
امریکا کی سیر (قسط دوم): اورلینڈو میں شادی، پرانے دوست اور نیویارک کی طرف سفر
ہوٹل میں عشائیہ اور سمدھیوں سے ملاقات دوسری شام ڈاکٹر فیصل ( دلہے کے والد ) کے دوستوں کی طرف سے ایک مقامی ہوٹل میں عشائیہ دیا گیا تھا۔ یہ بھی عجیب وغریب روایت دیکھی، پھر بھی کھانے سے کس کافر کو انکار ہوسکتا ہے، بقول غالبؔ ؎ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔ نکاح کے ساتھ ہی تمام مہمانان ایک ہوٹل منتقل ہوگئے۔ گھر پر اتنی گنجائش نہیں تھی۔ اگلی صبح ہوٹل کے پیکیج میں ناشتہ بھی شامل تھا۔ مشہود نے اس بوفے کے وہ آئیٹم بتانے شروع کیے جن سے اجتناب کرنا تھا۔ ہم نے اسے سمجھا دیا کہ ہم گوشت کی کوئی ڈش استعمال نہیں کریں گے۔ بغیر گوشت کا ناشتہ بہت مزے دار مزہ دے

سفرنامہ امریکا (قسط اول): قطر سے میامی تک ایک خوشگوار سفر کا آغاز
امریکا کا سفر (قسط اول)— ویزا سے میامی اور اورلینڈو تک خوشی کی خبر اور ویزے کی شروعات فروری 2026ء کی ابتداء تھی۔ ہم رمضان بسر کرنے کے لیے اپنے بیٹے اور بہو کے پاس عرب ریاست قطر جانے کے لیے پر تول رہے تھے کہ بھتیجے ڈاکٹر فیصل کی اہلیہ تسنیم کی واٹس ایپ کی پوسٹ سے پتا چلا کہ ان کے بیٹے کی جون کے وسط میں شادی خانہ آبادی طے پائی ہے۔ پورا پروگرام تفصیل سے دیا ہوا تھا جس کے مطابق 19 جون کو نکاح، 20 جون کو رخصتی اور 21 جون کو ولیمہ طے پایا تھا۔ یہ سن کر بلکہ پڑھ کر دل مچلنے لگا۔ وہی کیفیت تھی: ایسا تڑپا ہے یہ دل جو پہلے

حق لے کر رہنا ہے
حق لے کر رہنا ہے دنیا میں انسان نے خود اپنے لیے جو سب سے بڑا فساد کھڑا کر رکھا ہے وہ “حق لینے” کا ہے۔ اپنے بنیادی انسانی حقوق حاصل کرنے کی ایک لا متناہی لسٹ ہے جس میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا میں آرام و آسائش کے وسائل وافر، وسیع اور سہل الحصول ہوتے جا رہے ہیں تو حقوقِ انسانی بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ جب حقوق کا حصول مقصدِ زندگی بن جائے چند دہائیاں پہلے زندگی کس قدر ہلکی، آسان اور پر سکون تھی۔ جب وصول کرنے کی نسبت دینے کی فکر رہتی اور اسی میں قلبی خوشی و راحت محسوس کی جاتی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ نفسانی خواہشات، ذاتی حقوق

کتاب ارتقاء: ایک سرکاری افسر کی زندگی، جدوجہد اور پاکستان کی تاریخ
کتاب ارتقاء: ایک سرکاری افسر کی زندگی، جدوجہد، اصول پسندی اور پاکستان کی ترقی کی داستان کتاب ارتقاء: ذاتی زندگی سے پاکستان کی انتظامی تاریخ تک کا سفر پاکستان کی تاریخ، ترقی اور انتظامی نظام کو سمجھنے کے لیے ان لوگوں کے تجربات جاننا ضروری ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ملک کی خدمت میں گزارا۔ کتاب ارتقاء ایک ایسی ہی داستان ہے جس میں ایک سرکاری افسر کی زندگی، تعلیم، پیشہ ورانہ جدوجہد اور پاکستان کے انتظامی نظام کے بارے میں ان کے مشاہدات سامنے آتے ہیں۔ یہ محض ایک شخص کی خودنوشت نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ، بیوروکریسی، منصوبہ بندی اور معاشرتی تبدیلیوں کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ ایک خصوصی نشست میں کتاب کے

آزادی؟ قوم کی طاقت یا تباہی کا سبب؟
آزادی؟ قوم کی طاقت یا تباہی کا سبب؟ تحریر: یوسف ابن الحسن ایک فوجی جنرل کا کمال تھا کہ جس نے دو ہزار کی صدی شروع ہوتے ہی پاکستان کی میڈیا برادری کو آزاد کر دیا تاکہ وہ اپنی غیر قابلِ ترسیل سرمایہ یا اپنے اندرونی و بیرونی مالی وسائل اور انتظامات کے ذریعے اپنے ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز قائم کریں۔ اس فیصلے نے نجی نشریاتی اداروں میں سرمایہ کاری کے نام پر کالے دھن کا ایک بڑا بند کھول دیا اور آڈیو و ویڈیو آلات کی غیر قانونی درآمد کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس کا سیلاب مقامی مارکیٹ میں واضح طور پر دیکھا گیا۔ پاکستان کی الیکٹرانک مارکیٹ کے بڑے کھلاڑیوں نے سنگاپور اور ہانگ کانگ میں

نفسیاتی امراض اور معاشرہ
نفسیاتی امراض اور معاشرہ ہمارے ملک میں نفسیاتی امراض کے تناسب میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے لیکن معاشرہ ابھی تک اسے درخورِ اعتنا نہیں سمجھ رہا ہے اور ہم لگاتار اس مسئلے کو قالین کے نیچے ڈال کر اس سے آنکھیں چرا رہے ہیں لیکن جس دن اس مسئلے نے ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تو آنکھیں تو چھوڑ ہم کہیں منہ دکھانے کے بھی لائق نہیں رہے گے۔ ذہنی بیماری، پاگل پن نہیں ہمارے معاشرے میں نفسیاتی امراض کا عام مطلب پاگل پن یا اس سے ملتی جلتی کیفیت لیا جاتا ہے۔ ہم مسئلے کے آغاز میں یہ بات ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے کہ جسم کی طرح ذہن بھی بیمار ہوسکتا ہے اور

فکر اقبال کی ایک نئی جہت! : ڈاکٹرمعین الدین عقیل
فکر اقبال کی ایک نئی جہت ڈاکٹرمعین الدین عقیل عصرِ حاضر میں فکرِ اقبال کی عالمگیر اہمیت علامہ اقبال اپنے دور اور عہد اور اردو و فارسی زبانوں کے ایسے منفرد و ممتاز اور فلسفی و دانش ور شاعر ہیں کہ جو اپنی ساری زندگی اوراپنی کل فکر و حیات میں اپنی حکمت و دانائی کے وسیلے سے اپنے ہر دور و ادوار کے انسانوں اور مخاطبین کواپنی دانش وفکر سے فیض یاب کرنے میں ہمہ وقت مصروف و منہمک رہے ہیں، تب ہی آج علوم ِ شرقی سے واقف یا دل چسپی رکھنے والا ہر تعلیم یافتہ فرد کسی نہ کسی حد تک اقبال اور ان کی شاعری اور اس میں موجود ان کی دانش و حکمت سے ضرور

خواجہ قمر الحسن: علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کی مکمل داستان
خواجہ قمر الحسن: علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کی مکمل داستان تعارف: علم و ادب سے وابستہ ایک زندگی کچھ شخصیات اپنی زندگی کو صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ تعلیم، ادب، تحقیق اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے میں اپنی پہچان بناتی ہیں۔ خواجہ قمر الحسن بھی ایسی ہی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ تعلیم و تدریس، ادبی سرگرمیوں اور علمی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے وقف کیا۔ ان کی زندگی کا سفر ایک طالب علم سے استاد، تعلیمی منتظم اور محقق بننے تک پھیلا ہوا ہے، جس میں محنت، مطالعے اور علم سے محبت نمایاں نظر آتی ہے۔ مکمل انٹرویو دیکھنے کے لیے نیچے وڈیو پر کلک کریں۔
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
