Sohail Yaqoob - سہیل یعقوب

تعارف: سہیل یعقوب سماجی اور علمی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت ہے۔ آپ نے بہت عرصے تک شہر کی معروف جامعات میں بطور وزٹنگ فیکلٹی خدمات سرانجام دی ہے۔ درس و تدریس اور تربیت کے ساتھ آپ کا تعلق بہت پرانا ہے۔ آپ نے 36 سال کثیر القومی اور قومی اداروں میں اعلی عہدوں پر خدمات سرانجام دی ہے اور آج کل تربیتی ورکشاپ کے علاوہ قومی اور سماجی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ آپ شہر کی مختلف ادبی تنظیموں سے بھی وابستہ ہے اور ان کی تقریبات میں باقائدگی سے شرکت کرتے ہیں

Sohail Yaqoob - سہیل یعقوب

ہم متفق ہیں کہ ہم متفق نہیں

ہم متفق ہیں کہ ہم متفق نہیں!!! ​آج کا عنوان اس انگریزی جملے We agree to disagree کا ترجمہ ہے اور یہی اس تحریر کا عنوان ہے۔ کسی ُاستاد کا خوب کہنا ہے کہ لفظ اپنے معنی آواز کے ذریعے ہی نہیں بلکہ اپنی ساخت کے ذریعے بھی بتاتے ہیں۔ مثال کے طور لفظ غصہ، […]

ہم متفق ہیں کہ ہم متفق نہیں Read More »

موجودہ دور کے خونخوار خونی رشتے

موجودہ دور کے خونخوار خونی رشتے ​موجودہ دور میں چیزوں کو استعمال کرنے کا طریقہ تبدیل ہوگیا ہے۔ آج کا دور یہ ہے کہ “استعمال کرو اور پھینک دو”۔ ایسا ہمیشہ سے نہ تھا میں نے ایک بہت بڑے پاکستانی ادارے میں کام کیا ہے کہ جس میں ایک پوتے نے اپنی شادی پر اپنے

موجودہ دور کے خونخوار خونی رشتے Read More »

دنیا کا متوقع جغرافیہ- سہیل یعقوب

نئی عالمی درجہ بندی: 2026 اور بدلتا ہوا جغرافیہ دنیا بھر کے ماہرینِ نجوم اور تجزیہ کار سال 2026 کو ایک بڑی تبدیلی کا سال قرار دے رہے تھے۔ لیکن یہ تبدیلی اتنی سرعت اور شدت سے آئے گی، اس کا گمان شاید کسی کو نہ تھا۔ آج ہم ایک ایسی دہلیز پر کھڑے ہیں

دنیا کا متوقع جغرافیہ- سہیل یعقوب Read More »

تو جانتا ہے کہ میرا باپ کون ہے؟

(ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ)طاقت کا اظہار یا شناخت کا بحران؟یہ ایک فلمی ڈائیلاگ نما جملہ ہے جو کہ عام طور پر اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی طاقتور، امیر کبیر اور تو جانتا ہے کہ میرا باپ کون ہے؟(ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ) طاقت کا

تو جانتا ہے کہ میرا باپ کون ہے؟ Read More »

قیادت کا بحران اور پھر کامران

​ انقلاب 1979 کا اور خطے کی بدلتی سیاست ​ایران میں محمد رضا شاہ پہلوی کا تختہ فروری 1979 میں اسلامی انقلاب کے نتیجے میں الٹا گیا تھا اور اس کے بعد ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی تھی۔ یہ صرف حکومت یا حکومتی نظام کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس سے خطے کی پوری

قیادت کا بحران اور پھر کامران Read More »