
سال 2027 کی دہلیز پر عدالت سے سود ختم، مگر کیا قوم ربا چھوڑنے کو تیار ہے؟
سال 2027 کی دہلیز پر عدالت سے سود ختم، مگر کیا قوم ربا چھوڑنے کو تیار ہے؟ یہ ہمارے تعلیمی نظام کا ایک المیہ ہے کہ پاکستان کے اسکولوں میں چھٹی جماعت کے طلبہ کو مرکب سود کا حساب تو سکھا دیا جاتا ہے، مگر اعلیٰ تعلیم، حتیٰ کہ ماسٹرز کی سطح تک پہنچنے کے باوجود انہیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ نفع کن اصولوں پر قائم ہوتا ہے تجارت میں اس کا حقیقی ضابطہ کیا ہے، اور مالی معاملات میں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہماری درسگاہوں میں طلبہ کو قرض اور مالی معاونت کے درمیان فرق نہیں سمجھایا جاتا۔ ربا کیا ہے؟ سود اور نفع میں کیا امتیاز ہے؟ یہ

مشرقی پاکستان انجام آخر کار
مشرقی پاکستان: انجامِ کار — ایک چشم دید گواہ کی ڈائری (1969-1971) پیش لفظ: المیے کی دستک اور کتاب کا تعارف برگیڈیئر اے آر صدیقی کی تصنیف “مشرقی پاکستان: انجامِ کار” محض ایک عسکری افسر کی یادداشتیں نہیں بلکہ ایک عظیم ریاست کے ٹوٹنے کا نوحہ اور ان تزویراتی لغزشوں کی دستاویزی شہادت ہے جنہوں نے برصغیر کا جغرافیہ بدل دیا۔ یہ کتاب اقتدار کے ان ایوانوں کی کہانی بیان کرتی ہے جہاں فیصلے جذبوں سے نہیں بلکہ ہوسِ اقتدار اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر کیے گئے۔ مصنف، جو اس دورِ آشوب میں فوج کے ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ (DPR) کے حساس منصب پر فائز تھے، ایک منفرد مقام کے حامل تھے۔ ان کی معروضی نظر ایک طرف فوجی قیادت

ہاں، یہ میری غلطی ہے
ہاں، یہ میری غلطی ہے یہ جملہ پڑھنے میں جتنا آسان ہے، بولنے میں اتنا ہی مشکل، بلکہ بعض اوقات انتہائی پیچیدہ محسوس ہوتا ہے۔ اس پیچیدگی کی جڑیں خاندانی تفاخر، سماجی برتری، عہدوں کے غرور، انا کے بتوں اور خود پسندی میں پیوست ہوتی ہیں۔ آخر ہر شخص تو بت شکن نہیں ہوسکتا۔ ہم اپنی غلطی کیوں نہیں مانتے؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ اپنی غلطی تسلیم کرنا ہمارے لیے اتنا دشوار کیوں ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے اور گھروں میں غلطی ماننے کی تربیت تقریباً ناپید ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو اس کے جذبۂ صداقت کی حوصلہ

دیپک آشا: ٹنڈو آدم سے بمبئی تک فلمی سفر اور لازوال خدمات
دیپک آشا (دھرم کمار): حیات و خدمات ابتدائی حالات اور ہجرت 26 نومبر دھرم کمار (دیپک آشا) جنم ہوا۔ دیپک آشا 1919 میں ٹنڈو آدم میں پیدا ہوئے، آپ فلم ڈائریکٹر، اداکار اور مصنف تھے۔ آپ کا اصل نام دھرم کمار ہے۔ آپ کے قیام پاکستان کے بعد ھندوستان ہجرت کی اور بمبئی میں رہائش اختیار کی ۔ آپ نے ہندوستان میں ابنا سمیت کئی قابل ذکر سندھی اور ہندی فلموں کی ہدایت کاری کی تھی۔ 1958)، جلتے دیپ اور گھمنڈی اور اد اکاری کی۔ جھو لے لال (1964)، لاڈ لی (1966)، شال دھیار نہ جمن (1968) میں بھی انہوں نے کئی ڈراموں میں ادکاری کی، جن میں کشن شیدائی کے لکھے ہوئے جئے کشن اور دیپ مفلس کے لکھے

اسلامی معاشیات کی روشنی میں برقی زر اور مجازی سکہ: ایک تنقیدی جائزہ
اسلامی معاشیات کی روشنی میں برقی زر اور مجازی سکہ: ایک تنقیدی جائزہ تعارف اور پس منظر عصرِ حاضر میں برقی زر نے عالمی مالیاتی نظام میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بعض ماہرین اسے مستقبل کی معیشت کا اہم ستون قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے غیر یقینی، شدید اتار چڑھاؤ اور قیاس آرائی پر مبنی ایک ایسا مالی ذریعہ سمجھتے ہیں جس کے خطرات اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسلامی معاشیات کے تناظر میں اس موضوع کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اسلام ہر مالی معاملے کو صرف منافع اور نقصان کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے اخلاقی، قانونی اور معاشرتی اثرات کی روشنی میں پرکھتا ہے۔ کسی بھی نئے مالی

یوسف ابن الحسن — اسلامی معاشیات و مالیات کے ممتاز مفکر اور محقق
تعارف اور پس منظر یوسف ابن الحسن پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر اسلامی معاشیات، اسلامی بینکاری، مالیات، تکافل، ہاؤسنگ فنانس اور کارپوریٹ مشاورت کے ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔ تقریباً نصف صدی پر محیط علمی، تحقیقی اور عملی خدمات کے ذریعے انہوں نے اسلامی مالیاتی نظام کی تشکیل، فروغ اور ارتقاء میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ علمی و عملی خدمات ١٩٨٢ء میں اسلامی بینکاری کے بانی مفکر ڈاکٹر احمد النجار کی نگرانی میں اسلامی بینکاری کے اولین اعلیٰ تربیتی پروگرام میں شرکت کے بعد انہوں نے پاکستان کے پہلے اسلامی تجارتی بینک کے قیام، شرعی مالیاتی مصنوعات کی تیاری، ہاؤسنگ فنانس، تجارتی و صنعتی مالیات اور متعدد قومی و بین الاقوامی منصوبوں میں مؤثر خدمات انجام

عدل، ظلم اور احسان
حقوق العباد، عدل، ظلم اور احسان: ایک فکری جائزہ حقوق العباد اور ہم اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس عبادت سے متعلق فرائض اور ذمہ داریوں کو حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ علما اور مشائخ ہمیں ان فرائض کی تعلیم اور اہمیت سے مسلسل آگاہ کرتے رہتے ہیں، اس لیے آج کی تحریر کا موضوع حقوق اللہ نہیں بلکہ حقوق العباد ہیں۔ حقوق العباد کی اصل روح انسان چونکہ ایک سماجی مخلوق ہے، اس لیے اس کے باہمی تعلقات کو منظم رکھنے اور معاشرے میں انصاف قائم رکھنے کے لیے کچھ اصول، قوانین اور آداب مقرر کیے گئے ہیں جنہیں حقوق العباد کہا جاتا ہے۔ جب انسان کے اندر کا سماجی شعور کمزور

غازی پور کی تاریخ اور حفیظ منزل کا پس منظر
غازی پور کا تاریخی پس منظر اور جغرافیائی اہمیت بھارت کے شہر غازی پورکو آباد ہوئے سات سو برس ہوچکے ہیں اس کی بنیاد 730ہجری میں غازی ملت امیر مسعود سالار غازی رحمتہ اللہ علیہ نے ڈالی ہے۔ اس شہر کو فنون لطیفہ، ثقافت، نفاست اور خوبصورتی کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ غازی پور مشرقی اتر پردیش (یوپی) کا ایک ضلع ہے اس کے شمال مشرق میں بلیا شمال مغرب میں مئو اعظم گڑھ اور جونپور،جنوب مغرب میں بنارس اور جنوب مشرقی میں بہار کا ضلع شاہ آباد ہے، غازی پور یوپی اور بہار کے سنگھم پر واقع ہے اس شہر کو دریا ئے گنگا اور دریائے کرمناسا بہار سے دریائے سر جو مئو اور بلیا سے اور دریائے گنگا
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
