امریکا کی سیر (قسط دوم): اورلینڈو میں شادی، پرانے دوست اور نیویارک کی طرف سفر

امریکا

ہوٹل میں عشائیہ اور سمدھیوں سے ملاقات

دوسری شام ڈاکٹر فیصل ( دلہے کے والد ) کے دوستوں کی طرف سے ایک مقامی ہوٹل میں عشائیہ دیا گیا تھا۔ یہ بھی عجیب وغریب روایت دیکھی، پھر بھی کھانے سے کس کافر کو انکار ہوسکتا ہے، بقول غالبؔ ؎ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔ نکاح کے ساتھ ہی تمام مہمانان ایک ہوٹل منتقل ہوگئے۔ گھر پر اتنی گنجائش نہیں تھی۔

اگلی صبح ہوٹل کے پیکیج میں ناشتہ بھی شامل تھا۔ مشہود نے اس بوفے کے وہ آئیٹم بتانے شروع کیے جن سے اجتناب کرنا تھا۔ ہم نے اسے سمجھا دیا کہ ہم گوشت کی کوئی ڈش استعمال نہیں کریں گے۔ بغیر گوشت کا ناشتہ بہت مزے دار مزہ دے گیا۔

وہاں فیصل کے دو سمدھیوں، ڈاکٹر توقیر صاحب اور نجیب صاحب سے ملاقات ہوئی۔ خوب گپ شپ رہی۔ ایک پرانی کہاوت میں کچھ تبدیلی کی جائے تو اچھی عکاسی ہو کیا ئے؛ ”خوب گزرے گی جو جل جائے بڈھے تین”۔ مزید دو دن اسی طرح گزرے، اور خوب گزرے۔

توقیر صاحب ڈاکٹر بلکہ سرجن ہیں اور شاید چالیس سال سے امریکا میں اپنا ہنر آزما رہے ہیں۔ چند نوجوان چند سال میں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اردو بھول گئے ہیں۔ اس کے برعکس توقیر صاحب کا لہجہ کسی حد تک ٹھیٹھ پنجابی تھا۔ دوسرے سمدھی نجیب صاحب کراچی سے تعلق رکھتے ہیں۔ داؤد انجینئرنگ کالج سے میٹلرجی   میں گریجویشن کیا ہے۔ ان کی انجینئرنگ کے مضمون سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا: ”گویا آپ لوہار ہیں”۔ یہ جملہ انجینئرنگ کے شعبے کا ترجمہ تھا۔ دوسرا احمد نواز شریف کے خاندانی پیشے کو ذہن میں رکھ کر کہا: ”پچھلے چالیس سال سے لوہاروں کا ستارہ آسمان پر ہے”۔

ساجد مرزا کی پرانی یادیں اور شرف آباد کی محفل

ان سے پوچھا کہ ساجد مرزاغزنوی کو جانتے ہیں۔ جواب تھا کہ بہت اچھی طرح جانتا ہوں، ساجد ان سے ایک سال جونیئر تھا۔ اس کی تعریف میں بہت اعلیٰ الفاظ استعمال کیے۔ اس کی کوئز کی صلاحیتوں کی تعریف کی۔ ہم سے پوچھا کہ ہم کیسے جانتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ او پر سے نیچے تک ایک بال سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ہمارا محلہ تھا۔ آج کل تو امریکی شہر اٹلانٹا میں ہے۔

ساجد اگرچہ ہم سے پانچ چھ سال چھوٹا تھا لیکن ہمیشہ بہت عزت اور احترام سے ملتا۔ کالج کی زندگی میں سیاست کا نشہ چڑھ گیا، وہی ہوا جو احمد فراز کہہ گئے ہیں نشہ بڑھتا ہے شرابوں کا شرابوں میں ملیں؎

نیشنل کالج میں جوائنٹ سیکریٹری منتخب ہوئے۔ پھر تو طالب علمی کا پورا دور اسی دشت کی سیاحی میں گزرا۔ داؤد انجینئرنگ کالج میں سیکریٹری پھر صدر منتخب ہوئے۔ طالب علمی کے اختتام پر سعودی عرب کے شہر ریاض میں ملازمت کے لیے رختِ سفر باندھا۔ 1985ء میں اس کے دفتر کے کام سے دبئی آنا ہوا۔ ہمیں ان دنوں دبئی میں ملازمت کرتے ہوئے آٹھ سال ہو چکے تھے۔

شرف آباد کا پورا محلہ جانتا تھا۔ ایک دن گھر کے فون کی گھنٹی بجی۔ بیگم نے اٹھایا، پوچھا گیا کہ کیا یہ شرف آباد والے محمود صاحب کا گھر ہے۔ اثبات میں جواب ملنے پر بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ گفتگو میں بتایا کہ ابھی یہاں ہوٹل پہنچا ہوں، ٹیلیفون کی ڈائریکٹری منگا کر دیکھا کہ جتنے محمود احمد ہیں، سب کو فون کروں گا۔ اتفاق سے ہمارا نمبر دوسرا تھا۔ چند دن قیام تھا، کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سے سیکھا کہ نئے شہر میں کسی کو ڈھونڈنے کا کیا طریقہ ہوتا ہے۔

اس کے بعد سے کوئی ملاقات نہ ہوسکی، ہاں اتنا معلوم ہوا کہ وہ امریکا کوچ کر گئے ہیں۔ وہی جو انشا جی کا کہنا ہے انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کا لگانا کیا کوئی دس سال قبل ہمارے ایک جہاز کی ملازمت کرنے والے دوست علی غیاث نے بتایا کہ ساجد مرزا نامی ہمارا ایک دوست امریکا سے کل ہی کراچی آیا ہے۔ پوچھا کہ تم کیسے جانتے ہو۔ جواب تھا کہ وہ (غیاث) کل ہی امارات کی پرواز سے آئے ہیں۔ طیارے میں ان کے ساتھ ساجد مرزا تشریف فرما تھے۔ باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

ایک دوسرے سے کراچی کی رہائش کا معلوم کیا تو ساجد نے کہا کہ وہ ایک عرصہ شرف آباد میں رہ چکے ہیں۔ اس پر غیاث میاں کی نازک رگ پھڑک اٹھی، پوچھا: ”محمود کو جانتے ہو”۔ اس پر تو ساجد نے ہمارے برادرانہ مراسم کی اتنی تفصیل بیان کی کہ دو گھنٹے کا سفر اسی قصیدہ گوئی میں صرف ہو گیا۔ شکر ہے پرواز کا وقت کم تھا اس لیے وہ تمام منفی باتیں جن سے اہل شرف آباد اچھی طرح واقف ہیں، ان کا بیان کرنے کا وقت دونوں کو نہ مل سکا اور ہماری عزت سادات محفوظ رہی۔

اگلے دن ساجد کا فون آ گیا۔ جلد ہی ایک نشست پرانے شرف آبادی دوستوں کی برپا کی گئی جس میں ایک فرد کی منفی بلکہ قابلِ شرم کارگزاری کا احاطہ کیا گیا۔ اسے غیبت نہیں کہہ سکتے، یہ بہت تھی، اس لیے کہ سارے کارنامے بڑے قابلِ فخر انداز میں حوصلہ افزائی کے ساتھ سب کی موجودگی میں بیان کیے جا رہے تھے۔ سارے گواہ موجود تھے، انکار کیا یا بالفاظِ دیگر مکرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

سب نے بڑے فخر کے ساتھ اقرار کیا۔ شرمندگی کا کوئی پہلو نظر نہیں آیا۔ اس کارگزاری میں ہمارا نمبر بہت پیچھے تھا، سب کے کارنامے ہم سے بہت بلند تھے، جس کا بہت افسوس ہوا۔ اب مداوا کرنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اب کے تجدیدِ تمنا کا نہیں امکاں جاناں؎ ضعیف العمری کے باعث وہ اب کارنامے دہرائے نہیں جاسکتے، وگرنہ دل تو بہت چاہتا ہے۔ حوصلے دیکھیے بے سروسامانوں کے ساجد مرزا آج امریکی شہر اٹلانٹا میں مقیم ہیں۔ ان سے ملاقات کا ذکر آگے بیان کیا جائے گا۔

نکاح کی تقریب اور انوکھی رسومات

ادھر اورلینڈو میں ہنگامہ بدستور جاری تھا۔ اب نکاح کا دن آ گیا۔ جمعہ کا دن تھا لیکن مسجد کی انتظامیہ نے ساڑھے چار بجے کا وقت دیا تھا۔ حیرت ہوئی اس لیے کہ پاکستان میں تو اکثر نماز کے بعد رسمِ نکاح انجام دی جاتی تھی۔ یہاں وقت دیا گیا کہ اس کے بعد ایک نکاح پانچ بجے ہوگا۔ ہر نکاح کا وقت الگ دیا گیا تھا۔ خیر نکاح ایک ہندوستانی مولوی صاحب نے پڑھایا۔ کچھ تقریر انگریزی میں کی پھر نکاح کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ خواتین کو پردے میں رکھا گیا تھا، آذان تک پہنچ رہی تھی۔

Privacyبعد میں ہم نے نکاح خواں سے الگ وقت پر نکاح کا سبب پوچھا۔ بہت سوچ کر فرمایا: ”شاید وہ

Privacyچاہتے ہوں”۔ ہمارا جواب تھا کہ

تو ولیمہ عروسی میں نو بیاہتا جوڑے کو درکار ہوتی ہے۔ اس پر وہ قہقہہ لگا کر آگے بڑھ گئے۔

عشائیہ ہوٹل میں طے تھا۔ معلوم ہوا کہ دونوں پارٹیوں نے مشترک طور پر میزبانی کے فرائض انجام دیے۔

رخصتی ہوئی لیکن شبِ عروسی کا انتظام اسی ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ کراچی میں بھی اکثر ہوٹل جہاں تقریبِ شادی ہوتی ہے تو ہوٹل والے دلہا دلہن کو ایک رات گزارنے کے لیے کمرہ کی پیشکش کرتے ہیں۔ اس پر ہمیں وہ شعر یاد آ گیا اے شمع تری عمرِ طبعی ہے بس ایک رات؎ ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے

پہلی چند راتیں تو ہنس کر گزرتی ہیں۔ اللہ کرے بقیہ زندگی بھی ہنستے مسکراتے گزرے۔ تقریب میں ہوٹل کا ہال وقت کے مطابق کھولا جاتا ہے۔ لڑکی والوں نے غالباً ساڑھے سات بجے سے چند گھنٹوں کے لیے بک کیا تھا۔ ہم تو سات بجے پہنچ گئے لیکن آدھ گھنٹہ انتظار کیا۔

ولیمے کی تقریب اور مزاحیہ گفتگو

ٹھیک وقت پر دروازہ کھلا، سارے انتظامات کے ساتھ، کرسیاں میز سب اپنی اپنی جگہ پر تھے۔ تقریب میں خواتین وحضرات مخلوط طور پر بیٹھے تھے۔ لیکن بالکل مقامی انداز میں، بلکہ اس سے بھی قدیم تر انداز آ رہا تھا۔ تقریباً پچانوے فیصد خواتین نے بڑے قاعدے سے دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ چند نے چہرے کو اسکارف سے ڈھکا ہوا تھا، صرف ایک خاتون مغربی لباس زیبِ تن تھیں۔

ایک صاحب چہرے سے کسی قدر افریقی دکھائی دے رہے تھے۔ کسی حد تک کراچی کے علاقے لیاری کے کرانیوں سے مشابہ تھی، لیکن ان کے برعکس بال گھنگھریالے نہیں بلکہ سیدھے تھے۔ کسی نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر ہیں اور ان کی اہلیہ پاکستانی ڈاکٹر ہیں۔ مزید یہ کہ وہ ڈاکٹر صاحب مسلمان ہیں۔

محفل اختتام کو پہنچی تو ہم نے بڑی عقیدت سے ان سے مصافحہ کیا۔ کہتے ہیں کہ امریکا کی دریافت پر مہذب گوروں نے افریقی علاقوں سے اغوا کر کے حبشی نوجوانوں کو یہاں پھینک دیا تھا تاکہ ان سے غلاموں کی سی خدمت حاصل کی جا سکے۔ عورتوں سے ہاتھ ملانے کا رواج اس محفل میں نظر نہیں آیا۔ کسی حد تک مشرقی ماحول تھا۔ روڈ نمبر 19 کے وہاج اور اشفاق اتنی محبت سے ملے کہ بیٹے کو بہت تعجب ہوا۔

انہوں نے پوچھا یہ کون ہیں جو اتنی گرمجوشی سے مل رہے ہیں۔ ہم نے اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا موقع ضائع نہیں کیا۔ کہا: تمہیں کہاں کیا جانو ہم کیا ہیں، تو بس وہی باتیں ہیں جو مسجد میں سامنے والے موچی نے بتائیں ہیں۔ اب وہ کیا باتیں موچی نے سمیر کو بتائیں، اسے رہنے دیجیے، کوئی مثبت بات نہیں تھی، سب منفی کارناموں سے بھری ہوئی داستانیں تھیں۔ بس موچی نے مبالغہ آمیز انداز میں بڑھا چڑھا کر سنائی تھی۔

شادی کے کھانے میں پاکستانی حساب سے کافی کم ڈشیں تھیں۔ تاہم ضرورت کی ساری چیزیں تھیں۔ اختتام پر دلہن کے والد نے انگریزی میں چند باتیں کہیں جو بیٹی کے رخصت ہونے پر باپ کے جذبات کا اظہار کہا جاسکتا ہے۔ فیصل نے کسی شاعر سے سہرا کہلوا کر (لکھوا کر) لے آئے تھے۔ اسے پڑھنے کی ذمہ داری ہم پر ڈالی گئی۔ پڑھنا شروع کیا، کسی کسی مشکل لفظ کا انگریزی میں ترجمہ کرتے گئے۔

دلہا سے ہم نے آدھی انگریزی آدھی اردو میں کہا: ”تم نے آج شیروانی پہن لی ہے۔ ایک پرانے مزاح نگار ابراہیم جلیس لکھ گئے ہیں ‘اوپر شیروانی اندر پریشانی’ ”۔ اس سے پریشانی کا مطلب اس نے انگریزی میں پوچھا تو بتایا، تائید کرتے ہوئے کہا کہ آج بلکہ اسی وقت سے تمہاری پریشانی شروع ہو رہی ہے۔

یہ بھی کہا کہ اس پریشانی میں گھرے ہوئے تقریباً چوالیس سال ہو گئے ہیں لیکن ہمت ہاری نہیں، ارادے بلند ہیں۔ اگر دوبارہ بھی اس منجدھار کا سامنا ہوا تو اللہ کا نام لے کر جان ہتھیلی پر رکھ کر کود پڑیں گے۔ اس وقت احمد فراز کا ایک شعر جو، الفت بالفاظِ دیگر شادی کے ابتدائی دنوں کی عکاسی کرتا ہے، ہمیں یاد تھا اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر؎ بے پیے ہی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں لیکن اسے دہرانا مناسب نہیں سمجھا، اس لیے اس کا ترجمہ کرنا پڑتا۔

اگلا دن ولیمہ کا تھا۔ دلہا کے دوستوں نے دل بھر کر اپنے ارمان پورے کیے۔ دلہے کو بار بار ہوا میں اچھالتے۔ دلہے کے والد کے علاوہ چند دوستوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن امریکی لہجے اتنے اور تیزی میں تھے کہ ہمیں کہاوت وہی یاد آتی: ”زبانِ یار من ترکی و من ترکی نمی دانم”۔ تاہم سب لوگوں کو ہنستا دیکھ کر مسکرا دیتے۔

کھانا بہت اعلیٰ طور پر تیار کیا گیا تھا۔ کراچی کی طرح باربی کیو کی چند ڈشیں بھی تھیں، دیگر لوازمات بھی شامل تھے۔ مجموعی طور پر پہلے دن سے کافی بہتر تھا۔ دلہا دلہن نے وہ رات بھی ہوٹل میں گزاری۔ افریقی ڈاکٹر اور اس کی بیوی سے ہم ملنے خاص طور پر آئے، ان کو خدا حافظ کہا۔

الوداعی برنچ اور ہوٹل سے واپسی

دوسری صبح پتا چلا کہ اب ہوٹل چھوڑنے کا وقت آ گیا ہے۔ ساتھ ہی اطلاع ملی کہ یہاں سے ایک ریسٹورنٹ برنچ پر جانا ہے۔ یہ الوداعی کھانا تھا۔ لیکن ابھی ہمارے دروازے ہوئے تھے۔ ہمیں تو گھر پر مزید چند دن اور گزارنے تھے۔ سو گھر کی راہ لی۔

ظہرانے کے بعد سارے مہمان اپنے شہروں کو روانہ ہو گئے۔ وہ فیصل کا کراچی کے میڈیکل کالج کا ساتھی ہے، آج کل بوسٹن میں ڈاکٹر کے طور پر خدمت انجام دے رہا ہے۔ ہوٹل چھوڑتے وقت ایک اور صاحب ڈاکٹر سلمان اور ان کی اہلیہ ملنے آئے۔ انہوں نے اتنی تعریفیں کیں کہ مجھے خود شرم آ گئی۔ اتنا ہی کہا ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے؎

ان لوگوں سے بار ہا کہا: ”آپ لوگ اتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں، امریکا میں امتحانات پاس کرکے اس درجے پر پہنچے ہیں، ہم سے کیا مقابلہ”۔ خیر اب گھر کی فضا کچھ معمول پر آنے لگی، دلہا دلہن مزید ایک ہفتے کے لیے گھومنے پھرنے چلے گئے۔

نیویارک کا سفر اور بغیر ڈرائیور کی ٹرین

تین دن اورلینڈو میں قیام کیا، پرانے ساتھیوں میں حسن سے ملاقات ہوئی، ویسے سے قبل ملنے آیا تھا، اس موقع پر اسے ویسے کی دعوت دی، اتنے کم وقت کے باوجود تقریب میں شرکت کی۔

چوبیس تاریخ کو امریکا گھومنے کی غرض سے سفر شروع کیا۔ سمیر اور ہم دونوں میاں بیوی وہاں سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئے۔ اورلینڈو بہت چھوٹا شہر ہے لیکن ایئرپورٹ دیکھ کر حیران ہو گئے۔ مسافروں کو جہاز تک پہنچانے کے لیے ٹرین کا بندوبست کیا گیا ہے۔ قطر کے نئے ایئرپورٹ جو دس سال قبل تزئین وآرائش کے ساتھ پرانے ایئرپورٹ کے بازو میں تیار کیا گیا ہے، وہاں بھی اپنی فلائٹ کے قریب ترین گیٹ تک پہنچنے کے لیے ٹرین استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن قطر کا ایئرپورٹ تو بین الاقوامی ہے۔ پوری ریاست میں ایک ہی ایئرپورٹ ہے جبکہ اورلینڈو مقامی ہوائی اڈا ہے۔

پتا نہیں کہ اس شہر میں کتنے ہوائی اڈے ہیں۔ امریکا کے بیشتر شہروں میں ایک سے زیادہ ہیں۔ اتفاق سے ہمیں ٹرین کے سب سے اگلے حصے میں جگہ ملی۔ انتہائی حیرت ہوئی کہ کسی ڈرائیور کے بغیر چل رہی تھی۔ اس سفر میں کئی موڑ آئے لیکن سارا سفر خوش اسلوبی سے چلتا رہا۔ اس پر زیادہ حیرت نہیں ہوئی کہ ایک مدت سے امریکی ڈرون طیارے ہمارے سرحدی علاقوں میں بم برسا رہے تھے۔ یہ بھی سنا ہے کہ امریکا اور دوسرے مغربی شہروں میں بغیر ڈرائیور کے گاڑیاں سڑک پر رواں دواں ہیں۔

ہمارے ٹکٹ پر سمیر نے ویل چیئر (پہیے والی کرسی) کی سہولت کا اندراج کر دیا تھا۔ اس لیے اس پر بیٹھ کر ٹرین تک پہنچنے کے لیے روانہ کیا۔ اس پر بیٹھ کر وہاں پہنچے تو سمیر میاں نے کرسی چلانے والوں کو ڈس ڈالر فی کس ٹپ دی۔ یہ ٹپ سفر کے آخر تک عذاب جان بن گئی۔ نیویارک میں ہم پر کیا گزری، وہ بقول امیر الاسلام ہاشمی یہ عرض پھر کروں گا۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو پریس کریں