بکھری یادیں: زندگی کے بدلتے رخ- ثوبان امتیازی

اگریکلچرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن

اگریکلچرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن

زندگی کے بدلتے رخ

ثوبان امتیازی

غفران امتیازی اور پی ٹی وی کا آغاز

سال 1963 میں پاکستان میں ٹیلیویژن کے لانے کا کام شروع ہو گیا تھا۔ 1964 میں پہلا ٹی وی سٹیشن لاہور میں کھلا اور دوسرا اسی سال ڈھاکہ میں۔ تیسرا راولپنڈی میں کھلنے جا رہا تھا۔ میرے بڑے بھائی غفران امتیازی اس وقت اگریکلچرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن  میں پبلک ریلیشنز آفیسر تھے اور لاہور میں متعین تھے۔

وہ میرے سب سے بڑے بھائی عرفان امتیازی (جو سول سرونٹ تھے) کے ساتھ حکومت کے کسی ایسے  عہدیدار سے ملنے گئے، جن کا تعلق ٹی وی سے تھا۔ انہوں نے باتوں باتوں میں غفران بھائی سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ غفران بھائی نے بتایا کہ وہ اگریکلچرل ڈیولپمنت کارپوریشن میں پبلک ریلیشنز آفیسر ہیں۔ تو ان صاحب نے کہا: “میاں اگریکلچر میں کیوں جھک مار رہے ہو۔ کلچر کی طرف آئیے۔

غفران بھائی کا رجحان بھی اسی طرف تھا۔ انہوں نے اگلے ہی روز درخواست دے دی، وہ منظور ہو گئی۔ اس طرح وہ  پی ٹی وی میں شامل ہوئے۔ وہاں انہوں نے اسسٹنٹ پروڈیوسر کی حیثیت سے پی ٹی وی جوائن کیا اور 29 سال مختلف عہدوں پر ترقی کر تے کرتے ریٹائر ہوئے۔ اور جون 2019 میں اسلام آباد میں ایک مختصربیماری کے بعد انتقال کر گئے۔

اس سے اگلے سال اپریل 2020 میں عرفان بھائی بھی طویل بیماری کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے۔ بعض دفعہ اتفاق سے منہ سے نکلا ہوا ایک جملہ، یا ایک سر سری ملاقات، یا کوئی چھوٹا سا واقعہ، یا کوئی غیر متوقع حارثہ انسان کی زندگی کا رخ موڑ دیتا ہے۔ اور یہی غفران بھائی کے ساتھ ہوا تھا جب انہوں نے پی ٹی وی جوائن کیا تھا۔

اتفاقاتِ وقت اور شخصیت کی تعمیر

میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اسکول تک میں بہت خاموش طبیعت تھا۔ پڑھائی لکھائی میں اپنے دونوں بڑے بھائیوں کے بر عکس۔ صرف لازمی نمبر لیکر پاس ہونے والا۔ سادہ لباس اور سادہ زندگی اور کوئی مشاغل نہیں۔ جس سال میں نے میٹرک کا امتحان دیا، تو میں اپنے خالہ زاد بھائی کی بیٹی اور بیٹا اور  ماموں زاد بھائی کے ساتھ بذریعہ بحری جہاز کراچی سے براستہ چٹاگانگ، ڈھاکہ بھائی عرفان سے ملنے چلا گیا۔

اسی دوران والد صاحب نے بذریعہ تار اطلاع دی کہ میں نے میٹرک کا امتحان سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر لیا ہے۔ واپسی میں ہمارا جہاز کولمبو پر خراب ہو گیا اور دو ہفتے تک کولمبو کی بندرگاہ پر لنگر انداز رہا۔ جب میں راولپنڈی پہنچا، تو معلوم ہوا کہ تمام کالجز میں داخلے بند ہو چکے ہیں اور میں لیٹ ہو گیا ہوں۔

اداکاری سے مصنف بننے تک کا سفر

اسی سال غفران بھائی بی اے کا امتحان پاس کر کے ماسٹرز کرنے لاہور چلے گئے۔ میں نے ان کے ایک بہت قریبی دوست شمشاد لودھی سے رابطہ کیا، جو غفران بھائی کے ساتھ بی اے کر نے کے بعد ملازمت کر رہے تھے اور وہ ادا کاری اور صدا کاری میں غفران بھائی کے استاد تھے۔ ان کا کالج میں سٹیج ادا کاری کی وجہ سے بہت اثر و رسوخ تھا۔ انہوں نے سفارش کر وا کر مجھے کا لج میں داخلہ دلوا تو دیا۔

لیکن اس شرط پر داخلہ ملا کہ میں غفران بھائی کی طرح کالج کے ڈراموں میں کام کروں گا۔ مجبوراََ مجھے “ہاں” کرنی پڑی۔ حالانکہ مجھے اداکاری کی الف بے بھی نہیں آتی تھی۔ ان صاحب نے مجھے تسلی دی کہ جس طرح انہوں نے غفران امتیازی کو ادا کاری سکھائی تھی، اسی طرح وہ مجھے بھی اس میدان میں تیار کر دیں گے۔

لہذا چا رو نا چار میں نے ڈراموں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ پہلے ڈرامے میں مجھے گھر کے نوکر کا رول ملا۔ اتفاق سے وہ اچھا ہو گیا اور سب نے تعریف کی۔ دوسرے میں ایک حکیم کا کردار ملا۔ تیسرے میں بوڑھے باپ کا، چوتھے میں ایک دوست کا اور پانچویں میں ایک ہندو مرکزی کردار۔ اب مجھ میں خود اعتمادی پیدا ہو گئ تھی، شوق بھی پیدا ہو گیا تھا اور حوصلہ بھی بڑھ گیا تھا۔

مزید، مخلوط تعلیم نے بھی سہارا دیا۔ بزم ادب میں بھی حصہ لینا شروع کیا۔ زبان بھی کھل گئ۔ یار دوست بھی اچھے مل گئے، کالج کے میگزین میں بھی مضامین اور شاعری چھپنے لگی۔ مشاعروں میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور انعامات جیتے۔ چھ سال میرے بہترین گزرے۔ میں خو د حیران تھا کہ مجھ میں اتنی تبدیلی کیسے آ گئ۔ میرے کالج کے چھ سال اور لاہور لاء کالج کے دو سال میری زندگی کے آٹھ بہترین سال تھے۔

یہی وجہ تھی کہ میں ریٹائر ہو نے کے بعد پانچ کتابوں کا مصنف بھی بن گیا۔ اور اردو ادب میں ماسٹرز کر نے کے بعد 32 سال بینک کی ملازمت بھی کر لی۔ یہ سب کیسے ہوا؟ صرف اس وجہ سے کہ جہاز خراب ہو گیا، میں لیٹ ہو گیا، مجھے مشروط داخلہ ملا۔ مجبوراََ ادا کاری کر نی پڑی اور کالج کی غیر نصابی سر گرمیوں میں حصہ لینا پڑا۔ اگر یہ سب کچھ نہ ہو تا، تو میں آج جو کچھ ہوں، وہ نہ ہو تا، کچھ اور ہو تا۔

ثوبان امتیازی کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

Cycle

  • Soban Imtiazi

    ثوبان امتیازی راولپنڈی کے گورڈن کالج سے وابستہ رہے، جہاں سے انہوں نے اردو زبان و ادب میں ایم اے اور لاہور کے لاء کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 32 سال تک ملک اور بیرون ملک بینکنگ میں خدمات انجام دیں۔ آپ شاعر، افسانہ نگار، مصنف، سٹیج اور ٹیلی ویژن کے تجربہ کار اداکار و صدا کار ہیں۔ PTV چکلالہ/راول پنڈی کے ابتدائی دور (بلیک اینڈ وائٹ) سے منسلک رہے اور اپنے زمانے کے منجھے ہوئے فنکار کے طور پر پہچانے گئے۔ آج کل لندن میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔
    کئی کتابوں کے مصنف ہیں؛ جن میں شاعری کے حوالے سے: "احساس کی لو" اور "شام ڈھلے"۔ اور نثر میں ان کی چند آپ بیتیاں، مضامین، خطوط، روزنامچے کے اوراق اور سفرنامہ ترکی پر مبنی "چند یادیں، چند باتیں" افسانوں کا مجموعہ "داستانیں مری، یہ فسانے مرے", سچے واقعات پر مبنی دلچسپ کتاب "باتیں ہماری یاد رہیں گی" شامل ہیں۔ آپ آج کل خود نوشت سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں، جو تکمیل کے مراحل میں ہے۔
    آپ 80  سال سے زائد عمر کے باوجود فعال ہیں۔ لکھتے، پڑھتے ہیں اور ادبی حلقوں سے جڑے رہتے ہیں۔

    View all posts