یس سر سے نو سر تک

ایک جملہ جو سوچنے پر مجبور کر گیا

اب سے کچھ عرصہ پہلے ایکسپریس اخبار میں جناب حمید احمد سیٹھی کا کالم “افسری اور جی حضوری” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے اپنے کالم میں لکھا:

«”اگر آج سرکاری افسر غلط کاری کے آگے دیوار بن جائے تو اس کی ٹرانسفر تو یقیناً ہو جائے گی، لیکن ملکی نظام راہِ راست پر آ سکتا ہے۔”»

یہ مختصر مگر نہایت فکر انگیز جملہ اس مضمون کی تحریک بنا۔ تاہم، اس پر گفتگو سے پہلے ایک ایسی کہانی یاد آتی ہے جو ہم سب نے بچپن میں ضرور سنی یا پڑھی ہوگی۔

بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

کہتے ہیں ایک جگہ بہت سے چوہے رہتے تھے۔ ایک بلی روزانہ آتی اور کسی نہ کسی چوہے کو اپنا شکار بنا لیتی۔ آخرکار چوہوں نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا تاکہ اس مصیبت کا کوئی مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔

بحث کے بعد سب اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ دی جائے تو اس کی آواز سن کر تمام چوہے بروقت اپنے بلوں میں جا چھپیں گے۔ تجویز اتنی پسند آئی کہ سب خوش ہوگئے۔

اتنے میں ایک ننھے چوہے نے پوچھ لیا:

“بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟”

یہ سوال سنتے ہی پورا اجلاس خاموش ہوگیا، اور یہ خاموشی آج تک قائم ہے۔ یہی سوال بعد میں ایک ضرب المثل بن گیا۔

بظاہر اس کہانی کا “افسری اور جی حضوری” سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو شاید پورا تعلق اسی ایک سوال سے بنتا ہے۔

معاشرہ “نو سر” کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے؟

معاشرے میں صرف وہی اقدار پروان چڑھتی ہیں جن کی معاشرہ تائید و توثیق کرتا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی “نو سر” کہنے کی ہمت رکھتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسے شخص کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔

اگر “نو سر” کہنے والے کو ناسمجھ، ناخلف، ناپختہ، نالائق یا اپنے مستقبل کا دشمن سمجھا جائے گا تو پھر “نو سر” کہنے کی روایت کبھی پروان نہیں چڑھے گی۔ لوگ ہمیشہ “یس سر” ہی کہنا محفوظ سمجھیں گے۔

جب باس ہی رزق کا مالک بن جائے

کیا ہم اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں کہ ہم نے اپنے باس کو ہی اپنے رزق کا مالک سمجھ لیا ہے؟

اس کی خوشنودی کے لیے ہم اپنی خودداری، غیرت، حمیت، دیانت اور پیشہ ورانہ وقار تک قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے بڑھ کر خوشامد کرنے کی دوڑ لگی ہوتی ہے۔

اسی ماحول میں درباری مصاحبوں کا ایک ایسا طبقہ پیدا ہوتا ہے جس کے کندھوں پر رومال تو نہیں ہوتا، مگر باقی تمام حرکات تاریخ کے درباریوں سے حیرت انگیز حد تک ملتی جلتی ہیں۔

دوسری طرف بہت سے باس صاحبان ایسے ہوتے ہیں جن کے تمام اعضا تو مضبوط ہوتے ہیں، مگر کان اس قدر کچے ہوتے ہیں کہ ہر اختلافِ رائے، ہر تنقید اور ہر مخلص مشورہ انہیں اپنی انا پر حملہ محسوس ہوتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مخلص ساتھی آہستہ آہستہ دور ہوتے جاتے ہیں، جبکہ خوشامدی، ابن الوقت اور مفاد پرست لوگ ان کے گرد حصار باندھ لیتے ہیں۔ آخرکار نقصان باس کا بھی ہوتا ہے اور ادارے کا بھی۔

ادارہ یا شخصیت پرستی؟

میرے ایک دوست، جو ایک کثیر القومی ادارے میں ملازم تھے، ایک دن کہنے لگے:

“اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس ادارے کے ملازم ہیں تو آپ غلط سمجھتے ہیں۔ ہم سب دراصل اپنے سی ای او کے ملازم ہیں۔”

یہ جملہ سن کر احساس ہوا کہ اگر دنیا کے کثیر القومی اور جدید ترین اداروں میں بھی شخصیت پرستی اس حد تک موجود ہے تو ہمارے نجی اور سرکاری اداروں کی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

شوق سے کام یا خوف سے؟

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان جو بھی کام کرتا ہے، اس کے پیچھے بنیادی طور پر صرف دو محرک ہوتے ہیں: شوق یا خوف۔

کسی بھی ادارے میں چند منٹ گزار کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کام کرنے والے کس جذبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔

اگر محرک شوق ہو تو ماحول پراعتماد ہوگا، لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کریں گے، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے گا اور خیالات کا آزادانہ تبادلہ ہوگا۔

لیکن اگر محرک خوف ہو تو ہر طرف بے یقینی ہوگی، لوگ ایک دوسرے پر شک کریں گے، افواہوں کا بازار گرم ہوگا اور باس کے موڈ کے علاوہ شاید ہی کوئی اور چیز زیادہ زیرِ بحث ہو۔

“نو سر” کہنے کی قیمت

خیر، بات پھر اپنے اصل موضوع کی طرف آتی ہے۔

اگر ہم “یس سر” سے “نو سر” کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قوم کی کردار سازی کرنا ہوگی۔

ہم نے صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح بنا دیا ہے۔ اب اس ترتیب کو دوبارہ درست کرنا ہوگا۔

جو لوگ اپنے اصول، کردار اور دیانت کی بنیاد پر “یس سر” کے بجائے “نو سر” کہنے کی جرات کرتے ہیں، معاشرے کو ان کی عزت کرنی چاہیے، نہ کہ انہیں تنہا چھوڑ دینا چاہیے۔

صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “تبادلہ ہو جائے گا تو برداشت کر لے۔”

آج مسئلہ صرف ٹرانسفر کا نہیں رہا۔ کئی مرتبہ لوگوں کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے، جہاں کوئی لائن ہوتی ہی نہیں، اور بعض اوقات تو نوکری سے ہی فارغ کر دیا جاتا ہے۔

جب Suggestions، Submissions بن جائیں

اگر یہ رویے تبدیل نہ ہوئے تو بعید نہیں کہ ایک دن ہم دوبارہ ایسے ماحول میں پہنچ جائیں جہاں لوگ جان کی امان نہیں بلکہ نوکری کی امان مانگ کر گفتگو کریں گے۔

ایسے ماحول میں لوگ Suggestions نہیں بلکہ Submissions پیش کریں گے۔

ترقیاں Performance کی بنیاد پر نہیں بلکہ Preference کی بنیاد پر ملا کریں گی۔

یہ کسی بھی ادارے کے زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔

اختتامیہ: سورج مکھی ہمارا قومی پھول؟

اگر ہم میں ابھی بھی اخلاقی جرات باقی ہے تو وقت ہے کہ اختلافِ رائے کو عزت دیں، کردار کو خوشامد پر ترجیح دیں، اور “نو سر” کہنے والے باکردار لوگوں کی پشت پناہی کریں۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا معاشرہ دے کر جانا چاہتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں لوگ سچ بولنے سے پہلے اپنی نوکری کا حساب لگائیں، یا ایسا معاشرہ جہاں اختلافِ رائے کو بغاوت نہیں بلکہ خیر خواہی سمجھا جائے۔

یاد رکھیے، ادارے خوشامد سے نہیں بلکہ کردار سے مضبوط ہوتے ہیں۔ قومیں “یس سر” کہنے والوں کے سہارے نہیں بلکہ وقتِ ضرورت “نو سر” کہنے والے باکردار لوگوں کے کندھوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔

جس دن ہم نے ایسے لوگوں کی قدر کرنا سیکھ لی، اسی دن ہمارے اداروں میں خوف کی جگہ اعتماد، چاپلوسی کی جگہ دیانت اور شخصیت پرستی کی جگہ اصول پرستی نے جنم لے لیا ہوگا۔

لیکن اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے، تو پھر شاید ہمیں سنجیدگی سے سورج مکھی کے پھول کو ہی اپنا قومی پھول قرار دے دینا چاہیے، کیونکہ وہ بھی ہمیشہ طاقت کے سورج کی طرف ہی رخ رکھتا ہے۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

سر