عم زاد سے شادی: معاشرتی رویے اور جنیاتی مسائل کا دعوت نامہ
آج کل جہاں ڈھیر ساری پریشانیاں ویسے ہی ہیں، ایسے میں کچھ مسائل یا پریشانیوں کو ہم نہ صرف مدعو کرتے ہیں بلکہ دیگر لوگوں کو بھی دعوت دے کر بلاتے ہیں تاکہ وہ بھی اس کے شاہد رہیں۔ اگر آپ اپنے خاندان اور گردو نواح میں نظر ڈالیں گے تو آپ کو بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جن کے ہاں یا تو اسپیشل بچے پیدا ہوئے ہیں یا ان کے ایک یا ایک سے زائد بچوں میں جنیاتی مسائل ہیں۔ ویسے تو ایسے بچوں کی پیدائش کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک بہت بڑی وجہ عم زاد سے شادی یا کزن میرج ہے۔
قدیم تاریخ اور خاندانی شادیوں پر پابندی کا عالمی شعور
زمانہِ قدیم میں تو بہت سے معاشروں میں سگی بہن سے بھی شادی کی جاتی تھی اور رومی سلطنت ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے، لیکن جیسے جیسے انسانوں کو شعور آیا اس سے اجتناب کیا گیا اور آج تقریباً تمام معاشروں اور مذاہب میں اس کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ کچھ معاشروں میں تو فرسٹ کزن یا عم زاد کی حیثیت بھی سگی بہن کی طرح سمجھی جاتی ہے۔
کزن میرج کا عالمی تناسب اور بین الاقوامی قوانین
دنیا میں ہونے والی تمام شادیوں میں سے دس فیصد یا اس سے تھوڑی زائد شادیاں پہلے یا دوسرے کزن سے ہوتی ہیں۔ ایسے تمام معاشرے جو لسانی اعتبار سے ایک سے ہیں (جیسے ایک ذات، قبیلہ یا برادری جس میں یہ قیاس کیا جا سکے کہ چند نسل پیچھے جانے پر یہ تمام لوگ آپس میں ایک خاندان یا رشتہ دار ہوں گے) تو ایسے حالات میں عم زاد سے شادیوں میں جنیاتی معذوری کا تناسب بہت بڑھ جاتا ہے۔ شاید آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہو کہ چین، تائیوان، شمالی و جنوبی کوریا، فلپائن اور امریکہ کی چوبیس ریاستوں میں عم زاد سے شادی باقاعدہ قانونی طور پر ممنوع ہے۔
پاکستانی معاشرہ: جائیداد کی تقسیم اور عم زاد سے شادی کا رجحان
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اب بھی ایک قبائلی معاشرہ ہے جہاں پسند کی شادی جان لیوا ہو سکتی ہے (ویسے شادی عموماً سب مردوں کے لیے جان لیوا ہی ہوتی ہے) اور اگر جان لیوا نہیں تو جائیداد سے عاق ہونے سے لے کر خاندان سے علیحدگی کی صورت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم تو جائیداد بچانے کے لیے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی شادی کے لیے مذہبی تاویلات اور توجیہات نکال لیتے ہیں تاکہ کسی بھی طرح سے جائیداد بچا لی جائے، چاہے اپنوں کی زندگی ہی کیوں نہ اجیرن کرنا پڑے۔
ذات برادری سے باہر شادیوں کا فروغ: وقت کا تقاضا
ہر چند کہ شہروں میں اب اس رجحان میں خاصی کمی آئی ہے اور خاندان و ذات برادری سے نکل کر شادیاں ہو رہی ہیں، لیکن اب بھی کل آبادی کے لحاظ سے اس کا تناسب بہت کم ہے۔ اگر آپ ان باتوں سے متفق ہیں تو ذات برادری سے باہر کی شادی کو فروغ دینے میں ساتھ دیجیے اور اس تحریر یا اس کے مندرجات کو لوگوں تک پہنچانے میں تعاون کیجیے۔ خدارا! محبت، ایثار اور جھوٹی خاندانی عظمت کے نام پر نہ خود اس کی بھینٹ چڑھیں اور نہ کسی اور کو چڑھائیں۔ خاندان کو وسعت دیں، اسے عم زاد تک محدود کر کے طبی مسائل کا شکار نہ بنائیں۔
شادی سے قبل طبی معائنہ: غفلت اور لاعلمی کا بھیانک انجام
طبی معلومات کا تو یہ عالم ہے کہ انتہائی تعلیم یافتہ گھرانوں میں بھی شادی سے پہلے طبی معائنہ یا کم از کم خون کے گروپ اور دیگر معلومات کا حصول باعثِ شرم سمجھا جاتا ہے۔ شاید آدھی آبادی کو اپنے خون کے (Positive) گروپ کا بھی نہیں پتہ ہوگا۔ خون کے گروپ کے پازیٹو
(Negative) اور نیگیٹو
ہونے کے اثرات پر تو بات ہی کیا کی جائے۔
آر ایچ فیکٹر (Rh Factor) اور زچگی کی پیچیدگیاں
قدرت نے تو باپ کے خون کے گروپ کو پازیٹو اور ماں کے گروپ کو نیگیٹو ہونے کی صورت میں پہلی زچگی کو محفوظ کر دیا ہے، مگر آئندہ زچگیوں میں پیچیدگی سے بچنے اور نومولود کی زندگی کے لیے پہلی (Anti-D Injection)زچگی کے بعد ایک مخصوص انجکشن
لگنا اشد ضروری ہے۔ لیکن یقین مانیے، آج بھی بہت سے گھرانے اس سے لاعلم ہیں اور دائیوں کے ہاتھوں مسائل کا شکار ہو کر بعد میں پیروں، فقیروں کی خانقاہوں پر جا پہنچتے ہیں، جو کہ ایک الگ تفصیلی تحریر کا متقاضی ہے۔
سائنسی شعور کا سفر: ایک صحت مند نسل کی بنیاد
سائنس کو سمجھیے اور اس سے فائدہ اٹھائیے، اس کی راہ کو روکنے کی کوشش نہ کریں ورنہ صرف نقصان اور پچھتاوا ہوگا جسے لوٹایا بھی نہیں جا سکے گا۔ اگر ہماری اور آپ کی کوشش سے عم زاد کے درمیان ایک بھی ایسی شادی رک گئی جس کے نتیجے میں ایک اسپیشل یا ذہنی طور پر معذور بچے نے دنیا میں آنا تھا، اور اب اس کے بجائے ایک صحت مند بچہ دنیا میں آئے گا، تو یقین مانیے ہم نے پوری انسانیت کی خدمت کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس کارِ خیر میں میرا ساتھ دیں گے۔





