
خوابستان – ایک دردناک اور سبق آموز کہانی
خوابستان ایک دل دہلا دینے والی ادبی اور معاشرتی کہانی ماضی کی یادیں اور تنہائی کا سفر ریٹائرڈ کسٹم آفیسر عقیل احمد اپنے گھر “خوابستان” میں رات کے وقت اپنے بچوں کے فون کے منتظر تھے۔ مگر ان کا ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں گم تھا۔ درحقیقت وہ خود احتسابی کے کرب سے گزر رہے تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد کو بسترِ مرگ پر چھوڑا اور آنکھوں میں تابناک مستقبل کے خواب سجائے کراچی چلے آئے۔ خاندان والوں سمیت پورے گاؤں نے بہت سمجھایا کہ وہاں مت جاؤ، جو بھی جاتا ہے واپس نہیں آتا، مگر وہ نئے ملک میں قسمت آزمانے کے لیے نکل پڑے۔ قسمت نے ان کا

ظہیر بٹ صاحب: ایک کثیر الجہت شخصیت اور روشن خدمات
تعارف اور دیرینہ رفاقت ظہیر بٹ صاحب میرے انتہائی محترم دوستوں میں سے ہیں۔ اتفاق سے ان کی ریٹائرمنٹ کے چند سال بعد میں نے خود اسی اسکول کا چارج بحیثیت ہیڈ ماسٹر سنبھالا اور ۱۱ سال خدمات انجام دیں۔ اپنی ہیڈ ماسٹری کے دوران میں پیشہ ورانہ رہنمائی کے لیے ان سے اکثر ملاقات کرتا رہتا تھا۔ وہ ایک کثیر الجہت شخصیت کے مالک ہیں، ان کے لیے بے ساختہ یہی شعر یاد آتا ہے: جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ شاید آپ نے دیکھے نہ ہوں مگر بھی ہیں اصول پسندی اور اسکول سے محبت اصولی موقف پر ڈٹ جانا، دلیل سے بات کرنا اور بے لوث دیانت داری ان کا طرۂ امتیاز

ڈاکٹر شاہ محمد منیر عالم: تعلیمی، انتظامی اور سماجی خدمات کے نقوش
تعلیمی پس منظر اور ابتدائی سفر ڈاکٹر شاہ محمد منیر عالم شعبہ تعلیم، عوامی خدمت اور سماجی بہبود میں ایک معتبر اور ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم فریال ماڈل اسکول سے مکمل کرنے کے بعد اردو سائنس کالج سے بی ایس سی اور جامعہ کراچی سے فزکس میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے شوق کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے ہمدرد یونیورسٹی سے ایم فل اور بعد ازاں پی ایچ ڈی کی تلامذہ ڈگریاں حاصل کیں۔ پیشہ ورانہ تدریسی اور انتظامی خدمات ان کا پیشہ ورانہ سفر تعلیمی میدان سے شروع ہوا جہاں انہوں نے جونیئر اسکول ٹیچر سے لے کر ہائر سیکنڈری اسکول عزیز آباد میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ

کراچی کے مسائل اور سسر و بہو کے رشتے کی ایک انمول کہانی
کراچی کا زوال اور ہماری ذمہ داری دل تو بچہ ہے، دل تو پاگل ہے۔ چاند استعارہ ہے خوبصورتی کا، محبت کا اور روشنی کا۔ اس لئے ہر بچے، بڑے عورت مرد، سب کو پیارا ہے۔ انسان پر ہی موقوف نہیں چکور بھی اسکی عاشق ہے سمندر کی لہریں بھی چاند کی پورن ماشی کو اسکے مدہوش کن حسن کے عشق میں اچھل اچھل کر اسکو چھونا، چومنا چاہتی ہیں۔ مگر ناکام ہو کر سمندر کے مد و جزر میں گم ہوجاتی ہیں۔ پھر بچہ بھی اگر چاند کو کھیلنے کے لئے مانگتا ہے مچلتا ہے تو اسکو چندا ماما دور کے، سنا کر بہلا دیا جاتا ہے۔ چاند اور سمندر کی لہریں کراچی کے بے وقوف عوام ہیں۔ بچے

ہمدرد پبلک اسکول کے انسان دوست طالب علم اور کراچی کی صبح
ہمدرد پبلک اسکول کے طالب علم اور کراچی کی صبح کا احوال ہمدرد پبلک اسکول اور اساتذہ سے محبت کا رشتہ ہمدرد پبلک اسکول حکیم محمد سعید شہید کا لاڈلا کارنامہ ہے۔ خوش قسمتی سے میرا بھی جسمانی روحانی تعلق اس اسکول اور اساتذہ اور ساتھیوں اور طلباء سے آج تک اسی طرح قائم ہے۔ آپ قارئین یقین کریں کے وہ بچے اب اپنے بچوں کے باپ بن ہیں مگر انکی اپنے اساتذہ سے وہی احترام کا رشتہ بھی اور رابطہ بھی قائم ہے۔ چند مثالیں اس لئے دینا چاہتی ہوں کہ موجودہ دور کے طالب علم بھی انکی پیروی کریں تو نہ صرف اللہ پاک کے سامنے بلکہ اپنے والدین کے لئے بھی فخر کا باعث بنیں گے۔ ایک

میڈیا، تہذیبی اقدار اور معاشرتی ذمہ داری
میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر اور ثقافتی چیلنجز پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ثقافتی شناخت، اخلاقی اقدار اور خاندانی نظام کو متعدد نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ذرائع ابلاغ، خصوصاً الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، انسانی زندگی کے ہر شعبے پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ میڈیا جہاں شعور بیدار کرنے، تعلیم و تربیت اور مثبت سماجی رویوں کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، وہیں اگر اس کی ترجیحات صرف تفریح، سنسنی اور تجارتی مفادات تک محدود ہو جائیں تو اس کے اثرات معاشرے کی فکری اور اخلاقی ساخت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ایسے رجحانات نمایاں ہوئے ہیں جن میں شرم و حیا، وقار اور

میرے ساتھ ایسا نہیں ہوگا
ایک کامیاب مگر ناکام انسان کی کہانی کچھ عرصہ قبل سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں ایک کامیاب وکیل کی کہانی بیان کی گئی تھی۔ وہ اپنے شہر کے نہایت قابل، ذہین اور کامیاب وکیل سمجھے جاتے تھے۔ ان کی شہرت یہ تھی کہ قتلِ عمد کے مقدمات میں نہ صرف ملزم بلکہ بسا اوقات مجرم کو بھی اپنی قانونی مہارت، چالاکی اور غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے بری کروا دیتے تھے۔ اسی مہارت کی بنیاد پر وہ منہ مانگی فیس وصول کرتے اور ان کی گنتی شہر کے کامیاب ترین وکلاء میں ہوتی تھی۔ وقت گزرتا گیا، دولت بڑھتی گئی، جائیدادیں بنتی گئیں، اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے جوان ہوگئی، اور

ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کے 148 سال (1878 – 2026): حصہ اول
ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کے 148 سال (1878 – 2026): حصہ اول تعارف اور پس منظر ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن سندھ کا ایک اہم اور تاریخی ریلوے جنکشن ہے۔ یہ اسٹیشن ٹنڈو آدم شہر کے قلب میں واقع ہے۔ ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن برطانوی دورِ حکومت میں 1878 تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ ریلوے اسٹیشن پاکستان کی اہم ترین ریلوے لائن “کراچی-پشاور مین لائن (ML-1)” پر واقع ہے۔ 1988 تک اس ریلوے اسٹیشن کو جنکشن کی حیثیت حاصل تھی۔ تعمیر کے بنیادی مقاصد ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن اور اس روٹ (انڈس ویلی اسٹیٹ ریلوے) کی تعمیر کے پیچھے برطانوی راج کے تین بڑے بنیادی مقاصد تھے: اسٹریٹجک اور دفاعی مقصد (Military Defense) برطانوی حکومت کو اس وقت شمال مغربی سرحدوں
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
