بانی شہر ٹنڈو آدم: شہید آدم خان مری کی تاریخی داستان

رؤف

بانی شہر ٹنڈو آدم: شہید آدم خان مری کی تاریخی داستان

تاریخی پس منظر اور مری قبیلے کی ہجرت

روایات کے مطابق، شہید آدم خان مری کے جدِ امجد حاجی خان مری (ولد داد خان مری) کا تعلق بنیادی طور پر بلوچستان سے تھا۔ وہاں مری قبیلے میں سرداری کے مسئلے پر کچھ اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد حاجی خان مری نے اپنے خاندان اور وفادار ساتھیوں کے ساتھ سندھ کی طرف ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔

سندھ آمد کے بعد آپ نے اپنے ساتھیوں سمیت “چانڈیو پرگنہ” پر مستقل سکونت اختیار کی۔ حاجی خان مری نے دو شادیاں کیں، جن سے ان کے آٹھ بیٹے پیدا ہوئے۔

حاجی خان مری کا شجرہ نسب (Haji Khan Mari – Hajizai)

حاجی خان مری کے آٹھ بیٹوں کے نام درج ذیل ہیں

1. Ibrahim Khan Mari 2. Masti Khan Mari 3. Hyder Khan Mari 4. Jaffer Khan Mari 5. Daulat Khan Mari 6. Shakal Khan Mari 7. Shadi Khan Mari 8. Shahdad Khan Mari

شہر ٹنڈو آدم کے بانی تک پہنچنے والا شجرہ نسب کچھ اس ترتیب سے ہے

Haji Khan Mari 👇 Masti Khan Mari 👇 Jalal Khan. Baheer Khan. kAMAL 👇 ——————————– 👇 👇 Musti Khan Qaim Khan 👇 ADAM Khan Mari ( Unmarried)

(نوٹ: دیگر بیٹوں اور ان کی اولاد کا ذکر یہاں اس لیے نہیں کیا جا رہا تاکہ مضمون طویل نہ ہو اور اصل موضوع برقرار رہے)

میانوال تحریک اور مغلوں کے خلاف جنگیں

جس وقت حاجی خان مری سندھ ہجرت کر کے آئے، اس دور میں سندھ میں “میانوال تحریک” عروج پر تھی، جس کی قیادت میاں نصیر محمد کلہوڑو کر رہے تھے۔ اس تحریک کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے مغل حکمران سخت پریشان تھے۔ حاجی خان مری بھی اپنے قبیلے کے ساتھ اس تحریک کا حصہ بن گئے۔ میاں نصیر محمد کلہوڑو کی وفات کے بعد میاں دین محمد کلہوڑو نے اس تحریک کی باقاعدہ قیادت سنبھالی۔

میانوال تحریک اور ان کے رہنماؤں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ مغل نوابوں کے لیے ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا۔ آخر کار 1699 میں گائریلو کے مقام پر تاریخی جنگ (Battle of Khore) لڑی گئی، جس میں کلہوڑو الائنس اور ان کے اتحادیوں نے مغلوں کو عبرت ناک شکست دی۔ اس کے بعد ایک معاہدے کے تحت ملتان کے مغل وائسرائے محمد معیز الدین نے 1701 میں میاں یار محمد کلہوڑو کو “دراجات” کی گورنری عطا کی۔

اسی تاریخی جنگ میں حاجی خان مری اور ان کے بڑے بیٹے ابراہیم خان مری مردانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ شہادت کے بعد حاجی خان مری کے جسدِ خاکی کو “پھسی لکی” لے جایا گیا۔ ان کا مقبرہ آج بھی ایک پہاڑی پر موجود ہے جو ضلع قمبر شہدادکوٹ کے شہر قمبر سے تقریباً 50 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ یہ مقبرہ میاں نور محمد کلہوڑو (1718-1753) کے دور میں تعمیر ہوا اور بعد میں میاں غلام شاہ کلہوڑو اور میر کرم علی خان تالپور کے دورِ حکومت میں اس کی تزئین و آرائش کی گئی۔

کلہوڑو دور کی جاگیریں اور تالپوروں سے اتحاد

جنگ میں مری قبیلے کی قربانیوں کے صلے میں کلہوڑو حکمرانوں نے سانگھڑ اور خیرپور کے اضلاع میں حاجی خان مری کے بیٹوں کو وسیع جاگیریں عطا کیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تالپوروں اور کلہوڑو حکمرانوں کے درمیان بھی اختلافات شروع ہو گئے۔ مری قبیلے اور تالپوروں کے درمیان گہرے خاندانی روابط اور رشتہ داریاں بھی تھیں؛ حاجی خان مری تالپوروں کے جدِ امجد میر سلمان عرف کالو خان کے سسر بھی تھے۔

انہی روابط کی بنا پر سردار قائم خان مری اور میر فتح علی خان تالپور کے درمیان ایک اہم معاہدہ ہوا کہ کلہوڑو حکومت کے خلاف جنگ میں فتح کے بعد اقتدار کو آپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ تالپوروں اور کلہوڑوؤں کے درمیان 1783 میں “ہالیانی” کے مقام پر فیصلہ کن جنگ (Battle of Halani) ہوئی، جس میں کلہوڑو خاندان کو شکستِ فاش ہوئی۔

روایات کے مطابق، سردار قائم خان مری نے اپنے ہاتھوں سے آخری کلہوڑو حکمران کا خاتمہ کیا، لیکن اسی دوران جنگ میں ایک نیزہ لگنے کی وجہ سے آپ خود بھی شہید ہو گئے۔ آپ کو ان کے والد کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ٹنڈو آدم شہر کا قیام اور تالپوروں سے اختلافات

سردار قائم خان مری کی شہادت کے وقت ان کے بیٹے آدم خان مری کی عمر بعض روایات کے مطابق دو سال اور بعض کے مطابق پانچ سال تھی۔ فتح کے بعد تالپوروں نے مری قبیلے کو شہدادپور کے نزدیک مزید جاگیریں دیں، جہاں آج “ٹنڈو آدم” شہر قائم ہے۔

تالپور حکمرانوں نے کمسن آدم خان مری کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی اور مری قبیلے کا عارضی سردار ان کے ماموں، مرید خان مری کو مقرر کیا۔ روایات کے مطابق، آدم خان مری کو اعلیٰ تربیت اور تعلیم کے لیے ایران بھیج دیا گیا۔ ان کی غیر موجودگی میں، ان کے ماموں مرید خان نے آدم خان کی بہن مائی مریم کا نکاح میر اللہ یار تالپور (بانیِ شہر ٹنڈو الہ یار) سے کر دیا۔

جب آدم خان مری ایران سے اپنی تربیت مکمل کر کے واپس لوٹے، تو بہن کی مرضی کے بغیر تالپوروں میں شادی کے اس مسئلے پر ان کا اپنے ماموں سے شدید اختلاف پیدا ہو گیا۔ وہ اپنی بہن مائی مریم کو واپس لے آئے، جس کے نتیجے میں تالپور حکمرانوں سے بھی ان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔

بانیِ شہر کی شہادت اور آخری آرام گاہ

آدم خان مری کی بڑھتی ہوئی خودداری اور مخالفت کو دبانے کے لیے تالپوروں اور ان کے ماموں مرید خان مری نے ایک گہری سازش تیار کی۔ انہوں نے آدم خان مری کو “شاہ بیگ مری” کے مقام پر کھانے کی دعوت دی۔ رات کو کھانے کے بعد جب آدم خان مری گہری نیند سو رہے تھے، تو ان کے ماموں مرید خان مری اور اس کے ساتھیوں نے دھوکے سے انہیں شہید کر دیا۔ ظالموں نے ان کے جسدِ خاکی کے ٹکڑے کیے اور ایک کپڑے کے تھیلے میں بند کر کے بیگ مری کے پاس قائم تالپوروں کی فوجی چوکی کے باہر رکھ دیا۔

روایت ہے کہ “ماکوڑانی” قوم سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی زمیندار نے کپڑا ہٹا کر مقتول کو پہچانا اور ان کے جسدِ خاکی کو احترام کے ساتھ ٹنڈو آدم لا کر ان کی بہن مائی مریم کے حوالے کیا۔ مائی مریم نے اپنے بھائی آدم خان مری کے اعضاء کو اکٹھا کیا اور انہیں ان کے دادا اور والد کے پہلو میں سپردِ خاک کیا۔ آپ کا مزار مبارک آج بھی “خانی راجڑ، درگاہ منھٹاڑ فقیر راجڑ، کھپرو” میں مرجع خلائق ہے۔

ٹنڈو آدم کے موجودہ مری قبیلے کا پس منظر

چونکہ بانیِ شہر آدم خان مری نے شادی نہیں کی تھی اور وہ غیر شادی شدہ ہی شہید ہوئے، اور تالپوروں کے ساتھ ان کے شدید اختلافات تھے، اس لیے تالپور حکمرانوں نے مری قبیلے کی سرداری آدم خان کے خاندان سے لے کر مستی خان مری کے بیٹے کو سونپ دی، جو بعد میں یہاں سے ہجرت کر کے “ٹنڈو مستی” چلے گئے اور ان کے ساتھ آدم خان مری کا قاتل بھی وہاں منتقل ہو گیا۔

اس وقت ٹنڈو آدم اور اس کے گردونواح میں جو مری برادری آباد ہے، وہ دراصل کمال خان مری کے بیٹے دادو خان مری کی نسل سے تعلق رکھتی ہے، جنہوں نے اس تاریخی شہر کو آباد رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔