تاریخ چھتری چوک (جناح چوک) کی چھتری ☂️ کی
تاریخی پس منظر
1860 میں ٹنڈو آدم شہر کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا گیا، جس کے بعد برطانوی حکومت نے شہر کی باقاعدہ پلاننگ کی اور مکمل سٹی سروے کا آغاز کیا۔ 1888 میں شہر کا نقشہ مکمل ہوا تو یہاں کاروباری سرگرمیاں شروع ہوئیں اور آبادی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔

برطانوی حکومت نے سندھ میں ریلوے لائن بچھانے کا کام شروع کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں 1896 میں ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ ریلوے اسٹیشن کے قیام کے ساتھ ہی شہر میں آمد و رفت کے لیے ریل کا استعمال بڑھ گیا۔
اس دور میں چونکہ زیادہ تر آمد و رفت ریلوے کے ذریعے ہی ہوتی تھی اور ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے، اس لیے شہر کا معروف ترین روڈ “اسٹیشن روڈ” کہلاتا تھا۔ اس زمانے میں چھتری چوک کو مرکزی اہمیت حاصل تھی، حالانکہ اس کے اردگرد کوئی رہائشی آبادی نہیں تھی۔ آج جو پرانی عمارتیں نظر آتی ہیں، وہ سب 1940 کے بعد تعمیر ہوئیں۔ اس وقت یہاں شاہ عبداللطیف ہائی اسکول، میونسپل کمیٹی آفس، پارک، مردانہ اسپتال، تانگہ اسٹینڈ، ریلوے ناکہ، پولیس اسٹیشن اور مختار کار آفس موجود تھے۔
چونکہ یہ ایک بڑا چوک تھا، اس لیے ریلوے اسٹیشن سے آنے والی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے برطانوی حکومت نے یہاں ایک خوبصورت چھتری ☂️ بنوائی۔ اس چھتری کے نیچے ٹریفک پولیس والا کھڑا ہو کر ٹریفک کو منظم کرتا تھا۔ یہ اپنے وقت کا مصروف ترین چوک تھا جہاں تینوں اطراف سے ٹریفک کا بہاؤ رہتا تھا۔
چھتری چوک پر ہونے والی سرگرمیاں اور رونقیں
چھتری چوک پر قومی دنوں کے موقع پر ہونے والی تقریبات کا احوال ڈاکٹر رضوان صاحب کی کتاب “ٹنڈو آدم سے کراچی” کے ایک اقتباس میں کچھ اس طرح ملتا ہے:
“14 اگست اور 6 ستمبر کے ایام کی تو کیا بات تھی۔ شہر کے ایک کنارے سے جامعہ ملیہ ہائی اسکول اپنے بینڈ اور طلبہ کے ساتھ نکل کر چھتری چوک کی طرف آ رہا ہے۔ درمیان سے شاہ بھٹائی اسکول اپنے بینڈ اور طلبہ کے ساتھ آ رہا ہے۔ دوسرے کنارے سے سرسید ہائی اسکول اپنے بینڈ، لکڑی کی بندوقیں لیے خاکی وردی میں ملبوس چاق و چوبند دستے کے ساتھ چھتری چوک کی طرف رواں دواں ہے۔”
یہ چوک شہر کی سماجی و سیاسی سرگرمیوں کا بھی محور تھا۔ کسی کو بھوک ہڑتال کرنی ہو، احتجاج درج کرانا ہو یا سیاسی جلسہ منعقد کرنا ہو، چھتری چوک ماضی میں بھی مرکز تھا اور آج بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

اس چوک پر بوہری برادری کے ایک معزز فرد (کے خان) کی کیل کانٹے (ہارڈویئر) کی مشہور دکان تھی، جس کے پیچھے ایک بڑا گودام اور ان کی فیملی کی رہائش تھی۔ بعد میں (غالباً 1980 میں) انہوں نے یہ جگہ مجید بادام صاحب کو بیچ دی، جہاں اب “بادام چیمبر” قائم ہے۔ اس دکان کی سائیڈ پر موجود کھلی جگہ پر مداری اپنے کھیل تماشے دکھایا کرتے تھے۔
یہاں فٹ پاتھ پر ایک لائبریری بھی قائم تھی جہاں سے کتابیں اور رسائل کرائے پر ملتے تھے۔ سلمان وارثی کی لاؤڈ اسپیکر کی دکان بھی اسی چوک پر تھی؛ انہوں نے ٹنڈو آدم کا پہلا ٹی وی اپنی دکان پر لگایا اور اس کے لیے تیس سے چالیس فٹ لمبے بانس پر انٹینا نصب کیا۔
چھتری چوک کے مغربی سمت جو روڈ یا گلی جا رہی ہے، اس کے کونے پر غوری برادری کے صدر چوہدری عبدالشکور کی جگہ تھی، جو انہوں نے انجمن غوری کو تحفے میں دے دی۔ اس وقت عمارت کے نیچے دکانیں اور اوپر اسلامیہ پرائمری اسکول قائم ہے، جسے بعد میں سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ وہیں پر محمد ناصر صاحب کا ایک ہوٹل تھا، جو ٹنڈو آدم کے قدیم اور مشہور ہوٹلوں میں شمار ہوتا تھا۔
چھتری چوک کی مغربی سمت کا احوال
چھتری چوک کی مغربی سمت میونسپل کمیٹی کی دکانیں واقع ہیں۔ ان دکانوں میں ایک قاضی صاحب کی پان کی دکان تھی جہاں اخبار بھی فروخت کیے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی سلائی مشین کی دکان اور جناب نعمت خان صاحب کی کھل باردانہ کی دکان موجود تھی۔
یہاں شوکت صاحب کی برف کی مشہور دکان بھی تھی، جو دکان کے باہر فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے اور اتنے تیز خراٹے لیتے تھے کہ پہلی بار گزرنے والا شخص ڈر کر راستہ بدل لیتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ رات کے سناٹے میں ان کے خراٹوں کی آواز ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن تک سنائی دیتی تھی (واللہ اعلم بالصواب)۔ اس سے آگے مرزا ریڈیو سروس کی دکان واقع تھی۔
چھتری چوک کی جنوبی سمت اور اسٹیشن روڈ
چھتری چوک سے جنوبی جانب دو شاخہ روڈ نکلتا ہے۔ ایک راستہ ریلوے اسٹیشن کی طرف جاتا ہے جو ماضی میں ریل کی آمد و رفت کی وجہ سے مصروف ترین روڈ تھا۔ اس روڈ پر ایک مشہور بیکری تھی جہاں ایک آنے کے 6 بسکٹ یا 4 نان خطائی ملتی تھی۔ اس کے برابر میں محمد گودھرا والے کا چائے کا ہوٹل تھا جہاں دو پیسے کا چائے کا کپ ملتا تھا۔
اس کے بعد جناب خان فازی صاحب کا گھر اور مسافر خانہ تھا، جہاں بعد میں اسکول بھی کھولا گیا۔ خان فازی صاحب کے بیٹوں کے نام فرشتوں کے ناموں پر (جبرائیل، میکائیل، اسرافیل وغیرہ) تھے۔ اس سے آگے مولوی مسافر خانہ اور دیگر مسافر خانے تھے، جبکہ اسی روڈ کے بائیں جانب سلمیٰ میٹرنٹی ہوم (میونسپل ہسپتال) واقع ہے۔
دوسرا راستہ جو بلدیہ کی طرف جاتا ہے، وہاں اللہ مہر کی آٹے کی چکی تھی جس کے سامنے قاسم کی الیکٹرک کی دکان تھی اور آگے بلدیہ کی عمارت ہے۔ سامنے کی جانب ایک حکیم صاحب کا دواخانہ، عبدالرزاق سومرو کا پرنٹنگ پریس، قاسم شاہ کا اسٹوڈیو، تیل کا ڈپو اور حافظ مشتاق کی سینیٹری کی دکان موجود تھی۔

لطیف گیٹ اور شہدادپور روڈ کا منظر نامہ
اسٹیشن روڈ اور بلدیہ روڈ سے آنے والا راستہ سیدھا جنوبی سمت میں لطیف گیٹ سے ہوتا ہوا شہدادپور کی جانب جاتا ہے۔ اس روڈ پر میونسپل کمیٹی کی دکانیں، مردانہ اسپتال، سبزی مارکیٹ، گوشت مارکیٹ، جامع مسجد، ہاشم رضا پان مارکیٹ اور انجمن غوری کی دکانیں (جن کے اوپر اسلامیہ اسکول قائم ہے) واقع ہیں۔ یہاں سید واسع الہدیٰ کی حویلی بھی موجود ہے۔

اس دور کی مشہور دکانوں اور مقامات کی تفصیل درج ذیل ہے:
گرین ہوٹل، باٹا شاپ اور کے خان ہارڈویئر شاپ کے درمیان سے لطیف گیٹ کی طرف جاتے ہوئے بائیں جانب بابو فقیر محمد شہید بلڈنگ، ظہیر میڈیکل شاپ، کارنر پان شاپ (شاہی بازار اور کھجور بازار کا راستہ)، ہاشم رضا پان مارکیٹ، شاہ ٹاکیز کا پوسٹر بورڈ، ابوالکلام شاپ، نفیس پان شاپ، انصاری کریانہ شاپ، حافظ سویٹس اور سیون برادر شاپ (جیلانی اسٹریٹ کا کارنر) واقع ہیں۔
جبکہ دائیں جانب مومن انصاری کریانہ شاپ، باربر شاپ، سبزی مارکیٹ، ٹی اینڈ ٹی وال، جامع مسجد کے کونے پر ارشاد سویٹ مارٹ، نونہال دواخانہ، نیشنل میڈیکل اور رفیق ہوٹل قائم ہیں۔ آگے چل کر چوہدری عبدالشکور کا پٹرول پمپ، سامنے شاہ کاٹن فیکٹری اور اس کے برابر میں تاریخی لطیف گیٹ موجود ہے۔
تاریخی چھتری کا مسمار ہونا
1970 (بعض احباب کے مطابق 1967) سے پہلے بلدیہ نے روڈ کی توسیع کا فیصلہ کیا اور اس تاریخی چھتری کو مسمار کرنے کی منظوری دی۔
جناب سلطان صاحب نے اس مسماری کے عمل کی آنکھوں دیکھی تفصیلات واٹس ایپ پر ایک تحریر کے ذریعے شیئر کیں، جو کچھ یوں ہیں:
“چھتری کے اوپر والے حصے کو توڑ کر گرایا گیا تھا اور اس کا ملبہ اٹھا لیا گیا تھا۔ تاہم، نچلا حصہ جو کہ بہت بڑا اور وزنی تھا، اسے وہیں ایک بڑا گڑھا کھود کر اسی جگہ دفن کر دیا گیا تھا، اور یہ منظر میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔”
خصوصی شکریہ
یہ مضمون ان معزز شخصیات کے تعاون اور فراہم کردہ معلومات کی بدولت ممکن ہوا:
جناب سلطان صاحب (کراچی)
جناب ڈاکٹر رضوان صاحب (کراچی)
جناب مبین صاحب (کراچی)
جناب مقبول صاحب (کراچی) – جن کی وال سے بھی اس مضمون کے لیے کچھ قیمتی معلومات حاصل کی گئیں۔
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
-
View all postsشیخ عاطف علی
مورخ، محقق اور مٹی کے نبض شناس
ٹنڈو آدم (ضلع سانگھڑ) سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شیخ عاطف علی تاریخِ سندھ کے ایک معتبر محقق ہیں۔ آپ نے سندھ کے قدیم دارالحکومت 'المنصورہ' اور وہاں کے تاریخی سکوں پر گراں قدر تحقیق کی ہے، جس پر آپ کے 5 سے زائد مستند مقالات شائع ہو چکے ہیں۔
سرزمینِ سندھ کی عظمتِ رفتہ کو اجاگر کرنے کے لیے آپ آج کل ٹنڈو آدم کی تاریخ کو یکجا کرنے کے مشن پر ہیں، اور اس موضوع پر آپ کی 50 سے زائد تحقیقی اقساط سوشل میڈیا پر قارئین کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ آپ کا قلم وقت کی دھول میں کھو جانے والے تاریخی خزانوں کو ایک بار پھر زندہ کرنے کا ہنر جانتا ہے۔




