قصہ ایک لفظ کی تلاش کا

لفظ

قصہ ایک لفظ کی تلاش کا

کبھی کبھار ایک معمولی نظر آنے والے لفظ کی تلاش میں برسوں گزر جاتے ہیں۔ ایک ایسے ہی لفظ کی تلاش کی کہانی جس نے کتابوں میں گھر بنا رکھا تھا۔

کوویڈ، کتابیں اور ایک معمولی سا سوال

کوویڈ کے دنوں میں جب دنیا بھر کے لوگ اچانک اپنے اپنے گھروں تک محدود ہو گئے تھے، ہر شخص نے اس غیر معمولی صورتِ حال سے نمٹنے کا اپنا اپنا طریقہ ڈھونڈ لیا تھا۔ کسی نے باورچی خانے کا رخ کیا، کسی نے باغ بانی شروع کر دی، کسی نے برسوں پرانے تصویری البم کھول لیے۔ اور میں نے کتابوں کے ڈھیر لگا لیے۔ کتابوں کے یہ نئے ڈھیر بے یقینی کے سپاٹ دنوں میں کچھ امید اور روانی کا باعث ثابت ہوئے۔

مطالعہ پہلے بھی زندگی کا حصہ تھا، لیکن اُن دنوں اس میں ایک عجیب سی شدت آ گئی تھی۔ ایک طرف کتابیں پڑھتی جاتی تھی اور دوسری طرف الفاظ کو کنگھالنے، ان پہ غور کرنے کا مشغلہ اپنا لیا تھا۔ بعض اوقات ایک لفظ، ایک محاورہ یا کسی شے کا مقامی نام کئی کئی دن ذہن میں اٹکا رہتا اور پھر اس کی تلاش ایک مستقل اور دل چسپ مصروفیت بن جاتی۔

اُنہی دنوں کسی نے مجھ سے ایک سوال پوچھ لیا۔

’’ایک آرتھروپوڈ، یا زیادہ درست طور پر ایک حشرہ، جسے ہمارے ہاں بعض علاقوں میں ’’گھرائن‘‘ یا ’’گھر گھرائن‘‘ کہا جاتا ہے، اس کا اُردو نام کیا ہے؟‘‘

سوال بظاہر معمولی تھا، مگر تجسس کی اپنی منطق ہوتی ہے۔ وہ کسی سوال کی اہمیت نہیں دیکھتا، صرف اس کی گرفت میں آ جانے کے بعد پیچھا نہیں چھوڑتا اور جواب کے حصول تک چین سے بیٹھنے نہیں دیتا، اس معاملے میں بھی یہی ہوا۔

بس پھر کیا تھا۔ ایک لفظ ڈھونڈنے کے لیے، میں اس حشرے کے تعاقب میں نکل کھڑی ہوئی۔ لیکن یاد رہے یہ تعاقب ایک کمرے میں کمپیوٹر کی سکرین کے سامنے ہی ممکن تھا کہ لاک ڈاؤن نے لائبریری اور کتابوں کی دکانوں تک رسائی ختم کی ہوئی تھی اور یہ بھی طے تھا کہ کم از کم اس مرحلے پر لغات اس کھوج میں میری کوئی مدد نہیں کر سکیں گی، ان کا کردار بہت بعد میں شامل ہوگا۔

انٹرنیٹ، سائنس اور ایک گم شدہ نام

چند روز میں انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کھنگال ڈالیں۔ مقامی نام ’گھرائن‘ تو زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوا تاہم اس کے انگریزی نام۔۔۔ مڈ ڈابر واسپ۔۔۔ نے بہت سی نئی معلومات تک پہنچا دیا۔ اس کی مختلف انواع کے بارے میں پڑھا، تصویریں دیکھیں، اس کی عادات کا مطالعہ کیا۔

معلوم ہوا کہ یہ مٹی کے ننھے ننھے گھر بناتی ہے، دیواروں، چھتوں، کونوں کھدروں اور بعض اوقات ایسی عجیب و غریب جگہوں پر مثلاً کسی گاڑی کا انجن، کسی کم مستعمل دروازے یا کسی سیڑھی پر اپنے مٹی کے گھڑوں جیسے بلاکس سے گھر تعمیر کرتی ہے کہ انسان اس کی فطری انجینئرنگ اور ’’پلاٹ‘‘ کے انتخاب پر حیران رہ جائے۔

ان تمام معلومات میں انگریزی نام مل گئے، سائنسی نام مل گئے، حیاتیاتی درجہ بندی بھی سامنے آ گئی، مگر اُردو نام کہیں نہ ملا۔ ملتا بھی کیسے؟

اُس وقت پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ انٹرنیٹ پر موجود معلومات اور زبان کی اصل دولت دو الگ چیزیں ہیں۔

سائنس آپ کو کسی جاندار کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ آپ کو وہ نام بھی بتا سکے جس سے کسی گاؤں کی بوڑھی عورت اسے پکارتی تھی، یا جسے کسی دُوردراز قصبے کے بچے بچپن سے جانتے آئے ہوں۔

ایک سوال جو برسوں تک باقی رہا

کوویڈ کے باعث لائبریریوں تک رسائی نہ رہی تھی، جو بھی پڑھنا تھا وہ گھر بیٹھے ہی پڑھنا تھا، تھوڑی بہت اپنی کتابیں اور باقی آن لائن وسائل۔

جواب کا منتظر سوال کبھی کبھی سر اٹھاتا، کچھ دیر ذہن میں چکر لگاتا اور پھر واپس کسی گوشے میں جا بیٹھتا۔ مگر پوری طرح کبھی غائب نہ ہوا۔ ایک چھوٹی سی پھانس کی طرح کہیں نہ کہیں موجود رہا۔

وقت گزرتا گیا۔

دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدل گئے۔

پھر ایک دن ایسا ہوا جس کی مجھے بالکل توقع نہیں تھی۔

میں اُردو ادب کے ایک بہت بڑے نام اِنتظار حُسین کا افسانوی مجموعہ ’کنکری‘ پڑھ رہی تھی۔ اُن کے ناول اور چیدہ چیدہ افسانے پڑھ رکھے تھے، کچھ تراجم اور کالم بھی پڑھ لیے تھے۔ مختصر یہ کہ ان کے ہمہ جہت ادبی جہان سے کسی حد تک واقفیت تھی۔

مگر دُور دُور تک یہ گمان نہ تھا کہ برسوں پُرانے ایک لغوی مُعَمّے کا حل ان کے کسی افسانوی مجموعے کے صفحات میں چُھپا بیٹھا ہوگا۔

یوریکا! Eureka!

اور پھر اچانک وہ لفظ سامنے آ گیا، بالکل غیر متوقع ۔۔۔ ایک بڑے انکشاف کی طرح، اپنے اثر کی شدت میں ویسا ہی انکشاف جس پر Archimedes پکار اُٹھا تھا۔۔۔ یوریکا۔۔۔ میں نے پا لیا۔

مدتوں سے مطلوب لفظ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔۔۔

’اَنجن ہَاری‘

میں چند لمحوں کے لیے رُک گئی۔ بالکل ساکت اور انگریزی محاورے کے مطابق ’سپیچ لیس‘۔

کچھ دیر کے لیے تو اپنی آنکھوں پہ یقین کرنا مشکل ہو گیا۔ کیا یہی وہ لفظ تھا جس کی تلاش میں برسوں پہلے انٹرنیٹ کے نہ جانے کتنے صفحات چھان مارے تھے؟

سچ کہتے ہیں۔۔۔ بِن مانگے موتی ملیں اور مانگے ملے نہ بھیک

روزمرہ زندگی میں یہ تو بارہا دیکھا ہے کہ بوقتِ ضرورت کسی چیز کی تلاش ہوتی ہے تو وہ سامنے رکھی ہوئی بھی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے اور اُسی وقت کوئی دوسری ایسی شے مل جاتی ہے جسے پہلے بہت ڈھونڈا تھا مگر تب نہ مل سکی تھی۔ لیکن ایک لفظ کے معاملے ایسا ہونے کا تصور بھی نہ کیا تھا۔

لفظ بھی ہمیں ڈھونڈتے ہیں؟

عجیب بات ہے۔

جس لفظ کو میں سرچ اِنجنوں، سائنسی مضامین اور حیاتیاتی ویب سائٹس میں تلاش کرتی رہی تھی، وہ آخرکار ایک افسانہ نگار کے ہاں ملا۔

اسی لمحے ایک خیال ذہن میں آیا۔

کیا واقعی میں نے اپنا مطلوبہ لفظ ڈھونڈ نکالا یا پھر خود لفظ نے مجھے تلاش کر لیا؟

سوچا، لُغات معنی محفوظ کرتی ہیں، مگر ادیب زبان کا حافظہ محفوظ کرتے ہیں۔

’اَنْجَن ہاری‘ محض ایک لفظ، ایک نام نہیں تھا، اس کے ساتھ ایک بھر پور ثقافتی پس منظر، ایک مقامی مشاہدہ اور کئی نسلوں کا زبانی تَجرِبہ جُڑا ہوا تھا۔

سائنسی متون میں اس کی جگہ تھی ہی نہیں اسی لیے وہاں سے غائب تھا، مگر ادبی متن میں پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ، سانس لیتا موجود تھا کہ یہی اس کی اصل جگہ، اصل مقام تھا۔

اب باقی کام لُغت کا تھا، جس نے نہ صرف اس لفظ کی تفصیل فراہم کی بلکہ ایک نیا لفظ بھی ’’جُھونگے‘‘ میں ہی مل گیا۔۔۔ ’کُمْھاری‘ ۔۔۔ گویا ’اَنْجَن ہاری‘ کا نام اُس کے کام کو دیکھتے ہوئے ’کُمْھاری‘ رکھ دیا گیا تھا۔

یادش بخیر

لفظ کے ملتے ہی خیال کے دیپ سے دیپ جلا اور ذہن کی رَو چند سال پہلے کی جانب پلٹی۔ یہ ذکر ہے سال 2014 کا جب Islamabad Literature Festival کے سیکنڈ ایڈیشن کے دوران میں اِنتظار حُسین صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔

ادبی میلے کی گہما گہمی میں اُن سے مختصر مگر یادگار گفتگو ہوئی تھی جس کا احوال پھر کبھی بیان ہو گا۔ تاہم اُس وقت نہ مجھے اس لفظ کی تلاش تھی اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ آئندہ برسوں میں انتظار صاحب کی ایک کتاب میرے لیے ایک چھوٹا سا لغوی مُعَمّا حل کرے گی۔

زندگی کے رنگ بھی کتنے انوکھے، کتنے نرالے ہیں۔

اک مُعَمّا ہے، سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

ہم کسی شخص سے ایک وجہ سے ملتے ہیں، مگر برسوں بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس ملاقات کی اصل معنویت کچھ اور بھی تھی۔

کتابیں سفر عطا کرتی ہیں

آج یہ ساری تفصیل دہراتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اصل خوشی اس لفظ کے مل جانے میں نہیں تھی، خوشی اس سفر میں پنہاں تھی جو اس کی تلاش نے طے کروایا۔

ایک معمولی سے سوال نے مجھے حشرات کی دنیا تک پہنچایا، وہاں سے زبان تک، زبان سے ادب تک اور ادب سے یادداشت تک۔

اور شاید کتابوں کی یہی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ ہمارے سوالوں کے جواب برسوں اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں اور پھر کسی وقت اچانک، غیر متوقع طور پر یہ جواب ہمارے سامنے رکھ دیتی ہیں۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

لفظ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *