خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان

کاریز

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان

‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ: ‘کاریز’

یہ ترکیب:’جہا نیاں جہاں گشت’ تقریبا” دوسو سال قبل ہمارے ادب اور ہماری زبانوں :اردو اور فارسی میں بہت مقبول اور مستعمل ہوئی اور کتابوں اور بطور افسانوی کردار بھی معروف ہوئی۔آج کچھ مضاعقہ نہیں اگر یہ ترکیب اس کی معنویت کے لحاظ سے ہمارے عہد کے ایک معروف و مقبول قلم کار اور مصنف رفیع الدین راز صاحب کے لیے استعمال ہو

جن کی متعدد تصانیف سے قطع نظر اس وقت ان کی خوود نوشت تصنیف: ‘کاریز’ اپنی اشاعت کے مرحلے میں ہے اور یقینا” جلد قارئین اور فاضل مصنف کے حلقہء احباب و ارادت مندوں کے ہاتھوں میں ہوگی اور وہی مقبولیت بھی حاصل کرلے گی جو دوسوسال پہلے کی شخصیت کو اس وقت حاصل تھی۔

‘کاریز’ کا اسلوب: آپ بیتی، تاریخ اور دل چسپ سفرنامہ

زیرِ نظر تصنیف ‘کاریز’ اپنی نوعیت اور اسلوب و مزاج کے اعتبار سے ایک منفرد اور منتخب تصنیف ہے جو اپنے اسلوب کے لحاظ سے ایک مستقل ‘خود نوشت’ بھی ہے اور جب اسے پڑھا جائے یا پڑھنا شروع کیاجائے تو یہ خود نوشتہ سوانح عمری بھی ہے اور اپنے عہد کی تاریخ بھی ہے اور ساتھ ہی ایک سفرنامہ بھی ہے کہ مستقل اور تسلسل کے ساتھ نہیں بل کہ اپنی ضخامت کے دو ایک مقامات پر، جو خاصے طول طویل بھی نظر آئیں گے

ایک سفرنامہ بھی محسوس ہوگی کہ جو بہت متنوع اور دل چسپ بھی ہے اور جو بنیادی طور پر اولا” مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش سے شروع ہوتی ہے اور پھر پاکستان، اور یورپ و امریکہ و کینیڈا اور ہندوستان وغیرہ کو بھی اپنے میں شامل کیے ہوئے ہے۔

بہار سے بنگلہ دیش اور پاکستان تک: ‘کاریز’ کے سچے واقعات

مصنف کے بزرگوں اور آباواجداد کا اصلا” تعلق بہار سے تھا جو بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد ان کی ہجرت کے سبب بنگلہ دیش بن گیا۔خود فاضل مصنف نے اسے “آپ بیتی،یا زندگی کا اجمالی خاکہ، یا پیرہن فکرونظر پر جمی ہوئی گردراہ ” قرار دیاہے۔ پیدائش ۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو بہار کے قصبے بیگوسرائے میں ہوئی تھی۔ انتہائی بچپن کے چند دن کلکتہ اور ڈھاکہ میں گزرے ۔

لیکن زیادہ عرصہ در بھنگہ میں گزارنے کا موقع ملا۔یہاں بچپن کے جو حالات انھوں نے بلاتکلف بیان کیے ہیں یہ دیانت داری اور راست گوئی کی ایک مثال ہیں کہ اپنے بزرگوں کے آپس کےتنازعات اور چپقلشوں کو بھی کسی رعایت کے بغیر اس طرح بیان کردیاہے کہ شاید ہی کسی مصنف نے اپنی خود نوشتوں میں ایسا کیاہو !حد درجے تفصیل اور جزئیات کے ساتھ، لیکن انداز اور اسلوب بہت رواں اور شستہ۔پھر ایسا اہتمام شاید اس لیے کہ یہ سب باتیں ریکارڈ میں رہیں اور ان تفصیلات کو محفوظ رکھنا ان کی شخصیات کے ارتقا اور انھیں سمجھنے کے لیے ضروری تھا کہ اس طرح کسی شخصیت کے بارے میں جائز رائے دی جاسکتی ہے۔

اس عرصے میں مصنف نے جس طرح زندگی گزاری اور ان کے جو جو معمولات و مصروفیات ان کی رہیں اور ابتدائی تعلیم کے مکمل ہونے تک ان کے جو مقاصد اور منصوبے رہے وہ سب ان تفصیلات کے توسط سے آسانی سے سمجھے جاسکتے ہیں۔ مصنف کو یہ بھی ملال رہاہے کہ ان کے والد نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے خاص توجہ نہیں دی تھی اس لیے تعلیم کا شعبہ ان کے خاندان کا قابل ذکر شعبہ نہ رہا۔ مصنف نے ان واقعات اور ایسی کوتاہیوں کو بیان کرتے ہوئے اور اس زمانے کے عام سماجی و معاشرتی احوال کو پیش کرتے ہوئے جو اپنا تجزیہ تحریرکیاہے

وہ نہایت پختہ مزاجی اور عقل و دانش کا مظہر ہے بل کہ یہی خصوصیات ان کے غور و فکر اور تجزیے کی اس تصنیف میں ہر جگہ نظرآتی ہیں جو اس تصنیف کا ایک بڑا وصف و خوبی بھی ہے۔ اپنے بچپن کے حالات و واقعات اور تفصیلات یہاں بڑی تفصیل اور دانشمندی سے تحریر ہوئے ہیں جو نہ صرف اس تصنیف کے معیار کا ثبوت ہیں بل کہ ان کے توسط سے بیان کردہ ماحول اور حالات و واقعات کی تفصیلات پر بھی نہایت عمدگی سے روشنی پڑتی ہے۔

کلاسیکی شاعری، انشائیے اور ‘کاریز’ کا منفرد ادبی مقام

مصنف کی جانب سے بنگلہ دیش سے پاکستان ہجرت اور نقل مکانی اور نئے ماحول اور نئی سی دنیا میں اپنے اور اپنے خاندان کے لیے جگہ بنانا اور پیش آمدہ مسائل و حالات کو اپنے موافق ڈھالنا بھی ان کی کاوشوں کا ایک مظہر ہے۔ اور صرف یہی نہیں مصنف نے یہاں رہنے کے دوران یہاں کے ماحول میں اپنے لیے جگہ بنانا اور خود کو یہاں کے نمائندہ افراد سے مطابقت پیدا کرنا اور کاغذ و قلم سے رشتہ استوار کرتے ہوئے ایسی تخلیقات اور تصنیفات کے قابل خود کو بنانا کہ خود اپنی بھی ایک حیثیت اس ماحول میں اجاگر ہوسکے

چنانچہ یہ ایک بڑی کامیابی ہی سمجھی جاسکتی تھی اور سمجھی بھی گئی ہے۔ کہ مطبوعات جن میں اگرچہ منظومات اور نظمیں اور دیگر مقبول تخلیقی اصناف بھی شامل ہیں لیکن غزلیں زیادہ اور منتخب و مقبول بھی خاصی تعداد میں ہیں اور نثر میں انشائیے ایک خاصی تعداد میں موجود ہیں جو ان کا محبوب و پسندیدہ نثری صنف معلوم ہوتی ہے۔اپنے معاصرین شعرا کے مقابلے میں اساتذہ خاص طور پر میرتقی میرکی زمینوں اور بحروں میں بھی ایک قابلِ توجہ تعداد میں غزلیں اور نعتیں تخلیق کرنا کلاسیکی ادب سے ان کی دل چسپی کا ایک مظہر ہے جو ان کے معاصرین میں ایک انفرادیت ہی کہی جاسکتی ہے۔

عالمی مشاعرے اور مغربی دنیا میں جنوبی ایشیائی تہذیب کا عکس بذریعہ ‘کاریز’

اپنے سفر واسفار اور سیر و سیاحت کے ساتھ ساتھ اپنی شعری تخلیقات کے باوصف مشاعروں میں شرکت اور وہ بھی دنیا بھر کے مشاعروں میں شرکت ایک عالمی اعزاز سے کم نہیں کہ شاید ہی کسی اور شاعرنے دنیا بھر کے اور مغربی ممالک کے مشاعروں میں اس کثرت سے حصہ لیاہو جتنا راز صاحب نے لیا ہے کہ جسے وہ اپنا منفرد اعزاز بلا شبہ کہہ سکتے ہیں اور جو یکسر غلط یا جھوٹ نہ ہوگا۔

اگر شعر و شاعری سے دل چسپی لینے والے افراد یا مشاعروں کی تاریخ اور اس کے مزاج اور نوعیتوں کے بارے میں کوئی جامع کتاب مرتب و شائع کرنا چاہیں تو رفیع الدین راز صاحب کی اس خود نوشت میں ان کے بیان کردہ یا پیش کردہ مشاعروں کا حوالہ دیکھیں تو ان کی مدد سے ایک کتاب بآسانی مرتب ہوسکے گی۔

اسی اعتبار سے یہ بھی کہا جاسکتا اس خود نوشت میں راز صاحب نے جن مغربی ممالک میں مقیم اپنے دوست احباب اور ان کے جاننے والوں کا ذکرکیاہے اس طرح بھی مغربی ممالک میں مقیم مشرقی یا جنوبی ایشیائی شاعروں کی ایک سرسری ہی سہی ایک فہرست یا فرہنگ ضرور مرتب کی جاسکتی ہے جو حوالہ جاتی اہمیت کی حامل سمجھی جائے گی اور مفید و کارآمد قرار پائے گی۔

یہ واقعہ اور حقیقت ہے کہ راز صاحب نے اپنی اس تصنیف میں جنوبی ایشیا سے نکل کر جن جن ممالک کے سفر کیے اور جو چاہے جس مقصد سے بھی کیے ہوں یہ بہت مفید و معلوماتی اس لحاظ سے بھی سمجھے جائیں گے کہ ایک شخص نے نو آزاد ملکوں سے نکل کر یورپی اور مغربی ممالک کے سفر کیے اور وہاں کے ان باشندوں سے روابط استوار کیے جو زیادہ تر ان مغربی ممالک میں جاکر آباد ہوئے ہیں جو پہلے ان ہی کے ملک کے باشندے تھے۔اس طرح یوں دیکھیں تو یہ دو دنیاؤں کی داستان ہے

جن کے باشندے کسی ایک دنیا سے ہوکر یہاں آئے اور یہاں کے باشندے بن گئے۔ان لوگوں کی نفسیات اور معاشرت کا ایک اچھا سا مشاہدہ اس طور پر ان صفحات کے ذریعے یہاں ہوسکتاہے۔ان افراد کی یہ تعداد ، ان کے اپنے خاندانوں اور ان کی مصروفیات و مشاغل کے ساتھ، یہاں خاصی ہے جو دیگر ایسی تصانیف میں اس قدر نظر نہیں آتی، اس مناسبت سے ان نو آباد افراد کے حوالے سے کوئی مطالعہ یہاں خاصہ مفید کیا جاسکتاہے۔

اور اس طرح کے مطالعات راز صاحب کی وجہ سے ممکن ہوسکتے ہیں۔یہ ایک تجویز ہے جس کے بارے میں بہر حال سوچا جاسکتا ہے۔ان ممالک میں نو آباد جنوبی ایشیائی باشندے واقعتا” اہل قلم اور تخلیق کار اور مصنفین بھی ہیں جن کے بارے میں یہ تصنیف خاصی معاون و مدد گار ہوسکتی ہے کہ اس بارے میں معلومات اور متعلقہ تصانیف کے بارے میں آگاہی اور واقفیت راز صاحب کی اس زیر نظر تصنیف کے توسط سے بھی ہوسکے گی۔

‘کاریز’: اردو دنیا میں رفیع الدین راز کی پہچان کا ایک نیا سنگِ میل

فاضل مصنف نے اگرچہ ایک مستحکم ارادے و مقصد سے اپنی سوانح یا آپ بیتی تصنیف کی ہے لیکن اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ کئی مقامات پر ایک سفرنامہ بھی محسوس ہوتی ہے لیکن اس طرح کی فنی نیرنگیوں کے ساتھ یہ مصنف کی اپنی شاعری کے دل نشیں نمونوں پر بھی مشتمل ہے اور ساری تصنیف ایسے نمونوں سے بھری پڑی ہے۔

جس کے سبب دوہرا لطف اس کے قارئین کو یقینا” حاصل ہوسکے گا۔بل کہ بعض مقامات پر تو مصنف نے شعری تخلیقات کے نمونوں کو درج کرتے ہوئے اگر ان کے تخلیق کاروں میں یا کسی نمونے پر کسی شاعر کی طرف سے اصلاح یا ترمیم کا کوئی بیان سامنے آیاہو تو مصنف نے بلا تکلف اسے بیان کردیا ہے

جس سے یہ تصنیف سوانح یا سفرنامے سے بڑھ کر ایک تنقیدی مناظرہ بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ اس طرح کی متعدد صفات اور اوصاف اس تصنیف میں ایسی نظر آتی ہیں جو ایک لحاظ سے اسی تصنیف سے مخصوص سمجھی جاسکتی ہیں۔ مصنف نے بڑی گرم جوشی سے مغربی ممالک کے کلچر اور وہاں کے ادیبوں و دانشوروں کا ذکر کیاہے اور بعض مقامات پر ان سے مرعوب بھی نظر آئے ہیں لیکن بالآخر انھوں نے کھل کر یہ کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کی تہذیب مغربی تہذیب سے زیادہ دل نشیں ہے جس کا عشر عشیر بھی مغرب میں نظر نہیں آتاہے اور تمام خامیوں کے باوجود پاکستان ہی انھیں اچھا لگتاہے۔

ویسے ان کی شخصیت اور اس کی خوبیوں کا سبب ہے کہ وہ اردو دنیا میں اب ہر جگہ پہچانے جانے لگے ہیں جس میں ان کی شخصیت کی خوبیوں اور ان کی انسان دوستی کا بھی بڑا دخل ہے اور جو ان کی تخلیقات ، مشاعروں اور ادبی تقریبات میں ان کی شرکت اور متعدد تصانیف اور شعری انتخابات میں ان کی شمولیت نے بھی انھیں ایک شہرت و مقام عطا کیاہے۔

یقینا” ان کی یہ حالیہ تصنیف ‘کاریز’ بھی مزید ایک مہمیز کا کام کرے گی اور اپنے شعری کلام کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی اور ان کے افکار و احساسات کو منظر عام پر لانے اور عام علمی و ادبی دنیا میں متعارف کرانے میں فعال کردار ادا کرے گی اور ہمیں یہ احساس دلائے گی کہ ہم رفیع الدین راز کے عہد کے باشندے رہے ہیں!

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

کاریز