کراچی میں ٹھیلے پر بریانی فروش 150 ملکوں میں دس لاکھ طالب علموں کا استاد

عبدالولی کی متاثر کن داستان، جو کراچی کی کچی آبادی سے نکل کر عالمی افق پر ایک درخشندہ ستارے کی مانند ابھرے، محض ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ انسانی عزم و ہمت کی فتح ہے۔ یامین الدین احمد کی تحریر کی روشنی میں اس سفر کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے ہم زندگی کے ان اہم اسباق کو سمجھ سکتے ہیں جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔

تضادات سے بھرپور زندگی: کراچی سے عالمی اسٹیج تک

​تصور کیجیے کہ کراچی کی سڑکوں پر بریانی بیچنے والا ایک نوجوان آج 150 سے زائد ممالک میں دس لاکھ سے زائد طالب علموں کا استاد بن چکا ہے۔ ایک ایسا شخص جسے کبھی انگریزی کا ایک حرف نہیں آتا تھا، آج دنیا کے سب سے بڑے لرننگ پلیٹ فارمز پر انگریزی زبان ہی میں درس دے رہا ہے۔ عبدالولی کی یہ کہانی یامین الدین احمد کی ایک فکر انگیز تحریر کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ وژن، ذمہ داری اور مسلسل سیکھنے کا عمل کیسے ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔

مشقت کا پہلا مرحلہ: حالات کا قیدی

​عبدالولی کی زندگی کا پہلا دور انتہائی کٹھن تھا۔ سات سال کی ننھی عمر میں، جہاں بچے اسکول جاتے ہیں، انہیں ‘چائلڈ لیبر’ جیسی تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی کی فقیر کالونی میں بنیادی سہولیات سے محرومی اور زندہ رہنے کی تگ و دو نے انہیں تقریباً چودہ سال تک اپنی گرفت میں رکھا۔ انہوں نے ویٹر، سیلز مین، پھل فروش، بس کنڈکٹر اور سڑک کنارے بریانی بیچنے والے کے طور پر کام کیا۔ یامین الدین اسے “اندھے پن میں محنت” (Laboring Blindly) قرار دیتے ہیں، جہاں سخت مشقت تو تھی مگر کوئی واضح سمت یا مقصد موجود نہ تھا۔

تبدیلی کا فیصلہ: ذمہ داری اور واضح سوچ

​سال 2008 عبدالولی کی زندگی میں ایک بڑا موڑ ثابت ہوا، جب انہوں نے حالات کو کوسنا چھوڑ کر اپنی زندگی کی ذمہ داری خود لینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی مادری زبان نہ ہونے کے باوجود اردو پڑھنا لکھنا سیکھا اور پھر انگریزی زبان و کمپیوٹر کی مہارتیں حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ انسٹیٹیوٹ کا رخ کیا۔ 2010 میں انٹرنیٹ کی ان کی زندگی میں آمد نے ایک نیا سوال پیدا کیا: “میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی زندگی کیسے بدل سکتا ہوں؟” یہی وہ نقطہ تھا جہاں سے ان کی محنت کو ایک واضح سمت (Laboring with Clarity) ملی۔

ڈیجیٹل انقلاب: وکٹم سے کری ایٹر تک کا سفر

​عبدالولی نے انٹرنیٹ کو ایک “ایکولائزر” کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے “آن لائن استاد” کے نام سے اپنا یوٹیوب چینل اور ویب سائٹ شروع کی، جس کے ذریعے پاکستان اور ہندوستان کے لاکھوں نوجوانوں کو ویب ڈیزائننگ اور ایس ای او جیسی مہارتیں مفت سکھائیں۔ ان کی مقبولیت اس وقت عالمی سطح پر پہنچی جب انہوں نے ‘یوڈیمی’ (Udemy) جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کورسز بنائے، جہاں آج ان کے 157 ممالک سے دس لاکھ کے قریب شاگرد موجود ہیں۔ 2016 میں انہیں دنیا کے ٹاپ 100 انسٹرکٹرز میں شامل کیا گیا، جو ان کی انتھک محنت کا اعتراف تھا۔

دنیا کی سیاحت: وژن کی تکمیل

​کامیابی کا یہ سفر صرف تدریس تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے اپنا ایک اور خواب بھی پورا کیا۔ پاکستانی پاسپورٹ پر 6 براعظموں کے 107 ممالک کا سفر کرنا ان کی غیر معمولی قوتِ ارادی اور بہترین منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ جب انسان کا وژن پکا ہو اور وہ رکاوٹوں کے سامنے ڈٹ جانے کا فن جانتا ہو، تو راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔

حاصلِ کلام: قسمت اور درست علم کا ملاپ

​اس داستان کا نچوڑ یامین الدین احمد کے ان الفاظ میں ہے کہ “قسمت” (LUCK) دراصل “درست علم کے تحت کی جانے والی محنت” (Laboring Under Correct Knowledge) کا نام ہے۔ عبدالولی کی کہانی ہمیں پیغام دیتی ہے کہ ہمارا ماضی ہمارے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ ہماری ذہنیت (Mindset) کرتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی زندگی بدلی بلکہ ‘ریپل ایفیکٹ’ کے ذریعے لاکھوں دوسروں کو بھی بااختیار بنایا۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم حالات کا رونا رو رہے ہیں یا اپنی زندگی کی کمان خود سنبھالنے کے لیے تیار ہیں؟

مکمل کہانی سننے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں