مینار کا برج اور بھوت کا انتظار
ویران مندر کی کھڑکی سے چاندنی کا منظر
تقریبا آدھی رات کا وقت تھا۔ میں ایک ویران مینار کے برج نما کمرے میں بیٹھا ہوا مندر کے بھوت کا انتظار کر رہا تھا۔ مینار میں میری داہنی جانب تیر اندازی کے لیے جو کھڑکی بنی ہوئی تھی اس سے میں اپنے سامنے پھیلی ہوئی چاندنی کو دیکھ رہا تھا۔ یہ ایک پہاڑی قطعہ زمین تھا جس میں سیاہ چٹانیں اور چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں نمایاں تھیں۔ جہاں تک نظر کام کرتی تھی وہاں کوئی درخت نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا دیران منظر تھا جو میرے اندر خوف کا ایک احساس پیدا کر رہا تھا۔
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
صدیوں پرانے مندر کے گرتے ہوئے ستون اور کھنڈرات
اس برج نما کمرے کی پتھر کی دیواروں کی وجہ سے خوف میں اور اضافہ ہو رہا تھا۔ اپنی بائیں جانب والی کھڑکی سے میں دیو دھر کے مندر کے زوال پذیر کھنڈر دیکھ سکتا تھا۔ اس بلندی اور فاصلے سے میں اس مندر کو مکمل طور پر دیکھ کر تصور کر سکتا تھا کہ اپنے عروج کے دنوں میں یہ کتنا عظیم الشان مندر رہا ہو گا۔ گرتے ہوئے ستونوں کو صدیوں کی ہوا، گرد اور بارش کھا گئی تھی۔
مندر کے وسیع و عریض صحن کا تاریخی نقشہ
وسیع و عریض گلیارا ایک زمانہ پہلے اپنے کمروں سے محروم ہو چکا تھا اور پتھر کی جو سلیں چھت میں استعمال ہوئی ہوں گی وہ ٹوٹ پھوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی تھیں اور یہ ٹکڑے کچھ صحن کے اندر اور کچھ صحن کے باہر بکھرے پڑے تھے۔ چوکور شکل کے اس بہت بڑے صحن میں کسی زمانے میں پالش کیے ہوئے پتھر لگے ہوئے تھے۔
بڑے پروہت کی روایتی آمد اور زائرین کا ہجوم
ایسے مخصوص مواقع پر جیسے اس وقت جب دیو دھر مندر کے بڑے پروہت کی اپنے چیلوں چانٹوں کے ساتھ زرہ بکتر سمیت اپنے روایتی شاندار لباس میں آمد ہوتی ہو گی
اس وقت ہزاروں کی تعداد میں آئے ہوئے جاتری (زائرین) آسانی کے ساتھ اس صحن میں سما جاتے ہوں گے۔ لیکن وہ دن اب رخصت ہو چکے تھے۔ اب وہاں صرف پانچ پجاری باقی رہ گئے تھے جو صبح و شام کی آرتی اتارتے تھے اور مندر کے اندرونی حصے کی جھاڑ پونچھ کر کے اسے صاف ستھرا رکھتے تھے۔ میں برج نما کمرے میں بھوت کی آمد کا انتظار کر رہا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اگر بھوت نامی کسی چیز کا واقعی کوئی وجود تھا تو وہ یقیناً سو فٹ اونچے اس ویران اور طویل مینار پر مٹرگشتی کر رہا ہو گا۔
ان تنگ اور سیدھی سیڑھیوں پر سے جن کے ذریعہ میں اوپر آیا تھا کسی وقت بھی زنجیروں کی کھڑکھڑاہٹ بھوت کی آمد کا اعلان کر دے گی۔ مجھ پر بے چینی کا عالم طاری تھا اور میں انتظار کر رہا تھا تہا۔
رادھن پور میں تقرری اور یادگار ماضی
سیکڑوں برس پرانے یورپ کے گاتھی دور کی ایک ماورائے عقل کہانی والی صورت حال میں میں کیسے پھنس گیا تھا؟ میں سمجھتا تھا کہ ویران محل اور بے سر والے بھوت صرف بھوت پریت کی بھیانک کہانیاں لکھنے والوں کے دماغوں میں پائے جاتے تھے، جب کہ میں تو ایک نوجوان سرکاری افسر تھا جو اپنے معمول کے دورے پر گاؤں کا معائنہ کرنے آیا تھا اور میرے دماغ میں دور دور کہیں کسی بھوت برج والے کسی کمرے یا کسی ویران مندر کا کوئی خیال بھی نہ تھا۔
لیکن عجیب بات ہے کہ میں وہاں بیٹھا بھوت کا انتظار کر رہا تھا۔ اس پورے معاملے کی ابتدا رادھن پور میں میرے تقرر کے وقت سے ہوئی۔ پرانے دنوں میں، جو بہت اچھے دن تھے، جب سرکاری کام حکم کی بجائے حکمت سے چلائے جاتے تھے، ڈیویژن کے کمشنر عموماً ایسی تہذیب کا مظاہرہ کرتے تھے کہ وہ اسسٹنٹ کلکٹروں کے تبادلے سے پہلے انہیں بلا کر ان کی اپنی سہولت اور خواہش معلوم کر لیا کرتے تھے۔
جب سورت میں میرا عرصہ ملازمت پورا ہو گیا تو مسٹر ایف این رانا نے جو ان دنوں بڑودہ کے کمشنر تھے مجھے چائے پر بلایا: “اب آپ اپنے تقرر کی جگہ کونسی پسند کریں گے؟” انہوں نے مجھ سے دریافت کیا۔ “میری کوئی خاص ترجیح نہیں ہے، سر۔ لیکن مجھے بڑی خوشی ہوگی اگر میرا تقرر کسی ایسی جگہ ہو جائے جہاں ایک سرکاری جیپ موجود ہو اور جہاں مجھے کچھ شکار مل سکے”۔ تو گویا اس طرح میں رادھن پور پہنچ گیا۔
رادھن پور کا جغرافیہ اور مندر کا مسئلہ
رادھن پور بیس کتھا ضلع کا ایک سب ڈیویژن ہے۔ اس کی سرحد کم و بیش وہی ہے جو رادھن پور کی سابق ریاست کی تھی۔ میرا تعلقہ مشرق کی جانب رن آف کچھ سے اور شمال کی جانب تھر کے پاکستانی ریگستان سے ملتا تھا۔ ضلع کے اور بقیہ حصوں کی طرح رادھن پور کا علاقہ بھی بنجر تھا جو میلوں میل تک کا ایک پہاڑی علاقہ تھا جس میں یہاں وہاں ریگستان کے ٹکڑے پائے جاتے تھے۔
زراعت بہت چھدری چھدری تھی اور لمبے سفر میں جو سبزہ بھی نظر آتا تھا وہ ناگ پھنی اور ببول کے درختوں کا سبزہ تھا۔ سوائے اس کے کہ کہیں یہ زیادہ وہ کم اور کہیں وہ زیادہ یہ کم۔ رادھن پور جو اس سب ڈویژن کا صدر مقام تھا ان دنوں ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جس کی آبادی بیس ہزار سے کچھ اوپر تھی۔ اس قصبے کی خاص چیز قصبے کے وسط میں ایک جھیل اور ایک قلعہ تھا جس میں نواب کا محل بنا ہوا تھا۔
بہرحال وہاں حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ کلکٹر کو ایک جیپ ملی ہوئی تھی اور جن علاقوں میں جیپ سے نہیں جایا جا سکتا تھا، وہاں کے لیے ہر تعلقے کے صدر مقام پر دو گھوڑے اور دو اونٹ سرکار کی طرف سے مہیا کیے گئے تھے۔ رادھن پور آنے کے دو ہفتے بعد میں تھوڑی دیر پہلے دن کی سرحد پر منتل پور نامی ایک مقام کا تیز دورہ کر کے واپس آیا تھا۔
چونکہ اس علاقے کے اندرونی حصے میں زیادہ دور تک جیپ سے نہیں جایا جا سکتا تھا کیونکہ لوگوں کے خیال میں جیپ کے لیے یہ ایک ناقابل اعتبار علاقہ ہے لہذا میں نے صحرائی جہاز یعنی اونٹ اور کہیں کہیں گھوڑا استعمال کیا تھا۔
میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا اپنے سفر کی ڈائری لکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ میرے دفعدار یعنی بڑے چپراسی نے آکر مجھے بتایا کہ دیو دھر مندر کے بڑے پروہتوں کا ایک وفد مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ مجھے کچھ تجسس سا ہوا۔ میں نے پہلے اپنے ہیڈ کلرک کو بلایا: “یہ دیو دھر کا مندر کہاں ہے اور ان کا کیا مسئلہ ہے؟” میں نے ہیڈ کلرک جے سنگھ بھائی سے پوچھا۔
ہیڈ کلرک کی زبانی تاریخی پس منظر
“حضور، یہ شمال کی جانب یہاں سے کوئی سو میل دور ہے (اس کا مطلب ایک غیر آباد علاقے میں پورے ایک دن کا سفر ہے) اور ایک زمانے میں یہ اس علاقے میں شیوا کا سب سے اہم مندر تھا۔ روایت یہ ہے کہ جب کوئی سردار وہاں حکومت کرتے تھے اور وہاں کے کنووں سے میٹھا پانی نکلتا تھا تو وہ علاقہ بڑا خوش حال تھا لیکن بعد میں لوگ مغرور اور جھگڑالو ہو گئے۔ وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔
پھر وہاں ڈاکو آ گئے، پانی کھارا ہو گیا۔ اب وہاں مشکل ہی سے کوئی فصل ہوتی ہے۔ وہاں کی آبادی بہت چھدری چھدری ہے اور دیو دھر کا مندر بھی کھنڈر ہوتا جا رہا ہے۔ بہرحال ان پروہتوں کا بیان ہے کہ 1946ء میں اس وقت کے نواب رادھن پور نے مندر کو دو سو ایکڑ زمین کا عطیہ دیا تھا۔ ہمارے پاس ایسے کسی عطیہ کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔
گزشتہ پندرہ سال سے جو نیا اسسٹنٹ کلکٹر یہاں آتا ہے یہ لوگ اس سے آکر ملتے ہیں۔ ان سب نے کاغذات کی پڑتال کروائی لیکن کوئی دستاویز نہیں ملی۔ اب چونکہ یہاں آپ کا تقرر ہوا ہے لہٰذا یہ لوگ پھر اپنے کام پر لگ گئے ہیں”۔
پروہتوں کے وفد سے کلمہ و کلام
یہ معاملہ بڑا کمزور لگ رہا تھا اور ان کی امید قابل رحم تھی۔ بہرحال مجھے ان لوگوں سے ملنا تو تھا ہی۔ میں نے دفعدار سے کہا کہ وہ وفد کو اندر بھیج دے۔ پانچ آدمیوں کا ایک وفد اندر آیا۔ یہ معمر اور باوقار لوگ اپنا روایتی لباس یعنی پگڑی اور دھوتی پہنے ہوئے تھے۔ ان کی پیشانیوں پر تلک لگا ہوا تھا۔ میں نے ان سے بیٹھنے کے لیے کہا اور بڑے مہذب انداز میں ان سے پوچھا کہ میں ان کی کیا خدمت کر سکتا تھا۔
انہوں نے کم و بیش وہی کہانی دہرائی جو میرا ہیڈ کلرک مجھے پہلے ہی سنا چکا تھا۔ “جب آپ کو زمین کا یہ عطیہ ملا ہوگا تو نواب نے آپ کو کوئی سند دی ہوگی۔ اس سند کا کیا ہوا؟” میں نے پوچھا۔ “حضور یہی تو ہماری بدقسمتی تھی۔ عام طور سے دیوان کا دفتر سند جاری کرنے میں ایک سال لگاتا تھا لہذا ہم نے سوچا کہ سند ہمیں اپنے وقت پر مل جائے گی۔ اس درمیان نواب کو شکار کھیلتے ہوئے ایک جنگلی سور نے ہلاک کر دیا۔
اس کے بعد جانشینی کا جھگڑا شروع ہوا۔ جب موجودہ نواب تخت نشین ہوئے تو دیوان کے دفتر کی تشکیل نو کی گئی۔ اس کے بعد آزادی کا دور آیا اور رادھن پور کی ریاست ملک میں مدغم کر دی گئی۔ اس طرح ہمیں سند ملی ہی نہیں۔ انضمام کے بعد ہم نے ہر اسسٹنٹ کلکٹر سے اور دو ایک بار کلکٹر سے بھی ملاقات کی لیکن ہمیں کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔” ان لوگوں کے چہروں پر افسوس اور ناامیدی کی جھلک نظر آتی تھی۔
مجھے ان لوگوں کے لیے افسوس ہو رہا تھا۔ “لیکن سوامی جی، کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے علاقے میں زمین پتھریلی ہے اور زیادہ تر ناقابل کاشت۔ اگر آپ لوگوں کو زمین مل بھی جائے گی تو آپ اس کا کیا کریں گے؟ آپ کو پانی کہاں سے ملے گا؟” میں نے پوچھا۔
“صاحب جی،” بہت نمایاں ناک، آنکھوں کے نیچے تھیلی جیسی شکن، جھریاں پڑے ہوئے چہرے اور ٹھوڑی کے نیچے لٹکی ہوئی کھال والے ضعیف العمر پروہت نے کہا، “اگر ہم کنواں کھودیں گے تو شیو مہاراج ہمیں میٹھا پانی دیں گے۔ لیکن پہلے ہمیں زمین تو مل جائے۔ ہم تو برسوں سے کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ہمیں زمین مل جائے گی؟” اس کے لہجے میں کامیابی کی امید نمایاں تھی، میں نہیں چاہتا تھا کہ انکار میں جواب دوں اور امید کی یہ ہلکی سی لو بھی بجھ جائے۔ “مجھے امید تو ہے، میں کم از کم کوشش ضرور کروں گا” میں نے کہا۔
شاہی محافظ خانے اور کتب خانے کی تلاش
جب وہ پانچوں پروہت چلے گئے تو میں نے جے سنگھ بھائی کو بلایا اور اس سے کہا: “ریاست کے انضمام کے وقت آخر ہم نے نواب کی ریاست کے کاغذات کا محافظ خانہ لیا ہو گا۔ ان تمام دستاویزات کا کیا ہوا؟” “ہاں حضور،” جے سنگھ بھائی نے کہا، “ہمیں کچھ ریکارڈ ملا تو ضرور تھا مگر وہ بہت تھوڑے سے کاغذات تھے۔ بقیہ شاید ضائع ہو گئے ہوں۔ اب بات یہ ہے کہ زمین کے جتنے مطالبات ہمارے پاس آ رہے ہیں وہ باضابطہ اور اصل اسناد کے ساتھ ہوتے ہیں۔
ہمارے محافظ خانے میں ان کی نقل موجود نہیں ہے۔ جب ریاست پر قبضہ ہوا تھا اس وقت کے ہنگامے میں وہ سب ادھر ادھر ہو گئے ہوں گے۔” میں نے جے سنگھ بھائی سے ایک بار اور کوشش کرنے کے لیے کہا حالانکہ مجھے زیادہ امید نہیں تھی۔ اس واقعے کے کوئی دو ماہ بعد میں ایک روز محضر نامہ دیکھ رہا تھا جو ان چیزوں کی فہرست پر مشتمل تھا جو ہم لوگوں نے نواب کی ریاست سے وصول کیا تھا۔
جب پرانے کتب خانے کی عمارت کا اندراج میری نظر سے گزرا تو میں نے جے سنگھ کو بلا کر پوچھا کہ وہ عمارت کہاں تھی۔ جے سنگھ بھائی نے کہا: “اچھا وہ عمارت؟ وہ یہاں سے کوئی دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
حضور، وہ بڑی خستہ حالت میں ہے اور ایک زمانے سے مقفل پڑی ہوئی ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ اس میں کوئی چیز نہیں ہے، کبھی کوئی اندر گیا بھی نہیں”۔ لیکن کوئی بھی عمارت جسے کتب خانہ کہا جائے میری امید اور شوق کو ابھار دیتی ہے۔ کون جانے کونسی پرانی کتابیں وہاں پڑی ہوں گی! کیسا خزانہ ہو گا! کون جانتا ہے کہ مجھے وہاں شیکسپیر اور مارلو کی جلدیں مل جائیں!
بند دروازے کا تالا اور گمشدہ عطیے کی سند
دوسرے دن میں عملے کے دو افراد کو ساتھ لے کر کتب خانے کی عمارت دیکھنے گیا۔ رادھن پور میں کبھی کبھار بارش کے جو چھینٹے پڑتے تھے وہ کچھ پہلے پڑ چکے تھے اور ہر طرف کیچڑ ہو رہی تھی۔ جب میں احاطے میں پہنچا تو مجھے محسوس ہوا کہ لائبریری کی عمارت کے بڑے پھاٹک تک پہنچنا ایک مسئلہ ہو گا۔ ہر طرف گھنی گھاس اگی ہوئی تھی۔ اس کی طوالت سالہا سال پر محیط تھی۔
بہرحال اندر گھسنے کا ایک ہی طریقہ تھا، میں جیپ چلاتا ہوا سیدھا چلا گیا۔ اس کے ٹائر گھاس پھوس اور ان بہت سے کیڑے مکوڑوں کو کچلتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے جو ان جھاڑیوں میں بھاگ دوڑ مچائے ہوئے تھے۔ جب ہم عمارت کے دروازے پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ دروازے پر ایک پرانا زنگ آلود تالا لگا ہوا تھا۔
چونکہ اس کی کنجی موجود نہیں تھی لہذا ہم نے تالا توڑنے کے لیے کار کا جیک استعمال کیا۔ جب ہم ایک بڑے کمرے میں داخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ عمارت کے اندرونی حصے کی حفاظت بیرونی حصے سے بہتر طور پر کی گئی تھی۔ اس میں بہت سی قطاروں میں ریک لگے ہوئے تھے جن پر لال کپڑوں میں بندھے ہوئے بنڈل رکھے تھے۔ ان بنڈلوں میں فائلیں بندھی ہوئی تھیں اور ان میں سے زیادہ تر کی حالت بہت عمدہ تھی۔
وہاں مجھے کوئی کتاب نہ ملی، نہ کوئی نادر کتاب اور نہ کوئی عام کتاب۔ تاہم جب سارا ریکارڈ میرے دفتر میں منتقل کر دیا گیا اور ان کی درجہ بندی اور فہرست سازی ہو گئی تو ہمیں انہی کاغذات میں دیو دھر مندر کے عطیے کی سند مل گئی۔ میں نے دیو دھر کے پروہتوں کو بلایا اور زمین کے سلسلے میں ایک رسمی حکم نامہ جاری کر کے انہیں دے دیا اور میں یہ سارا واقعہ بھول گیا۔
دیو دھر کا سفر اور والہانہ استقبال
کوئی دو ماہ بعد میں دیو دھر کے علاقے کے معائنے کے لیے دورے پر گیا۔ بنس کتھا کا بے آب و گیاہ میدان جہاں ہلکی سی بارش بھی ہو جائے تو تمام سڑکیں غائب ہو جاتی ہیں، وہاں کا سفر بجائے خود ایک دلچسپ مہم کی حیثیت رکھتا ہے۔ مجھے تو یہ یقین ہوتا جا رہا تھا کہ میرا ڈرائیور کسی قطب نما کے ذریعہ گاڑی چلا رہا تھا کیونکہ مجھے تو وہاں کوئی ایسا نشان نظر نہیں آ رہا تھا جس سے راستے کی شناخت ہو سکتی۔
وہی چٹانیں، وہی ناگ پھنی کے درخت، وہی الٹی سیدھی جھاڑیاں اور وہی چٹیل میدان۔ جب میں دیو دھر کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک استقبالیہ جماعت میرا انتظار کر رہی تھی جس کے آگے آگے دیو دھر مندر کے پروہت تھے۔ نمایاں ناک اور ٹھوڑی کے نیچے لٹکی ہوئی کھال والا بڑا پروہت ان میں شامل نہیں تھا۔ تقریباً دو سو دیہاتیوں کا ایک مجمع تھا۔ ڈھول، تاشے اور نفیری بجا کر میرا استقبال کیا گیا اور پھر مجھے سجائی ہوئی بیل گاڑی پر منتقل کیا گیا۔
دراصل قدیم تہذیب کے اس ماحول میں جیپ ایک مغربی مداخلت ہوتی جو مہمانوں کے استقبال اور انہیں لے کر چلنے کی مہذب روایت کے مطابق نہ ہوتی۔ مجھے اس شاندار انداز میں مندر تک لے جایا گیا۔ بیل گاڑی کے پہیے ڈھول کی آواز کے ساتھ ساتھ ڈمگ ڈمگ چل رہے تھے۔ بڑے مندر میں پورے اعزاز کے ساتھ میرا استقبال کیا گیا، مجھے مندر کے کھنڈر دکھائے گئے اور اس کے اندرونی حصے میں میں نے کچھ وقت گزارا۔
رات کو صحن میں ایک سموہک بھوجن (عام دعوت) کا انتظام ہوا جس میں پروہتوں نے مجھے اور ان تمام دیہاتیوں کو جو وہاں جمع تھے کھانا کھلایا۔ اس کھانے میں گھی کے اندر پکا ہوا دلیہ، سبزیاں، چاول، دال اور کافی مقدار میں دودھ موجود تھا۔ اگرچہ وہاں زمین ناقابل کاشت تھی لیکن مویشی بہت کثرت سے تھے اور مجھے اتنا عمدہ دودھ کہیں نہ ملا تھا۔
مٹیار مینار پر رات گزارنے کی دعوت
کھانا ختم ہوا تو تمام دیہاتی رخصت ہو گئے اور چوکی پر جانے سے پہلے جہاں مجھے رات گزارنی تھی، میں نے مندر کا ایک دوسرا چکر تنہا لگایا۔ مندر کی دیواروں کو چاندنی پوری طرح منور کیے ہوئے تھی۔ میں مندر کا ایک ایسا چکر لگانا چاہتا تھا جہاں کوئی میری رہنمائی کرنے والا نہ ہو کیونکہ میں نے اس میں کچھ ایسی تعمیراتی خوبیاں دیکھی تھیں کہ انہیں میں دوبارہ دیکھنا چاہتا تھا۔ میں ایک منہدم گلیارے میں کھڑا تھا کہ میری ملاقات ضعیف العمر بڑے پروہت سے ہو گئی۔
اس کے ہاتھ میں لالٹین تھی۔ وہ مجھے اس مندر کی اہم خوبیاں دکھانے آیا تھا۔ ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد اس نے مجھے مندر میں رات گزارنے کی دعوت دی۔ “آپ نے ہم پر مہربانی کی ہے۔ ہم اس زمین کو حاصل کرنے کے لیے پندرہ سال سے کوشش کر رہے تھے۔ کسی نے ہماری مدد نہ کی لیکن صاحب جی آپ نے اس سند کو تلاش کرنے کی تکلیف گوارا کی۔ آپ نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔
یہ مندر اور اس کے پجاری آپ کو کبھی فراموش نہیں کریں گے” پروہت نے مجھ سے کہا۔ میں نے درخواست کی کہ اس بات کا ذکر نہ کیا جائے۔ میں نے کوئی خاص محنت بھی تو نہ کی تھی، یہ تو صرف ایک اتفاق تھا، میں تو پرانی کتابیں تلاش کر رہا تھا جو مجھے ملی بھی نہیں۔۔ پروہت نے مجھے مندر میں رات گزارنے کی دوبارہ دعوت دی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس ویرانے میں میں کہاں رات گزاروں گا۔ اس نے صحن کے ایک کونے میں ایک پرانے انحطاط پذیر مینار کی طرف اشارہ کیا۔
یہ کم از کم سو فٹ اونچا ایک مینار تھا جس کے اوپر مجھے ایک برج نما کمرہ نظر آرہا تھا، جس میں تیر اندازوں کے لیے سوراخ بنے ہوئے تھے۔ مجھے اس جگہ ٹھہرنے کا خیال بہت پسند نہ آیا۔ میں کچھ عذر کرنے ہی والا تھا کہ بوڑھے پروہت نے کہا: “صاحب جی، آپ نے جو تکلیف اٹھائی ہے، یہ اس کا ایک حقیر سا بدلہ ہو گا”۔ اب اگر میں مزید انکار کرتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ میں اس کی خاطر مدارات کو رد کر رہا ہوں اور پروہتوں پر میرا احسان باقی رہتا، یہ ان کے اوپر ایک بہت بڑا بار ہوتا لہذا میں راضی ہو گیا۔
میں نے اپنے معالمت دار سے کہا کہ وہ جیپ لے کر چوکی پر چلا جائے اور رات کو وہیں سو جائے۔ بڑا پروہت سیڑھی کے نیچے لالٹین لیے ہوئے کھڑا تھا، وہ لالٹین سے مجھے راستہ دکھاتا جا رہا تھا اور میں اس کے پیچھے پیچھے تنگ اور سیدھی سیڑھیوں پر چڑھتا جا رہا تھا۔ بعض بعض پتھر گر چکے تھے اور ان کی جگہ گہرے اور تاریک گڑھے پڑے ہوئے تھے۔ پروہت کی لالٹین سے سیڑھیوں پر روشنی بھی بہت ہلکی پڑ رہی تھی۔ بہرحال ہانپتے کانپتے میں برج والے کمرے میں پہنچ گیا۔
کمرے کے درمیان میں ایک چارپائی تھی اور اس پر ایک چادر اور تکیہ تھا۔ مجھے نیند میں جھومتے ہوئے بہت احترام کے ساتھ نمسکار کر کے پروہت مجھے اندھیرے میں چھوڑ کر چلا گیا۔ سوراخوں میں سے چاند کی روشنی چھن چھن کر آرہی تھی۔
ماورائے عقل رات اور حیرت انگیز انکشاف
یہ تھا وہ پس منظر جس میں آدھی رات کے وقت میں دیو دھر کے مندر میں برج نما کمرے میں پہنچا اور مندر کے بھوت کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن میرا انتظار فضول تھا۔ میرے اندر خارج از حواس ادراک کی جتنی بھی قوت تھی اس سب کو استعمال کر کے میں نے بھوت کو طلب کرنے کی جانب پوری توجہ دی۔ مجھے کامیابی کی امید بھی تھی اور مجھے خوف بھی تھا، کوئی چمگادڑ بھی اگر اڑتی ہوئی گزری تو میں نے اسے بھی بھوت ہی سمجھا۔
مینار کے سوراخ سے ہوا کی سرسراہٹ سنائی دی تو میری امید اور خوف میں اضافہ ہو گیا، لیکن کوئی بھوت نہیں آیا۔ میں اونگھ بھی رہا تھا اور وقتاً فوقتاً جاگ کر دروازے کی طرف اس توقع کے ساتھ دیکھ بھی رہا تھا کہ ابھی ایک خیالی سایہ مادی شکل اختیار کر لے گا لیکن بھوت آخر تک نہ آیا۔ پو پھٹنے لگی تو میں نے شب بیداری ختم کی اور سیڑھی سے اتر کر نیچے آ گیا۔ ارد گرد کوئی شخص موجود نہ تھا، غالباً پروہت حضرات ابھی تک سو رہے تھے۔ میں مندر سے باہر آ گیا۔
چوکی کا فاصلہ وہاں سے کوئی ایک میل تھا۔ صبح کی سیر نے مجھے ترو تازہ کر دیا تھا۔ معالمت دار جاگ چکا تھا اور میرا عملہ بھی تیار تھا، ہم اپنے معائنے پر چل پڑے۔ واپسی میں ہمیں پھر مندر کے سامنے سے گزرنا پڑا اور میں نے اپنے معالمت دار کو بتایا کہ کس طرح میں نے برج نما کمرے میں رات گزاری تھی اور میں نے اسے اپنی مایوسی بھی بتائی کہ بھوت نہیں آیا تھا۔ معالمت دار نے عجیب نگاہوں سے مجھے دیکھا۔
“لیکن جناب، مندر میں تو کوئی مینار ہے ہی نہیں” اس نے کہا۔ “یہ تم کیا فضول بات کر رہے ہو؟ میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے وہاں رات گزاری ہے”۔ “آپ دیکھیے تو حضور،” معالمت دار نے کہا ”وہاں تو کوئی مینار نہیں ہے”۔ میں نے آنکھیں اٹھا کر اوپر دیکھا اور یہ دیکھ کر مجھے ایک جھٹکا سا لگا کہ وہاں کوئی مینار نہیں تھا۔ ایک کونے میں وہاں کبھی ایک مینار رہا ہو گا لیکن اسے گرے ہوئے ایک زمانہ گزر گیا ہو گا، غالباً ایک صدی گزر چکی تھی۔ اب وہاں صرف کھنڈر رہ گیا تھا، جھاڑیوں کے ساتھ ساتھ وہاں کنکر پتھر جم گئے تھے۔
مندر کے بڑے پھاٹک پر الوداعی ہار
مں اب بھی اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ کر سکا۔ مجھ پر جو گزری تھی اس کی یادیں اتنی تازہ تھیں کہ میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ سب کچھ وہم تھا۔ اگر وہ سب کچھ وہم تھا تو کیا وہ بڑا پروہت بھی وہم تھا جو مجھے وہاں لے گیا تھا؟ ہم مندر کے بڑے پھاٹک پر رک گئے۔ وہ چاروں پروہت جنہوں نے گزشتہ شام میرا استقبال کیا تھا اور مجھے کھانا کھلایا تھا
وہ مجھے رخصت کرنے کے لیے وہیں میرا انتظار کر رہے تھے۔ میں جیپ سے نیچے اتر آیا۔ میں نے ان کے دیئے ہوئے ہار پہن لیے اور ان سے پوچھا کہ بڑے پروہت کہاں ہیں۔ “آہ، آپ سوامی دیا شنکر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں حضور! ” ان میں سے ایک نے کہا، “وہ تو جب سند لے کر رادھن پور سے واپس آئے تو اس کے بعد جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔
بڑے نیک آدمی تھے وہ، حضور دراصل انہوں نے ہی ہم لوگوں سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ جب کبھی آپ یہاں آئیں تو مندر کے پورے اعزاز کے ساتھ آپ کا استقبال کیا جائے اور آپ کے لیے سموہک بھوجن کا انتظام کیا جائے”۔ میں اب بھی سوچتا ہوں کہ میں نے وہ رات کہاں گزاری تھی۔



