مرحومین کا خیر خواہ: ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کی تحقیق و وفیات نگاری
ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر منیر احمد سلیچ طب کے ڈاکٹر ہیں، ادب کے محقق ہیں اور محبت کے سفیر ہیں۔ خاموش طبع، دھیمے مزاج کے حامل، چہرے پر اپنائیت کی رمق اور آنکھوں میں ذہانت کی چمک کے ساتھ منیر سے ملنے والا منیر کو ایک ہی نظر میں اپنے دل میں اتار لیتا ہے۔
ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کو قدرت نے مرحومین کے تذکرے کے لیے وقف کر دیا ہے۔ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی مقصد کے لیے آتا ہے مگر انسانوں کی ایک بڑی آبادی اپنے وجود کے مقصد سے لاعلم رہتی ہے اور یہ لاعلم رہنے والے غربا یا مساکین ہی میں سے نہیں ہیں بلکہ ان بدنصیبوں میں شرفا اور مال دار لوگوں کی بھی اکثریت ہے۔
انسان کی بصیرت اور مقصدِ حیات
غریب تو چونکہ علم حاصل نہیں کر سکتا، اس کا شعور اسی وجہ سے پختہ نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں آگہی اور ادراک کا بھی فقدان اس شخص میں ہوتا ہے۔ امرا تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں مگر صرف تعلیم انسان کو وہ آگہی او رادراک نہیں دے سکتا جو علم سے حاصل ہوتا ہے، ہاں اس کا شعور البتہ پختہ ہو جاتا ہے مگر اس شعور کا کیا فائدہ جو اس کو مقصد تخلیق بشر سے لاعلم رکھے ۔
دنیا میں ایسے کئی نامور لوگ گزرے ہیں جو غربت کی انتہائی پستی میں تھے مگر تعلیم کے ساتھ ساتھ علم بھی حاصل کیا اور بہترین علم وہی ہوتا ہے جو زمانے اور انسانوں کے درمیان حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ انسان کی بصیرت آب رکھتی ہو صرف بصارت اس مقصد کے لیے کام نہیں کرتی۔ بقول ایں جناب:
بصارت تھی مگر کچھ بھی نہ دیکھا
بصیرت ہی نہیں، دیکھتا کیا
کچھ حالات اور کچھ واقعات انسان کی زندگی میں اچانک ایسے رونما ہو جاتے ہیں جو اس کی کایا پلٹ دیتے ہیں اور اسی اچانک رونما ہونے والے واقعات کو ہم قسمت یا تقدیر سے تعبیر کرتے ہیں۔
وفیات نگاری اور مشاہیر کا تذکرہ
ڈاکٹر منیر احمد سلیچ بھی ایسے ہی ایک نوجوان محقق ہیں جن کو مرحومین کے کوائف جمع کرنے کا شوق ہوا اور پھر ان کا یہ شوق دیوانگی کی حد تک پہنچ گیا۔
زندگی کے بے شمار شعبوں میں بہت سے انسان ایسے نابغہ روزگار گزرے ہیں جن کی وجہ سے اس دنیا میں امن و آشتی، علم و فضل، کھیل و ثقافت، دین و مذہب اور راگ و رنگ کی محفلوں میں جان پڑ گئی اور ان اشخاص کی وجہ سے ان فنون ہائے لطیفہ کا امتیاز بڑھ گیا بلکہ شان بھی بڑھ گئی۔
ایسے یادگار زمانہ لوگوں کے جانے کا دکھ تو ہوتا ہے مگر یہ زمانہ بہت بے رحم ہے۔ انسان چند لمحوں ہی میں کسی کے جانے کا نہ صرف دکھ بھول جاتا ہے بلکہ اپنے دامن سے اس کی جدائی کا غم جھاڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ بھی سچ ہے کہ کسی کے جانے سے دنیا کا کوئی کام بند نہیں ہوا ہے مگر اس بات میں بھی سو فیصد حقیقت ہے کہ جو کام کسی شخص نے انجام دیا اس میں مزید اضافہ بھی نہیں ہوتا یا تو اس سے بہتر کسی اور شکل میں ہوگا یا پھر اس سے بالکل مختلف انداز میں ظہور پذیر ہوگا۔
ایسے معزز، معتبر، مہان اور مستند افراد باکمال کا تذکرہ بھی اسی طرح لازم ہے جس طرح اپنے وجود کی موجودگی کا تذکرہ۔ بیشتر لوگ اپنے فنون لطیفہ کے میلان کے مطابق کتابیں مرتب کرتے ہیں مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ ماضی میں مرحومین کے تذکرے تو برائے نام ہی مرتب کیے گئے اور اس کوتاہی سے نقصان یہ ہوا کہ جب حال میں ان بڑے لوگوں پر مضامین لکھے گئے، مقالے پڑھے گئے، کتابیں لکھی گئیں یا شعبہ جاتی تذکرے مرتب کرنے لگے تو اپنے اپنے شعبے کے ایسے جوہر افراد کے بارے میں ابتدائی معلومات بھی دستیاب نہ ہو سکیں۔
اردو تذکرہ نویسی کی تاریخ اور خامیاں
شعر و ادب کے بے شمار تذکرے مرتب ہوئے ہیں اور جن کو مرتب کرنے والے بھی علم و ادب کے پارکھ ہی تھے مگر وہ بھی کیا کرتے جب انھیں مرنے والوں کے بارے میں اطلاعات ہی پوری نہیں ملیں تو انھوں نے بعض کے صرف نام اور ایک دو شعر لکھے، بعض کی بلکہ اکثریت کی تاریخ پیدائش ہی نہیں معلوم تھی اس لیے یہ خانہ بھی خالی ہی رکھا۔
جو مر گئے ان کی تاریخ وفات بھی مستند نہیں ہے کیونکہ اپنے شہر میں مرنے والوں کی تاریخ وفات تو لواحقین سے معلوم کی جا سکتی ہے، دیگر شہروں میں مرنے والوں کے لواحقین کا پتہ نہ ہو اور کسی ہم پیشہ سے بھی معلوم نہ ہو تو پھر اندازے سے یا کسی سے سن کر تاریخ وفات لکھ دی جاتی ہے۔ اس طرح بہت سے تذکرے صرف ناموں کے انسائیکلوپیڈیا تو بن گئے مگر مرحومین کے کوائف سے نامکمل ہی رہے۔
یہ بات تو میں نے ماضی کے ان تذکروں کے بارے میں لکھی ہے جن میں مرحومین کے علاوہ بقید حیات اہل قلم کے تذکرے بھی شامل ہیں مگر گزشتہ 50 برسوں کے درمیان مرتب ہونے والے ایسے تذکرے جو خالصتاً مرحومین کے بارے میں شائع ہوئے ہیں وہ بھی معلومات کی عدم دستیابی کی بنا پر مکمل نہیں یا مستند نہیں۔
میں ایسے تمام تذکروں کے بارے میں جو حیات اور مرحومین کے تذکرے کے بارے میں ہوں اپنا ایک نظریہ رکھتا ہوں کہ ایسے تذکروں کو کبھی مکمل نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ مکمل ہو ہی نہیں سکتے ہیں۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ تذکرے ایک شہر کے زندہ او رمرحومین کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ پورے ملک اور بعض تذکرے برصغیر پاک و ہند کے اہل علم و دانش کے تذکرے پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں مکمل معلومات کسی بھی طرح حاصل نہیں ہو سکتی۔
زندہ ہیں تو ان تک رسائی نہیں، مر گئے تو ان کے لواحقین تک کو وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ وفات معلوم نہیں۔ خاص طور سے بزرگ اہل قلم کی تاریخ پیدائش تو ان کے گھر والوں کو بھی معلوم نہیں ہوتی اندازے سے کام چلاتے ہیں کیونکہ ماضی میں پیدائش کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا اور حال میں بھی بہت سے لوگوں نے ریکارڈ ملنے کے باوجود اس کی حفاظت نہیں کی۔
نیز تاریخ پیدائش عموماً غلط ہوتی ہے ماضی سے لے کر حال تک اسکول میں داخلے کے وقت اصل تاریخ پیدائش سے ہمیشہ سال دو سال بلکہ ماضی میں تین چار سال تک کم لکھوائی جاتی تھی۔ اسکول ریکارڈ میں درج تاریخ پیدائش ہی کو اصلی مان لیا جاتا ہے۔ بہت کم ایسے اہل قلم گزرے ہیں جن کے گھر میں ان کی پیدائش کی نہ صرف تاریخ بلکہ وقت تک درست لکھا ہوا ملا مگر اسکول میں دو تین سال بڑھا یا گھٹا کر لکھوایا گیا تو انھوں نے اپنے بارے میں کسی مضمون میں یا اپنی خودنوشت میں اپنی تاریخ پیدائش کی حقیقت کا انکشاف کیا۔
دراصل حال میں جس قدر ماضی یا ماضی قریب کے مرحومین کو یاد کیا جا رہا ہے ماضی میں ایسا کوئی شعبہ نہیں تھا جس میں اس کثرت سے مرحومین پر کام ہو رہا ہو۔ اب تو مقالے یا مضمون کے علاوہ بھی کوئی انتخاب مرتب کیا جاتا ہے تو مرحومین کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور یہ عمل فی زمانہ بہت احسن ہے کیونکہ اب تذکرہ نویسی بھی بہت ترقی کر چکی ہے اور یہ بھی اب ایک باقاعدہ ایک شعبے کی صورت اختیار کر گئی ہے۔
ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کی وفیات پر کتب
ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کو قدرت نے شاید اسی کام کے لیے پیدا کیا۔ ڈاکٹر منیر نفسیات کے ماہر ڈاکٹر ہیں، دن میں یونیورسٹی میں نفسیات پڑھاتے ہیں، شام میں اپنے کلینک میں نفسیاتی مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ اس قدر مصروفیت کے باوجود اپنے شوق کو جو دیوانگی کی حد تک ان میں سرایت کر چکا ہے، کسی نہ کسی طرح وقت نکالتے رہے اور ایک ایک کر کے وفیات کے تذکرے مرتب کرتے گئے۔
اب تک وفیات نگاری پر ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کی چھ کافی مفصل بڑے سائز میں کتابیں آ چکی ہیں، جبکہ ‘‘اقبال اور گجرات’’ اقبالیات کے شعبے میں ایک الگ کتاب ہے۔
-
خفتگان خاک گجرات
-
وفیات ناموران پاکستان
-
وفیات اہل قلم
-
تنہائیاں بولتی ہیں
-
وفیات مشاہیر کراچی
-
وفیات مشاہیر خیبر پختون خوا
منظر عام پر آکر مشاہیر علم و ادب سے داد وصول کر چکی ہیں گویا منیر احمد سلیچ نے 7 آسمان سر کر لیے۔
“ادبی مشاہیر کے خطوط” اور اہل علم کی آرائی
ڈاکٹر منیر احمد سلیچ نے اپنے نام ادبی مشاہیر کے خطوط بھی یکجا کر کے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے اور اس کتاب کا نام ‘‘ادبی مشاہیر کے خطوط ’’ ہے۔ اس کتاب کا افتتاحیہ ڈاکٹر عارف نوشاہی نے لکھا ہے، عنوان ہے ‘‘مکتوب نگاری کی روایت کے عہد واپسیں کا ایک باب ’’۔ مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ عارف نوشاہی اپنے مضمون کے تیسرے پیرا گراف میں لکھتے ہیں:
‘‘اس مرتبہ مجھے بہت خوش گوار حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب نے مرگ نویسی کے بجائے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا جو ہمارے خطے کی زبانوں عربی، فارسی اور اردو کے ادب کا بہت لطیف، کارآمد اور مؤثر حصہ رہا ہے۔ میری مراد مکتوب نگاری سے ہے’’۔ [1]
یہاں میں مودبانہ عارف نوشاہی کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر منیر نے مرگ نویسی کا پیشہ تو دائمی طور پر اپنایا ہوا ہے، مکتوب نگاری کا یہ شوق بھی تو مرگ نویسی کا مرہنون منت ہے۔ انھیں مرحومین مشاہیر کی تلاش و جستجو میں منیر سلیچ نے خطوط سے بھی بہت کام لیا اور ان کے کام آنے۔
ان خطوط کے بارے میں ‘‘عرض مرتب’’ کے عنوان سے اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:
‘‘خفتگان خاک گجرات ’’ چھپ گئی اور مختلف ارباب علم و ادب کی خدمت میں ارسال کی گئیں تو ان کی طرف سے شکریے کے خطوط موصول ہوئے تھے۔ ان میں سے بہت سے خطوں میں راقم کی طرف سے بھیجی گئی ایسی ہی کتاب کے ملنے کی اطلاع اور حوصلہ افزائی کے چند فقرے ملتے ہیں لیکن بہت سے ایسے خط بھی ہیں جن میں علمی، ادبی اور تاریخی مباحث بھی ہیں مثلاً بیگم رشیدہ آفتاب اقبال کے خطوط میں ان کا یعنی آفتاب اقبال مرحوم کے خاندان کا نقطہ نظر پہلی دفعہ کھل کر بیان ہوا ہے، اور یہ خطوط ایک تاریخی دستاویز بن گئے ہیں’’۔ [2]ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ایٹمی سائنسدان، منیر کی کتاب ‘‘ادبی مشاہیر کے خطوط’’ کے پشت سرورق پر لکھتے ہیں:
‘‘وفیات اور جناب منیر احمد سلیچ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی چند محققانہ نگارشات نظر سے گزریں، وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور شوق مورخ کا پال رکھا ہے، معالج، ادیب اور منفرد محقق ہیں! حیرت ہے اکثریت زندوں کے ناز اٹھاتے ہیں اور ڈاکٹر منیر احمد سلیچ صاحب نے خود کو کتبے سمیٹنے میں وقف کر رکھا ہے۔ کیا قلم کی دیانت اور مزاج کی درویشی ہے!
زیر نظر ‘‘ادبی مشاہیر کے خطوط’’ بھی ایک دلاویز تاریخ اور ورق ورق کہانی ہے۔ بعض خطوط بھی پڑھنے کو ملے کہ جن شخصیات سے میری بارہا ملاقاتیں رہی ہیں۔ ڈاکٹر منیر احمد سلیچ صاحب اس ادبی اثاثے کی اشاعت پر مبارک باد اور خراج تحسین کے مستحق ہیں’’۔ [3]
‘‘خفتگان خاک گجرات ’’ پر مختار مسعود نے کیا خوب لکھا ہے کہ:
‘‘آپ کی محنت کے سبب کچھ مرنے والوں کو دوبارہ زندگی مل گئی ۔ مسیحائی آپ کا پیشہ بھی تو ہے ’’۔ [4]
واقعی منیر مسیحا بھی ہیں اور یہ زندوں کے ہی نہیں مرحومین کے بھی مسیحا بن گئے ہیں۔
‘‘اقبال اور گجرات ’’ کے بارے میں مشہور و معروف محقق مشفق خواجہ لکھتے ہیں:
‘‘آپ نے جس انہماک اور محنت سے یہ کام انجام دیا ہے اس پر حیرت ہے۔ کسی ڈاکٹر سے ایسی اعلیٰ پائے کی ادبی تحقیق کی توقع نہیں ہو سکتی۔ آپ نے موضوع کا حق پوری طرح ادا کیا ہے اور کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا۔ اقبال اور گجرات کے حوالے سے آپ نے قابل قدر معلومات فراہم کی ہیں’’۔ [5]
‘‘وفیات مشاہیر کراچی ’’ کے لیے ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب نے لکھا کہ:
‘‘وفیات مشاہیر کراچی ’’ سے سب ہی مصنفین، محققین اور ضرورت مند جو کراچی میں آباد مشاہیر کے بارے میں کسی نوعیت کی بنیادی معلومات کی تلاش میں ہوں اور انھیں ڈاکٹر منیر کی اس کاوش کے وسیلے سے مطلوبہ معلومات مل جائیں یا ان مرحومین کی روحیں جن پر کوئی قلم اٹھا رہا ہو، یہ سب کس قدر شکرگزار اور ممنون نہ ہوں گے’’۔ [6]
اس دنیا کے لوگ اپنی زندگی کی رنگینیوں میں اس قدر کھوئے ہوئے رہتے ہیں کہ وہ مرنے والے کے جنازے میں بھی بہت مشکل سے وقت نکال کر شرکت کرتے ہیں، کچھ لوگ نماز جنازہ تک، کچھ افراد دو چار قدم میت کے ساتھ چل کر اور کچھ حضرات قبرستان میں مٹی ڈالنے تک وقت دیتے ہیں اور پھر چند لمحے بعد ہی ان کے ذہن سے یہ سانحہ محو ہو جاتا ہے، چند دن گزر جائیں تو اپنے بھی سوچنے لگتے ہیں کہ ہمارے عزیز کا انتقال کب ہوا تھا؟
ایسی توتا چشمی یا مردم بیزاری عوامی یا سماجی مزاج بن گیا ہے۔ یہاں زندوں کو کوئی نہیں پوچھتا ہے مرحومین کے بارے میں اس قدر جانفشانی اور کوشش بسیار کے ساتھ کون تذکرہ مرتب کرے۔
ڈاکٹر وحید قریشی نے ‘‘خفتگان خاک گجرات ’’ پر کیا صائب بات کہی ہے کہ:
‘‘آپ جس محنت اور جانفشانی سے کام کرتے ہیں، اردو ادب کے محققین اس سے محروم ہوتے جا رہے ہیں’’۔ [7]
تحقیق و وفیات نگاری کی معنویت
پوری اردو دنیا بلکہ زندگی کے تمام شعبہ ہائے فنون سے نامور، معروف، مشہور اور قابل ذکر مرحوم کے بارے میں کوائف جمع کرنا وہ بھی اس صورت میں کہ ان کے بارے میں کوئی اصل تو کیا نقل ذرائع تک مہیا یا میسر نہ ہو، بس اخبارات، رسائل یا سینہ بہ سینہ اندراج سے تذکرہ لکھنا مگر ہر ایک اندراج پر جہاں تک ممکن ہو تحقیق و جستجو کے ساتھ شامل کرنا ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کا ایک خاص وصف ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر منیر کی وفیات پر آنے والی چھ کی چھ کتابوں پر بہت کم کسی نے انگلی اٹھائی ہے بلکہ بیشتر نے اسے سراہا ہے۔
ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کی اس کتاب ‘‘ادبی مشاہیر کے خطوط’’ میں 58 مشاہیر کے خطوط ہیں اور 20 خطوط کے عکس بھی دیے گئے ہیں نیز کتاب کے آخر میں مکتوب نگاروں کی 48 تصاویر شامل ہیں۔ کتاب میں شامل خطوط کا زمانہ 1991 سے 2019 تقریباً 27 برس پر محیط ہے۔ منیر نے یہ بھی معلومات دی ہے کہ کتاب میں 58 مکتوب نگاروں میں سے 36 مشاہیر اب دنیا میں نہیں رہے۔
جیسا کہ میں نے اوپر مذکور کیا ہے کہ کوئی بھی تذکرہ خواہ مرحومین کا ہو یا زندہ لوگوں کا کبھی مکمل نہیں ہوتا، عدم معلومات کی بنا پر کوئی نہ کوئی غلطی، کمی یا کوتاہی رہ جاتی ہے مگر ہم کسی بھی وفیات نگار کو اس خامی کا دوش نہیں دے سکتے، منیر کو بھی نہیں کہ اپنی سی پوری محنت اور کوشش کرنے کے باوجود کوئی تاریخ غلط درج ہو گئی تو اس میں منیر کا کوئی قصور نہیں ہے، منیر نے بھی کہیں نہ کہیں سے تو دیکھ کر ہی لکھی ہو گی۔
تاہم تمام تذکرے نہ حرف آخر ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے۔ جس طرح منیر نے وفیات نگاری کی کتابیں بہت محنت اور لگن سے مرتب کی ہیں، اسی طرح ایک قدم آگے بڑھ کر کوئی ان وفیات کی کتابوں سے سہو ہو جانے والے اندراج کی صحت کے بارے میں مزید محنت کرے اور ڈاکٹر منیر کی طرح اپنا نام بھی اس شعبہ میں درج کرائے۔
ہم ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کو بہرحال قابل مبارک باد سمجھتے ہیں جس نے ایک ایسے شعبے پر کام کیا ہے جس کے لیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ منیر احمد سلیچ مرحومین کا اس دنیا میں خیر خواہ ہے اس حوالے سے کہ ان مرحومین کا تاریخ و ادب میں تذکرہ آتا رہے گا۔
حواشی:
-
ڈاکٹر عارف نوشاہی، مکتوب نگاری کی روایت کے عہد واپسیں کا ایک باب، ادبی مشاہیر کے خطوط، ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور، 2019، ص 9
-
ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، عرض مرتب، ادبی مشاہیر کے خطوط، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور، 2019، ص 16
-
ڈاکٹر عبدالقدیر خان، پشت سرورق، ادبی مشاہیر کے خطوط، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور، 2019
-
مختار مسعود، خط نمبر 2:149، ادبی مشاہیر کے خطوط، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور، 2019، ص 247
-
مشفق خواجہ، خط نمبر 1:152، ادبی مشاہیر کے خطوط، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور، 2019، ص 253
-
ڈاکٹر معین الدین عقیل، ‘اے خنک شہرے کہ آں جا دلبر ست’، وفیات مشاہیر پاکستان، ادارہ قرطاس، کراچی، اپریل 2016، ص 7
-
وحید قریشی، خط نمبر 4:170، ادبی مشاہیر کے خطوط، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور، 2019، ص 286




