🏏 کرکٹ انسائیکلوپیڈیا قمر احمد — ملاقاتیں اور یادیں 🏏
(تحریر و تحقیق: محمد سجاد خان)
کل فیس بک نے یاد دہانی کرائی کہ آج قمر صاحب کی سالگرہ ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں چند نام ایسے ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں بلکہ ایک عہد کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ قمر احمد صاحب بھی ایسی ہی شخصیات میں شامل تھے۔ وہ بلا مبالغہ ’’کرکٹ انسائیکلوپیڈیا‘‘ تھے۔ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط صحافتی زندگی میں انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی کرکٹ کی تاریخ، اعداد و شمار اور روایات کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی متعدد کتابیں کرکٹ کے سنجیدہ طالب علموں اور محققین کے لیے مستند حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو انکساری تھی۔ اتنی شہرت اور علمی مقام کے باوجود وہ انتہائی سادہ مزاج اور ملنسار انسان تھے۔ انہوں نے ہمیشہ نوجوان اور نوآموز لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے وسیع تجربے سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ صحافت سے وابستہ کئی افراد انہیں اپنا محسن سمجھتے ہیں۔
قمر احمد سے پہلی بالمشافہ ملاقات اور کتاب کی پذیرائی
قمر احمد صاحب سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات اکتوبر 2021ء میں ہوئی، جب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا جوش و خروش اپنے عروج پر تھا۔ وہ ایک ٹی وی چینل پر ماہرانہ تبصرے کر رہے تھے، جبکہ اسلام آباد اسٹوڈیو میں جاوید میانداد بطور مبصر موجود تھے۔ دورانِ پروگرام ایک کالر نے قمر صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ وہ روزانہ شام سات بجے سے دس بجے تک کراچی پریس کلب میں موجود ہوتے ہیں، آپ وہاں آ سکتے ہیں۔
یہ سن کر میں نے اگلے ہی روز اپنی تازہ شائع شدہ کتاب ’’جاوید میانداد: کرکٹ کا فیلڈ مارشل‘‘ کے ساتھ کراچی پریس کلب جا پہنچا۔ تعارف کروانے پر انہوں نے نہایت شفقت اور اپنائیت سے مجھے اپنے پاس بٹھایا۔ کتاب دیکھی تو خوشی کا اظہار کیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔ گفتگو کے دوران ان کی علمی گہرائی، شائستگی اور کرکٹ سے جڑی یادوں کو سن کر بے حد متاثر ہوا۔
جب میں رخصت ہونے لگا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے رات کا پروگرام دیکھنے کی تاکید کی۔ گیارہ بجے پروگرام شروع ہوا۔ کچھ دیر بعد اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب قمر صاحب ہماری ملاقات کا تفصیل سے ذکر فرما رہے تھے۔ انہوں نے میری کتاب ناظرین کو دکھائی۔ اسلام آباد اسٹوڈیو میں موجود جاوید میانداد نے بھی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ بلاشبہ ان کے یہ الفاظ میرے جیسے نوآموز کے لیے آج بھی سرمایۂ افتخار ہیں۔
دوسری ملاقات، پیش لفظ اور قمر احمد صاحب کی انکساری
قمر صاحب سے دوسری ملاقات جنوری 2025ء میں ہوئی۔ اس وقت میں آٹھ ماہ اسپتال میں طویل اور صبر آزما علالت کے بعد گھر آگیا تھا۔ میری دوسری کتاب ’’کپتان سے کپتان تک‘‘ کی ڈمی بھی آگئی تھی۔ میری خواہش تھی کہ اس کا پیش لفظ قمر احمد صاحب تحریر کریں۔
اس ملاقات کے دوران ممتاز صحافی مظہر عباس صاحب بھی تشریف لے آئے۔ قمر صاحب نے ان سے میرا تعارف کروانے کے بعد مظہر عباس صاحب سے کہا ” سجاد صاحب بھی اسی بیماری کا شکار ہے جو سابق کرکٹر علیم الدین کو تھی”.
قمر صاحب نے “کپتان سے کپتان تک’ دیکھی۔ انہوں نے کتاب کے موضوع کو سراہا اور فرمایا کہ ایک دو روز میں اس کا پیش لفظ لکھ دیں گے۔ اس ملاقات کا ایک منظر آج بھی میری یادداشت میں تازہ ہے۔ تصویر بنوانے کا وقت آیا تو میں اپنی کمزور جسمانی حالت کے باعث کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے احتراماً کھڑے ہونے کی کوشش کی، لیکن قمر صاحب نے فوراً روک دیا۔
انہوں نے کہا، ’’نہیں، نہیں، آپ بیٹھے رہیے۔‘‘ وہ مظہر عباس صاحب کے ساتھ میرے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ تھا، مگر میرے لیے قمر احمد صاحب کی عظمت کا ایک روشن پہلو تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اس ملاقات کی تصویر اپنے فیس بک اور انسٹاگرام پر بھی شیئر کی۔
کتاب کی اشاعت، آخری گفتگو اور صدمہ
ایک برس بعد ’’کپتان سے کپتان تک‘‘ شائع ہوئی تو میں اس کا نسخہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کتاب دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور خصوصی طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ ’’سجاد! بیماری اور جسمانی مشکلات کے باوجود آپ جو یہ کام کر رہے ہیں، اسے جاری رکھیے گا۔‘‘
اسی دوران پانی جون کو کراچی آرٹس کونسل میں میری کتاب کی تقریبِ پذیرائی طے ہوئی۔ میں نے قمر صاحب کو دعوت دی تو انہوں نے فوراً وعدہ کیا کہ وہ تقریب میں ضرور شرکت کریں گے۔ مزید یہ بھی کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ جاوید میانداد کو بھی ساتھ لے کر آئیں (جاوید بھائی اس وقت انتہائی علیل تھے)۔ بدقسمتی سے تقریب سے دو روز قبل قمر صاحب کو دل کا دورہ پڑا، جس کے باعث وہ اور جاوید میانداد تقریب میں نہ آسکے۔ تاہم دونوں شخصیات نے ٹیلی فون کے ذریعے اپنے پیغامات سے تقریب کو یادگار بنا دیا۔
کامیاب تقریبِ پذیرائی کے بعد میں نے یونین کلب میں چند دوستوں کے اعزاز میں ایک عشائیہ رکھا اور قمر صاحب کو بھی مدعو کیا۔ انہوں نے کہا، ’’سجاد! اس وقت طبیعت کچھ بہتر نہیں۔ ان شاء اللہ، صحت سنبھلی تو ملاقات ہوگی۔ خوش رہیں۔‘‘
مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ہماری آخری گفتگو ہے۔ تین روز بعد، 18 جون 2026ء کو قمر احمد صاحب کے انتقال کی خبر آگئی۔ یہ خبر میرے لیے شدید صدمے کا باعث بنی۔
قمر احمد کی ابتدائی زندگی اور صحافتی کیریئر کا آغاز
قمر احمد صاحب سے میری ملاقاتیں خوشگوار یادوں کا حصہ ہیں۔ ان نشستوں میں ان سے کرکٹ، صحافت، کتابوں اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وہ 23 اکتوبر 1937ء کو مغل سرائے، بہار (اتر پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد حیدرآباد میں تعلیمی مدارج طے کرنے کے ساتھ حیدرآباد اور سندھ کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی اور وہ قومی ٹیم میں منتخب ہوتے ہوتے رہ گئے۔ وہ کراچی کے اس تاریخی غیر سرکاری ٹیسٹ میچ میں بھی گراؤنڈ میں موجود تھے، جس میں پاکستان نے ایم سی سی (انگلینڈ) کو شکست سے دوچار کیا۔ اس فتح کے بعد آئی سی سی نے پاکستان کو ٹیسٹ اسٹیٹس کا حامل ملک قرار دے دیا تھا۔
قمر احمد صاحب کو ورکشائر کاؤنٹی کی جانب سے لیگ کھیلنے کی آفر ہوئی، مگر انہوں نے اسے مسترد کرکے انگلینڈ میں صحافت میں ڈپلومہ کیا اور بطور کرکٹ جرنلسٹ براڈکاسٹنگ کی دنیا میں داخل ہوگئے۔ وہ کئی عالمی شہرت یافتہ اخبارات و رسائل سے وابستہ رہے، جن میں بی بی سی، دی گارجین، دی ٹائمز، دی ڈیلی ٹیلی گراف اور ڈان (پاکستان) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیوزی لینڈ کے ریڈیو اور ٹی وی پر بطور کمنٹیٹر و مبصر کام کیا۔
عالمی ریکارڈز، کتابیں اور تصنیفی خدمات
پاکستان نے اپنی تاریخ کا 400واں ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف دبئی میں کھیلا۔ اس تاریخی ٹیسٹ کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قمر احمد صاحب کو 400 سے زائد ٹیسٹ میچوں میں بطور صحافی، رپورٹر اور کمنٹیٹر شرکت کرنے پر پی سی بی کا یادگاری میڈل پیش کیا گیا۔ انہوں نے کرکٹ کی تاریخ کے 1000ویں اور 2000ویں ٹیسٹ کی بھی کوریج کی۔
قمر احمد صاحب نے بطور صحافی، کمنٹیٹر اور براڈکاسٹر 453 ٹیسٹ اور 741 ایک روزہ میچوں کی کوریج کی، جن میں نو عالمی کپ، تین خواتین عالمی کپ اور دو ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ شامل ہیں۔ وہ کرکٹ پر کئی کتابیں تصنیف کر چکے ہیں، جن میں ان کی سوانح عمری Far More Than a Game، Pakistan Book of Cricket، Testing Times، Show Down اور Babar Azam: The Shining Star شامل ہیں۔ قمر صاحب نے لٹل ماسٹر حنیف محمد کی سوانح عمری Playing for Pakistan For Cricket and Country اور وقار حسن کی خودنوشت
An Artist’s Impression of the Golden Greats of Pakistan Cricket کی تیاری میں بھی معاونت کی۔ اس کے علاوہ
نامی کتاب میں شفیق احمد کے خاکوں کے ساتھ قمر احمد صاحب نے 50 پاکستانی کرکٹرز کے سوانحی تعارف تحریر کیے تھے۔ بھارتی کرکٹ کے عظیم بلے باز سنیل گواسکر کی 60ویں سالگرہ پر شائع ہونے والی کتاب
Sunil Gavaskar: Cricket’s Little Master
The Sardar of Spin اور عظیم اسپنر بشن سنگھ بیدی کی شخصیت اور فن پر مرتب کردہ کتاب
میں بھی قمر احمد صاحب کی تحریریں شامل ہیں۔
قمر احمد کی علمی و ادبی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی بین الاقوامی کرکٹ حوالہ جاتی کتابوں World Cricket اور World Cricketers: An Encyclopaedic Dictionary میں پاکستانی کرکٹرز کے مختصر سوانحی خاکے لکھے۔ یہ کتاب کرکٹ کی سوانحی ڈکشنری تھی، جسے کرسٹوفر مارٹن جینکنز نے مرتب کیا تھا۔
ایوارڈز اور لائف ٹائم اچیومنٹ
اس طرح وہ صرف ایک تجربہ کار کرکٹ مصنف، براڈکاسٹر ہی نہیں، بلکہ عالمی کرکٹ کی تاریخ اور اس سے وابستہ شخصیات کے تحریری ریکارڈ کو محفوظ کرنے والوں میں بھی شامل ہیں۔
قمر احمد صاحب کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے یادگاری میڈل کے علاوہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔ وہ انگلینڈ کے کرکٹ رائٹرز کلب کے تاحیات رکن بھی رہے۔
قمر احمد صاحب آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی تحریریں، کتابیں اور کرکٹ کے لیے انجام دی گئی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ان سے ملاقات، گفتگو اور ان کی محبت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ان کی یادیں ہمیشہ میرے دل و دماغ میں محفوظ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ قمر احمد صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)




