امریکا کی سیر (قسط پنجم): ہیوسٹن کی سحر انگیزی، پرانے دوست اور یادگار محفلیں
ہیوسٹن شہر کی خصوصیات اور انور ملک کی میزبانی
ہیوسٹن کے متعلق کچھ زیادہ معلومات نہ تھی صرف اتنا جانتے تھے کہ ایک شہر ہے لیکن اس شہر کی غو ناغوں خوبیوں کا علم وہاں جا کر ہوا۔ یہ غریب پرور شہر ہے۔ ٹیکس بھی دوسری جگہوں سے کم ہیں۔ پراپرٹی کی قیمت دوسرے شہروں سے کم ہیں۔ اس کے علاوہ زندگی کی دوسری ضروریات بھی کم دام میں دستیاب ہیں۔ مجموعی طور پر کم آمدنی والوں کا گزارہ بہتر طور پر ہو جاتا ہے۔ اس شہر میں شرف آباد اور ملحق بہادر آباد کے کئی دوست آباد ہیں ، انور ملک نے دل کے ساتھ گھر کے دروازے کھول دیے۔ ان کی اور ان کی اہلیہ کی ملازمت کے اوقات لمبے ہیں، وہاں پہنچ کر لگا وہ مصرعہ بہت حقیقت پر بنی ہے ع ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
انور کی اہلیہ بھی ملازمت کرتی ہیں اس لیے مہمانان ( ہم اور ہماری اہلیہ ) نے بہت مشکل کھڑی کر دی لیکن انہوں نے اور ان کی صاحبزادی نے بڑی خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا۔ یہاں کے چار دن بڑے آرام سے گزرے۔
دوسری دو پہر برسوں کے کسی حد تک بزرگ دوست فہیم اختر کی آمد ہوئی، وہ اپنے گھر لے گئے ، وہاں ان کی چھوٹے بھائی رشید تشریف لائے چند سال قبل دنیا سے رخصت ہونے والے وسیم احمد کے چھوٹے بھائی مسرور بھی موجود تھے۔ وسیم مرحوم عجب آدمی تھا دونوں زبانوں پر مہارت رکھتا تھا۔ یعنی مہذب اور اس کی غیر موجودگی میں ناصر کاظمی کو بہت یاد کیا اے دوست ہم نے ترک تعلق کے باوجود محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
اس شعر میں دو باتیں حقیقت سے بعید ہیں، پہلے تو یہ کہ اس سے ترک تعلق ساٹھ سال کی رفاقت میں کبھی نہیں ہوا۔ اگر کبھی تلخ کلامی ہو جاتی معاف کیجیے اکثر ہوتی تھی تو اس کا طریقہ تھا کہ کان کے قریب آکر ایسی دو چار باتیں کہتا کہ تم بہت. ہو۔ اب وہ کے آگے جو کہتا اسے دہرانا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ بندہ مسکرا کر رہ جاتا۔ وہ بات خوش گوار نہ تھی۔ اس کا دنیا سے چلے جانا فیض احمد فیض کے الفاظ میں ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
فہیم کا ذکر رہ گیا۔ ان کی شادی قدرے تاخیر سے ہوئی۔ ان کی اہلیہ بہت خوش مزاج اور خوش اخلاق تھیں لیکن قدرت نے زیادہ مہلت نہیں دی، تین بچوں کا چھوڑ کر چلی گئیں۔ ان سے متعلق ایک قصہ یاد آ گیا۔ شروع اس طرح ہے کہ فہیم کو تاش کا ایک کھیل جو بہار کے لوگوں کا مقبول کھیل 29 بہت پسند تھا۔ کراچی میں ہر چھٹی والی رات چار درویش جو اسی بیماری کا شکار تھے آسانی سے مل جاتے اس لیے کہ وہ احباب بھی اسی مرض کا شکار تھے۔ ہفتہ کی آخری شام اسی نیک کام میں گزرتی۔ ایک شام مشتر کہ دوست کے گھر کسی تقریب میں شرکت کے لیے ہم دونوں خاندان کے ساتھ مدعو تھے۔ آخر میں فہیم نے ہم سے پوچھا کیا تمہارا بھی آج رات چنڈال چوکڑی جمانے کا ارادہ ہے، ہم نے بڑے فخش الفاظ میں معذرت کر لی ، اس پر فرمایا کہ اپنے ساتھ ان کے بیوی بچوں کو لے جاؤں کہ ان کا گھر ایک ہی سڑک پر ہمارے گھر کے چھ گھروں کے بعد تھا۔ بیگم فہیم اور ان کے تین بچے ہمارے بیوی بچے کے ساتھ ہم رکاب تھے ، یاد رہے کہ ان دنوں عشائیہ کے بعد اکثر دعوتوں میں ٹھنڈے مشروب ، پیپسی ، سیون اپ پیش نہیں کیے جاتے تھے۔ ہمارے بیوی اور بیٹے کی اس مشروب کی طلب جاگ اٹھی۔ ہم نے ان دونوں فرمائش سے اتفاق کیا ، اس پر فہیم کی اہلیہ (مرحومہ ) نے کہا کہ انہیں پہلے چھوڑ دیا جائے ، ہم نے کہا اتنی جلدی کیا ہے ، آپ کا گھر کوئی چھ کلو میٹر دور نہیں ہے ، صرف چھ گھروں کے بعد ہے تو اتنی جلدی کیوں ہے۔ ذرا مشروب سے سیر ہو لیں پھر گھر کے سامنے اتار دوں گا۔ انہوں نے کئی بہانے بنائے ، ہمارا کہنا تھا کہ اگر آپ ذیا بیطس (شکر) کی مریضہ ہیں تو ڈائٹ بھی آتا ہے۔ وہ لا جواب ہو گئیں اور ہم نے مشروب سے لطف لینے کے بعد انہیں پہنچا دیا۔ بد قسمتی سے چند سال بعد وہ دنیا سے کوچ کر گئیں۔
فہیم میاں نے کچھ عرصہ بعد نئی شادی کا قصد کیا۔ اس کی تقریب کی تاریخ طے کرنے میں چاند ستاروں کی چال سمجھنے میں چوک کر گئے ، ویسے بھی چاند ستاروں کی چال کون سمجھ سکا ہے، اگر ایسا ہو سکتا تو دنیا سے لوٹ مار، افراتفری کا نام و نشان نہیں رہتا۔ فہیم نے جو نئے ولیمے کی تاریخ رکھی وہ دن رمضان کا پہلا دن قرار پایا۔ تمام مہمانان افطار کے لیے بے چین تھے۔ شرف آباد کلب سے ملحق مسجد علی سے مغرب کی اذان بلند ہوتے ہی تمام افراد جو بھوک سے تقریباً بلبلا رہے تھے ، ٹوٹ پڑے۔ میزبان کی طرف سے کسی اشارے کا انتظار کیا نہ ء بیروں کی جانب سے پرات کے ٹکرانے کی آواز آئی، نہ جانے ہم سب بحیثیت قوم مفت کے کھانے پر ایسے گرتے ہیں کہ جیسے مدت سے بھوکے ہوںشکر ہے کوئی اثنا عشری جن کی افطار کا وقت دس منٹ بعد شروع ہوتا ہے ، شریک نہ تھا ور نہ سنیوں (حنفیوں ) کی یلغار کے بعد وہ سب ایک دانے کو ترستے رہ جاتے۔ اکثر پریس کلب اور دوسری تنظیموں کی افطار پارٹی میں دیکھا کہ دس منٹ کی تاخیر سے افطار کا آغاز کرنے والے اپنی پلیٹ بنا کر محفوظ کر لیتے ہیں تا کہ الگ عقیدہ رکھنے والوں کی لوٹ مار سے ان کا رزق محفوظ رہے۔
نور الرحمن سے ملاقات اور ان کی شخصیت کے پہلو
وہیں پر چون (54) سال بعد محلے کے اس وقت کے معروف جوان نور الرحمن سے ملاقات ہوئی۔ وہی لمبا قد ، ہنستا کھیلتا چہرہ ، وہی گفتگو اور وہی چھیڑ چھاڑ۔ سب کچھ وہی تھا بس نصف صدی سے زیادہ گذر چکا تھا۔ چہرے پر کئی جگہ داغ لیکن یہ صرف چہرے پر تھے۔ شاعر کہہ گیا ہے ع ہر داغ اس دل میں ہے، بجز داغ ندامت
نور اپنے چھ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، ان سے چھوٹی واحد بہن تھی۔ ہم نے ان کے تعارف میں سب سے چھوٹے کے ساتھ سب سے کھوٹے کا طنز داغ دیا لیکن ان کے چہرے پر کوئی شکن نہیں آئی۔ نور نے 1970 ء میں پری انجینئر نگ سے انٹر سائنس پاس کیا ، جامعہ کراچی میں آنرز میں داخلہ کیا۔ طبیعت میں چلبلا پن کوٹ کوٹ کر بھرا تھا، ہوا ایک دن وہ اور ان کے ایک دوست لنگی ( بہاریوں کی لنگی ) پہن کر جامعہ آگئے۔ اخبارات میں ان کی تصاویر چھپی۔ اب یہ پتا کرنا مشکل ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جو اخبار کے رپورٹر اور فوٹو گرافر کے مشورے سے طے ہوا تھا۔
نور میں شان و شوکت دکھانے کا بہت شوق تھا۔ اپنی اہمیت ظاہر کرنے کی بیماری تھی۔ امریکا جانے کے صرف ایک سال بعد آئے تو گھر کے سامنے کے ایک دوست کو آواز دے کر پوچھا کہ بہادر آباد چوک کا راستہ کس طرف ہے، وہ بھول گئے ہیں۔ یاد رہے کہ ان کے مکان کے برابر کے گھر سے سیدھے ہاتھ مڑ کر ہی وہ راستہ تھا۔ وہ دوست اسلم نے جواب دیا: ”سیدھے چلے جاؤ، ورنہ وہ گالی دے گا ، پھر تمہیں راستہ سمجھ میں آجائے گا۔ شکاگو میں ان کے ایک پرانے دوست خورشید اقبال نے بھی ایسی ہی کہانی بیان کی۔ سال بعد امریکا سے واپسی پر خورشید کے گھر طارق روڈ کے سگنل سے چند قدم آگے بہادر آباد سے جاتے ہوئے سیدھے ہاتھ پر مین روڈ سے ایک گلی بعد ان کا گھر تھا۔ وہاں ملاقات کے اختتام پر پوچھ بیٹھے کہ یہاں سے بہادر آباد کا راستہ بھول گیا ہوں، ذرا بتا دو۔ خورشید نے کہا کہ میرے گھر آنے کا راستہ یاد رہا ، اب اسی راستے سے واپس چلے جاؤ۔
نور کا پورا نام شاہ نور الرحمن ہے، امریکی معاشرے میں سر نیم ( خاندانی نام) سے مخاطب کرنے کی عام روایت ہے۔ اسی نسبت سے انہیں ڈاکٹر رحمن کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ امراض گردہ کے ماہر (Specialist) ہیں۔
نور الرحمن میں اس طرح کی چھوٹی موٹی کمزوریاں تھیں لیکن وہ برائی جو اکثر جوانوں میں گھر کر لیتی ہیں مثلاً شراب، جوا اور وہ جسے لوگ جوانی کا تقاضہ سمجھتے ہیں، اس سے دور تھے۔ سب سے چھوٹے بھائی تھے اس لیے پانچ بھائیوں کی آنکھیں ہر وقت تعاقب کرتی تھیں۔ ان کے چند دوست پانچوں شرعی عیوب میں سر سے پیر تک ڈوبے تھے لیکن نور کا اس کا کوئی اثر نہ لیا۔ اب امریکا میں کیا حال ہے اس کی خبر نہیں۔
کراچی کی حد تک ( 1971 تک) وہ جمعہ کی نماز کے پابند تھے۔ اب پچپن سالوں میں پل کے نیچے کتنا پانی بہہ چکا ہے اور ایک امریکی دوشیزہ سے شادی کے بعد کی صورتحال کا علم نہ ہو سکا۔ تاہم ہماری دعا ہے کہ وہ جس حد تک ہو سکے پرانی روش پر قائم رہیں یا واپس آجائیں۔
قدیم پڑوسیوں اور فاروق عظیم کی داستانِ حیات
بیس سال سے ہمارے قریب ترین پڑوسی ڈاکٹر اعجاز بھی موجود تھے۔ انہیں وہاں کوچ کیے ہوئے ایک سال ہوئے ہیں۔ وہاں اپنے بچوں کے ساتھ آرام کے دن گزار رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر طلعت ایم بی بی ایس کے بعد ایم آرسی پی کی ڈگری حاصل کر چکی تھیں۔ کراچی میں بہت مصروف زندگی گزار رہی تھیں۔ لیکن یہاں امور خانہ داری نبھا رہی ہیں۔ پوچھا کہ اب کام کیوں نہیں کر رہی ہیں جب کہ پوری زندگی کام کے ساتھ بسر کی۔ ان کا جواب تھا کہ امریکا میں ڈاکٹری کا کام کرنے میں بہت ساری مشکلات حائل ہیں ، ڈرائیونگ لائیسنس ملنے کے بعد سوچیں گے کہ کیا کام کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر اعجاز نماز کے بہت پابند تھے، فجر کی نماز بھی مسجد میں باجماعت ادا کرتے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ اپنے اس معمول پر قائم رہیں۔ ویسے وہ 65 سال کی عمر میں اور بچوں کے تقاضوں سے مجبور ہو کر وہاں کوچ کر گئے ہیں۔ اس لیے یقین ہے کہ وہ اپنی روش نہیں چھوڑیں گے۔
ایک اور دوست فاروق عظیم جو پچاس سال قبل کشتیاں جلا کر روانہ ہوئے تھے، ان سے ملاقات ہوئی۔ ہیوسٹن کے ساتھیوں میں کوئی ان سے واقف نہ تھا۔ ان کی زندگی بھی عجیب طور پر گزری۔ستر (70) کی دھائی کی ابتدا میں فاروق عظیم نے پولی ٹیکنک سے ڈپلوما مکمل کرنے کے بعد اپنے دوست کے ساتھ جو جامعہ کراچی کے فارمیسی کے شعبے کے طالب علم تھے جانے لگے۔ ان دنوں کچھ جوان دوستوں کے ساتھ اکثر گھومنے کی غرض سے جامعہ کراچی کا دورہ کرتے تھے۔ ان جوانوں میں فاروق عظیم بھی تھے۔ وہاں جاتے جاتے ان کا ایک طالبہ سے بقول کمال احمد رضوی (الن ) پس پردہ مکالمہ شروع ہو گیا۔ یہ مکالمہ جلد دو طرفہ ہو گیا ، وہ طالبہ ڈگری حاصل کر کے امیگریشن کے تحت امریکا روانہ ہو گئی۔ جاتے جاتے کچھ عہد و پیمان بھی کر گئی، جاتے ہی اپنے وعدے کا پاس نبھانے کی خاطر کچھ عرصہ بعد چھٹی پر آکر شادی کے فرض کی ادائیگی کی تکمیل کی۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ وہ شادی جنوری 1977ء میں انجام پائی۔ سات جنوری کو بھٹو صاحب نے دو ماہ بعد سات مارچ کے دن انتخاب کا اعلان کیا تھا۔ وہ خاتون تو چند ہفتوں بعد روانہ ہوگئی ، تا کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کر سکیں ، ساتھ میں نو بیاہتا شوہر کے کاغذات داخل کر سکیں تا کہ فاروق عظیم کا جلد از جلد فرقت کا دورانیہ ختم ہو جائے۔ اس زمانے میں شریک حیات کے ویزے کی کاروائی بڑی تیزی سے پوری ہو جاتی تھی ، فاروق میاں کے ویزے کی کاروائی ایک ماہ میں پوری ہوگئی۔ انہیں ویزے کی کال آگئی۔ وہ سفر پر روانہ ہو گئے ان کی فرقت کے دن ختم ہو گئے۔ لیکن اس سے قبل کی صورتحال عجیب تھی۔
پاکستان میں الیکشن اپنے اعلان کردہ وقت ہوئے انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگا کر حزب اختلاف نے بڑے پیمانے پر تحریک شروع کر دی۔ تمام شہر بلکہ ملک بھر میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔ ایئر لائن کی پروازیں بھی ملتوی ہوتی رہی۔ لیکن آخر میں اپریل کے شروع میں وہ کسی پرواز سے پیا کے دیس روانہ ہو گئے۔ (خواتین کے اس نوعیت کے سفر کو پیا کے دیس روانہ ہونا کہتے ہیں۔ تقریباً ساٹھ سال پرانا فلمی نغمہ تھا جس میں حسینہ نغمہ سرا تھی چلی رے چلی رے چلی رے میں تو دیس پیا کے چلی رے پتا نہیں مرد یا شوہر کے اس طرح کے سفر کے لیے کیا کہا جائے گا۔ ضرورت اس بات کی شدید ہے کہ کوئی لفظ ایجاد کیا جائے اس لیے کہ کافی عرصہ سے حسینوں کے علاوہ جوان مرد بھی گرین کارڈ رکھنے والی دوشیزہ سے نکاح کی رسم کی تکمیل کے بعد یورپ، امریکا اور کینیڈا یا آسٹریلیا کوچ کر جاتے ہیں۔ گر کسی دوست کے علم میں ہو تو ہماری معلومات میں اضافہ فرمائیں۔ ممنون ہوں گا ) فاروق کی شادی کی تفصیل ہمیں اتنی تفصیل اس لیے یاد ہے کہ تمیں اپریل کو ہم دبئی چلو کی تحریک کا شکار ہو کر دبئی چل دیے۔ ہمارا دبئی کا ویزا تو ہمارے بھانجے شعیب عابدین نے والدہ کی تحریک پر جنوری میں بھیج دیا تھا لیکن جلد ہونے والے انتخابات کو دیکھنے کی ٹھرک بلکہ درست لفظ کیڑا شدید طور پر بھڑک اٹھی۔ والدہ صاحبہ ہماری سیاسی سرگرمیوں سے بہت پریشان تھیں۔ ان دنوں سیاسی کارکنوں کو جا بجا گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ اس سب کے باوجود ہم نے ویزے کی توسیع کرالی اور انتخاب کے تقریباً پانچ ہفتوں بعد روانہ ہو گئے۔
اکتوبر 1988ء میں فاروق کے والد دنیا سے روانہ ہو گئے۔ ان کے آخری وقت وہ موجود تھے۔ خوش قسمت تھے کہ والد کی تجہیز و تکفین میں شریک ہو سکے۔ اس کے بعد سے وہ پاکستان آنے کے دن گن رہے ہیں۔ 38 سال ہو چکے ہیں، دیکھنا ہے کہ کب پاکستان کے نصیب جاگیں گے اور ان کے قدم اس سرزمین کو چومیں گے۔
والد کے انتقال کے چند ماہ بعد فاروق نے والدہ کو امریکا بلا لیا۔ یہ ایسا ہی ہوا جیسے ایک پنجرے میں دو شیر موجود ہوں۔ دو شیر تو شاید ایک ساتھ رہ لیں لیکن ساس اور بہو کیسے رہ سکتی ہیں خاص کر امریکا میں۔ نتیجہ وہی ہوا بات جوانی تک نہیں بلکہ علحیدگی تک پہنچ گئی۔ اس وقت تک تین بیٹیاں دنیا میں تشریف لا چکی تھیں۔ فاروق میاں تنہا رہ گئے ، ہاں والدہ ساتھ تھیں۔ چند سال بعد والدہ پاکستان آئیں، یہاں ان کا آخری وقت آگیا، فاروق اکیلے رہ گئے۔ ہیوسٹن میں ان کو فون کر کے بہت گزارش کی کہ اس عشائیے میں ضرور آئیں۔ انہوں نے ہماری درخواست کو شرف قبولیت بخشا، تشریف لائے۔ اتنے مجمع میں ذاتی باتیں کرنا ممکن نہیں تھی ، اس لیے تشنگی رہی۔
فاروق میاں نے ایک شکار اور کیا لیکن یہ مہم (Adventure) جزوی طور پر کامیاب رہی۔ اس مرتبہ انہیں جامعہ کراچی کی شکارگاہ کی سیر کو جانا نہیں پڑا۔ ہیوسٹن کی گلیوں میں دو بیٹیوں والی ایک بنگلہ دیشی خاتون سے رسم و راہ پیدا ہوئی۔ اس طرح یہ ایک مثالی شادی تھی جس میں جہیز میں دو اور بری میں تین بچیاں تھیں۔ اس طرح کے التفات میں جہاں بچوں والے بچوں والی کی طرف قدم رنجہ فرماتے ہیں تو محترمہ کے شک و شبہ کو انور مسعود نے یوں بیان کیا ہے۔ دیکھیے محتاط ہی رہیے اس جاسوس زمانے سے میں بھی بچوں والی ہوں اور آپ بھی بچوں والے ہیںیہ پھول بن کھلے نہیں مرجھایا تاہم بہت جلد خزاں کا شکار ہو گیا۔ اب فاروق میاں تیسری بازی کھیلنے کے منتظر ہیں۔ کیوں نہ ہوں محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے تو فاروق اپنی پیش قدمی کیوں نہ روک دیں۔ ہمارے سابق کرکٹر ،سماجی قائد اور اب تو سیاسی رہنما عمران خان ان پر سبقت لے جاچکے ہیں لیکن فاروق نے ابھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے حوصلے بلند ہیں ، انہیں علم ہے ہمت مرداں مدد خدا اس کے ساتھ ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
فاروق جس عمارت میں سیکیورٹی کی ذمہ داری انجام دے رہے تھے ، اسی میں ڈاکٹر اعجاز کی بیٹی آمنہ رہ رہی تھی۔ آمنہ نے آغا خان میڈیکل یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی ڈگری لی، جلد شادی ہوگئی ، اس کے بعد وہ امریکا روانہ ہو گئی۔ جس عمارت میں رہتی تھی۔ آمنہ آتے جاتے فاروق کو دیکھتی ، ایک دن دونوں میں بات چیت ہوئی تو علم ہوا کہ فاروق بہادر آباد کے رہائشی ہیں، آمنہ نے بتایا کہ وہ شرف آباد میں رہتی تھیں، وہیں پیدا ہوئی۔ فاروق نے پوچھا، شرف آباد کے نجم کو جانتی ہیں، انکار پر پوچھا محمود سے واقف ہیں، آمنہ نے کہا وہ ہمارے گھر کے سامنے رہتے ہیں۔ پھر دونوں میں مستقل سلام دعا ہونے لگی۔ اس کے بعد ہماری بھی فاروق سے گاہے بگاہے بات ہونے لگی۔ ایک دن بتایا کہ رمضان میں انہیں نماز پڑھتا دیکھ کر اکثر مسلمان گھروں سے افطار اور سحری کے لوازمات آجاتے ہیں۔ ہم نے کہا دبی رکھ یعنی پہلے جاؤ ، رمضان کے بعد بھی من و سلوی انشا اللہ چلتا رہے گا۔ (ایک زمانہ قبل جب تمام بڑے چھوٹے بسوں سے سفر کرتے تھے یہ الفاظ چند اور الفاظ کے ساتھ جس میں پیچھے آنے والی بس کا نمبر شامل کر کے ادا کیا جاتا تھا۔ بہت مشہور تھا، بسوں کے کنڈکٹر ڈرائیور کو انہی الفاظ سے خبردار کرتے کہ تیز چلاؤ۔
ہیوسٹن کی پرخلوص محفل اور شرف آبادی دوست
صرف ایک سال قبل ہجرت کرنے والے ڈاکٹر اعجاز عرف پھکا اور ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر احمد عرف بابو بھی موجود تھے۔ احمد کئی برس سعودی عرب کی خاک چھان کر ہیوسٹن کی طرف چند سال قبل جا بسے۔ ایسا کیوں نہ ہو، معروف انقلابی شاعر حبیب جالب کہہ گئے ہیں ع سب جا رہے ہیں سایۂ دیوار کی طرف
ابھی چند دن قبل ان کی ہمشیرہ ( نام تو نہیں معلوم ہے ) شکا گو میں چل بسیں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے ، درجات بلند کرے۔
اس محفل میں بہادر آباد روڈ نمبر 15 کے صدیق بھی موجود تھے۔ وہ ہمارے ہم عمر ہیں ، صدیق بہادر آباد اور قریب کے علاقے کے کرکٹ کے چند اچھے کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ پڑھنے لکھنے کا رجحان نہ تھا ورنہ محلے کے طاہر شار کی طرح اسپورٹس کے کوٹے میں پروفیشنل کالج میں داخلہ مل سکتا تھا۔ صدیق کا اصل نام محمد علی ہے۔ بہادر آباد میں ان کے قیام کے دوران شاید ہی کوئی اس سے واقف تھا۔ عشائیہ کے دوران گفتگو کا موقع ملنے پر کہا کہ ان کا نام صدیق ہی جانتے تھے۔ لیکن 1980 میں ان کی ابوظہبی آمد پر پتا چلا کہ اصل نام محمد علی ہے۔ ہم نے کہا ان کا نام صدیق ہی ہو سکتا ہے اس لیے کہ صدیق تو سچے کو کہا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ ہماری لفظی چھیڑ چھاڑ گزشتہ پچپن برس سے جاری تھی۔ خوشی ہے کہ انہوں نے اس کا برا نہیں مانا۔
ان سے بڑے دو بھائیوں سے بڑی بہن نے 1972 میں جامعہ کراچی سے ایم ایس سی پاس کیا تھا۔ ہم نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔ تم تو کئی بھائی ( غالباً تین ) ہولیکن پڑھی لکھی صرف بڑی بہن ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ان سے بڑے بھائی حامد بھی تعلیم یافتہ ہیں تفصیل بھی بتائی ، نہ جانے وہ سچ تھے یا نہیں ، ہم اس سے واقف نہیں تھے۔
ہیوسٹن میں کئی پرانے اہل محلہ سے ملاقات ہوئی۔ ان میں تنویر جن کی اس زمانے میں چوک پر ایک سو پر مارکٹ تھیBoatsons۔ تنویر بھی کرکٹ اچھی کھیلتے تھے۔ ان کے علاوہ دو بھائی محسن نواب اور عارف نواب بھی ہیں۔ حیدر آباد دکن سے ان کے اجداد کا تعلق تھا۔ وہاں سب نواب تھے۔ پتا نہیں مزدور ملتے تھے یا نہیں۔ محسن نے محسن نے بڑے دوڑ دھوپ کے بعد بڑے بھائی عارف نواب کو بلایا تھا۔
شرف آباد اور اس سے ملحق بہادر آباد سے کئی دوستوں نے دور دور سے آکر اس عشائیے میں شرکت کی۔ تقریباً پچاس سال قبل کے نوجوان وصیف جن سے پچاس برسوں میں کوئی رابطہ نہیں تھا، ڈلاس میں بیس میل دورست ملاقات کرنے آئے۔ انہوں نے ہیوسٹن کی انور ملک کی ترتیب کردہ دعوت میں دو سو میل تقریباً تین سو کلو میٹر آکر اس خاکسار کو عزت بخشی۔ ہم نے ان سے کہا : ” ڈلاس میں ملاقات ہو چکی ہے، اب اتنی دور آنے کی کیا ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہوائی جہاز کی سیٹ بک کر لی ہے اور ہوٹل میں قیام کے انتظامات بھی کر لیے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے پرانے خاص دوست ندیم بھی شریک ہوئے۔
سب سے حیرت ناک بات شرکت آفتاب انور کی تھی ، وہ سان فرانسکو ( پانچ گھنٹے کی فلائٹ ) سے شریک بزم تھے۔ ابھی چار دن قبل ان کی ہمشیرہ کے انتقال کی خبر اسی شرف آبادیز گروپ کے ذریعے ملی۔ اللہ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور خطاؤں سے درگزر کرے۔ ہم ممنون تھے کہ اتنے لوگوں نے ہم سے ملاقات کی تکلیف گوارہ کی۔ انور ملک نے بڑی کاوشوں سے سب کو اکٹھا کیا تھا۔
وہیں نوجوان شاکر سے ملاقات ہوئی۔ تقریباً پچپن سال کے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ انکے بڑے بھائی مختار اور ان سے بڑے لطیف تھے۔ اٹھ کی دھائی میں علاقے کے سینئر جوانوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ وہ دونوں دنیا سے جا چکے ہیں۔ لطیف تو ہم سے سات یا آٹھ سال بڑے تھے، مختار کی رحلت کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا، وہ ہمارے ہم عمر تھے لیکن ان کا وقت رخصت جلد آ گیا۔
چونکہ ہمارا سفر دبئی 1977 میں شروع ہو گیا تھا اس لیے کراچی میں ان سے تعارف نہ ہو سکا تھا۔ بہادر آباد کے اعجاز بیگ نے بتایا کہ ان کے والد بہت مشہور حکیم تھے، کوئی چالیس سال ریڈیو پاکستان کے مقابل دواخانہ حکیم اجمل خان میں حکمت سے احباب کو مستفید کیا ، اب اس کی خبر نہیں کہ ان میں جوان کتنے تھے۔ حکیموں سے ہماری شناسائی بہت دور کی رہی ہے، وجہ یہ کہ وہ لوگ جس طرح کے علاج میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس کا ہمیں سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سنتے ہیں کہ جوانی دیوانی ہوتی ہے لیکن ہم اس دیوانگی سے دور رہے اس لیے کہ اس میدان میں بقول شورش کاشمیری اس بازار میں سونے چاندی کے سکے اچھالے جاتے تھے۔ ادھر ہماری حالت بقول ذوق دہلوی درہم و دام ہمارے پاس کہاں۔ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
اسی بنا پر عزت سادات محفوظ رہی۔ حکیم صاحب ان ان لوگوں کے بہت معاون ہوتے ہیں جو بچپن اور جوانی کی ابتدا میں غلط صحبت کا شکار ہو کر جوانی کے تقاضوں سے مستفید ہونے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
نوکر شاہی کی معروف شخصیت قدرت اللہ شہاب کی تحریر کردہ مشہور سوانح شہاب نامہ کے باب گورنر جنرل ملک غلام محمد میں لکھا گیا ہے اس ذاتی ہزیمت کا غم غلط کرنے کے لیے انہوں نے ( ملک غلام محمد ) اپنی کھوئی ہوئی جسمانی قوتوں کو بحال کرنے کی ٹھان لی ، اس مقصد کے لیے لکھنو سے ایک حکیم صاحب طلب کیے گئے ، جو نابینا تھے اور ان کی عمر ایک سو پانچ (105 ) سے اوپر بتائی جاتی تھی۔ ان کے ساتھ ان کا ایک بیٹا بھی تھا جس کی عمر دس برس کے قریب تھی۔ یہ برخوردار حکیم صاحب کی عمر کے پچانویں (95th) برس میں پیدا ہوا تھا۔ اس لیے اسے ان کی طباعت اور حذاقت ( مردانگی اس کا بہترین متبادل لفظ ہے اور بھی ہو سکتے ہیں لیکن شرافت کا تقاضا ہے کہ اس نوعیت کے الفاظ سے اجتناب کیا جائے ) کا جیتا جاگتا سر ٹیفیکیٹ تسلیم کیا جاتا تھا۔ حکیم صاحب کی حکمت عملی کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا۔ قدرت اللہ شہاب کے الفاظ میں البتہ ان کا بلڈ پر یشر مزید بڑھ گیا اور ایک روز وہ اچانک بے ہوش ہو کر کوما میں چلے گئے۔ حکیم صاحب تو بوریا بستر سنبھال کر رفو چکر ہو گئے اور گورنر جنرل کو آکسیجن لگا دی گئی۔ حکیم صاحب جن کے علاج کے لیے ہنگامی طور پر دعوت دی گئی تھی ، وہ مملکت پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل تھے۔ پہلے قائد اعظم ( جن کی سربراہی تقریباً ایک سال، دوسرے خواجہ ناظم الدین ( دور گورنر جنرل تین سال ) اس کے بعد یہ تخت طاؤس میوزیکل چیئر کے کھیل کے تحت ملک غلام محمد کے حصے میں آیا۔ انہوں نے اسے داشتہ کی طرح برتا۔
شوگر لینڈ کی جامع مسجد مریم اور نمازِ جمعہ
ہیوسٹن کے چار دنوں کے قیام میں جمعہ آگیا۔ مجاہدین کو جہاد کے دوران نماز کا وقت آجاتا تو ٹکڑوں میں نماز پڑھ لیتے ، علامہ اقبال نے ماضی کی کہانی اپنے اشعار میں بیان کی ہے۔ اب تو کہانی ہی لگتی ہے آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
یہاں ایسی کوئی مشکل نہیں تھی، بس حسیناؤں سے کنارہ کشی کا جہاد کرنا مشکل تھا لیکن بدقسمتی سے کسی نے التفات کے قابل نہیں سمجھا ، یا یوں کہے منھ نہیں لگایا ، اس لیے کہ بیگم ساتھ تھیں، ان کی موجودگی میں ایسا کوئی موقع ملا ہی نہیں ورنہ ہم تو دل و جان قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار تھے اور اب بھی ہیں لیکن افسوس کسی حسینہ نے اس طرف کا رخ نہیں کیا۔ احمد فراز کہہ گئے ہیں عاب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں مارے دوست کہتے ہیں نا امید نہ ہو، فیض کا شعر سنا دیتے ہیں۔ دل نا امید تو نہیں نا کام ہی تو ہے لمبی ہی غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
ہمارا کہنا ہے کہ اس وقت شام نہیں بقول منیر نیازی ع راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو
لوگوں کا کہنا ہے کہ پیسے جمع کرو، جس دن دو چار کروڑ ہو جائیں گے، حسیناؤں کی بھیڑ لگ جائے گی۔ سوچتا ہوں جب زندگی چند لاکھ سے آگے نہیں بڑھی تو اس عمر میں۔
اب لفظ جہاد کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ تو ہماری لغت سے متروک ہو گیا ہے۔ اب اس کی جگہ مصلحت اور نام نہاد قومی مفاد سے کام لیا جاتا ہے۔ انور ملک سے فرمائش کی کہ شہر کی سب سے بڑی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کا دل چاہ رہا ہے۔ فاصلہ کافی زیادہ تھا لیکن ع دل کی کیا بات کریں ، دل تو ہے ناداں جاناں
انہوں نے اس فرمائش کو سر آنکھوں پر جگہ دی۔ ہیوسٹن کی جامع مسجد مریم کو دیکھ کر دماغ حیرتوں میں ڈوب گیا۔ اس علاقے کا نام شوگر لینڈ ہے۔ اردو ترجمہ کریں تو شکر کی زمین بنتا ہے۔ عمارت کافی بڑی تھی لیکن کبھی کبھی جمعہ کے علاوہ عیدین پر تنگ پڑ جاتی ہے۔ اس لیے نماز دو مرتبہ ادا کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے جو لوگ پہلے دیے ہوئے وقت پر کسی بھی وجہ کر شریک نہ ہو سکے تو وہ دوسری مرتبہ ادا کی جانے والی نماز میں شامل ہو جاتے ہیں۔ عمارت کافی بڑی تھی ، پتا چلا کہ رمضان میں احباب کے تعاون سے افطار اور بعد کے طعام کا انتظام بھی ہوتا ہے۔ سب سے حیران کن بات مسجد کی پارکنگ کی جگہ ( پارکنگ لاٹ ) تھی ، مسجد کی عمارت کے رقبے سے بارہ گنا جگہ پارکنگ کے لیے مختص تھی۔ انور نے بتایا کہ دور دور سے لوگ جمعہ اور عید کی نماز ادا کرنے آتے ہیں، مسجد کے باہر کی سڑک پر گاڑی پارک کرنے کی ممانعت ہے۔ اکثر موقعوں پر پورکنگ کی جگہ پوری بھر جاتی ہے۔ یہ پاکستان نہیں ہے کہ جہاں چاہے کھڑی کر کے چلے جاؤ۔ ہماری گاڑی درمیان میں تھی نماز کے بعد پارکنگ سے باہر نکلنے میں آدھ گھنٹہ لگا۔ مجال ہے کہ کسی نے ہارن بجایا یا ادھر ادھر سے کاٹ کر نکلنے کی کوشش کی ہو۔ یہ بھی بتایا کہ مسجد سے ملحق مکانوں کی قیمت مارکیٹ کے دام سے کچھ زیادہ ہوتی ہے، وجہ یہ ہے چند مسلمان مسجد کے قرب وجوار میں رہنا چاہتے ہیں، ان کی اس خواہش کا گوروں کو علم ہوتا ہے اسی لیے قیمت کچھ بڑھ کر طلب کی جاتی ہے ، چند ایمان والے یہ قربانی دے کر مکان خرید لیتے ہیں۔ جمعہ کے علاوہ دوسری نمازوں میں تعداد کافی کم ہوتی ہے اس لیے کہ مسجد کچھ فاصلے پر ہوتی ہے۔ کہیں پندرہ منٹ کے اور کہیں آدھ گھنٹے کے فاصلے پر۔ اب ملازمت اور دوسری مصروفیت کی بنا پر جانا ممکن نہیں ہوتا ہے۔
گلیریا مال کی سیر اور لاہور کے واقعے کا ذکر
انور ملک کی معیت میں بلکہ ان کے تعاون کی بدولت وہاں کے سب سے بڑے شاپنگ مال گلیریا کی سیر بھی کی۔ ایک تقریب میں شرکت بھی ہوئی۔ وہاں ڈاکٹر آصف قدیر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ آصف قدیر مولانا مودودی کے داماد کے چھوٹے بھائی ہیں۔ ان کے والد غالبا ریاض قدیر صاحب ( نام میں غلطی کا امکان ہے ) لاہور کے ایک میڈیکل کالج کے سربراہ تھے۔ ایک دن گورنر مغربی پاکستان (یاد رہے کہ اس وقت ون یونٹ کی بدولت موجودہ چار صوبوں کو ضم کر کے ایک صوبہ مغربی پاکستان کے نام سے قائم کیا گیا تھا ) ملک امیر محمد خان ( نواب آف کالا باغ) نے انہیں طلب کیا اور ایک بچے کو داخل کرنے کا حکم دیا۔ ریاض قدیر صاحب نے معذرت کی کہ اس کے نمبر بہت کم ہیں ، اسے میرٹ پر داخلہ نہیں مل سکے گا۔ اس پر گورنر کو اپنی حکم سے انکار پر ایسا طیش آیا کہ کالج کے سربراہ پر ہاتھ اٹھا لیا۔ اس صدمے سے ریاض قدیر صاحب کافی عرصہ تک ذہنی خلجان کا شکار رہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ جنم لیتا ہے، سو اس فرعون گورنر کے بیٹے نے اپنے باپ کو ناشتے کی میز پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ فاعتبر و یا اولوالا بصار (اے آنکھوں والو سمجھ بوجھ والو عبرت حاصل کرو)
افسوس کی بات ہے کہ حسین فاروق مودودی وہاں موجود نہیں تھے۔ آصف قدیر صاحب کو وہاں پہنچا کر کہیں دوسری جگہ تشریف لے گئے۔
ہماری اگلے منزل شکا گو تھی ، سو وہاں سے انور ملک اور ان کی اہلیہ اور بیٹی کا شکریہ ادا کر کے ان کے داماد کی رہنمائی میں ایئر پورٹ کی راہ لی۔





