افتخار گیلانی اور ان کا سفری پس منظر

افتخار گیلانی

افتخار گیلانی اور ان کا سفری پس منظر

افتخار گیلانی بے باک صحافت، گہری بصیرت اور حق گوئی کا ایک معتبر استعارہ ہیں۔ ان کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور آپ ممتاز کشمیری حریت پسند رہنما مرحوم سید اسد شاہ گیلانی کے داماد ہیں۔ 3 دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے قلمی سفر میں انہوں نے جنوبی ایشیا، بھارت اور مشرقِ وسطیٰ کے زلزلہ خیز سیاسی منظرنامے کی بے لاگ ترجمانی کی ہے۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کیلئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

افتخار گیلانی

دہلی میں کشمیر ٹائمز کے بیورو چیف، DNA کے اسٹریٹیجک افیئرز ڈیٹر اور ترکیہ کی عالمی خبر رساں ایجنسی انادولو سے وابستہ رہنے والے افتخار گیلانی آج کل انقرہ سے Frontline اور Outlook India جیسے عالمی جرائد کے لیے سیاسی و اسٹریٹیجک امور پر تجزیے لکھ رہے ہیں۔

جون 2002 میں آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت ہونے والی ناحق گرفتاری ہو یا جبر کی صعوبتیں، ان کا قلم کبھی خم نہ ہوا۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف My Days in Prison (2005) جیل کے شب و روز کی داستان ہے، جس کے اردو ترجمے کو 2008 میں ساہتیہ اکیڈمی ایورد ملا۔ 21ویں صدی کا بھارت اور مسلمان ان کی ایک اور وقیع تصنیف ہے۔

افتخار گیلانی

پریس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے نائب صدر، بھارتی پارلیمنٹ کی پریس ایڈوائزری کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین بھی رہے اور 2010 میں حکومتِ جموں و کشمیر سے صحافتی اعزاز پانے والے افتخار گیلانی کی تحریریں آج بھی سچائی کی تلاش کا روشن مینار ہیں۔

افتخار گیلانی کا دورہِ پاکستان: اکتوبر 2023 کی یادیں

افتخار گیلانی کا ایک مضمون 21 نومبر 2024 کو کشمیر ٹائمز میں شائع ہوا تھا۔ اس میں انہوں نے اپنے ۳۰ دن کے پاکستان کے سفر کی تفصیلی اور ذاتی روداد بیان کی ہے۔ ایک ایسی روداد جو صرف جغرافیہ کی نہیں، بلکہ جذبات، تضادات اور انسانی روح کی کہانی ہے۔

آپ اکتوبر 2023 میں وہ اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے اپنے سفر نامے میں لکھا کہ جب ایک تاریک رات کو جب وہ دوحہ سے اسلام آباد اترے تو پاسپورٹ نے انہیں آدھے گھنٹے تک روکے رکھا۔ باہر نکلے تو شہر قلعہ بنا ہوا تھا۔ کنٹینرز نے سڑکیں کاٹ رکھی تھیں، سوشل میڈیا خاموش تھا اور ٹیکسیاں نایاب۔ بیس منٹ کا فاصلہ ساڑھے تین گھنٹے میں طے ہوا—اندھیرے دیہاتوں اور کھودے گئے خندقوں سے گزرتے ہوئے۔ اگلے دن انہوں نے خود دیکھا کہ احتجاجی قافلے کنٹینرز ہٹا رہے تھے، ٹیئر گیس کی لہریں اٹھ رہی تھیں اور شہر میں انارکی کا گمان ہو رہا تھا۔

اسلام آباد اور لاہور کے متضاد مناظر

پھر لاک ڈاؤن اٹھا تو اسلام آباد نے اپنا دوسرا چہرہ دکھایا—صاف ستھرا، فیصل مسجد کی عظمت سے مزین، مگر لوگوں کی آنکھوں میں مہنگائی اور سیاسی بے یقینی کی تھکن۔ لاہور پہنچے تو ہوٹل نے ہندوستانی ہونے کی وجہ سے دروازہ بند کر دیا۔ گھنٹوں کی التجا کے بعد کمرہ ملا۔ پھر پرانی لاہور کی گلیاں، وزیر خان مسجد کی رنگین ٹائلیں، داتا دربار کی روحانیت اور اردو بازار کی کتابیں—سب کچھ دہلی جیسا لگا، مگر صاف ستھرا اور جیتا جاگتا۔

اس سفر میں انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی کے نوجوانوں سے بات کی جو تعلیم سے اپنا صوبہ بدلنا چاہتے تھے، اور ایس سی او سمٹ کے دوران پھر سے بند شہر دیکھا جہاں حکومت خود اس سوشل میڈیا پر اعلان کر رہی تھی جسے اس نے بند کر رکھا تھا۔ ان کی بیٹی کی شادی بھی اسی افراتفری میں پھنسی، مگر آخر کار خوشی سے مکمل ہوئی۔

تیس دن بعد گیلانی نے لکھا: پاکستان تضادات کی سرزمین ہے۔ یہاں امید اور مایوسی ایک ساتھ رہتے ہیں، حسن اور افراتفری ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہیں۔ تیس دن کسی قوم کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ انسان اس کی نبض محسوس کر سکے۔

زمینی حقائق بمقابلہ بیرونی تاثر

جو تاثر پاکستان کے باہر اس ملک کا ملتا ہے، اس کا تو ہلکا سا شائبہ بھی نہیں ہے۔ شاپنگ مال، ریستوراں بھرے پڑے ہیں، تل رکھنے کو جگہ نہیں ہے۔ مہنگے برانڈ کی دکانوں پر گاہکوں کا اژدھام ہے۔ اسلام آباد انقرہ کی ہو بہو کاپی ہے اور کئی معنوں میں اس سے بھی بہتر اور خوبصورت دارالحکومت ہے۔ شہر میں میٹرو ٹرین کی جگہ میٹرو بس ہے، جس کے لیے استنبول شہر کی طرح علیحدہ کوریڈور ہے۔ اس کے اسٹیشن صاف و شفاف اور دہلی میٹرو اسٹیشنوں کی طرح ہی ہیں۔

 

پاکستان کے باہر اس ملک کے افلاس اور ڈوبنے کے تصور کو پھیلانے میں پاکستانی تارکین وطن کا خود بڑا رول ہے۔ یہ تاثر اس قدر عام ہے کہ ہندوستان میں جو جگہ ضروریات زندگی سے عاری ہو، جہاں سیور، اور گندے نالے بہہ رہے ہوں اور گندی بستیاں منہ چڑھا رہی ہوں کو عرف عام میں پاکستان کہا جاتا ہے۔ ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھکمری سے شاید ہی کوئی اموات ہوتی ہوں، مگر پاکستانی تارکین وطن اپنے ملک کا تاثر اس طرح دیتے ہیں کہ لگتا ہے ابھی نہیں تو کل ڈوبنے کو ہے۔

 

معاشی موازنہ: شمالی ہندوستان اور پاکستان

ان حالات میں جب وہ اپنے ملک کا موازنہ 1.4 بلین والے ملک ہندوستان سے کرتے ہیں، تو ان پر ہنسی ہی آتی ہے۔ اگر موازنہ کرنا ہے، تو شمالی ہندوستان سے کرو، کیونکہ ہندوستان کی پوری جی ڈی پی پانچ صوبوں یعنی تامل ناڈو، تلنگانہ، کرناٹک، گجرات اور کسی حد تک مہاراشٹرہ پر ٹکی ہوئی ہے اور ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کی تاریخ 1947 سے قبل کی ہے۔ اگر پاکستان کی اوسط گھریلو آمدن 1758 ڈالر ہے، تو اتر پردیش کی 1112 ڈالر اور بہار کی 710 ڈالر ہے۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

افتخار گیلانی