آزادی؟ قوم کی طاقت یا تباہی کا سبب؟
تحریر: یوسف ابن الحسن
ایک فوجی جنرل کا کمال تھا کہ جس نے دو ہزار کی صدی شروع ہوتے ہی پاکستان کی میڈیا برادری کو آزاد کر دیا تاکہ وہ اپنی غیر قابلِ ترسیل سرمایہ یا اپنے اندرونی و بیرونی مالی وسائل اور انتظامات کے ذریعے اپنے ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز قائم کریں۔ اس فیصلے نے نجی نشریاتی اداروں میں سرمایہ کاری کے نام پر کالے دھن کا ایک بڑا بند کھول دیا اور آڈیو و ویڈیو آلات کی غیر قانونی درآمد کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس کا سیلاب مقامی مارکیٹ میں واضح طور پر دیکھا گیا۔
پاکستان کی الیکٹرانک مارکیٹ کے بڑے کھلاڑیوں نے سنگاپور اور ہانگ کانگ میں اپنے نمائندہ دفاتر قائم کر لیے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ادائیگیوں کی ترسیل حوالہ کے ذریعے کی جاتی تھی۔ ادھر میڈیا گھروں کے سرمایہ کاروں کے پاس مالی وسائل موجود تھے اور ان کے ذرائع زیادہ تر کالے دھن، پوشیدہ رقوم اور خفیہ بینامی دولت کی شکل میں تھے، جن کی مالیت کھربوں روپے تک بتائی جاتی ہے اور جن پر پاکستان حکومت کا کوئی اختیار نہ تھا اور نہ اب ہے۔
نوٹ5000کا، پرائز بانڈز اور غیر قانونی سرمایہ کاری
اسی دوران مرکزی بینک کے گورنر نے پانچ ہزار روپے کا نوٹ متعارف کر دیا اور اس کے ساتھ ہی چالیس ہزار روپے کے غیر بینامی پرائز بانڈ بھی جاری ہو گے
۔ اس اقدام نے بڑی مقدار میں کرنسی اور بانڈز کو بہت چھوٹی جگہ میں محفوظ رکھنے کو ممکن بنا دیا۔ نتیجتاً یہ بہت آسان ہو گیا کہ کوئی بھی شخص جیب میں پچاس لاکھ روپے کی نقد رقم یا بریف کیس میں ایک کروڑ روپے کے بینامی بانڈ لے کر سفر کر سکتا تھا اور ہوائی اڈوں پر موجود حکام بھی آنکھیں بند کر لیتے تھے_ اس کے بدلے کل رقم کے حجم کا ایک فیصد وصول کیا جاتا تھا تاکہ یہ دولت بیرونِ ملک منتقل ہو سکے۔
دبئی کی مارکیٹ پاکستانی کرنسی کے لیے ایک جنت بن گئی تھی، جہاں بڑے خریدار بھارتی زرِ مبادلہ کے تاجر تھے۔ اور یہ پاکستانی کرنسی کے خریدار سی آئی اے، موساد، را اور افغان جنگی سردار تھے جو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے تاکہ پاکستان میں دہشت گردوں کو ادائیگی کی جا سکے، کیونکہ دہشت گرد غیر ملکی کرنسی قبول نہیں کرتے اور تمام ادائیگیاں مقامی کرنسی میں کی جاتی ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ دبئی اور ہانگ کانگ میں رکھی گئی بڑی رقوم پاکستان کے سیاستدانوں اور نوکر شاہی کی ملکیت تھیں۔ یہ رقوم بیرونی کھاتوں میں رکھی جاتی تھیں جن میں چیک بک کی سہولت موجود نہیں ہوتی اور یہ کھاتے محض چار خفیہ ہندسوں یا دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے نشان سے چلائے جاتے تھے۔ بعض ایجنٹس جو سپردگی کھاتوں کے معاملات کرتے ہیں، وہ ایسے کھاتوں کے منتظم کار ہوتے ہیں۔ یہ رقم وکلاء کے پاس رکھی جاتی ہے جو اپنے بنکاری کھاتوں میں حاصل ہونے والے منافع سے فیس وصول کرتے ہیں، جبکہ اصل رقم پاکستان کے کسی خفیہ جمع کنندہ کی ہوتی ہے۔
میڈیا انڈسٹری کا قیام اور “گٹر صحافت” کا آغاز
سال ٢٠٠٠ کے بعد سے فعال کالے ذرائع نے محفوظ تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف رخ کیا جب سرکاری میڈیا کے ساتھ ساتھ متوازی الیکٹرانک میڈیا کے قیام کی اجازت دی گئی۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور میڈیا سرگرمی ایک مکمل صنعت میں تبدیل ہو گئی، جس میں اچھائی کم اور برائیاں، شیطانیاں اور مالی بدعنوانیاں بھی شامل ہو گئیں۔ اسی دوران گٹر صحافت نے جنم لیا اور میڈیا مالکان نے ایسے نام نہاد صحافیوں کے ذریعے میڈیا کی طاقت کو استعمال کرنا شروع کر دیا تاکہ بدعنوانی اور پیشہ ورانہ بے ضابطگیوں کے ذریعے اپنے اداروں کے لیے جاری سرمایہ حاصل کیا جا سکے۔
پاکستان نے ٢٠٠١ سے ٢٠١٥ کے دوران کھربوں روپے مالیت کی آڈیو اور ویڈیو مشینری جو میڈیا چینلز میں نصب کی گئی، وہ دراصل چوری شدہ ڈیوٹی اور ٹیکس کے ذریعے خریدی گئی۔ میڈیا ہاؤسز نے ایسی خریداریوں کے لیے مقامی تیسرے فریق کا استعمال کیا۔ یہ تیسرے فریق اس مشینری کو یا تو کراچی کی بندرگاہوں سے یا دوسرے شہروں میں قائم خشک بندرگاہیں، برآمدی صنعتی علاقے اور سفارتی بانڈز کے ذریعے بغیر ڈیوٹی ادا کیے درآمد کرتے تھے۔
پاکستان کسٹمز نے بھی اس غیر قانونی تجارت سے اربوں روپے کمائے اور میڈیا صنعت میں کھربوں روپے کے اسکینڈلز کی پردہ پوشی کی۔ آج تقریباً اٹھانوے فیصد نجی میڈیا گھروں کی نشریات بس ایک ہی موضوع کے گرد گھوم رہی ہیں کہ بدعنوانی کون کر رہا ہے اور کس نے کیا کھایا؟ کرپشن کیا ہے اور اس میں کون ملوث ہے۔ اس کا مقصد دراصل کالے دھن میں فاسد افراد اور اداروں سے اپنا حصہ حاصل کرنا ہے تاکہ اپنے اداروں کے لیے سرمایہ حاصل کیا جا سکے۔
اخلاقی زوال، ریٹنگ کا کھیل اور اداروں کی خاموشی
قومی ترجیحات کو بالکل پس پشت رکھتے ہوئے، اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو نیم برہنہ اور جنسی اشاروں میں پیش کرنا، اور اسے “فن و ثقافت” کے نام پر جائز ٹھہرانا، آج میڈیا کا سب سے بڑا مقابلہ بن گیا ہے۔ یہ ریٹنگ کے لیے ایک ناپاک کھیل ہے، جس میں سب سے زیادہ ناظرین کو بہکانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ اشتہارات کی دولت مقامی اور غیر ملکی صنعت سے بہتی رہے۔ اس عمل نے انسانی وقار، اخلاقیات اور معاشرتی اقدار کو تجارت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک فیشن بنا دیا ہے، اور یہ حقیقت کہ معاشرے کی بنیادیں برباد ہو رہی ہیں، کسی کو پرواہ نہیں۔
ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ لاکھوں ڈالر مالیت کے پروگرام، ان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے یہ سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ اور ان فنکاراؤں کو اتنی بھاری ادائیگی کی جاتی ہے کہ حیرت ہو جائے۔ پیمرہ اور ایف بی آر کچھوے بن کر خول میں چھپ گئے ہیں، اپنی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر شراب اور عورتوں کی محفلوں کے شریک ہوتے ہیں۔
ادھر کرنسی کی مسلسل چھپائی اور زیادہ منافع والے غیر ملکی قرضے عام ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھا رہے ہیں، جبکہ میڈیا، نوکر شاہی، بنکار، جمہوری نمائندے اور اسمگلرز خود کو اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے روم جل رہا ہو اور نیرو بانسری بجا رہا ہو۔ چند افراد کو خوش کرنے کے لیے ماضی کا یہ ایسا فیصلہ تھا جس میں معاشی مشکلات اور پوری قوم کے اصول و اخلاقیات کو “آزاد صحافت” کے نام پر نقصان پہنچایا گیا۔
اس کھل کے دو کردار وہ دو مرکزی بینک کے گورنر بھی ہیں جن کے دور میں ایسے فیصلے ہوئے جن کی وجہ سے اہم مالیاتی ادارے این ڈی ایف سی، بینکرز ایکویٹی، انڈس بینک لمیٹڈ اور فرینکلن بینک لمیٹڈ زبردستی ختم کر دیے گئے۔ مرکزی بینک نے ان تینوں اداروں کے معاملات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اپنی توجہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور پانچ ہزار روپے کے نوٹ کے اجرا پر مرکوز رکھی۔ اس دور میں پچیس ہزار روپے کا نوٹ متعارف کرانے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
اصلاحات اور حل کی ترجیحات
ضروری ہے کہ میڈیا ہاؤسز کا ایک غیر جانبدار فرانزک آڈٹ کسی ایسی آڈٹ فرم سے کروایا جائے جو کسی دباؤ یا اثر و رسوخ کے بغیر اصل حقائق سامنے لا سکے۔ دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے فوری طور پر بڑی مالیت کے تمام کرنسی نوٹ واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کر لیے جائیں اور سو روپے کا نوٹ مارکیٹ میں گردش کے لیے رکھا جائے۔ بڑی مقدار میں کرنسی رکھنے والوں کو سو فیصد ایمنسٹی دی جائے تاکہ اپنی پوشیدہ دولت نکال کر بینکوں میں جمع کروایں گے ۔
ایک وقت میں پچیس ہزار روپے تک کی رقم بغیر ٹیکس نکالی جا سکے اور پانچ لاکھ روپے سے ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہو۔ بینک اکاؤنٹس میں موجود دولت کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ جو کالا دھن بینکوں میں جمع ہو اسے کسی دوسری کرنسی یا کسی اور شکل میں تبدیل نہ کیا جا سکے۔ بینک ایک ملین روپے کے مساوی سے زیادہ غیر ملکی کرنسی کی نقد جمع قبول نہ کریں۔
تاہم اگر کوئی رقم سوئفٹ کے ذریعے کسی مجاز بینک سے ترسیل کے طور پر آئے اور اگر بینک دستاویزی ثبوت سے مطمئن ہوںتو اس پر سوال نہ اٹھایا جائے، ۔چیک اور ڈیبٹ کارڈز کو فروغ دیا جائے۔ بچت کھاتوں کے منافع پر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہ کیا جائے اور بینک ہر ماہ واضح طور پر منافع کا اعلان کریں اور یہ نتائج کسی قانونی ذمہ داری کے بغیر ہیں۔
اس کے علاوہ تمام درآمدات اور برآمدات کو بنکاری خدمات کے ذریعے انجام دیا جائے۔ درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس کی وصولی اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی واپسی کی ذمہ داری سہولت فراہم کرنے والے بینکوں کو دی جائے تاکہ بینک درآمدی دستاویزات جاری کرتے وقت کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کو یقینی بنائیں اور برآمدی آمدنی موصول ہونے کے بعد مرکزی بینک سے ریفنڈ حاصل کریں۔
اس سے کسٹمز اور ٹیکس حکام کی بدعنوانیوں میں بھی کمی آئے گی اور اس عمل سے معیشت بڑھے گی جس سے تجارتی رقوم کی لاگت کم ہو گی۔ جب رقوم کی لاگت کم ہو گی تو مصنوعات کی قیمتیں بھی کم ہوں گی اور لوگوں کی خریداری کی صلاحیت بڑھے گی۔ اس کے نتیجے میں پیداوار، رسد اور کھپت میں اضافہ ہو گا، جس کے لیے صنعت کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشرے میں جرائم کی شرح کم ہو گی۔ ۔
دستاویزی معیشت ہی معاشی ترقی کی ضامن
بڑے مالیت کے کرنسی نوٹوں پر پابندی معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد دے گی جو پاکستان کی موجودہ مالی اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، مالیاتی نگران ادارے اور حکومتی ضابطہ کار اداروں کے نظام کو سخت اقدامات سے چلایا جانے۔
ان اقدامات کے تحت نقد گردشی دولت کو ایک دستاویزی نظام میں تبدیل کیا جے اور اس میں کسی قسم کی نقد مداخلت نہ ہو۔ ٹیکس جمع کرنے والوں کے لیے واضح اہداف مقرر کیے جائیں اور ہر برقی نظام کے ذریعے ٹیکس کا تعین کیا جائے تو غیر دستاویزی معیشت کی دھونس اور ابتزاز کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔
دنیا بھر میں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دستاویزی معیشت ہی سماجی و معاشی ترقی کی بنیادی شاہراہ ہے۔ ایسے معاشی منصوبے متعارف کرانا جو کالے دھن کو معیشت میں بلا سوچے سمجھے شامل کر دیں، دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ کالے سرمائے کو شفاف اور دستاویزی معیشت کا حصہ بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے کرنسی نوٹوں کی مالیت کم کرنے جیسے اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں تاکہ غیر قانونی دولت نظام میں واپس آ سکے۔
بعد ازاں جمع ہونے والے وسائل کو منافع بخش اور تعمیری معاشی منصوبوں میں لگایا جائے جو حقیقی سماجی و معاشی ترقی کا سبب بن سکیں۔ بصورتِ دیگر کالے دھن کی سرمایہ کاری معاشرتی، معاشی اور مالیاتی سطح پر تباہ کن نتائج پیدا کرتی ہے۔



