالادستی کی ضمانت نہ ہو وہاں بولنا آسان نہیں ہوتا۔

میری خواہش تو بہت سادہ سی ہے کہ میرا شمار ان میں نہ ہو۔

اور اگر اس خواہش کے نتیجے میں آپ مجھے ڈرپوک اور بزدل سمجھتے ہیں تو اس کے جواب میں، میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ میری لسانی وابستگی بھی کسی حد تک آپ کے خیالات کی تائید کرتی ہے، تاہم پاکستان میں قانون کی بالادستی کے بغیر خود کو محفوظ رکھنا ہی ترجیح بن جاتا ہے

مقدس گائے اور جمہوریۂ کیلا

کسی بھی معاشرے میں مقدس گائے کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ معاشرہ مکمل طور پر آزاد نہیں اور وہاں پاکستان میں قانون کی بالادستی خواب بنی ہوئی ہے۔

ویسے بھی ایک مجبور اور محبوس معاشرہ جب گائے کو چھیڑے گا تو گائے سینگ تو مارے گی۔

اب اگر آپ نہیں چاہتے کہ گائے آپ کو سینگ مارے تو اس کے لیے قانون سازی بھی کرنا پڑتی ہے، لیکن جب فرد یا افراد قانون سے بالاتر ہوجائیں اور قانون معاشرے کے بااثر افراد یا اداروں کے مفادات کی نگہبانی کرنے لگے تو ایسی مملکت کو ’’جمہوریۂ کیلا‘‘ کہا جاسکتا ہے، جہاں پاکستان میں قانون کی بالادستی معطل ہو کر رہ جاتی ہے۔

البتہ آپ چاہیں تو اپنی مرضی کا پھل یا سبزی منتخب کر سکتے ہیں۔

جس کی لاٹھی، اس کی گائے

دنیا میں ازل سے ایک ہی قانون چلتا آرہا ہے: Might is right — یعنی جس کی لاٹھی، اس کی بھینس، بکری اور دیگر چوپائے بھی؛ مگر گائے کے علاوہ کیونکہ گائے تاریخ میں ہمیشہ مقدس رہی ہے، لیکن اگر لاٹھی بہت مضبوط اور طاقتور ہو تو پھر اس کی گائے مقدس بھی اور غیرمقدس بھی، اور یوں پاکستان میں قانون کی بالادستی پسِ پشت چلی جاتی ہے!

گائے کو قابو کرنا ہے یا لاٹھی کو؟

ابھی پچھلے ہی دنوں ایک گائے کے بے قابو ہوجانے کی وجہ سے سماجی ذرائع ابلاغ پر وبال آگیا تھا، جس نے ظاہر کیا کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم کرنا کتنا بڑا چیلنج ہے۔

اس واقعے نے ایک بنیادی سوال پھر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے: قوم یہ فیصلہ کرے کہ اسے گائے کو قابو کرنا ہے یا لاٹھی کو؟

موجودہ حالات میں شاید دانشمندی اسی میں ہے کہ ایسا کچھ کیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، کیونکہ لاٹھی بہرحال ایک قومی حقیقت ہے، مگر پھر بھی پاکستان میں قانون کی بالادستی کا حصول لازمی ہے۔

لیکن اگر قوم لاٹھی کو قابو میں رکھ کر ارتقائی منازل طے کرنا چاہتی ہے تو پھر پہلے اسے شعور کی کئی منازل طے کرنا ہوں گی۔

ترقی کا سفر یا الٹی سمت؟

مسئلہ یہ ہے کہ بحیثیتِ قوم ہم آگے کے بجائے پیچھے یا الٹی سمت سفر کرنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں، اور اسی لیے پاکستان میں قانون کی بالادستی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔

تعلیم، صحت، صفائی، امن و امان اور معاشرے میں برداشت کی مسلسل کمی اس کی چند معمولی مثالیں ہیں، جو بتاتی ہیں کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کیوں وقت کی اہم ضرورت ہے۔

قانون کی بالادستی؛ ترقی کی پہلی سیڑھی

جن معاشروں نے لاٹھی کو قابو کیا، انہوں نے سب سے پہلے پاکستان میں قانون کی بالادستی کے تصور کی طرح اپنے ملک میں اصولوں کو نافذ کیا۔

سب کو قانون کے تابع کیا، سب کے لیے اصول وضع کیے اور پھر ان اصولوں کی لفظ اور روح، دونوں کے ساتھ پاسداری کی، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ معاشرے آج ہم سے کہیں آگے کھڑے ہیں کیونکہ پاکستان میں قانون کی بالادستی ہی پائیدار ترقی کی واحد ضمانت ہے۔

قانون سب کے لیے، مگر اطلاق؟

ہم قانون کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، یہ ہم سب جانتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کا یکساں اطلاق نہ ہونا ایک تلخ حقیقت ہے۔

ہمارے ہاں اکثر سب سے طاقتور ہی سب سے بڑا قانون شکن بھی ہوتا ہے، چاہے وہ فرد ہو یا ادارہ، جو پاکستان میں قانون کی بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

شاید اسی لیے ہمارے ہاں قانون کی کتاب سب کے لیے ایک جیسی ضرور ہے، مگر اس کا اطلاق سب پر ایک جیسا نہیں، اور یوں پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم نہیں ہو پاتی۔

اس بارے میں جارج اورویل کا جملہ لافانی ہے کہ: “تمام جانور برابر ہیں، لیکن کچھ جانور دوسروں سے زیادہ برابر ہیں”۔

زندہ آواز یا ’’مرحوم‘‘ کی تعریف؟

اگر ہم نے معاشرے کو پاکستان میں قانون کی بالادستی اور سچ برداشت کرنے کے لیے تیار نہ کیا تو ہر سچی اور اچھی آواز کے خاموش ہو جانے کے بعد ہمارا معاشرہ یہی کہے گا:

مرحوم بڑی اچھی طبیعت کے مالک تھے

کیونکہ شاید ہم ایک زندہ معاشرے سے زیادہ ایک مردہ پرست قوم بننے کے عادی ہو چکے ہیں، جہاں پاکستان میں قانون کی بالادستی کی باتیں صرف مرنے کے بعد کی جاتی ہیں۔

ہمیں زندہ انسان کی بات ناگوار گزرتی ہے، مگر مرنے کے بعد اس کے لیے تعریفی کلمات کی کمی نہیں رہتی، حالانکہ اگر پاکستان میں قانون کی بالادستی ہوتی تو زندہ انسان کی آواز کو تحفظ ملتا۔

ناکام بغاوت، کامیاب تخت

قانون کی کتابوں میں خودکشی اور بغاوت دو ہی ایسے جرائم ہیں جن میں ناکام ہونے پر سزا ملتی ہے، کیونکہ جہاں پاکستان میں قانون کی بالادستی نہ ہو وہاں طاقتور کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

ناکام ہونے پر سزا اور کامیاب ہونے پر ایک میں تخت اور دوسرے میں تختہ ملتا ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کی کتنی کمی ہے۔

آخر میں ایک وصولی کا قصہ

آخر میں ایک لطیفے سے اپنی تحریر کا اختتام کرنا چاہوں گا جو پاکستان میں قانون کی بالادستی کے ناقص نظام کا احاطہ کرتا ہے۔

ایک میمن سیٹھ کو مارکیٹ سے اپنے ادھار کی رقم وصول کرنے میں بہت مشکلات پیش آرہی تھیں، کیونکہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کی عدم موجودگی کے باعث وہ بے بس تھا۔

اس نے اپنے ایک دوست سے اس کا ذکر کیا۔

دوست ایک دن ایک لحیم شحیم پہلوان کو ساتھ لے آیا اور میمن سیٹھ سے متعارف کراتے ہوئے کہا

’’اگر تم چاہو تو مناسب اجرت پر یہ تمہارے پیسوں کی وصولی کرسکتا ہے۔‘‘

میمن سیٹھ نے پہلوان میں کوئی خاص دلچپی نہ لی اور اسے واپس بھیج دیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کے بغیر طاقت کا زور حل نہیں ہے۔

پہلوان کے جانے کے بعد دوست نے حیرت سے پوچھا:

’’میں تمہاری وصولی کے لیے آدمی لایا تھا اور تم نے اسے واپس بھیج دیا؟‘‘

میمن نے اطمینان سے جواب دیا

’’یہ تو میرے پیسوں کی وصولی کر لے گا، مگر اس سے وصولی کون کرے گا؟ تیرا باپ!‘‘

اس لطیفے میں سمجھ داروں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں اور زیادہ سمجھنے والوں کے لیے پریشانیاں ہیں، خصوصاً ان کے لیے جو واقعی پاکستان میں قانون کی

بالادستی دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔