قیادت کا بحران اور پھر کامران

​ انقلاب 1979 کا اور خطے کی بدلتی سیاست

​ایران میں محمد رضا شاہ پہلوی کا تختہ فروری 1979 میں اسلامی انقلاب کے نتیجے میں الٹا گیا تھا اور اس کے بعد ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی تھی۔ یہ صرف حکومت یا حکومتی نظام کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس سے خطے کی پوری سیاست تبدیل ہوگئی۔ ایران میں شاہ امریکہ کا بہت بڑا حمایتی تھا لوگ تو اسے امریکہ کی کٹھ پتلی بھی کہتے تھے اور اس کے ہٹنے سے خطے میں امریکی مفادات اور اثر و رسوخ کو بڑی ضرب پہنچی، جبکہ اسلامی حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی امریکہ کو شیطان قرار دیا اور خود کو پہلے دن سے امریکہ مخالف حکومت کے طور پر پیش کیا۔

​تہران میں امریکی سفارت خانے کا گھیراؤ اور یرغمالی بحران

​امریکہ ایران تعلقات پر مزید کچھ لکھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم 1979 میں ہونے والے ایک اور واقعے کا یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جس سے آپ کو ان دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ 4 نومبر 1979 کو ایرانی انقلابی طلبہ جو خود کو امام کی لائن کے پیروکار کہتے تھے انھوں نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا اور کم از کم 52 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا۔ اس وقت امریکہ کے صدر جمی کارٹر تھے جو ان یرغمالیوں کو چھڑانے میں ناکام رہے۔ ان کی یہ ناکامی ان کے الیکشن پر بھی اثرانداز ہوئی اور وہ چناو ہار گئے۔ یہ وہی جمی کارٹر تھے کہ جن کی افغانستان پر روسی حملے کے نتیجے میں دی ہوئی امداد کو صدر ضیاء الحق نے موم پھلی قرار دیا تھا کیونکہ جمی کارٹر موم پھلی کے ایک کامیاب کاشتکار تھے۔

​آپریشن ایگل کلا اور الجزائر کی ثالثی

​ہم دوبارہ سفارت کاروں کے اغوا پر آتے ہیں۔ اپریل 1980 میں ایک فوجی کاروائی کے ذریعے سفارت کاروں کو چھڑانے کی کوشش کی گئی اس آپریشن کا “نام آپریشن ایگل کلا” تھا (Operation Eagle Claw) جو ناکام ہوا کیونکہ ایران کے صحرا ڈیزرٹ ون میں ایک ایندھن بھرنے والا طیارہ اور ایک ہیلی کاپٹر فضا میں ٹکرا گئے اور اس کے نتیجے آٹھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ 24 اپریل 1980 کو پیش آیا اور اس کے بعد اس آپریشن کو ناکام قرار دیکر ختم کردیا گیا۔ امریکی سفارت کاروں کا مسئلہ بالآخر 444 دنوں کے بعد الجزائر کی ثالثی کے نتیجے میں حل ہوا اور 20 جنوری 1981 کو امریکی سفارت کاروں کو رہائی ملی۔ اس وقت امریکہ کے صدر رونالڈ ریگن تھے۔ خبریں یہ بھی تھی کہ رونالڈ ریگن نے الیکشن مہم کے دوران ایرانی حکام سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا وہ جمی کارٹر سے معاہدہ نہ کرے کیونکہ وہ حکومت میں آنے کے بعد ایران کو ان سفارت کاروں کی رہائی کے بدلے بہتر ڈیل دے گے اور پھر ایسا ہی ہوا واللہ اعلم بالصواب۔

​جوہری معاہدہ: اوباما سے ٹرمپ تک کا سفر

​یہ واقعات تو 1979 سے 1981 کے درمیان پیش آئے لیکن اس کے بعد بھی دونوں ممالک کے تعلقات کبھی معمول پر نہیں آئے۔ دونوں ممالک کے درمیان لفظی گولہ باری جاری رہی اور جب یہ لفظی جنگ کسی حقیقی جنگ میں تبدیل نہیں ہوئی تو لوگوں نے اس کو نورا کشتی کہنا شروع کردیا تھا۔ ایران پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی لیکن ایران چلتا رہا اور ساتھ ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر بھی کام کرتا رہا۔ اس دوران جولائی 2015 میں صدر بارک اوباما کی دور صدارت میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا کہ جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور اس کے بدلے ایران پر بین الاقوامی اور اقتصادی پابندیاں نرم کرنا تھا۔ اس معاہدے کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں 2018 میں ختم کردیا کیونکہ اسرائیل اس معاہدے کے خلاف تھا اور وہ کسی ایسے امریکی صدر کے انتظار میں تھا جو اس کے کہنے پر ایران پر حملہ کردے جو اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں بالآخر مل ہی گیا۔

​جون 2025: جوہری تنصیبات پر حملہ اور بارہ روزہ جنگ

​صدر ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں ایران سے دوبارہ جوہری معاملات پر گفتگو شروع ہوئی اور جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدہ طے نہیں پایا اور صدر ٹرمپ کی دی ہوئی دو ماہ کی مدت بھی ختم ہوئی تو اسرائیل اور امریکہ نے جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا جس میں نہ صرف ان تنصیبات کو نقصان پہنچا بلکہ ایران کے متعدد تجربہ کار جوہری سائنسدانوں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔ بارہ روزہ جنگ کے بعد جنگ بندی ہوگئی اور امید تھی کہ اب دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔

​فروری 2026 کا حملہ اور ایرانی قوم کا اتحاد

​فروری 2026 میں دوبارہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا۔ جون 2025 میں انھوں نے ایران کی فوجی طاقت کے بارے میں جو اندازے لگائے تھے اس کے تحت ان کا خیال تھا کہ وہ دنوں میں اپنے اہداف حاصل کرلیں گے اور ایران میں حکومت تبدیل ہوجائے گی جیسے اس سے پہلے وہ اگست 1953 میں محمد مصدق کی حکومت کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ختم کر چکے تھے اور اس آپریشن کا نام آپریشن ایجکس تھا مگر اس دفعہ اس کا بالکل الٹ اثر ہوا اور بکھرتی ہوئی ایرانی قوم امریکی حملے کے نتیجے متحد اور یکجا ہوگئی۔ ایرانی خواتین فٹبال کھلاڑیوں نے کہ جنھوں نے پہلے سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی اس حملے کے نتیجے میں وہ درخواست واپس لیکر ملک واپس جانے کو ترجیح دی۔ یوں اپنی من پسند حکومت لانے کا امریکی اور اسرائیلی خواب چکنا چور ہوگیا اور اس کی کرچیوں نے رضا پہلوی کو بھی لہولہان کردیا۔

​قیادت کا امتحان اور متبادل قیادت کا عزم

​اسرائیل اور امریکہ کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ایران تو دہائیوں سے اس جنگ کی تیاری کررہا تھا۔ جنگ شروع کر کے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی قیادت کو امتحان میں ضرور ڈالا اور پہلے ہی ہلے میں ایرانی قیادت بشمول عسکری قیادت کا خاتمہ کر کے یکطرفہ اپنی کامیابی کا اعلان بھی کردیا لیکن ابھی ایران کا جواب باقی تھا۔ یہ مانتے میں کوئی عار نہیں کہ ایرانی قیادت امتحان میں آئی اور جب ان کی قیادت کو ہلاک کردیا گیا تو قیادت بحران میں بھی آئی لیکن جیسے پہلے لکھا ہے کہ ایران تو دہائیوں سے اس جنگ کی تیاری کررہا تھا اور اس نے تہہ در تہہ ہر شعبے میں متبادل قیادت تیار کی ہوئی تھی اور کسی بھی شعبے میں ایک شخص ہٹنے کے بعد جو دوسرا شخص آیا تو وہ ایسا لگتا تھا کہ وہ پہلے والے سے بھی زیادہ تعلیم یافتہ، اہل اور قابل ہیں۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے اپنی اصل قیادت دوسری یا تیسری تہہ میں چھپائی ہوئی تھی جو بزرگ قیادت کی شہادت کے بعد زیادہ عزم اور حوصلے کے ساتھ سامنے آئی اور دنیا کے سامنے کامران ہوئی۔

​امریکی دلدل اور نیتن یاہو کی حکمت عملی

​پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ جنگ دنوں کی ہے پھر کہا کہ ہفتوں میں ختم ہوگی اور اب تو کوئی اس کے ختم ہونے کا وقت بتانے کو بھی تیار نہیں ہے۔ امریکہ کا یہ حال ہے کہ “میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا”۔ اب وہ اسرائیل کو شامل کیے بغیر جنگ بندی کی بات کررہا ہے کیونکہ اس کو سمجھ آگیا کہ بنیامین نیتن یاہو اس جنگ کو آخری گولی اور آخری سپاہی تک لیجانا چاہے گا بشرطیکہ گولی اور سپاہی امریکی ہوں۔ ویسے اس جنگ میں چین، روس اور شمالی کوریا کا بھی کلیدی کردار ہے لیکن وہ اس وقت اس تحریر کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

​لوہے کا چنا اور سپر پاور کی پسپائی

​امریکہ ایک طرف جنگ میں فتح کے دعوے کررہا ہے اور دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ شروع کرنے کا الزام اپنے ڈیفنس سیکرٹری پیٹ ہیگسیتھ (Pete Hegseth) کو دے رہے ہیں۔ دنیا اس کی اس اکلوتی سپر پاور کو یہ بھی نہیں پتا کہ جیتنے والے تو صلہ مانگتے ہیں یا صلہ دیتے ہیں، الزام تو ہارنے والا لگاتا ہے۔ اس وقت نہ صرف ایران اس جنگ بندی کی بات چیت میں سبقت رکھتا ہے بلکہ ایران اس وقت اپنی شرائط پر جنگ بندی کی بات کررہا ہے کہ جس میں مستقبل میں حملہ نہ کرنے کہ ضمانت، جنگ کا ہرجانہ اور دیگر شرائط شامل ہیں۔ آگے کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس وقت ایرانی قیادت امریکہ کیلئے لوہے کا چنا ثابت ہوئی ہے کہ جس کو نہ امریکہ نگل سکتا ہے اور نہ اگل سکتا ہے۔ اس قیادت نے اپنی اہلیت سے خود کو دنیا کے سامنے منوایا ہے۔ میں ایک بات آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے کئی سالوں تک یہ جنگ عسکری اداروں میں نصاب کے طور پر پڑھائی جائے گی کہ کیسے اس جنگ میں ایک سپر پاور اپنے پیروں سے اپنے گھٹنوں پر آگئی اور جس کا پورا کریڈٹ یا صلہ ایرانی قیادت اور ایرانی قوم کو جاتا ہیں۔

​خلاصہ: ساس بہو کا کلپ اور ایرانی عزم کو سلام

​امریکہ اور ایران کے موجودہ حالات پر سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک کلپ دیکھا جو میرا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکہ کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ کلپ میں ساس کی آواز ہے جبکہ بہو کو دکھایا گیا یے۔ ساس کی آواز کہتی ہے کہ ساس بہو میں تو لڑائی ہوتی رہتی ہے لیکن کل رات تم نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی تو تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ تم مجھ سے معافی مانگ لوں۔ بہو کہتی ہے کہ اگر میں معافی نہ مانگوں تو، اس پر ساس کی آواز کہتی ہے کہ میں تمہیں معافی مانگنے کیلئے پانچ منٹ دیتی ہوں۔ بہو کہتی ہے کہ اگر میں پانچ منٹ گزرنے کے بعد بھی معافی نہ مانگوں تو؟ اس پر ساس کی آواز کہتی ہے کہ اچھا چلوں مجھے بتادوں کہ پھر تمہیں کتنا وقت چاہیے ایک گھنٹہ، دو گھنٹے یا پانچ گھنٹے اس جواب پر بہو کو ہنسی آجاتی ہے اور کلپ کا اختتام ہوجاتا ہے۔ میرے خیال سے اس سے زیادہ اچھے طریقے سے امریکہ اور ایران کی گفتگو کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ آپ بھی دیکھیں اور ہم بھی دیکھتے ہیں کہ امریکہ کن شرائط پر یہ معاہدہ کرتا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ جنگ ایران نے اپنے صبر، جذبے، حوصلے، استقامت، جرآت اور شجاعت سے جیتی ہے اور اس پر ایرانی قیادت اور ایرانی قوم کو سلام پیش کیا جانا چاہیے

Author

  • Sohail Yaqoob

    تعارف:

    سہیل یعقوب سماجی اور علمی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت ہے۔ آپ نے بہت عرصے تک شہر کی معروف جامعات میں بطور وزٹنگ فیکلٹی خدمات سرانجام دی ہے۔ درس و تدریس اور تربیت کے ساتھ آپ کا تعلق بہت پرانا ہے۔ آپ نے 36 سال کثیر القومی اور قومی اداروں میں اعلی عہدوں پر خدمات سرانجام دی ہے اور آج کل تربیتی ورکشاپ کے علاوہ قومی اور سماجی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ آپ شہر کی مختلف ادبی تنظیموں سے بھی وابستہ ہے اور ان کی تقریبات میں باقائدگی سے شرکت کرتے ہیں