Life Story Of BRIG (R)HARRIS SALAM

بریگیڈیئر حارث سلام کی زندگی کا سفر :خدمت اور دیانتداری کی زندگی

یہ ویڈیو پاکستان فوج کے ایک مایہ ناز افسر، بریگیڈیئر حارث سلام کی زندگی، ان کی پیشہ ورانہ جدوجہد اور وطن عزیز کے لیے دی گئی ان کی خدمات کا احاطہ کرتی ہے۔ اس گفتگو میں نہ صرف ایک سپاہی کی ہمت کی داستان ہے بلکہ ایک بیٹے، ایک منتظم اور ایک محب وطن پاکستانی کے جذبات کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے

مرکزی پیغام یہ ہے کہ حقیقی کامیابی اور اطمینان خلوصِ نیت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے اور ذاتی مفاد پر اجتماعی بہبود کو ترجیح دینے میں پنہاں ہے۔ بریگیڈیئر سلام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک سپاہی کی زندگی محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک “طرزِ زندگی” ہے جو نظم و ضبط اور خدا کے ساتھ وابستگی سے عبارت ہے، جو بالآخر نظامی اصلاحات اور قلبی سکون کا باعث بنتی ہے۔

حصہ 1: ابتدائی جڑیں اور سیاسی بیداری

ٹائم لائن: 00:00 – 23:17

یہ حصہ راولپنڈی میں حارث سلام کی ابتدائی زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ ایک متوسط گھرانے میں پرورش پانے والے حارث اپنے والد کے وزارتِ دفاع میں کیریئر اور کنٹونمنٹ بورڈ سرسید اسکول میں اپنے تعلیمی سفر کا تذکرہ کرتے ہیں۔ وہ 1970 کی دہائی کے ہنگامہ خیز دور میں ایک طالب علم رہنما کے طور پر اپنی سیاسی وابستگی، طلبہ یونینز میں اپنے کردار اور قانون کے ساتھ پیش آنے والے مختصر واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ بیانیہ فوج میں شامل ہونے کی ان کی گہری خواہش کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ انٹرویوز اور تحریری امتحانات میں ابتدائی ناکامیوں کے باوجود وہ ثابت قدم رہے، اور بالآخر اپنی والدہ کو یہ کہہ کر قائل کر لیا کہ یہ “مٹی کو خون دینے” کا ایک راستہ ہے۔ یہ حصہ فوج کے انتخابی عمل میں ان کی کامیابی پر ختم ہوتا ہے، جہاں انہوں نے “فلیٹ فیٹ” (چپٹے پاؤں) کی ابتدائی غلط تشخیص جیسی جسمانی رکاوٹوں پر قابو پایا۔

حصہ 2: پی ایم اے کی سختیاں اور ابتدائی کمیشن

ٹائم لائن: 23:17 – 46:34

اس حصے میں بریگیڈیئر صاحب پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA) کاکول میں ایک سویلین سے کیڈٹ بننے کے سفر کی تفصیلات بتاتے ہیں۔ وہ وہاں کے نظم و ضبط اور سخت تربیتی ماحول کا ذکر کرتے ہیں، بشمول “صداۓ کشمیر” جیسے سزا کے پروگرام جو جسمانی اور ذہنی برداشت بڑھانے کے لیے بنائے گئے تھے۔ وہ اکیڈمی کے درجہ بندی کے نظام اور “سلوٹنگ ٹیسٹ” کے گہرے اثرات کے بارے میں دلچسپ اور بصیرت انگیز قصے بھی شیئر کرتے ہیں۔ بطور کمیشنڈ آفیسر ان کے ابتدائی کیریئر پر روشنی ڈالی گئی ہے جب وہ بطور انسٹرکٹر (پلاٹون کمانڈر) پی ایم اے واپس آئے اور وہاں اعلیٰ معیار نافذ کیے۔ وہ بتاتے ہیں کہ زندگی کے ابتدائی دور میں “دی پاکستان ٹائمز” میں پروف ریڈنگ کے تجربے نے انہیں فوجی دستاویزات کو درستگی کے ساتھ تیار کرنے میں کیسے مدد دی۔ یہ حصہ اس تصور پر زور دیتا ہے کہ فوجی زندگی محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک الگ “طرزِ زندگی” ہے۔

حصہ 3: اندرونی سلامتی اور “کچا” آپریشنز

ٹائم لائن: 46:34 – 1:09:51

یہ حصہ اندرونی سلامتی اور “ڈاکو دشمن” آپریشنز کے لیے سندھ کے اندرونی علاقوں میں ان کی تعیناتی پر مرکوز ہے۔ وہ کچہ کے علاقوں میں کام کرنے کی پیچیدگیوں پر کھل کر بات کرتے ہیں، جہاں سیاسی اثر و رسوخ اکثر مجرمانہ سرگرمیوں سے جڑا ہوتا تھا۔ وہ بدنام زمانہ ڈاکو گلزار میمرا کے خاتمے سمیت مخصوص مشنز کا ذکر کرتے ہیں اور فائر ڈسپلن کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ وہ اپنے اس فلسفے پر روشنی ڈالتے ہیں کہ بھاگنے والے مشتبہ افراد کو بلاجواز نشانہ نہیں بنانا چاہیے، کیونکہ بہت سے لوگ فوج کے خوف کی وجہ سے بھاگتے تھے۔ وہ خطے کی سماجی و سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہیں جہاں مقامی وڈیرے اکثر اشتہاریوں کو پناہ دیتے تھے۔ اس دور نے فوجی مقاصد اور اپنے ہی ملک کے معصوم شہریوں کے تحفظ کی اخلاقی ذمہ داری کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ان کی صلاحیت کا امتحان لیا۔

حصہ 4: بوسنیا مشن – ایک عالمی تناظر

ٹائم لائن: 1:09:51 – 1:33:08

بریگیڈیئر سلام 1990 کی دہائی کے وسط میں تنازع کے عروج کے دوران بوسنیا میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر کے طور پر اپنی تعیناتی کی تفصیلات بتاتے ہیں۔ شروع میں کراچی میں اپنے خاندان کو چھوڑنے پر ہچکچاہٹ کے بعد، وہ اس احساس کا ذکر کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کتنی عزت تھی۔ وہ “بیہاج پاکٹ” (Bihac Pocket) کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں جہاں مسلم آبادی مخالف قوتوں کے محاصرے میں تھی۔ یہ حصہ ان کے مشن کے انسانی ہمدردی والے پہلو کو اجاگر کرتا ہے، جہاں وہ اکثر اپنے دائرہ کار سے بڑھ کر امداد فراہم کرتے تھے، جیسے محصور شہریوں تک آٹا اور ادویات پہنچانا۔ وہ خطے کے ثقافتی مشاہدات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح بوسنیائی مسلمانوں نے جنگ کے المیے کے ذریعے اپنے ایمان کو دوبارہ دریافت کیا۔

حصہ 5: بوسنیا میں ایمان اور پیشہ ورانہ مہارت

ٹائم لائن: 1:33:08 – 1:56:25

بوسنیا کے تجربے کو جاری رکھتے ہوئے، یہ حصہ ایمان اور پیشہ ورانہ فوجی طرزِ عمل کے ملاپ کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ براہِ راست فائرنگ (12.7mm راؤنڈز) کی زد میں آنے اور کینیڈین اور سویڈش یونٹس سمیت مختلف بین الاقوامی افواج کے پیشہ ورانہ معیارات کے تقابل کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ سفارتی عشایئیوں میں الکحل پینے سے انکار کا ایک واقعہ بھی شیئر کرتے ہیں جس کی وجہ سے مغربی ساتھیوں کی نظر میں ان کی عزت بڑھی۔ وہ اس تنازع کی “بلقان سازی” اور اس ادراک پر بحث کرتے ہیں کہ اس جنگ کے پیچھے گہرے مذہبی عوامل کارفرما تھے۔ مقامی کمیونٹیز کے ساتھ ان کے میل جول سے انکشاف ہوا کہ وہ پاکستانی فوجیوں کے لیے شدید تعظیم رکھتے تھے اور انہیں “نجات دہندہ” سمجھتے تھے۔ یہ حصہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ دیانتداری ایک سپاہی کی بہترین ڈھال ہے، چاہے ثقافتی یا جغرافیائی ماحول کچھ بھی ہو۔

حصہ 6: وزیرستان میں آپریشنز اور انسدادِ دہشت گردی

ٹائم لائن: 1:56:25 – 2:19:42

بیانیہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بطور بریگیڈ کمانڈر ان کے کردار کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ وہ “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے اسٹریٹجک چیلنجز، بشمول انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز اور مقامی عسکریت پسند نیٹ ورکس سے نمٹنے کی پیچیدگیوں پر بات کرتے ہیں۔ وہ مخبروں کے “دوہرے کھیل” اور امریکیوں جیسے بین الاقوامی اداکاروں کے دباؤ پر تنقیدی نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔ اس حصے کا ایک اہم واقعہ ان کی گاڑی پر آئی ای ڈی (IED) حملہ ہے جس میں وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ وہ خاندانوں پر پڑنے والے نفسیاتی اثرات اور ایک کمانڈر کے لیے ضروری صبر و تحمل پر بات کرتے ہیں۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ اپنے روابط اور ان آپریشنز سے انکار کا بھی ذکر کرتے ہیں جو ان کے خیال میں پاکستان کے طویل مدتی مفادات کے خلاف تھے۔

حصہ 7: نظامی اصلاحات – بینکنگ اور بہبود

ٹائم لائن: 2:19:42 – 2:42:59

یہ حصہ فوجی لاجسٹکس اور سپاہیوں کی بہبود میں ان کے کیریئر کے آخری دور کی خدمات کو اجاگر کرتا ہے۔ وہ حیدرآباد ڈویژن کی پرانی گاڑیوں کے 99.9% بیڑے کو بہترین انتظام کے ذریعے فعال بنانے کے کارنامے کا ذکر کرتے ہیں۔ تاہم، ان کا سب سے اہم ورثہ فوج کے تنخواہوں کی ادائیگی کے نظام میں اصلاحات ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے فوج کے تنخواہ کے نظام کو نقد سے بدل کر اے ٹی ایم اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس پر منتقل کرنے کا تصور پیش کیا اور نیشنل بینک کو اس پر قائل کیا۔ اس اصلاح سے 6 لاکھ سے زائد اہلکاروں کو فائدہ پہنچا، جس سے ان کے خاندانوں کو مالی تحفظ اور آسانی ملی۔ وہ میرٹ پر مبنی سود سے پاک قرضہ سکیموں (LOM) کے نفاذ کا بھی ذکر کرتے ہیں، جس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وسائل بغیر کسی جانبداری کے ضرورت مندوں تک پہنچیں۔

حصہ 8: وراثت، حسرت اور جذبہِ ایثار

ٹائم لائن: 2:42:59 – 3:06:16

اختتامی حصے میں، بریگیڈیئر سلام اپنی ریٹائرمنٹ اور “زندگی کے افسانے” کے تصور پر غور کرتے ہیں۔ وہ کئی بار موت کے قریب پہنچنے کے باوجود “شہادت” حاصل نہ کر پانے کی “حسرت” کا ذکر کرتے ہیں، جسے وہ ایک سپاہی کے لیے سب سے بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کے فوج میں شامل ہونے کے فیصلے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں اور اسے ریاست کی خدمت کے تسلسل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ “خاموش خدمت” (Silent Service) کے ایک طاقتور پیغام پر بات ختم کرتے ہیں— یہ نظریہ کہ انسان کو ذاتی واہ واہ کے بجائے صرف خدا کی رضا کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ اداروں کے خلاف موجودہ پروپیگنڈے کا مقابلہ انفرادی دیانتداری سے کیا جا سکتا ہے۔ ویڈیو ایک روحانی نوٹ پر ختم ہوتی ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دوسروں کے لیے اور اپنے ایمان کے مطابق گزاری گئی زندگی ہی اصل میں کامیاب زندگی ہے۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو کلک کریں