سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے

حسب ذائقہ

سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور

کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ آپ کسی سے لڑائی کرے بس حق اور سچ بولیں آپ کو دشمن اپنے اردگرد ہی مل جائے گے۔ سچ میں ایسا کیا ہوتا ہے کہ لوگ دشمن بن جاتے ہیں؟ سچ ایک ایسا آئینہ ہوتا ہے کہ جس میں آپ کی شخصیت کی وہ تصویر ہوتی ہے جو آپ کسی کو دکھانا نہیں چاہتے بلکہ شاید خود بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔ کہتے ہیں کہ سچ کڑوا ہوتا ہے اب اگر آپ کسی کو کڑوی چیز پیش کرئے گے تو وہ آپ کو پسند تو نہیں کرے گا۔

کافی بھی تو کڑوی ہوتی ہے لیکن اسے کیوں لوگ شوق سے پیش کرتے ہیں اور جنھیں پیش کیا جاتا ہے وہ بھی اسے خندہ پیشانی سے قبول کر لیتے ہیں، کیونکہ کافی کڑوی ہونے کے باوجود اس کا ذائقہ ان کے لئے قابل قبول ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سچ بھی شاید قابل قبول ہوسکتا ہے اگر اس میں ملاوٹ والا دودھ شامل کرلیا جائے یا پھر سچ ہو ہی حسب ذائقہ اور یہی آج کی تحریر کا عنوان ہے۔ “سچ حسب ذائقہ”۔

مغرب اور ہمارے ہاں سچ حسب ذائقہ کا الٹ معیار

مغرب میں کسی کی ولدیت پوچھنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے حتی کہ اگر آپ ان کی ولدیت پر کسی قسم کے شک کا اظہار بھی کرے تو وہ ناراض نہیں ہوتے کہ کیا پتہ یہ بندہ سچ ہی بول رہا ہوں۔ انتہا یہ ہے کہ اگر آپ کسی کی والدہ ماجدہ کو اشرف المخلوقات کے درجے سے تنزلی کرکے اسے کسی نچلے درجے پر لے آئے اور پھر ان صاحب کو ان کا فرزند ارجمند قرار دے دے تو بھی وہ اسے معیوب نہیں سمجھتے مگر کہیں غلطی سے بھی آپ نے کسی کو جھوٹا کہہ دیا تو آپ خود کو ہر قسم کی کاروائی بشمول قانونی کارروائی کیلئے تیار کر لیجئے۔

ہمارے یہاں بالکل اس کا الٹ ہے کیونکہ جن کی ولدیت مشکوک لگتی ہے ان پر شک کا اظہار نہیں کیا جاسکتا اور جھوٹا بولنے پر کوئی ناراض نہیں ہوتا کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ یہی “سچ” ہے بس خیال رکھنا پڑتا ہے کہ سچ حسب ذائقہ ہی رہے تناسب نہیں بگڑنا چاہئے ورنہ سب کڑوا ہوجائے گا۔

ہم دوسروں کے بارے میں سچ حسب ذائقہ سننا چاہتے ہیں

ہم سچ کیوں نہیں بولنا چاہتے؟ یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ ہم سب سچ بولنا چاہتے ہے بس شرط یہ ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں ہوں۔ وہ تمام لوگ جو واشگاف الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ میں صرف سچ بولتا ہوں وہ صرف آدھا سچ ہوتا ہے بقایا آدھا یہ ہے کہ میں اپنے بارے میں سچ سننا بالکل پسند نہیں کرتا۔ ہم سچ کا سامنا کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کہیں بھی سچ بولنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ بچے گھروں میں اپنے بڑوں کو برملا جھوٹ بولتے دیکھتے ہیں اور اگر وہ سچ کو پیش کرنا چاھے تو ان کے منہ پر بدتمیز ہونے کا ٹھینگا لگتا ہے۔

معاشرے کا بگڑا ہوا آوا اور سچ حسب ذائقہ کی حقیقت

ہمارے سب کے گھروں میں عموماً غلطی ماننے پر پٹائی ہوتی ہے اور جھوٹ بول کر یا کسی دوسرے پر الزام لگا کر نہ صرف خلاصی ملتی ہے بلکہ دفتروں میں تو شکایت لگانے اور غیبت کرنے پر باقاعدہ انعام اور ترقی بھی ملتی ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کہ سچ کی تربیت کب اور کہاں سے ملے؟ پورے معاشرے کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

آج اگر کوئی کسی کے ساتھ کاروباری کارروائی بغیر لکھت پڑھت یا گواہ کے بغیر کرلے تو لوگ اسی کو پاگل قرار دے گے۔ اب وہ وقت نہیں رہا کہ مسلمان کسی دوسرے مسلمان کا ضامن صرف اس بنا پر بن جائے کہ سامنے والا مسلمان ہے۔ سچ پڑھ سکتے ہیں تو پڑھئے کہ جب کوئی انسان مشکل میں آتا ہے تو اس کے اثاثے اونے پونے دام پر اپنے ہی خریدتے ہیں اور وہ اپنی دنیا اپنوں کے ہاتھوں لٹتے خاموشی سے دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔

کاروبار میں ایمانداری کا نقصان اور سچ حسب ذائقہ کی مجبوری

کاروبار اور روزمرہ کی زندگی سے سچ تقریباً ناپید ہوچکا ہے۔ لوگ حلفیہ اور قسم کھا کر جھوٹ بولتے ہیں۔ ہماری عدالتوں کے باہر ہر قسم کے گواہ پیسوں کے عوض مل جاتے ہیں اور انھیں اس کوئی غرض نہیں ہوتی کہ جرم کی نوعیت کیا ہے۔ کسی بھی گھرانے میں سب سے ہوشیار اور سمجھدار اسے گرداننا جاتا ہے جو سودا چالاکی سے اور اس کے عیب بتائیں بغیر بیچ دے اور اگر کوئی ایمنداری سے اپنا سودا بیچے تو اسے گھامڑ، بےوقوف اور بدھو جیسے القابات ملتے ہیں، اب آپ ہی بتایئے کہ کون یہ سب سننا چاہے گا اس لئے ضروری ہے کہ سچ کو حسب ذائقہ ہی رکھا جائے ورنہ سب کچھ کڑوا ہوجائے گا۔

مبالغہ آرائی کی کہانی اور معاشرے میں سچ حسب ذائقہ کا تناسب

معاشرے میں سچ کا تناسب کیا ہے اس کے حوالے سے ایک کہانی اور اسی پر تحریر کا اختتام۔ ایک صاحب دوستوں میں مبالغہ آرائی اور دروغ گوئی کے لئے بہت مشہور تھے۔ ایک دن وہ دوستوں میں حسب عادت قصے سنا رہے تھے کہ انھیں حاجت کا خیال آیا اور وہ قضا حاجت کیلئے جھاڑیوں میں چلے گئے۔

جب واپس آئے تو کہا میں جہاں جھاڑیوں میں بیٹھا تھا وہاں لاکھوں سانپ تھے۔ دوستوں نی کہا کہ جناب لاکھوں سانپ تو اس پورے علاقے میں نہیں ہے تو کہنے لگے کہ اچھا ہزاروں سانپ تھے، پھر دوستوں نے کہا کہ ہزاروں سانپ اس چھوٹی سی جھاڑی میں نہیں آسکتے تو کہنے لگے اچھا سیکڑوں تھے اور میں اس سے کم ہرگز نہیں کروں گا۔

دوستوں کے اصرار پر بعد میں جو حقیقت سامنے آئی وہ یہ تھی جب وہ قضا حاجت کیلئے بیٹھے تھے تو اس جھاڑیوں میں کچھ سرسراہٹ ہوئی تھی باقی آپ پڑھ چکے ہیں۔ آج کل معاشرے میں سچ کا تناسب یہی ہے اور یہی حسب ذائقہ ہے اور اس سے زیادہ پر بد ہضمی ہوجاتی ہے اور پھر سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ یقین نہ ہوں تو کسی کے ساتھ کوئی مالی کاروائی کر کے دیکھ لیجئے اس کے بعد وہ صاحب آپ کو ملے نہ ملے آپ کو سرسراہٹ عمر بھر اپنے ارد گرد ہی سنائی دیتی رہیگی۔

سہیل یعقوب صاحب کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

شادی