موجودہ دور کے خونخوار خونی رشتے

موجودہ دور کے خونخوار خونی رشتے

​موجودہ دور میں چیزوں کو استعمال کرنے کا طریقہ تبدیل ہوگیا ہے۔ آج کا دور یہ ہے کہ “استعمال کرو اور پھینک دو”۔ ایسا ہمیشہ سے نہ تھا میں نے ایک بہت بڑے پاکستانی ادارے میں کام کیا ہے کہ جس میں ایک پوتے نے اپنی شادی پر اپنے دادا کا سوٹ پہنا تھا۔ لڑکیاں بڑے چاہ اور شوق سے اپنی شادی پر اپنی دادی یا نانی کا عروسی جوڑا زیب تن کرتی تھیں اور اپنی سہیلیوں کو یہ بات بڑے فخر سے بتایا کرتی تھیں۔ اب اگر لڑکیاں ایسا کرنے لگیں تو غریب ڈیزائنرز کا کیا ہوگا۔ خیال رہے کہ یہاں غریب عجیب و غریب سے لیا گیا ہے ورنہ بھلا ڈیزائنر کیسے غریب ہوسکتا ہے؟

پائیداری سے بیزاری: اشیاء اور رشتوں کا بدلتا مزاج

​وہ بھی کیا دور ہوا کرتا تھا ادارے اپنی اشیاء کے اشتہار میں اس بات کی تشہیر کیا کرتے تھے کہ آپ ہماری اشیاء خریدیں اسے آپ کے پوتے پوتیاں بھی استعمال کریں گے یعنی اشیاء بہت پائیدار اور مضبوط ہوا کرتی تھیں۔ کم و بیش یہی انداز زندگی کی دیگر چیزوں اور اطوار میں بھی تھا۔ لوگوں کے رشتے اور تعلقات نسلوں پر محیط ہوتے تھے اور وراثت میں منتقل ہوتے تھے۔ آج کل منتقل ہونے والے اوصاف بدقسمتی سے نفرت، بغض، کینہ اور دشمنی ہیں اور یہ نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ آج کل تمام رشتے (disposable) قابل تلف یا تلف پذیر ہو گئے ہیں یعنی استعمال کرو اور پھینک دو۔

خونی رشتوں کی تلخی اور خونی تنازعات

​آج کل خون کے رشتوں میں جب تک خون نہ بہے وہ خونی محسوس ہی نہیں ہوتے بلکہ اب تو خونی رشتوں کا خونخوار ہونا ہی ان کے اصل ہونے کی دلیل یا پیمانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ پچھلے دنوں میرے ایک دوست نے خبر شیئر کی تھی کہ ایک گھر میں دو بھائیوں کا خاندان رہتا تھا (تھا اس لئے کہ اب وہ خاندان نہیں رہا) ایک بھائی نچلی منزل پر اور دوسرا بھائی اوپری منزل پر، بجلی کے بل میں رقم کے حصے پر تنازعہ ہوا اور گولیاں چل گئی، ایک بھائی کے پانچ بیٹے اور دوسرے کے تین بیٹے اس جھگڑے میں مارے گئے اور تھوڑی سی رقم کے تنازع پر ایک گھر سے آٹھ جنازے اٹھے۔ آپ کس کو موردِالزام ٹھہرائیں گے بجلی کی بڑھتی قیمت کو، موسم کی سختی کو یا ان کی تربیت کو, میرے خیال میں تو یہ بجلی کا بل اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا ورنہ اونٹ کی پیٹھ تو پہلے ہی سے پوری بھری ہوئی تھی۔

ماضی کی رواداری اور حساب کی بے نیازی

​بدقسمتی سے میرا تعلق اس نسل سے ہے کہ جب حصوں میں کمی بیشی ہوجاتی تھی تو دوبارہ حساب کرنے کے بجائے کہا جاتا تھا کہ بس ٹھیک ہے “ گھی کھچڑی ہی میں ہے” مطلب حساب کی کمی بیشی کا فائدہ کسی اپنے ہی کو ہے اس لئے دوبارہ حساب کرنے کی ضرورت نہیں اور سب ہنسی خوشی اس کو قبول کر لیتے تھے, لوگ فائدہ لینے کے بجائے فائدہ دینے میں زیادہ راحت محسوس کرتے تھے لیکن اب یہ بات آپ کی لیاقت نہیں بلکہ حماقت پر محمول ہوگی اور لگتا ہے کہ اب یہی صحیح ہے ورنہ دنیا اس سے بھی برُے القابات سے نوازے گی جس کو سننے کا حوصلہ شاید ہر ایک میں نہ ہو۔

فکری آبیاری اور کڑوی فصل کا سامنا

​کیا یہ سب کچھ ایک دن یا ایک رات یا چند دنوں میں ہو گیا ہے یا ہم نے اس کی باقاعدہ اور بے قاعدہ آبیاری کی ہے؟ اس میں امریکن کھاد بھی ڈالی ہے جس کی وجہ سے فصل بہت بھرپور ہوئی ہے کہ ہم جس کا پھل کاٹ بھی رہے ہیں اور کھا بھی رہے ہیں اور پھل ہے کہ ختم ہی نہیں ہورہا کیونکہ پھل کے بیج سے دوبارہ ُاس سے بھی زیادہ کڑوی اور کانٹوں سے بھرپور فصل تیار ہو کر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔

حل کی تلاش: ذاتی اور انفرادی تحریک

​اب اس کا کیا حل ہے؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آئندہ چند سطروں میں آپ کو کوئی نسخہِ کیمیا مل جاۓ گا تو ایسا نہیں ہے اس لئے کہ کسی کے پاس کوئی نسخہِ کیمیا ہے ہی نہیں۔ بس ایک ہی نسخہ ہے کہ آپ کسی کو کچھ سکھا نہیں سکتے اگر وہ خود سیکھنا نہ چاھے تمام تحریک ذاتی اور انفرادی ہوتی ہے باہر سے اس کا ٹیکہ نہیں لگایا جاسکتا، ہاں چند تجاویز ضرور دی جاسکتی ہیں۔

رشتوں میں خلوص اور دلی مسرت کا حصول

​رشتوں کو لین دین یا کاروباری کاروائی (transaction) نہ سمجھئے کہ جس کے نتیجے میں نفع یا نقصان ہونا لازی ہے کچھ کام اس کے بغیر بھی ہونے چاہیئے اور ماضی میں بہت ہوتے تھے شاید اب بھی ہوتے ہوں لیکن آبادی کے لحاظ سے اس کا تناسب بہت گھٹ گیا ہے ہمیں دوبارہ اسے بڑھانا ہوگا یقین مانیے کہ ایسا کرنے سے آپ کو دلی مسرت ہو گی اور آپ کا دل خوش رہے گا اور جب دل خوش رہے گا تو خود بخود دل کے امراض میں کمی واقع ہوجاۓ گی۔ لوگوں کے دل مت توڑیے آپ کا دل پورا اور صحتمند رہے گا۔

الفاظ کی مٹھاس اور جسمانی صحت

​لوگوں سے گفتگو میں الفاظ کا چناؤ احتیاط سے کریں۔ لہجے اور الفاظ میں شیرینی اور حلاوت کا تناسب بڑھا دیجئے تو دیکھیے گا کہ خون میں چینی خودبخود نارمل ہوجاۓ گی اور آپ ذیابیطس کے عذاب سے بچ جائیں گے۔

​مانا کہ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں مزا بہت آتا ہے لیکن پھر یہی نمک آپ کی اپنی زندگی میں شامل ہو کر بلند فشار خون کا سبب بنتا ہے تو اگر آپ بلند فشار خون سے بچنا چاہتے ہیں تو دوسروں کی زندگی اور معاملات میں نمک چھڑکنا بند کر دیجئے ایسا کرنے سے آپ کے جسم میں نمک کا تناسب ٹھیک رہے گا اور آپ بلند فشار خون سے محفوظ رہیں گے۔ لوگوں میں امراضِ چشم بھی بہت بڑھ گیا ہے صرف آپ لوگوں سے آنکھیں پھیرنا بند کر دیجیے آشوبِ چشم ختم ہوجائے گا۔

​آجکل لوگ یوگا میں زبردستی قہقہے لگاتے ہیں جو کہ بہت مصنوعی محسوس ہوتے ہیں۔ آپ لوگوں کے چہروں کے قہقہے لوٹا دیجیے آپ کے چہرے پر قہقہے واپس آجائیں گے۔

اختتامیہ: زندگی کی تلقین

​اب اگر میں نے اس سے زیادہ علاج تجویز کیے تو ڈاکٹر صاحبان میرے دشمن بن جائیں گے اور اگر زیادہ لوگ دشمن بنا لیے تو پھر اس تحریر کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا اور ہم تو زندگی کی تلقین کرنا چاہتے ہے اس لیے میں انہیں علاج پر اپنی تحریر کا اختتام کرتا ہوں اور اگر آپ کو بھی یہ علاج سمجھ نہ آئے تو سمجھیے گا کہ میں عین جوانی میں بوڑھا ہوگیا ہوں ویسے اس بات پر ایک قہقہہ تو بنتا ہے۔