تاریخ َ ٹنڈو آدم

سوامی ٹیئوں رام

تاریخِ ٹنڈو آدم: سوامی ٹیئوں رام کی زندگی اور خدمات

سوامی ٹیئوں رام کا جنم 4 جولائی 1887ء بروز ہفتہ تعلقہ ہالا کے شہر کھنڈو میں ہوا تھا۔ سوامی ٹیئوں رام کے والد چیلا رام آسنداس صوفی مزاج رکھنے والے انسان تھے اور والدہ کا نام کرشنا تھا۔ ان کے دادا کا نام بھگت ہری تھا، اس لیے ان کے ہاں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ انہی کی صحبت میں رہ کر وہ انسانی خدمت کے قائل ہوئے۔ جب وہ محض 16 برس کے ہی تھے تو مذہبی رواداری اور انسانی خدمت کے لیے پرچار کرنے لگے۔

سوامی ٹیئوں رام

ٹنڈو آدم آمد اور آستانے کا قیام

کہا جاتا ہے کہ سنت ٹیئوں رام ایک مرتبہ مینگھو رام کا میلہ گھومنے بیرانی گئے تھے۔ میلے سے واپسی پر وہ ٹنڈو آدم لوٹ آئے۔ ان دنوں بڑی گرمی تھی، وہ شام کو کھلی اور تازہ ہوا کھانے کی غرض سے باہر نکلے اور شہر سے تھوڑے فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے ٹیلے پر چڑھ گئے اور آس پاس دیکھنے لگے۔

سوامی ٹیئوں رام

یہاں کی آب و ہوا انہیں پسند آ گئی اور وہیں پر بیٹھ گئے۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد سادھوؤں نے انہیں کہا کہ اب سورج ڈھل چکا ہے واپس چلتے ہیں، مگر انہوں نے کہا کہ یہ بہت ہی اچھی جگہ ہے، ہم کچھ وقت یہاں ٹھہریں گے، آپ لوگ بستر اور ساز لے کر آجاؤ۔

آپ نے اسی جگہ پر ایک جھونپڑی بنائی اور ایک کنواں بھی کھودا گیا جس کا پانی میٹھا تھا۔ اسی طرح انہوں نے یہاں استھان (آستان) قائم کیا۔ اب یہاں راگ رنگ کی محافل منعقد ہوتیں اور امن و محبت کے اسباق دیے جانے لگے۔ یہاں لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔

مخالفت اور کلیکٹر کی غلط فہمی

ٹنڈو آدم شہر کے اس وقت کے چند عناصر سے یہ برداشت نہ ہوا کہ ایک سنت، جو کسی بھی قسم کی مذہبی تفریق نہیں کرتا، وہ اس قدر مقبول ہونے لگا ہے۔ انہیں اپنی عزت و وقار خطرے میں محسوس ہوئی۔ لہٰذا ان لوگوں کی جانب سے کہا گیا کہ جو شخص بھی سنت ٹیئوں رام کے پاس جائے گا، اس کا حقہ پانی بند کر دیا جائے گا۔

ان کے بارے میں یہ افواہ بھی پھیلائی گئی کہ یہ سادھ (پرہیزگار) نہیں بلکہ چور ہیں۔ اسی زمانے میں ٹنڈو آدم کے امیر لوگ اور دیگر مذہبی پنڈتوں نے نواب شاہ کے کلیکٹر کو یہ شکایت کی کہ یہ نوجوان دن کو نیک بن کر بیٹھتے ہیں اور رات کو ڈاکے ڈالتے ہیں۔

سوامی ٹیئوں رام جب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شہر سے باہر گئے تو کلیکٹر کے احکامات کے مطابق ان کے آستانے کو تہس نہس کر دیا گیا۔ مگر بعد میں جب انہیں کسی شہری کے توسط سے یہ پتہ چلا کہ یہ سب جھوٹ تھا، تو انہوں نے سوامی ٹیئوں رام کو سات ایکڑ زمین معافی کے طور پر عنایت کی۔

سوامی ٹیئوں رام

آشرم کی تعمیر اور ادبی خدمات

زمین ملنے کے بعد یہاں آشرم کے تعمیراتی کام کا آغاز کیا گیا۔ اسی آشرم میں پھر میلے کا انتظام کیا جانے لگا۔ راگ رنگ اور بھگتی کی محفلیں منعقد ہونے لگیں۔ سوامی ٹیئوں رام نے ہندی اور سندھی میں بھجن، کافی، بیت اور شلوک کہے ہیں۔ آپ کی شاعری کا ایک مجموعہ بھی چھپ چکا ہے۔

آخری ایام اور تاریخی حیثیت

سوامی ٹیئوں رام اپنے پیروکاروں کے ساتھ پریم پرکاش آشرم حیدرآباد گئے جہاں 1943ء میں وہ وفات پا گئے۔ جب ان کے جسدِ خاکی کو ٹنڈو آدم لایا گیا تو تین روز تک لوگ ان کا آخری دیدار کرتے رہے۔ جس جگہ پر ان کے جسدِ خاکی کو رکھا گیا تھا، آج وہاں محمود خان پارک ہے۔

آپ کے آشرم کو حکومتِ سندھ نے تاریخی و ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے، اور اب آشرم کی زمین پر تین تعلیمی ادارے قائم ہیں۔.

سوامی ٹیئوں رام

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

مندر