نئی عالمی درجہ بندی: 2026 اور بدلتا ہوا جغرافیہ
دنیا بھر کے ماہرینِ نجوم اور تجزیہ کار سال 2026 کو ایک بڑی تبدیلی کا سال قرار دے رہے تھے۔ لیکن یہ تبدیلی اتنی سرعت اور شدت سے آئے گی، اس کا گمان شاید کسی کو نہ تھا۔ آج ہم ایک ایسی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں پرانی طاقتیں دم توڑ رہی ہیں اور نئے مراکزِ قوت جنم لے رہے ہیں۔
سپر پاور کا سورج غروب اور مشرقِ وسطیٰ کی نئی صورتحال
امریکا کی بحیثیت سپر پاور گرفت کمزور ہو چکی ہے اور عالمی عسکری توازن تیزی سے ایران، چین، روس اور شمالی کوریا کے پلڑے میں جھک رہا ہے۔ اس صف بندی کا سب سے گہرا اثر مشرقِ وسطیٰ پر پڑے گا۔ زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ بہت سے ممالک کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہو جائے گی اور بقا صرف باہمی انضمام میں ہی ممکن ہوگی۔ اسرائیل کے لیے بھی “گریٹر اسرائیل” کا خواب قصہ پارینہ بنتا دکھائی دے رہا ہے؛ اسے بقا کے لیے حقائق تسلیم کرنے ہوں گے، ورنہ تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے۔
ایشیا کا عروج اور پاکستان کا کلیدی کردار
مستقبل کی دنیا میں ایشیا ایک مضبوط اکائی بن کر ابھرے گا جس کی قیادت چین کے ہاتھ میں ہوگی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان اس نئے اتحاد میں ایک نائب کی حیثیت سے اہم کردار ادا کرے گا۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی اس نئی تبدیلی کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ وقت بہت اہم ہے، لیکن ہماری اشرافیہ کو ذاتی مفادات، کرپشن اور بنیادی عوامی مسائل (جیسے پانی اور بجلی) سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ عوام کو مطمئن کیے بغیر عالمی سطح پر بڑا کردار ادا کرنا ممکن نہیں۔
ہندوستان کے لیے لمحہ فکریہ
ہندوستان کے لیے بہتری اسی میں ہے کہ وہ چین کی قیادت میں ایشیائی صف میں شامل ہو جائے، مگر بی جے پی کی انتہا پسندانہ سوچ اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر بھارتی قیادت نے درست تجزیہ نہ کیا تو ان کا انجام بھی سوویت یونین جیسا ہو سکتا ہے، جو خطے کے امن کے لیے تو شاید بہتر ہو مگر خود ہندوستان کے لیے تباہ کن ہوگا۔
افریقہ: مستقبل کی معدنی منڈی
چین نے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ منصوبے کے ذریعے افریقہ میں جو طویل المدتی سرمایہ کاری کی ہے، اب اس کے پھل سمیٹنے کا وقت قریب ہے۔ افریقہ اب غلاموں کی منڈی نہیں بلکہ معدنی ذخائر کی بدولت عالمی معیشت کا محور بنے گا، اور چین اس کا سب سے بڑا حصہ دار ہوگا۔
متحدہ یورپ اور روس کا نیا روپ
یورپ اب امریکا کی طفیلی ریاست بننے کے بجائے متحد ہو کر ابھر رہا ہے۔ برطانیہ اپنی غلطی کا ادراک کر چکا ہے مگر اب وقت نکل چکا ہے۔ نیٹو (NATO) اپنی اہمیت کھو رہا ہے اور مستقبل میں روس، متحدہ یورپ کے ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔ روس یوکرین جنگ کے بعد کا منظرنامہ روس کے صبر کا انعام ثابت ہوگا۔
“بڈھا شیر” اپنے ہی گھر میں نظر بند
چین اور روس کی مشترکہ حکمت عملی امریکا کو صرف شمالی اور جنوبی امریکا تک محدود کر دے گی۔ امریکا جتنا جلد ان بدلتے ہوئے حالات سے سمجھوتہ کر لے، اس کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔ سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کا قرض ابھی باقی ہے، جو شاید قدرت امریکا کی اپنی غلطیوں کے ذریعے ہی چکائے گی۔
اختتامی کلمات
یہ محض ایک عمومی جائزہ ہے، جسے بعض لوگ قبل از وقت یا خواب قرار دے سکتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ہم رہیں نہ رہیں، یہ تحریر باقی رہے گی تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ تبدیلی کی چاپ کیسی تھی۔
-
View all postsتعارف:
سہیل یعقوب سماجی اور علمی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت ہے۔ آپ نے بہت عرصے تک شہر کی معروف جامعات میں بطور وزٹنگ فیکلٹی خدمات سرانجام دی ہے۔ درس و تدریس اور تربیت کے ساتھ آپ کا تعلق بہت پرانا ہے۔ آپ نے 36 سال کثیر القومی اور قومی اداروں میں اعلی عہدوں پر خدمات سرانجام دی ہے اور آج کل تربیتی ورکشاپ کے علاوہ قومی اور سماجی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ آپ شہر کی مختلف ادبی تنظیموں سے بھی وابستہ ہے اور ان کی تقریبات میں باقائدگی سے شرکت کرتے ہیں



