جب بلیک میلروں کو بلیک میل کیا انتظامیہ نے ۔ بلبلیں نواب کی

​ انتظامیہ نے ہڑتالی تاجروں کو کیسے بلیک میل کیا

“بلبلِیں نواب کی” سے انتخاب

کتاب “بلبلِیں نواب کی” دراصل ایک ہندوستانی آئی سی ایس افسر موسیٰ رضا صاحب کی یادداشتوں کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں نہایت دلچسپ قصے موجود ہیں، جو یہ سکھاتے ہیں کہ جب کوئی بڑا بحران متوقع ہو تو پولیس فورس کا وحشیانہ استعمال کیے بغیر، صرف بہترین انتظامیہ کی حکمتِ عملی سے حالات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔

ہنومان کی مورتی اور فساد کا خطرہ

​میں آپ کو اس کا ایک واقعہ پہلے سنا چکا ہوں جس میں ایک ہندو نوجوان نے عشق میں ناکامی پر اپنے دیوتا ہنومان سے انتقام لینے کے لیے بت توڑ دیا تھا، جس سے پورے قصبے میں فساد ہونے والا تھا۔ مگر موسیٰ رضا صاحب نے کسی پولیس فورس کے بغیر ایک سینئر ہندو رہنما سے رابطہ کیا اور مجمع کو قابو کر لیا۔

بل موریا کا واقعہ: ایک اخلاقی حادثہ

دوسرا پیراگراف: موسیٰ رضا صاحب کی کتاب کا ایک واقعہ “بل موریا” نامی جگہ کا ہے، جہاں ایک اخلاقی حادثے کے بعد چند مقامی رہنماؤں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے تاجروں کی ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ جب لڑکی کے باپ نے بدنامی کے ڈر سے ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کر دیا، تو انتظامیہ کے پاس ہڑتال روکنے کا کوئی قانونی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایسے میں روایتی طریقوں کے بجائے انتظامیہ کی حکمتِ عملی کو بدلا گیا۔

​گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پولیس کچہری میں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں، صرف بدنامی ہوگی اور بیٹی کچہریوں میں رل جائے گی۔ چنانچہ وہ بنیا خود مسلمانوں کے پاس گیا اور سارا واقعہ سنایا۔ مسلمانوں نے اس دکاندار کو بلایا، تھوڑی سی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ بات سچی تھی۔ اگرچہ لڑکی کی عزت محفوظ رہی تھی لیکن حرکت نہایت نازیبا تھی۔ لہذا مسلمانوں نے خود ہی اس لڑکے کی خوب پٹائی کی، اس کی ہڈی پسلی ایک کر دی اور اسے حکم دیا کہ فوری طور پر دکان چھوڑ کر علاقے سے نکل جائے۔

سیاسی رہنماؤں کی مداخلت اور ہڑتال کا اعلان

​جب یہ بات علاقے میں پھیلی تو وہاں کے چند ہندو لیڈروں کو بڑا طیش آیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ تو بڑا سستا چھوٹ گیا اور یہ ہماری قوم کی عزت کا سوال ہے۔ چنانچہ وہاں کے سات بڑے لیڈروں نے مل کر اس واقعے کے خلاف ایک بہت بڑی ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ اس مرحلے پر موسیٰ رضا صاحب اس قصبے میں پہنچے۔

​ان کا مسئلہ یہ تھا کہ جب لڑکی کے باپ نے کوئی ایف آئی آر ہی درج نہیں کروائی تو قانونی کارروائی کیسے کریں؟ انہوں نے باپ کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا: “جناب، جو کچھ میں کر سکتا تھا میں نے کر دیا، اب میں اس معاملے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا کیونکہ میری بیٹی بدنام ہوگی۔” لیکن وہ لیڈر جو اپنی سیاست چمکانے بیٹھے تھے، وہ کسی صورت ہڑتال واپس لینے کو تیار نہیں تھے۔

انتظامیہ کی حکمتِ عملی اور تاجروں سے ملاقات

​موسیٰ رضا صاحب لکھتے ہیں کہ انہوں نے پولیس سربراہ کو بلایا جس نے بتایا کہ کوشش کے باوجود لڑکی کا باپ مقدمہ درج کرانے کو تیار نہیں۔ اب ہڑتال روکنے کا کوئی قانونی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ تب موسیٰ رضا صاحب نے ایک الگ راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے ان ساتوں لیڈروں کو، جو بڑے تاجر بھی تھے، باری باری تنہائی میں بلایا۔

بلیک میلنگ کا توڑ بلیک میلنگ سے

​انہوں نے ایک بڑے تاجر کو بلایا اور کہا: “آپ ہڑتال کرنا چاہتے ہیں، شوق سے کریں۔ امن و امان قائم رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ کل رات آپ کی دکان پر چھاپہ پڑا تھا؟ ہمارے پاس پورا ریکارڈ موجود ہے کہ آپ کی دکان میں کیا بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ یہ ایک نوٹس ہے، میں مزید تحقیقات مکمل ہونے تک آپ کی دکان بند کرنے کا حکم دے رہا ہوں اور یہ تحقیقات ہڑتال ختم ہونے کے بعد شروع ہوں گی۔”

​وہ تاجر چلایا: “سر! یہ تو بلیک میلنگ ہے، ہم عدالت جائیں گے۔” موسیٰ رضا صاحب نے سکون سے جواب دیا: “آپ یقیناً عدالت جا سکتے ہیں، لیکن یہ یاد رکھیں کہ حکومت ہائی کورٹ تک مقدمہ لڑے گی، آپ کے لاکھوں روپے خرچ ہوں گے اور اس دوران آپ کا کاروبار تباہ ہو جائے گا۔”

ہڑتال کا خاتمہ اور امن کی بحالی

موسیٰ رضا صاحب نے ہڑتال کے ساتوں بڑے تاجر رہنماؤں کو باری باری تنہائی میں بلایا اور ان کے کاروبار میں موجود قانونی خامیوں اور ٹیکس چوری کا ریکارڈ ان کے سامنے رکھ دیا۔ جب ان تاجروں کو سیاسی بلیک میلنگ کے بدلے کاؤنٹر بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑا اور دکانیں بند ہونے کا ڈر ہوا، تو انہیں انتظامیہ کی حکمتِ عملی اور بات چیت کی خوبیاں فوراً سمجھ میں آنے لگیں۔

​چنانچہ وہ تمام لیڈر ہڑتال کی اپیل واپس لینے پر رضا مند ہو گئے اور میں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ جب تک امن قائم رہتا ہے، میں اپنے احکامات کو معطل رکھوں گا۔ اس طریقے سے جب ہڑتال کی بنیاد ہی سیاسی بلیک میلنگ پر تھی، تو انتظامیہ کی طرف سے دی گئی “کاؤنٹر بلیک میلنگ” نے اس کا توڑ کر دیا۔

اختتامیہ

اس انوکھی انتظامیہ کی حکمتِ عملی کی بدولت وہ تمام لیڈر ہڑتال کی اپیل واپس لینے پر رضا مند ہو گئے اور شہر ایک بڑے فساد اور تجارتی نقصان سے بچ گیا۔ کتاب “بلبلِیں نواب کی” کا یہ قصہ ثابت کرتا ہے کہ ذہانت اور تدبر سے بڑے سے بڑے بحران کو بھی پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

​اس واقعے کے ساتھ ہی موسیٰ رضا صاحب نے اپنی بات ختم کی۔ اب میں بھی آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔

#بلبلیں نواب کی #شاہ محی الحق فاروقی # موسیٰ رضا

mosaraza# Shahmohiulhaqfarooqui#Bulbulainnawabki#

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو پریس کریں

انتظامیہ کی حکمتِ عملی

George Sahab by Moosa Raza

“فراغتیں کیسی کیسی ” بلبلیں نواب کی سے انتخاب ترجمہ شاہ محی الحق فاروقی