امریکا کی سیر (قسط سوئم): نیویارک کی آمد، پرانے دوستوں سے ملاقات اور ہیرا بھائی کی یادگار داستان
دھورا جی ممین خاندان اور پرانی یادیں
دوران شادی کسی نے بتایا کہ دلہن کے والد کے پچھی ممین ہیں۔ یہ سن کر ہمارے ذہن میں کئی خیالات گونج گئے۔ ہمارے شرف آباد کے متصل بہادر آباد اور پچھی ممین سوسائٹی کے درمیان ایک سڑک تھی۔ اس سوسائٹی کے قیام سے قبل اس علاقے سے واقف تھے، اس لیے ان سے دریافت کیا۔ ان کا جواب تھا کہ وہ دھورا جی ممین ہیں۔ اس پر تو ہماری رگِ بجس پھڑک گئی۔ پوچھا کہ آپ دھورا جی گروپ کے سایا خاندان کے کسی فرد کو جانتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا اور ذکریا سایا، عبداللہ سایا کا نام لیا۔ ذکریا سایا کے بیٹوں حنیف، رفیق اور سکندر کا نام لیا۔
ہم نے اپنی معلومات کا رعب گانٹھتے ہوئے کہا کہ حنیف کا تو چالیس سال قبل امریکا میں انتقال ہو گیا تھا، سکندر کینسر کا شکار ہوکر دنیا سے چلا گیا، رفیق امریکا میں ہے، آتا جاتا رہتا ہے۔ مزید کہا کہ سب سے چھوٹے کا نام توفیق ہے جو وہ کراچی میں اسٹاک اور رئیل اسٹیٹ کا کام کرتا ہے۔
عبداللہ سایا کے متعلق جو کہاں اس کی تفصیل بتانا بے سود ہے۔ آخر میں کہا کہ ان کا سب سے چھوٹا بھائی عبدالجبار سایا میری کلاس کا ساتھی تھا۔ کوئی پینسٹھ (65) سال سے ساتھی ہیں، بہت گہرے مراسم ہیں۔ ساتھ میں اس کی تعریف میں چند جملے ایسے کہے کہ جنہیں صرف بے تکلف دوستوں کے سامنے کہا جا سکتا ہے تاہم تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔
نیویارک میں جے ایف کینیڈی ایئرپورٹ آمد اور افضال محسن سے ملاقات
اورلینڈو سے روانہ ہوکر نیویارک پہنچے، افضال محسن کو خبر کر دی تھی۔ افضال محسن میرے ساٹھ سال پرانے تعلقات پر یہی کہا جا سکتا ہے اے ذوقؔ کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا؎ بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے
ہر چند وہ ہم سے پانچ سال بڑے ہیں لیکن اتنے برسوں میں سب فرق ختم ہوگئے، کوئی اونچ نیچ نہ رہی لیکن کبھی تم سے تو تک کی نوبت نہ آئی، اگرچہ نظریات میں اختلاف اکثر ہوجاتا ہے لیکن سب نرم اور شائستہ انداز میں ہیں، کبھی کوئی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ اس میں اتنا حیران ہونے کی بات نہیں ہے۔ یہ تاثر نہ لیں کہ ہم ہمیشہ دھینگامشتی پر آمادہ رہتے ہیں۔ اصل میں ہمارا رویہ ردعمل پر مبنی ہوتا ہے۔ احمد فراز کہہ گئے ہیں وہ محبت سے ملا ہے تو جھکا دوں گا گردن؎ مرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے
لیکن اگر فریقِ ثانی بدکلامی اور بحث برائے بحث پر اتر آئے تو پھر ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دکھتے ہیں۔ ہمارے بزرگ دوست اعجاز رحمانی مرحوم کا کہنا ہے میں گفتگو کے ہر انداز کو سمجھتا ہوں؎ کہ مری ذات میں اک لہجہ شناس رہتا ہے
اسی کے مطابق پس پردہ باتوں کا مطلب سمجھنے میں دیر نہیں لگتی، اور بقول محمد علی جوہر ہے ابتدا ہمارے تمہاری انتہا کے بعد؎
ویسے افضال محسن کا مزاج بھی ہر قابلِ اعتراض بات پر آتش فشاں بن جاتا ہے۔ ویسے ان کی جملہ خصوصیات بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہوں گے۔ اس پر کام جاری ہے۔
نیویارک آمد کا وقت افضال محسن کو بتا دیا تھا کہ ہماری آمد کی قیام گاہ تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ پرواز مقررہ وقت پر جے ایف کینیڈی ایئرپورٹ پہنچ گئی۔ افضال محسن اور ان کے چھوٹے صاحبزادے عمیر موجود تھے۔ گھر پہنچنے پر خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا۔ طویل ڈرائیونگ کے شروع میں چند جانمازیں ترتیب سے بچھی ہوئی تھیں، امامت کرنے والے اور اس کے پیچھے مقتدیوں کے لیے۔ ظاہر ہے کہ یہ قبلہ رخ تھیں۔
اگلے دن جمال محسن تشریف لائے۔ کچھ دیر بعد سرور ملک تھے۔ ان سے تو شرف آباد اور پھر دبئی کی ملازمت کے دوران ملاقاتیں رہیں۔ انہوں نے گھر آنے کی دعوت دی کہ ان کے بیٹے سے ملاقات کروں جس کے کان میں ہم نے دبئی ہسپتال میں اذان دی تھی۔ سرور سے مزید ملاقاتیں ہوئیں لیکن اس بچے کا سامنا نہیں ہوا، وہ اپنی ملازمت پر کیلیفورنیا روانہ ہو چکا تھا۔
اقارب سے ملاقاتیں اور کیلیفورنیا کی دعوت
اگلے دن ہم اپنی چچازاد بہن سے ملنے گئے، ان کی شادی 1970 میں ہوئی، وہ لندن روانہ ہو گئیں۔ شوہر ایک سال قبل دنیا چھوڑ گئے۔ اب وہ اپنی بیٹیوں کے پاس جاتی رہتی ہیں، ایک نیوزی لینڈ میں ہے، ایک قطر میں، ایک لندن میں ہے اور چوتھی یہاں نیوجرسی میں آ بسیں۔ ان تمام جگہوں پر آنا جانا لگا رہتا ہے، گویا چمن میں ہر طرف بکھری پڑی ہے داستاں میری؎
یہیں ہماری ملاقات اپنے چچازاد بھائی شمس الحسن سے ہوئی۔ شمس نے انجینئرنگ جامعہ لاہور سے کرکے پاس سے جا کر ابوظہبی میں ملازمت کے مزے لوٹے کر امریکا کے علاقے کیلیفورنیا کو اپنا مسکن بنایا۔ ان سے کہا کہ ہم شکر گزار ہیں کہ ان سے یہاں ملاقات ہوگئی، اب کیلیفورنیا آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ مطمئن نہیں ہوئے اور کہا وہاں ضرور آئیں، یہ ملاقات نہیں ہے۔ ہم پھر بھی ہمت نہ کر سکے، اسے آئندہ دورے پر رکھ چھوڑا۔
سمیر میاں دو دنوں بعد (26 تاریخ) کو قطر روانہ ہو گئے۔ ہم کہیں نوکری نہیں کر رہے، اس لیے ہمارا جانا ضروری نہیں تھا، دوستوں سے ملنے اور امریکا دیکھنے کے شوق میں رک گئے۔ ایک نوکری کا ذکر نہیں کیا جس کا آغاز تقریباً چوالیس (44) سال قبل کیا تھا، وہی اب تک قائم ہے۔ اس نوکری میں کوئی تنخواہ نہیں ملتی، بس طنز استہزا، طعنے، جھڑکیاں اور اسی طرح کے انعامات ملتے ہیں، یہ تنخواہ کی طرح نئے مہینے کی ابتدا میں ہی نہیں وقتاً فوقتاً ملتے ہیں۔
ہیرا بھائی کی شخصیت اور زندگی کے دشوار مراحل
سمیر کی روانگی کے اگلے دن اپنے پرانے کرم فرما ہیرا بھائی کی طرف جانے کا قصد کیا۔ ان کا اصل نام غفران زاہدی ہے۔ ویسے تو ہر بچہ اپنی ماں کی نظر میں ہیرا جیسا ہوتا ہے، لیکن ہیرا بھائی اپنے اخلاق اطوار میں سچ مچ ہیرا تھے۔ بدقسمتی سے وہ ماں جس نے انہیں جنم دے کر ان کا لقب دیا، بہت جلد اپنے ہیرے سے دور چلی گئی، اتنا دور کہ اپنے ہیرے کی چمک دمک سے محروم ہو گئیں۔
بہت جلد گھریلو الجھنوں اور ناتفاقی کی بنا پر ان کے چچا جسے لوگ بہار ابا چھوٹے کہتے ہیں، انہیں اپنے ساتھ پاک کالونی لے گئے۔ پاک کالونی میں وہ ہیرا بہت چمکا، شاید 1966 میں ایم بی اے کیا، لیاری کے عبداللہ کالج میں تدریسی فرائض انجام دیے۔ ان دنوں اس کالج کے پرنسپل احمد فیض تھے۔ ہیرا بھائی نے ان سے متعلق کئی قصے سنائے، سب میں ان کی بڑائی کا اظہار تھا۔
کم عمر بچوں کی اپنے ماں باپ سے مستقل جدائی پر احسان دانش کا دل کو چیر کرنے والا شعر ہے یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا کھلا ضرور مگر کھل کے مسکرا نہ سکا (بحوالہ جہانِ دانش، احسان دانش کی یادداشتیں)
اس موقع پر ماں کے اپنے ہیرے (کم سن بیٹے) سے ہمیشہ کی جدائی پر اسی انداز کا کوئی شعر صاحبِ علم احباب توجہ دلائیں تو معلومات میں اضافہ فرمائیں ممنون ہوں گا۔ مشہور شاعرہ ادا جعفری نے اپنی سوانح میں تحریر کیا ہے کہ ان کے والد اس دنیا سے چلے گئے جب وہ تین سال کی تھیں۔ ان کے شوہر نورالحسن جعفری اپنی والدہ کے سایہ عاطفت سے دو سال کی عمر میں محروم ہو گئے تھے۔
مکہ مکرمہ میں ہیرا بھائی کی بیٹی سے اتفاقی ملاقات
2000ء میں تقریباً چوالیس سال بعد ان سے ملاقات ہوئی، اس تو پہچان اپنا تعارف کرانا پڑا، اس پر اتنی محبت اور گرمجوشی سے گلے لگایا کہ آنکھیں بھیگ گئیں۔ ان سے پتا چلا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ امریکا منتقل ہوگئے، لیکن ایک بیٹی ڈاکٹر شادی شدہ مکّہ میں ملازمت کر رہی ہے۔ بیٹے تو اور بھی تھے لیکن بیٹی ایک ہی تھی، اس سے زیادہ محبت تھی۔ 2002ء میں عمرے کا سفر کیا۔ وہاں پروفیسر لطف اللہ کے داماد ڈاکٹر آصف اور بیٹی سے ملاقات ہوئی۔
اتنی محبت اور احترام سے ملے کہ مجھ سے زیادہ میری بیگم صاحبہ کو حیرت ہوئی۔ وہ تو ہمیں بدزبان اور گالم گلوچ کرنے والا انسان سمجھتی تھیں۔ یہ سوچ بے بنیاد بھی نہیں تھی۔ ہمارے سپریم کورٹ کے ایجاد کردہ نظریہ ضرورت کے تحت دی گئی رعایت سے فائدہ اٹھا کر ہم تمام حدود عبور کرنے کی صلاحیت میں بدرجہ اتم موجود تھی جس کا مظاہرہ بھی اکثر سامنے آتا رہا ہے۔ مکّہ میں ہیرا بھائی کی بیٹی کا ذکر آیا۔ آصف ان سے واقف نہیں تھے لیکن انہیں پتا تھا کہ ان کے بلاک کے بعد والے ہیرا بھائی کی صاحبزادی ہیں۔
ان کا ذکر ہوا تو آصف نے بتایا کہ وہ اسی عمارت کی اوپر والی منزل پر رہتی ہیں۔ ہیرا بھائی کی بیٹی کے گھر گئے، کافی دیر تک انہیں یقین دلایا کہ ہم آپ کے والد کو بہت عرصے سے جانتے ہیں۔ وہ حیران تھیں کہ ہم اتنے برسوں میں کہاں تھے۔ خیر اس کے دادا کا نام، چچا کا نام، جمشید روڈ کے گھر کا پتا بتایا تو بات کا آخر اعتبار آ ہی گیا۔ غیر حاضر کیاشمیری آغا کا کہنا ہے اس وقت دل چاہا کہ چچا کے نام کے ساتھ ان کی صفات بیان کی جائے، لیکن پہلی ملاقات تھی اس لیے دل پر جبر کرکے خاموش رہے۔
کراچی آ کر ہیرا بھائی کے گھر فون کیا، اس وقت تک موبائل فون ہمارے پاس نہیں تھا، وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ ان کی اہلیہ سے بات ہوئی، انہیں بتایا کہ آپ کی بیٹی داماد اور بچوں سے مکّہ میں مل کر آیا ہوں۔ اتنی خوش ہوئیں کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت تک واٹس ایپ ایجاد نہیں ہوا تھا کہ دنیا میں کسی سے بھی منٹوں میں بات کر لی جائے۔ ہیرا بھائی تو پھر ہیرا ہی تھے، اس قدر ممنونیت کا اظہار کیا کہ ہم شرمندہ ہو گئے۔ اس کے بعد سے وہ ہر سال آتے، شاید انہیں امریکا کی فضا میں سکون نہیں ملتا تھا۔
لانگ آئی لینڈ نیویارک میں ہیرا بھائی سے آخری ملاقات
چند سال قبل نیویارک میں انہیں ایک حادثہ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا جوان بیٹا سمندر کی طغیانیوں میں بہہ گیا۔ جوان بیٹے کی موت پر والدین پر کیا گزرتی ہے، اس کا سوچنا بھی ایک تکلیف دہ ہے۔ اس کے بعد کراچی آئے تو اسے یاد کرکے آنسو روئے کہ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔
جب ہم ان سے ملنے گئے تو ان کی عمر اس وقت (2006ء) میں نوے (90) سے تجاوز کر گئی تھی، سو اب کراچی کا چکر لگانا بند ہو گیا ہے۔ ہم نے جمال محسن سے ان سے ملنے جانے کا ذکر کیا، اللہ بھلا کرے فوراً تیار ہو گئے۔ گھر فون کیا، ان کی اہلیہ نے اٹھایا، اپنا مقصد بتایا، انہوں نے بڑی گرمجوشی سے دعوت دی۔ ہم نے کہا کہ آپ کے میاں کا اصل نام بڑا ٹیڑھا ہے۔
وہ ہنس پڑیں، مزید کہا مگر یہ تو انہیں ہیرا بھائی ہی کہیں گے۔ نیویارک کے لونگ آئی لینڈ جا پہنچے۔ ہیرا بھائی ہمیں دیکھ کر کھل اٹھے۔ کمزوری کے باعث اٹھنا مشکل تھا، ارادہ کرسی پر آدھا اٹھے اس بات کرنے کی۔ ایک گھنٹے کی گفتگو میں ہم سے دس مرتبہ ہماری آمد کا شکریہ ادا کیا۔ کبھی انگریزی اور کبھی اردو میں۔ آخرِ عمر کا بڑا حصہ بحیثیت استاد گزار چکے تھے، آخر ہماری تعریف میں مستقل رطب اللسان رہے لیکن اس کا ذکر ضروری نہیں ہے۔






