اور چڑیا اڑ گئی: بچپن کی ایک تکلیف دہ مگر دلچسپ یاد
خوف اور تجسس کا وہ پہلا مرحلہ
میں شائد چار یا پانچ سال کا تھا۔ ایک دن ہمارے گھر میں چہل پہل تھی۔ پڑوس کے لوگ اور چند عزیز و اقارب بھی آئے ہوئے تھے۔ اندر کے بڑے کمرے سے خواتین کی باتیں کر نے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ چند کرسیاں اور ایک پلنگ، جس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی، صحن میں رکھا ہوا تھا۔
میں کونے میں کھڑا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔ انہی لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا، جسے میں نے پہلے نہ دیکھا تھا۔ وہ اجنبی بار بار مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کپڑے کا تھیلا تھا، جس میں سے اس نے اوزار نما چیزیں اور کپڑے کی کچھ کترنیں نکال کر اپنے قریب رکھ کر آستینیں چڑھا لیں۔
میں اس زمانے میں اتنا سمجھدار تو نہ تھا، لیکن اتنا نا سمجھ بھی نہ تھاکہ موقع کی نزاکت کو نہ سمجھ سکوں۔ میں نے آنے والے خطرے کو بھانپ لیا تھا۔ میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں اس اجنبی کی وحشت زدہ نظروں اور اس کے قریب رکھے ہوئے آ لات جراحی سے گھبرا گیا۔
سب سے نظریں بچا کر چپکے سے گھر سے باہر آ یا، گلی سے نکل کر سڑک پر آیا، بائیں طرف مڑا، پھر پھاٹک سے نکل کر دائیں طرف گیا اور شاہراہ پر بنے ہوئے ریلوے کے پل پر لوہے کے پائپ پر بیٹھ گیا۔
فرار اور واپسی کا قصہ
میں سڑک پر گزرتے ہوئے ٹریفک اور فٹ پاتھ سے گزرتے ہوئے لوگوں کو دیکھنے میں محو ہو گیا۔ ایک دفعہ پل کے نیچے سے گزرتی ہوئی ٹرینوں کا نظارہ بھی کیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرے پیچھے ہمارے مکان کے اوپر رہنے والا پڑوسی اور میرے خالہ زاد بھائی مسکراتے ہوئے کھڑے ہیں۔
میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ لیکن ان کے چہرے کی مسکراہٹ سے ڈھارس بندھی۔ دونوں میرے دائیں بائیں پانی کے پائپ پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے بتا یا کہ سب لوگ میرے گھر سے چلے آنے سے پریشان ہیں اور میرا انتظار کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتا یا کہ میرے والد بازار سے مٹھائی لے کر آئے ہیں اور ابھی تھوڑی دیر میں سب لوگ مٹھائی کھائیں گے۔ وہ بہلا پھسلا کر میری انگلی پکڑ کر مجھے گھر لے گئے۔
آخری فیصلہ: اور چڑیا اڑ گئی
سب لوگ میرے منتظر تھے۔ مجھے سب نے پیار کیا اور سر پر ہاتھ پھیرا۔ ایک صاحب مجھے اپنی گود میں لیکر پلنگ پر اس اجنبی کے سامنے بیٹھ گئے، جو پہلے سے اپنے شکار کے لئے تیار بیٹھا تھا۔ دوسرے صاحب نے میری جامہ تلاشی لینے کے لئے پاجامہ ڈھیلا کر کے اتارا اور انہی صاحب نے میری دو نوں ٹانگوں کو اپنے ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں لے لیا۔
پھر کہیں سے آواز آئی: ’’ہاں، تو شروع کیجئے خلیفہ جی‘‘۔ والد صاحب کی آ واز بھی کانوں میں گونجی: ’’بِسم اللہ ِالرَحمٰنِ الرحِیم‘‘۔ خلیفہ جی نے ہاتھ میں استرا پکڑا اور میری طرف بڑھے۔
میں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا اور ہاتھ پائوں ہلانے کی کوششِ کی۔ اتنے میں خالہ زاد بھائی نے مجھ سے مخاطب ہو کر اور آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا: ’’وہ دیکھو، وہ دیکھو، وہ رہی چڑیا۔ دیکھو دیکھو، وہ اڑ گئی چڑیا‘‘۔ میں معصوم، بھولا بھالا ان کی باتوں میں آگیا.
جونہی میں نے چپ ہو کر آسمان کی طرف دیکھا کہ وہ کونسی چڑیا ہے جس کو دیکھنے کے لئے وہ کہہ رہے ہیں، تو فضا میں تو مجھے کوئی چڑیا اڑتی ہوئی نظر نہیں آئی، لیکن اس وقت تک میری اپنی چڑیا اڑ کر غائب ہو چکی تھی۔
ایک ادھوری کہانی اور عبرت
قارئین! اگر آپ کا خیال ہے کہ میں مزید کچھ بتائوں گا کہ اس کے بعد کیا ہوا، تو مجھ میں نہ تو اتنی طاقت ہے کہ میں وہ صورت حال بیان کر سکوں اور نہ ہی آپ میں اتنی ہمت کہ آپ پڑھ سکیں۔ البتہ روتے اور چیختی ہوئی حالت میں میرے کانوں نے ’’مبار ک ہو، مبارک ہو‘‘ کی آوازیں سنیں۔
پھر بعد میں سب نے مٹھائی بھی کھائی، سوائے میرے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی مجبوریاں تھیں، جن کی وجہ سے یہ عمل جراحی، جو عام طور پرکسی نو مولود کی پیدائش کے چند دن یا چند ہفتے یا چند ماہ بعد ہو جاتا ہے، اتنے سالوں بعد کیوں ہوا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اب میں سوچتا ہوں کہ جو ہوا، اچھا ہوا۔ اگر اس وقت بھی نہ ہو تا، تو پھر کب ہو تا۔




