آخری لیٹر بکس: ماضی کی یادیں اور ہماری روایتی ڈاک کا زوال

لیٹر

آخری لیٹر بکس: وقت کے دھندلکے میں کھوئی ہوئی ایک آپ بیتی

یہ کہانی ہے اس آخری لیٹر بکس کی جو ناجانے کیسے پوسٹ آفس کی انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل رہا، اور انہوں نے اس کو اسی کے حالات پر چھوڑ دیا۔ یہ کھنڈو اور حیدرآباد روڈ کے درمیان لنک روڈ کے کونے میں نصب ہے، جو شہر کا صنعتی ایریا ہے۔ آج یہ آدھا سڑک کے اندر اور آدھا باہر مٹی میں دبا دکھائی دیتا ہے۔

لیٹر

عروج کا دور اور سرخ لیٹر بکس کی رونق

جس وقت یہ نصب کیا گیا ہوگا، اس وقت یہ لال کلر میں دور سے ہی آنے جانے والوں کو نظر آتا ہوگا۔ اس پر سفید رنگ سے بکس کے کھلنے کی تاریخ اور دن تحریر ہوگا۔

روایتی ڈاک کا نظام اور دلی جذبات کا سفر

ایک زمانہ تھا جب دل کی باتیں کاغذ پر لکھی جاتی تھیں اور خط کے ذریعے دوسروں کے دلوں پر دستک دیتی تھیں۔ وہ تمام خطوط اس لیٹر بکس کی امانت بنتے تھے، جس میں لوگوں کی ہزاروں کہانیاں اور یادیں سما جاتی تھیں۔

ڈاکیا کی آمد اور سائیکل کی وہ مانوس گھنٹی

پھر سائیکل کی چھوٹی سی گھنٹی ڈاکیا کی آمد کا پیغام لے کر آتی۔ وہ مقررہ دن اور وقت پر آکر اس لیٹر بکس سے ان خطوط کو نکالتا، ڈاک خانے لے کر جاتا اور ان پر درج پتے پر بھیج دیتا۔ اس طرح کے لیٹر بکس شہر کے تمام اہم مقامات پر نصب تھے۔ کچھ علاقوں میں چھوٹے لیٹر بکس دیواروں پر بھی آویزاں کیے گئے تھے۔

مشترکہ پتے اور ماضی کی ڈاک کے منفرد ٹھکانے

وہ بھی کیا وقت تھا جب پتے بھی مشترکہ ہوتے تھے۔ حجام کی دکان، ہوٹلوں یا دکانوں کی دیوار پر ایک چھوٹا لیٹر بکس لگا ہوتا تھا جس میں ڈاکیا خط رکھ جاتا تھا۔ ایسے کئی بکس میں نے بمبئی بازار اور شاہی بازار میں دکانوں پر لگے دیکھے ہیں۔ اب نہ وہ بازار رہے اور نہ وہ رونق۔ بینکوں میں بھی چھوٹے لیٹر بکس دیوار پر نصب ہوتے تھے۔

پوسٹ آفس اور اندرونِ ملک و بیرونِ ملک ڈاک کی تقسیم

پوسٹ آفس کے باہر تین لیٹر بکس نصب تھے جن میں سے ایک بکس پر اندرونِ شہر، دوسرے پر اندرونِ ملک اور تیسرے پر بیرونِ ملک تحریر ہوتا تھا تاکہ ڈاک کی چھانٹی آسانی سے ہو سکے۔ لیکن اب پوسٹ آفس کے باہر بھی بمشکل ایک ہی لیٹر بکس نظر آتا ہے۔ ایک وقت تھا جب نیو علی گڑھ کالج میں بھی پوسٹ آفس تھا، لیکن ابھی پورے شہر میں صرف تین پوسٹ آفس فعال ہیں۔

جدید دور، ڈیجیٹل جدت اور پرانی ڈاک کا زوال

اب نہ وہ خطوط رہے، نہ وہ انتظار اور نہ ہی وہ ڈاکیا۔ اب اس لیٹر بکس کا لال رنگ وقت کے ساتھ ساتھ کب کا ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ گہرے زنگ نے لے لی ہے۔ اس پر لکھی تحریر کب کی مٹ چکی ہے اور یہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

وقت کا نوحہ: ایک خاموش پیغام

آج یہ لیٹر بکس کوئی کارآمد چیز نہیں، بلکہ گزرے ہوئے وقت کا ایک نوحہ لگتا ہے، جو یہاں سے گزرنے والے ہر شخص کو اپنے عروج کی کہانی اور ہماری روایتی ڈاک کی عظمتِ رفتہ کی داستان سناتا ہے۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

صلیٰ اللہ علیہ وسلم