تعارف: روحانیت کا ایک عالمگیر سلسلہ
برصغیر کی روحانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی محض ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ تہذیبوں، علاقوں اور نسلوں کے درمیان محبت، اخوت اور انسان دوستی کے پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ انہی عظیم المرتبت صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی تعلیمات نے صدیوں سے دلوں کو منور کیا اور جن کے روحانی فیض کی روشنی آج بھی برصغیر سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک محسوس کی جا سکتی ہے۔
روحانی اسفار: غزنی سے بیت المقدس تک
حضرت بابا فرید گنج شکرؒ نے اپنے مرشد حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے حکم پر ایک طویل روحانی سفر اختیار کیا۔ (593 ہجری سے 611 ہجری (1196ء سے 1214ء) تقریباً اٹھارہ برس پر محیط اس سفر کے دوران آپ نے اسلامی دنیا کے متعدد اہم مراکز کا رخ کیا۔ غزنی، بغداد، شام، ایران، افغانستان، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس جیسے مقدس اور تاریخی مقامات آپ کے روحانی سفر کا حصہ رہے۔ یہ محض جغرافیائی مسافت نہ تھی بلکہ علم، عرفان اور روحانی تربیت کا ایک ایسا سلسلہ تھا جس نے آپ کی شخصیت کو عالمگیر بنا دیا۔
بیت المقدس میں قیام اور الہندی سرائے
روایات کے مطابق حضرت بابا فریدؒ نے بیت المقدس میں کئی برس قیام کیا۔ مسجد اقصیٰ کے وسیع صحن میں جھاڑو دینا، روزے رکھنا، عبادت و ریاضت میں وقت گزارنا اور خاموشی میں خدا کی یاد میں محو رہنا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔ آج بھی یروشلم کے قدیم شہر میں ’’ہندوستانی سرائے‘‘ یا ’’الہندی سرائے‘‘ کے نام سے ایک مقام موجود ہے جسے بابا فریدؒ کی یادگار سمجھا جاتا ہے۔ صدیوں تک برصغیر سے حج کے لیے جانے والے زائرین یہاں قیام کرتے رہے اور اس جگہ کو اپنی روحانی وابستگی کا مرکز بنائے رکھا۔
منگھوپیر اور حضرت بابا فریدؒ کی نسبت
تاریخی روایات کے مطابق آپ اپنے تبلیغی اور روحانی اسفار کے دوران موجودہ کراچی کے قدیم علاقے منگھوپیر میں بھی قیام فرماتے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جو صدیوں سے اولیائے کرام اور صوفیا کی نسبت سے معروف ہے۔ سلاطینِ دہلی کے دور کے بزرگ حضرت خواجہ حسن سخی سلطان المعروف منگھوپیرؒ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے مرید اور خلیفہ تھے۔ روایت ہے کہ آپؒ نے انہیں اس علاقے میں قیام کرنے اور تبلیغِ اسلام کو اپنا مشن بنانے کی ہدایت فرمائی تھی۔
منگھوپیر کی تاریخی چلہ گاہ
منگھوپیر میں واقع بابا فرید گنج شکرؒ کی چلہ گاہ آج بھی عقیدت مندوں کے لیے کشش کا مرکز ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس طرح بیت المقدس میں ان سے منسوب سرائے کی دیکھ بھال ایک ہندوستانی خاندان کے سپرد ہے، اسی طرح کراچی کے علاقے منگھوپیر میں ان کی چلہ گاہ کی خدمت اور نگرانی ایک بلوچ خاندان انجام دے رہا ہے۔ گویا آٹھ سو برس گزر جانے کے باوجود ان مقدس یادگاروں سے وابستہ عقیدت اور خدمت کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
روحانیت کا پرسکون مقام
چند روز قبل منگھوپیر کے رہائشی دوست ساجد رند اور ظفر اقبال کے ہمراہ اس تاریخی چلہ گاہ کی زیارت کا موقع ملا۔ گرم چشموں کے قریب واقع یہ مختصر مگر پُرسکون مقام روحانیت کی ایک خاموش دنیا آباد کیے ہوئے ہے۔ کمرہ نما چلہ گاہ کے باہر ایک قدیم نیم کا درخت سایہ فگن ہے جبکہ دیوار پر حضرت بابا فریدؒ کے عالمی اسفار اور قیام گاہوں کا نقشہ نصب ہے جو زائرین کو ان کی وسیع روحانی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔
تحقیق اور تحفظ کی ضرورت
ضرورت اس امر کی ہے کہ بیت المقدس کی ’’ہندوستانی سرائے‘‘ اور کراچی کی چلہ گاہ منگھوپیر جیسی تاریخی و روحانی یادگاروں کو تحقیق، تحفظ اور تعارف کے دائرے میں لایا جائے۔ یہ مقامات نہ صرف صوفی تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ برصغیر، عرب دنیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان صدیوں پر محیط روحانی روابط کی زندہ علامت بھی ہیں۔ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی یہ یادگاریں آج بھی ہمیں محبت، رواداری اور انسانیت کے اس پیغام کی یاد دلاتی ہیں جو ہر زمانے میں زندہ اور تابندہ رہتا ہے۔




