دسمبر: یادوں کا ایک حسین باب
ہر دن ہر ماہ ہر سال کی اپنی کہانیاں اپنی آپ بیتی اور اپنی جگہ بیتیاں ہوتی ہیں۔ دسمبر کے مہینے سے میری زندگی کی بھی بہت خوبصورت یادیں جڑی ہیں۔
شادی کا غیر متوقع موڑ: ایک تکلیف دہ ماضی سے خوشگوار مستقبل تک
26 دسمبر 1969 میری زندگی کا وہ خوبصورت دن ہے جب اللہ پاک کے لطف و کرم سے میں آنسہ تنویر خاتون سے بیاہتا تنویر رؤف بنی۔ ہماری منگنی پہلے ہو کر نجانے کیوں انہوں نے بنا کچھ کہے خاموشی سے اسطرح ختم کی کہ رابطہ تک یکسر منقطہ کرلیا۔ نا بات چیت نہ فون۔ پشاور آتے مگر ان کے گھر سے نہ کوئ آتا نہ ہمیں اطلاع دیتے۔ اس بے حس رویئے کا مجھے بہت دکھ تھا کیونکہ کوئ وجہ نہ بتائ گئ نہ کچھ معلوم ہو سکا۔ میں برداشت نہ کرپائ اور کافی عرصہ بیمار رہی۔ نا والدہ تھیں نہ کوئ بہن جس کے کندھے پر سر رکھ کر رولیتی۔
حادثہ اور احساسِ ندامت
ایک سال بعد روف صاحب کو ڈیوٹی پر جاتے ہوے جہلم میں کالا موڑ پر خوفناک حادثہ پیش آیا۔ روف صاحب بلکل نئ جیپ میں تھے اور فوجی سپاہی ڈرائیو کر رہا تھا۔ سامنے تیز رفتا ٹرک سے اتنی زور سے اچانک ٹکر ہوئ کہ نئ جیپ تباہ ہوگئ۔ وہ مقام ایسا ہے جہاں حادثوں کی طویل فہرست ہے۔ 14 دن روف صاحب موت و زندگی کے درمیان رہے۔ ہوسکتا ہے اس دوران دماغ نے منگنی توڑنے پر افسوس ہونے اور خجالت کی کوئ ایسی رگ دبا دی ہو کہ میری یاد تازہ ہوگئ ہو یا غلطی کا احساس ہوا ہو۔
دوبارہ رشتہ اور نکاح کا یادگار دن
ہسپتال سے جب رخصت ملی تو ایک ہفتے کی چھٹی لیکر پشاور اپنے بڑے بھائ کے گھر آئے۔ اور ان سے منگنی دوبارہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ہماری خوش نصیبی کہ 26 دسمبر 1969 کو ہمارا نکاح کیپٹن روف احمد سے ہوا۔ نکاح کے رجسٹر کو اپنے کسی مضمون کا رجسٹر سمجھتے ہوے جلدی جلدی صفحے پلٹے اور دستخط کردئے۔ نکاح گھر میں ہوا تھا۔ سب خواتین محو حیرت تھیں کہ تنویر نہ رو رہی ہے نہ پریشان ہے کیسے کھٹا کھٹ اس نے دستخط کردئے۔
مردانہ ردعمل اور عورت کی خواہش
عورت شکوہ کرتی ہے کہ شوہرکا پیار نہیں ملا! تو جانتے ہیں اس شکوے کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟ خاص طور پر مرد اسکا مذاق اڑاتے ہیں کہ دیکھو ذرا بچے ہو گئے پھر بھی عورتیں کہتی ہیں کہ سچا پیار نہی ملا۔ آخر عورتیں چاہتی کیا ہیں؟ آخر اپنا پیار مرد ثابت کرے تو کیسے کرے ؟ آئیے آج اس بات پر بھی روشنی ڈال ہی دوں۔
ماضی کے فرسودہ معیار اور عورت کی تنہائی
ذہن پر زور دیں تو یاد آجائے گا۔ پہلے وقتوں میں شرم و حیا کے عجب معیار تھے۔ شوہر شرم نیز مردانگی کی وجہ سے دن بھر بیوی سے بات نہیں کرتا تھا۔ گھر میں والد کا رعب، بہن بھائیوں کا خیال رکھنا ہوتا۔ بیوی کی دل جوئ کے سبب جورو کا غلام کہلوانا مردانگی کے خلاف تھا۔ رات کو خاموشی سے اندھیرے کمرے میں منہ دیکھے بغیر بات چیت کئے بغیر جسمانی تھکن اور نفسانی خواہش پورے کرتے اور بس۔ محبت پیار کہاں ہے؟ وہ خوبصورت قابل لڑکی صرف ایک مشین تھی۔
میری زندگی کا مشاہدہ: ماں، شوہر اور رشتوں کی حقیقت
اگر شوہر سے واقعی پیار ملا ہوتا تو آخری عمر میں جب ایک دوسرے کا ساتھ بہت قیمتی اور ضروری ہوتا ہے ، ساتھ کیوں چھوڑتیں وہ ؟ میں اپنی تحریروں میں اپنی زندگی سے ضرور شامل کرتی ہوں تاکہ یقین آجائے کہ سنی سنائی بات نہیں کرتی۔
حقیقی محبت کیا ہے؟
آئیے بتاوں پیار کیا ہوتا ہے۔۔۔۔ پیار یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے سوا کوئ اور نہ دکھے۔ ساتھ بیٹھیں، آیئں جائیں دکھ درد خوشی غمی ایک ساتھ ہو۔ اچھے کپڑے پہنے بیوی تو اسکی تعریف کریں۔ میرا شوہر بہت خوبرو مردانہ وجاہت کا پیکر تھا۔ ہمارے درمیان ایک محبت بھرا اور اعتماد کا رشتہ تھا۔ چاندنی راتوں میں ہم لتا منگیشکر کو سنتے اور برسات میں پکوڑوں اور گرم چائے کے ساتھ شمشاد بیگم کے دھوم دھڑکے والے گانے مزہ دیتے۔ یہ ہوتی ہے محبت۔
ایک نصیحت: اپنے جیون ساتھی کو وقت دیں
اپنے محترم بھائوں سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ بچوں کی تعداد سے پیار کا تعلق نہیں ہوتا۔ آپ سب بھی اپنی بیگم کو وقت دیں۔ اسکی پسند، خوشی اور آرام کا خیال رکھیں۔ ورنہ 12 بچے واپس بھی چلے جاتے ہیں




