نوا ہائے قلب زار: ڈاکٹر عبدالعلیم صدیقی
ابتدائی تعارف اور شخصیت سے غائبانہ انس
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن سے زندگی کے کسی بھی موڑ پر رابطہ نہیں ہوتا مگر جن کے تبحر علمی کے پیش نظر ان کی شخصیت سے قدرتی طور پر انس پیدا ہوجاتا ہے اور وہ شخصیت ایک طرح سے انسان کے لیے عزت و احترام کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ مجھے عبدالعلیم صدیقی صاحب کے بارے میں نہایت تفصیل سے فرہاد احمد فگار نے بتایا جو اگرچہ مظفر آباد کا رہائشی ہے مگر عبدالعلیم صدیقی صاحب کے علم و فن کا قدر دان بھی ہے جبکہ مجھے صدیقی صاحب کی دو کتابیں نوائے شرق اور نغمہ سروش 2013ء میں میرے برادر خورد غازی علم الدین نے بھیجی تھیں
علاوہ ازیں مجھے صدیقی صاحب کے بارے میں میرے برادر خرد ڈاکٹر ماجد نے تفصیل سے بتایا جس کو سن کر مجھے انتہائی دکھ ہوا کہ کاش میں چند سال قبل پالندری آجاتا تو صدیقی صاحب سے فیض حاصل کرتا ۔ ڈاکٹر ماجد ویسے تو راولاکوٹ میں پونچھ یونیورسٹی میں فزکس کے استاد ہیں مگر ان کا آبائی شہر پالندری ہے جہاں صدیقی صاحب پالندری کے کالج میں بطور پرنسپل ریٹائر ہوئے ۔ اس سے قبل وہ راولاکوٹ میں بھی کالج کے پرنسپل رہ چکے تھے ۔ڈاکٹر ماجد میری نظر میں انتہائی خوش قسمت ہیں جنھوں نے صدیقی صاحب سے بھرپور فیض حاصل کیا۔
سوانح حیات اور علمی سفر
عبدالعلیم صدیقی صوبہ یوپی (بھارت)کے مشرقی ضلع سلطان پور میں 1925ء میں ایک تعلیم یافتہ گھر میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم سلطان پور اور فیض آباد میں حاصل کرنے کے بعد الٰہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کیا ۔ تاریخ اور فارسی ان کے اختصاصی مضامین تھے۔ ان کاابتدائی رجحان صحافت کی طرف تھا چنانچہ کالج کے زمانے میں ہی روزنامہ ‘‘شفق’’ کے معاون مدیر بن گئے ۔
جون 1947ء میں اس رسالے کے مدیر مقرر کر دئیے گئے ۔ہجرت کر کے پاکستان آئے تو گورنمنٹ انٹر کالج راولاکوٹ میں درس و تدریس کرنے لگے ۔ 1956ء میں پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور لیکچرار کے عہدے پر فائز ہو گئے ۔ انھوں نے آزاد کشمیر میں باغ اور پلندری کے کالجوں میں پرنسپل کی خدمات انجام دیں اور 1985ء میں ریٹائر ہوگئے ۔
اقبالیات اور منظوم تراجم میں خدمات
ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اقبالیات کے لیے وقف کر دیا اور شاعری کے ذوق کو منظوم تراجم میں استعمال کرنے لگے ۔ صدیقی صاحب نے اقبال کے چار مجموعہ ہائے کلام جن میں زبور عجم کا ترجمہ نغمہ سروش کے نام سے ، پیام مشرق کا ترجمہ نوائے شرق کے نام سے ، جاوید نامہ کا منظوم ترجمہ سیر افلاک کے نام سے اور رموز بے خودی کا ترجمہ عرفان بے خودی کے نام سے کیا اور حق تو یہ ہے کہ آپ نے اقبال کے کلام کے ترجمہ میں حق ادا کر دیا
اقبال جیسے قادر الکلام فلسفی شاعر کا منظوم ترجمہ کرنا کوئی آسان کام نہیں اس میں معیار کا تقاضا دیکھنا پڑتا ہے اور معنی ، اسلوب ،روح اور ہئیت کو اس طرح گرفت میں لانا کہ ترجمہ نہ معلوم ہو اصل کا گمان ہو نیز ترجمے کا اصل کمال یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ فنی اعتبار سے اس درجہ کامل ہو کہ اس کی ادبی حیثیت بھی ہو اور لفظ بہ لفظ ترجمہ بھی محسوس نہ ہو۔
میرے پیش نظر اس وقت عبدالعلیم صدیقی صاحب کے دو منظوم ترجمے موجود ہیں جن میں ایک زبور عجم کا ترجمہ نغمہ سروش کے نام سے ہے اور دوسر ا اقبال کا مجموعہ کلام پیام مشرق جو نوائے شرق کے نام سے ہے ۔
نغمہ سروش (زبور عجم کا ترجمہ) اور ڈاکٹر شبلی کا تبصرہ
نغمہ سروش میں پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق خاں شبلی ،صدر شعبہ اقبالیات ، علامہ اقبال یونیورسٹی ،اسلام آباد صاحب کا تحریر کا یہ ٹکڑا جو حقیقت پر مبنی ہے بہت پسند آیا کہ
‘‘اقبال کی فارسی تصانیف میں زبور عجم اپنے شاندار اسلوب، فکر کی بلندی، غنائیت کی وجہ سے خاص اہمیت کی مالک ہے۔ اقبال اپنے قارئین کو خلوت میں زبور عجم پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کی غزلیں اپنے تراجم اور آہنگ میں لاجواب ہیں۔اس کی مثنویاں فکری اعتبار سے بہت بلند پایہ ہیں۔گلشن راز جدید اور بندگی نامہ کی عظمت سے کسے انکار ہو سکتا ہے ۔زبور عجم کی نظمیں فکر کی جدت اور اسلوب کی تازگی کا ایک عمدہ نمونہ ہیں۔انھیں خوبیوں کی بنا پر زبو ر عجم کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی اور انھیں خوبیوں نے اردو میں اس کے ترجمہ کو مشکل بنا دیا ہے لیکن عبدالعلیم صدیقی صاحب کے لیے یہ مشکل کچھ ایسی مشکل نہیں رہی۔ انھوں نے اس مسئلہ کا حل دریافت کر لیا ہے ۔ان کے ترجمہ شدہ اشعار اتنے سادہ اور رواں ہیں کہ ان پر ترجمہ کا گمان نہیں ہوتا۔صدیقی صاحب نے کمال یہ دکھایا ہے کہ ترجمہ کی بحر کو بھی برقرار رکھا ہے’’ ۔[۱]
کچھ مثالیں ملاحظہ فرمائیے
وادی عشق بسے دور و دراز است ولے
طے شود جادۂ صد سالہ بآہے گاہے
ترجمہ
وادی عشق اگرچہ ہے بہت دور و دراز
ہوتی ہے طے رہ صد سالہ بآہے گاہے
در طلب کوش و مدہ دامن امید زوست
دولتے ہست کہ یابی سر راہے گاہے
ترجمہ
تو بھی کوشاں ہو کبھی دامن امید نہ چھوڑ
ہاتھ آجاتی ہے دولت سر راہے گاہے
نوائے شرق (پیام مشرق کا ترجمہ)
پیام مشرق فکر و فن کے اعتبار سے علامہ اقبال کی بہترین تصانیف میں شمار کی جاتی ہے ۔یہ مجموعہ 1923ء میں شائع ہوا تھا ،اس کتاب کو قارئین سے متعارف کرانے کے لیے علامہ اقبال نے اس کا دیباچہ خود اردو زبان میں تحریر کیا تھا ۔ جس میں اسے لکھنے کے اسباب و مقاصد وضاحت سے بیان کر دئیے ہیں۔ پیام مشرق کا تعارف علامہ اقبال کچھ اس طرح کراتے ہیں:
‘‘پیام مشرق کی تصنیف کا محرک جرمن ‘حکیم حیات ’ گوئٹے کا ‘‘مغربی دیوان ’’ ہے جس کی نسبت جرمنی کا اسرائیلی شاعر ہائنا لکھتا ہے : یہ ایک گلدستہ عقیدت ہے جو مغر ب نے مشرق کو بھیجا ہے ۔اس دیوان سے اس امر کی شہادت ملتی ہے کہ مغرب اپنی کمزور اور سرد روحانیت سے بیزار ہو کر مشرق کے سینہ سے حرارت کا متلاشی ہے ’’
‘‘پیام مشرق کے متعلق جو ‘مغربی دیوان’ سے سو سال بعد لکھا گیا ہے مجھے کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ناظرین خود اندازہ کر لیں گے کہ اس کا مدعا زیادہ تر ان اخلاقی ، مذہبی اور ملی حقائق کو پیش نظر لانا ہے جن کا تعلق افراد و اقوام کی باطنی تربیت سے ہے ۔ ’’[۲]
نوائے شرق میں سے چند مثالیں پیش کرتا ہوں
زندگی و عمل
(درجواب نظم ہائنا موسوم بہ سوالات)
ساحل افتادہ گفت ، گرچہ بسے زیستم
ہیچ نہ معلوم شدہ کہ من چسیتم
موج ز خود رفتہ تیز امید و گفت
ہستم اگر میر ولم نہ روم نیستم
ترجمہ
کہتا تھا ساحل کہ میں مدتوں سے ہوں مگر
آج تلک آگہی مجھ کو نہیں کیا ہوں میں
موج سبک رو نے اور تیزی سے چل کر کہا
موت ٹھہرنے میں ہے ، چلنے سے زندہ ہوں میں
عشق
عقلے کہ جہاں سوز و یک جلوۂ بیباکش
از عشق بیا موزو، آئین جہاں تابی
عشق است کہ درجانت ہر کیفیت انگیز د
از تاب و تب رومی تا حیرت فارانی
ایں حرف نشاط آور می گویم و می رقصم
از عشق دل آساید با ایں ہمہ بیتابی
ہر معنی پیچیدہ در حرف نمی گنجد
یک لحظہ بہ دل درشو، شاید کہ تو دریابی
ترجمہ
جس عقل کے جلوہ سے جل جاتی ہے اک دنیا
عشق اس کو سکھاتا ہے آئین جہاں تابی
لاتا ہے تری جاں میں ہر طرح کی کیفیت
ہو تاب و تب رومی یا حیرت فارانی
اس فقرہ کو پڑھ کر سر دھنتا ہوں کہ دل کو عشق
دیتا ہے سکوں گو وہ خود رکھتا ہے بیتابی
ہر معنی پیچیدہ لفظوں میں نہیں آتا
اک لحظہ اتر دل میں شاید کہ ہو سیرابی
پالندری کا سفر اور صاحبزادے سے ملاقات
میں 2018ء میں کشمیر گیا تو ڈاکٹر ماجد نے مجھے پالندری آنے کی دعوت دی کہ وہاں جاوید الحسن جاوید صاحب کے شعری مجموعہ کی تقریب تھی۔ میں نے بخوشی حامی بھر لی کہ وہاں مجھے عبدالعلیم صدیقی صاحب تو نہیں ملیں گے مگر ان کے صاحبزادے نعمان احمد صدیقی صاحب سے ملنے کا موقع مل جائے گا اور میں نعمان صاحب کے روپ میں عبدالعلیم صدیقی صاحب سے مل لوں گا ۔
جب میں جاوید الحسن جاوید صاحب ، شوکت اقبال اور فرہاد احمد فگار کے ساتھ پلندری پہنچا تو وہاں میری ملاقات نعمان احمد صدیقی صاحب سے ہوئی ۔ ان سے میں ایسے ملا جیسے عبدالعلیم صدیقی صاحب سے مل رہا ہوں ۔ اثر پدر تو مل رہا تھا ۔نعمان صدیقی نے مجھے عبدالعلیم صدیقی کا شعر مجموعہ ‘‘نہاں خانہ دل ’’ دیا ۔نعمان صدیقی کی ایک مختصر تحریر کتاب میں ہے جس سے مجھے عبدالعلیم صدیقی صاحب کی تاریخ وفات ملی ، 3دسمبر 2009ء کو بروز جمعرات صدیقی صاحب نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا ۔
شعری مجموعہ: “نہاں خانہ دل”
صدیقی صاحب کی شاعری کے بارے میں نعمان لکھتے ہیں:
‘‘اردو شاعری اور فن عروض پر مکمل عبارت کے باوجود اپنی تخلیقات کو منظر عام پر لانے سے ہمیشہ گریز پا رہے ۔ان کے مطابق نہاں خانہ دل کو سامنے لانے کے لیے فن شاعری کے ساتھ ساتھ بلند مگر نفیس خیالات کا ہونا لازم و ملزوم ہے۔ یہ ان کی کسر نفسی تھی کہ اپنے خیالات کو وہ ہمیشہ کم پائے کی خام خیالی ہی گردانتے تھے’’ ۔[۳]
اسی لیے جب صدیقی صاحب کا مجموعہ کلام نہاں خانہ دل ان کی وفات کے بعد منظر عام پر آیا تو نعمان صدیقی نے پیش لفظ کے بعد ایک جملہ لکھا: ‘‘اب عیاں ہوتا ہے ‘نہاں خانہ دل’’ [۴]
مقدمہ از مسعود احمد خان
نہاں خانہ دل کا مقدمہ ایک بھرپور اور لائق تحسین مقدمہ ہے جسے ان کے عقیدت مندمسعود احمد خان ،اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج ،پلندری نے تحریر کیا ہے ۔بقول شاعر
کاغذ پر رکھ دیا ہے کلیجہ نکال کر
مسعود احمد خان نے اپنے مقدمہ میں عبدالعلیم صدیقی صاحب کا تعارف کچھ اس طرح کرایا ہے کہ صدیقی صاحب کو آپ ایک کھلی کتاب کے طرح پڑھ سکتے ہیں۔
‘‘عبد العلیم صدیقی اردو ادب کا ایک ایسا نام ہے جو اپنے منفرد کام کی وجہ سے اب کسی تعارف کے محتاج نہیں رہے ۔ اردو شاعری فارسی روایت سے الگ ہونے کے بعد منفرد لب و لہجہ رکھتی ہے لیکن آج بھی ہماری معاشرت میں اور تاریخی ،علمی اور ادبی سرمائے میں فارسی کی روایت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بالخصوص علا مہ اقبال کی فارسی شاعری آج بھی اہمیت رکھتی ہے۔بدقسمتی سے فارسی زبان سے آگاہی کم ہونے کے باعث علامہ کا فارسی کلام اب محض تبرک بن گیا تھا اور اس کی تفہیم ایک مسئلہ تھی، عبدالعلیم صدیقی برصغیر کی واحد شخصیت ہیں جنھوں نے علامہ کے سارے فارسی کلام کو اردو میں منظوم ترجمے کی صورت میں منتقل کیااور اہل علم سے داد دصول کی۔ان کی اس شاعرانہ حیثیت اور مقام و مرتبے کی وجہ سے اہل علم اور ان کے احباب کا اصرار تھا کہ وہ فارسی ترجموں کا کام مکمل کرنے کے بعد اپنی شاعری کا بھی کوئی مجموعہ پیش کریں تاکہ اہل ذوق اس سے بھی مستفید ہو سکیں۔
اہل علم و فن اور ارباب ذوق کے اسی مطالبے کے پیش نظر عبدالعلیم صدیقی نے اپنا بکھرا ہوا کلام جمع کیا جو زندگی کے مختلف ادوار میں لکھا گیا۔بنیادی طور پر صدیقی صاحب نہ صرف زندگی میں بلکہ شعر و ادب میں شدید مقصدیت کے قائل ہیں اور مقصدیت ہی کی وجہ سے وہ اپنی شاعری کو زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے کہ ان کے نزدیک اردو میں ان موضوعات پر کمال درجے کی شاعری موجود ہے۔’’[۵]
افسوس صد افسوس کہ صدیقی صاحب کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ اپنا شعری مجموعہ کتابی شکل میں دیکھنے سے قبل ہی اس دار فانی سے رخصت ہو گئے ۔ان کے صاحبزادے نعمان احمد صدیقی اور مسعو د احمد خان نے مل کر ان کا مجموعہ شائع کرا کے ادب کے با ذوق شائقین کے لیے ایک یادگار تحفہ محفوظ کر دیا ۔
“نہاں خانہ دل” سے منتخب اشعار
نہاں خانہ دل سے عبدالعلیم صدیقی صاحب کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے
وہ پچھتاتے ہیں کام کرنے کے بعد
جو دیکھیں زمیں پاؤں دھرنے کے بعد
چلو اس طرح زیست کرنے کے بعد
جہاں میں رہو زندہ مرنے کے بعد
مسرت کا لمحہ مجھے بھی ملا
بڑی مشکلوں سے گزرنے کے بعد
یاروں کو یہ شکوہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کہنا یہی میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کہتا ہوں تو ہوتی ہیں جبینیں شکن آلود
چپ ہوں تو یہ شکوہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
صدیقیؔ کو دیکھو کہ جو کہنا تھا وہ سب کچھ
کہہ کر یہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
صدیقی صاحب کے دوہے
نہاں خانہ دل میں غزلوں کے علاوہ فارسی غزلوں کے ترجمے بھی شامل ہیں اور نظموں کے علاوہ کچھ دوہے بھی ہیں۔دوہے میری پسندیدہ صنف ہے اس لیے میں چاہوں گا کہ صدیقی صاحب کے تین دوہے پیش کروں ۔
تم نے اس کو چاند کہا تو کیوں نہ اسے غصہ آئے
رب نہ کرے اس کے مکھڑے پر کوئی بھی دھبا آئے
صبا نے اترانا سیکھا تھا گلوں نے رنگت پائی تھی
گیت پرندوں نے چھیڑا تھا گیتا سیر کو آئی تھی
جھکی جھکی تھیں گھنیری پلکیں ، لالی گالوں پہ چھائی تھی
پہلا خط جب لکھنے بیٹھی وہ کیا کیا شرمائی تھی
حرفِ آخر و دعائیہ کلمات
عبدالعلیم صدیقی صاحب ایک صاحب دل ، ملنسار اور اپنے اصولوں کے پابند عالم تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی بھرپور اندا زمیں گزاری اور اپنے علم سے ایک دنیا کو سیراب کیا اور رخصت ہو گئے ۔ ایسے ذی علم شخصیت کے لیے یہی کہا جاتا ہے کہ
مت سہل ‘‘ انھیں ’’ جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
رب کریم صدیقی صاحب پر اپنے کرم کی بارش کرے اور غریق رحمت فرمائے ۔آمین
حواشی
[۱] عبدالعلیم صدیقی، نغمہ سروش،(علامہ اقبال کی تصنیف ‘زبور عجم’ کا منظوم اردو ترجمہ ) مقبول اکیڈمی، لاہور، اگست ۲۰۰۷ء، ص ۱۰۔۱۱
[۲] علامہ محمد اقبال، پیام مشرق، شیخ غلام علی اینڈ سنز،لاہور، طبع اول ۱۹۹۱ء، ص ۹ اور ۱۳
[۳] عبدالعلیم صدیقی، نہاں خانہ دل(شاعری)، مقبول اکیڈمی ،لاہور، ص ۱۱
[۴] ایضاً…… ص ۱۲
[۵] عبدالعلیم صدیقی، نہاں خانہ دل (شاعری) ،، مقبول اکیڈمی ،لاہور، ص ۱۹




