آج کل کے نوسر باز اور اُن کا طریقۂ واردات

فراڈ

آج کل کے نوسر باز اور اُن کا طریقۂ واردات

ابتدائیہ

آج کل ملک میں جس تیزی سے نوسر بازوں، فراڈ، چوروں، ڈاکوؤں اور دھوکے بازوں میں اضافہ ہوا ہے اور اُن کی وارداتوں کے نت نئے طریقے سامنے آرہے ہیں، اُس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید من حیث القوم اب یہی ہمارا قومی ذریعۂ معاش بن گیا ہے۔

بینک کے پیغامات

تمام مالیاتی ادارے بشمول بینک بار بار اپنے صارفین کو یہ پیغامات بھجواتے ہیں کہ وہ اپنے رابطہ کرنے والے نمبر سے خود کال یا رابطہ نہیں کرتے، اور دوسری بات یہ کہ اپنی خفیہ معلومات میں کسی اجنبی اور غیر متعلقہ شخص کو حصہ دار بنانا اپنے ہی کھاتے میں نقب لگوانے اور اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔

دھوکے  یا فراڈ کی تعریف

اس سے پہلے کہ ہم اِن چوروں اور دھوکے بازوں کے طریقۂ واردات پر آئیں، پہلے دھوکے کی تعریف پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

“دھوکہ ایک دانستہ غلط نمائندگی ہے تاکہ کوئی شخص غیر منصفانہ یا غیر قانونی فائدہ حاصل کرے یا حقدار/مظلوم کو کسی قانونی حق سے محروم کرے۔”

اب جبکہ ہم دھوکہ دہی کی تعریف بیان کر چکے ہیں، آئیے اُن کے طریقۂ واردات کا جائزہ لیتے ہیں۔

نوسربازوں کی ابتدائی حکمتِ عملی

سب سے پہلے تو آپ یہ سمجھ لیجیے کہ ان کے پاس آپ کے بارے میں بہت محدود معلومات ہوتی ہیں، اور انہی معلومات کے ذریعے وہ آپ کی نفسیات سے کھیل کر آپ سے اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ واردات کی جا سکے۔

اگر وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ آپ کے متعلقہ بینک یا مالیاتی ادارے کی جانب سے کال کر رہے ہیں تو وہ سب سے پہلے آپ کو آپ کا شناختی کارڈ نمبر بتائیں گے، جس کا حصول آج کل کچھ بھی مشکل نہیں رہا۔ پھر وہ آپ کو آپ کی رہائش گاہ کا پتہ بتائیں گے جو کہ آپ کے شناختی کارڈ پر درج ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ آپ کو آپ کا ہی موبائل نمبر بتائیں گے جس پر وہ پہلے ہی آپ سے بات کر رہے ہوتے ہیں۔

خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش

اگر آپ ان کی بتائی گئی معلومات سے مرعوب ہو چکے ہوں تو پھر وہ آپ سے

– اے ٹی ایم کارڈ کے آخری آٹھ ہندسے،
– اکاؤنٹ کا پن نمبر،
– یا فون پر موصول ہونے والا OTP

طلب کرتے ہیں تاکہ آپ کو آپ کے اپنے پیسوں سے محروم کر سکیں۔

والدہ کا نام: ایک اہم حفاظتی معلومات

ایک معلومات جو وہ آپ کے سوا کہیں اور سے حاصل نہیں کر سکتے، وہ آپ کی والدہ محترمہ کا نام ہے، جو آپ نے کبھی فون پر کسی اجنبی کو نہیں بتانا۔

جس طرح پرانی کہانیوں میں جادوگر کی جان طوطے میں ہوتی تھی، بالکل اسی طرح آپ کی معاشی فلاح و بہبود اور حفاظت اس معلومات میں پوشیدہ ہے۔ جیسے ہی آپ نے اس معلومات میں کسی کو حصہ دار بنایا، آپ اُن کے رحم و کرم پر آ جاتے ہیں اور وہ جب چاہیں آپ کو آپ کے ہی پیسوں سے محروم کر سکتے ہیں۔

لہٰذا بھرپور احتیاط کریں اور یہ معلومات کسی کے ساتھ بھی شیئر نہ کریں۔

کال کا وقت بھی ایک حربہ ہوتا ہے

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ عام طور پر یہ کال انتہائی نامناسب وقت پر آتی ہے

– صبح اُس وقت جب آپ دفتر کے لیے تیار ہو رہے ہوں،
– دوپہر کے آرام کے وقت،
– یا کسی ایسے وقت جب آپ مصروف ہوں یا ذہنی طور پر مکمل طور پر متوجہ نہ ہوں۔

یہ سب کچھ دانستہ طور پر کیا جاتا ہے تاکہ آپ جلد بازی میں غلط فیصلہ کر بیٹھیں۔

فراڈ سے کیسے بچا جائے؟

نمبر کو غور سے دیکھیں۔ اگر آپ کال کرنے والے نمبر کو غور سے دیکھیں گے تو اکثر اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کال آپ کے مالیاتی ادارے سے نہیں آئی۔ نمبر ملتا جلتا ضرور ہوگا، لیکن اصل نمبر نہیں ہوگا۔

واٹس ایپ پیغامات سے محتاط رہیں

اگر آپ کے واٹس ایپ پر کوئی پیغام آیا ہے تو بھی پریشان نہ ہوں۔ غور سے پیغام پڑھیں، آپ کو اس میں کوئی نہ کوئی جھول ضرور نظر آجائے گا۔

مثال کے طور پر

“اسٹیٹ بینک نے آپ کا اے ٹی ایم کارڈ منجمد کر دیا ہے” جیسے پیغامات تقریباً ہمیشہ جعلی ہوتے ہیں۔

جعلی پولیس افسر کا فراڈ

آج کل ایک اور جعلسازی بہت عام ہے کہ ایک انجان نمبر سے کال آئے گی اور ایک شخص اپنا تعارف پولیس انسپکٹر کے طور پر کرائے گا۔

وہ تحکمانہ انداز میں آپ کو بتائے گا کہ اُس نے آپ کے بیٹے، بھانجے یا بھتیجے کو کسی سنگین جرم میں گرفتار کر لیا ہے۔ چند لمحوں بعد وہ آپ سے کہے گا آپ نام بتائیے، میں آپ کی اُس سے بات کرواتا ہوں۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں آپ نے اسے پکڑ لینا ہے۔ کیا کرنا چاہیے؟

– نام ہرگز نہ بتائیں۔
– اُس سے متعلقہ تھانے کا نام پوچھیں۔
– متعلقہ DSP اور SP کا نام دریافت کریں۔
– مزید تفصیلات طلب کریں۔

اکثر ایسی صورت میں جعلساز خود ہی فون بند کر دیتا ہے۔

کورئیر اور پوسٹ آفس کے نام پر فراڈ

ایک اور عام فراڈ یہ ہے کہ کوئی شخص کورئیر یا پوسٹ آفس کے نمائندے کے طور پر کال کرتا ہے اور کہتا ہے

“آپ کے نام ایک ڈاک آئی ہے، آپ کے فون پر ایک کوڈ آیا ہوگا، وہ مجھے بتا دیں تاکہ ہم یہ ڈاک آپ تک پہنچا سکیں۔”

یہ فراڈ اتنا عام ہے کہ ایک ریٹائرڈ پولیس افسر بھی اس کا شکار ہو چکے ہیں اور انہوں نے خود اپنے کالم میں اس کا اعتراف کیا تھا۔

اگر اُن جیسے تجربہ کار افراد دھوکے کا شکار ہو سکتے ہیں تو عام آدمی کے لیے مزید احتیاط ضروری ہے۔

اگر آپ کو لائن پر روکے رکھا جائے

اگر کوئی شخص آپ کو مسلسل لائن پر رہنے کا کہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ بیک وقت آپ کے گھر کے کسی اور فرد سے بھی رابطے میں ہے اور نہیں چاہتا کہ آپس میں رابطہ ہو۔

فوری کرنے کے اقدامات

– فوراً کال ختم کریں۔
– اپنے گھر یا متعلقہ فرد سے رابطہ کریں۔
– اپنی خیریت کی اطلاع دیں۔
– فون کو مصروف نہ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر لوگ آپ سے رابطہ کر سکیں۔

جعلسازوں کا اصل ہتھیار

آپ کے حواس ہی جعلسازوں کا اصل ہتھیار ہے اگر وہ بحال رہیں تو یہ ہتھیار آپ جعلسازوں کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ ویسے تو ان جعلسازوں اور نوسربازوں کے بے شمار طریقۂ کار ہیں جن میں سے چند کا احاطہ اس تحریر میں کیا گیا ہے۔

ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ یہ لوگ آپ کے پیسوں سے پہلے آپ کے حواس پر حملہ کرتے ہیں۔ ان کا اصل ہتھیار خوف، جلد بازی اور ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔

بہترین دفاع کیا ہے؟

اپنے حواس قابو میں رکھیں، اور حواس قابو میں رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ سامنے والے سے تابڑ توڑ سوالات کرنا شروع کر دیں۔

جب آپ سوالات کریں گے تو

– آپ کے حواس بحال ہونے لگیں گے،
– اور جعلساز کے حواس رخصت ہونے لگیں گے،

کیونکہ آپ کے سوالات کے جوابات اُس کی محدود معلومات کے پاس نہیں ہوتے۔

جیسا کہ ایک مشہور فلمی مکالمہ ہے

“ٹینشن لینے کا نہیں، دینے کا ہے۔”

اختتامیہ

اس تحریر کے ذریعے عوام الناس میں آگاہی پیدا کرنے کی ایک سعی کی گئی ہے۔ اگر آپ کو یہ اقدام احسن لگے تو اسے آگے بڑھا کر صدقۂ جاریہ میں شریک ہو جائیے، ورنہ واٹس ایپ پر پیغامات تو آتے جاتے رہتے ہیں۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

فراڈ