ڈاکٹر مشیر الحق شہید آپ بیتی

ڈاکٹر مشیر الحق شہید: علم کی شمع اور جرات کی داستان

آج “ذکرِ کتاب” کے پلیٹ فارم سے ہم ایک ایسی علمی شخصیت کا تذکرہ کر رہے ہیں جس نے اپنی پوری زندگی علم کی ترویج اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ڈاکٹر مشیر الحق شہید، جو 1987 سے 1990 تک یونیورسٹی آف کشمیر، سری نگر کے وائس چانسلر رہے، ایک ایسے مدبر تھے جن کی زندگی کا ہر واقعہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

صوتی یادگار: آواز کا خزانہ

ڈاکٹر صاحب کی زندگی کی یہ دلچسپ آپ بیتی جناب لطف اللہ خان صاحب مرحوم نے اپنی شہرہ آفاق لائبریری “آواز کا خزانہ” کے لیے ریکارڈ کی تھی۔ بعد ازاں، جناب خورشید عبداللہ صاحب نے اسے دو حصوں میں یوٹیوب پر اپلوڈ کر کے علمی دنیا پر بڑا احسان کیا۔ یہ ریکارڈنگ محض ایک گفتگو نہیں بلکہ ایک عہد کی زندہ تاریخ ہے جو ڈاکٹر صاحب کے شگفتہ لہجے میں محفوظ ہے۔

مکرانی کوچوان کی وہ تاریخی نصیحت

ڈاکٹر مشیر الحق اپنی ہجرت کا ایک انتہائی سبق آموز واقعہ سناتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ پاکستان سے دوبارہ ہندوستان ہجرت کے لیے کراچی کے کیماڑی بندرگاہ جا رہے تھے، تو انہیں چھوڑنے والا ایک سادہ لوح مکرانی گدھا گاڑی والا تھا۔ اس مکرانی نے رخصت کرتے وقت انہیں بے خوفی اور ہمت سے جینے کی ایک ایسی نصیحت کی جو ڈاکٹر صاحب کے لیے عمر بھر کا سرمایہ بن گئی۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہندوستان کے نامساعد حالات میں بھی پر اعتماد رہنے کا حوصلہ انہیں اسی سادہ انسان کی باتوں سے ملا۔

بحران میں تدبر: توہینِ رسالت کا حساس واقعہ

اس آپ بیتی کا سب سے اہم موڑ وہ واقعہ ہے جب یونیورسٹی آف کشمیر کے طلبہ ایک کتاب میں مبینہ توہینِ رسالت کے خلاف شدید مشتعل ہو کر احتجاج کر رہے تھے۔ حالات اس قدر قابو سے باہر تھے کہ پولیس اور سیکیورٹی نے وائس چانسلر کو کمرے سے باہر نکلنے سے سختی سے منع کر دیا تھا۔

ہجوم سے مکالمہ: جراتِ رندانہ

ایک سچے ماہرِ تعلیم اور عاشقِ رسولؐ ہونے کے ناطے، ڈاکٹر صاحب نے سیکیورٹی کے مشوروں کو پسِ پشت ڈال کر احتجاجی وفد کو اپنے پاس بلایا۔ بات یہیں ختم نہ ہوئی، بلکہ وہ خود تنہا اس مشتعل ہجوم کے سامنے چلے گئے۔ ان کی اپنی آواز میں یہ قصہ سن کر روح وجد میں آ جاتی ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی عالمانہ گفتگو اور محبت بھرے انداز سے اس سنگین مسئلے کو پرامن طور پر حل کیا اور طلبہ کے غصے کو ٹھنڈا کیا۔

مکالمے کی جیت اور شہادت کا رتبہ

ڈاکٹر مشیر الحق نے ثابت کیا کہ بڑے سے بڑا جذباتی اور مذہبی مسئلہ بھی طاقت کے بجائے خلوصِ نیت اور مکالمے (Dialogue) سے حل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ 1990 میں وہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گئے، لیکن ان کی حکمتِ عملی آج بھی تعلیمی اور سیاسی بحرانوں کے حل کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

حرفِ آخر

یہ آپ بیتی ہر اس قاری کے لیے ضروری ہے جو یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایک سچا لیڈر مشکل وقت میں کیسے فیصلے کرتا ہے۔ ڈاکٹر مشیر الحق کی آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم کا اصل مقصد انسانوں کو جوڑنا اور اندھیروں میں روشنی پھیلانا ہے۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے تھمب نیل کو پریس کریں

ایک گھنٹہ طویل انٹرویو کے خاص خاص نکات

ڈاکٹر مشیر الحق کی

زندگی کی کہانی – حصہ اول

پیدائش اور ابتدائی زندگی

میری پیدائش ہندوستان کے صوبہ یوپی کے ضلع غازیپور کے ایک قصبے “سید پور” (ویڈیو میں بہریا آباد یا سید پور کا ذکر ہے) میں ہوئی تھی۔ اسکول کے سرٹیفکیٹ کے مطابق میری تاریخِ پیدائش 1933 ہے، لیکن اس کی صداقت کی ذمہ داری میں نہیں لے سکتا کیونکہ اس زمانے میں تاریخیں کسی خاص واقعے جیسے “بڑی بارش” سے یاد رکھی جاتی تھیں۔ میرے والد کا انتقال تب ہوا جب میں صرف دو سال کا تھا۔ میری والدہ نے میری توجہ دینی تعلیم کی طرف مبذول کروائی اور میں نے مختلف مدرسوں کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے تعلیم حاصل کی۔

قیامِ پاکستان اور واپسی کا فیصلہ

1947 میں تقسیمِ ہند کے وقت، میں اور میرا چھوٹا بھائی (جو بعد میں حکومتِ پاکستان میں جوائنٹ سیکرٹری بنے) کراچی چلے آئے۔ میں آٹھ نو ماہ کراچی میں رہا، لیکن اس دوران میرے ذہن میں مسلسل یہ سوال اٹھتا تھا کہ کیا ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے لیے پاکستان میں گنجائش ہے؟ 1948 میں، پرمٹ سسٹم شروع ہونے سے پہلے، میں نے واپس ہندوستان جانے کا فیصلہ کیا۔

کراچی بندرگاہ کا وہ تاریخی جملہ

واپسی کے سفر میں ایک گدھا گاڑی والا مکرانی مجھے بندرگاہ چھوڑنے جا رہا تھا۔ میں ڈر رہا تھا کہ جہاز میں صرف غیر مسلم ہوں گے، اس لیے میں نے اس سے کہا کہ کسی ایسے قلی کو ڈھونڈو جو میرا سامان وہاں لگائے جہاں کچھ مسلمان مسافر ہوں۔ اس مکرانی نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے میری زندگی بدل دی: “تم عجیب آدمی ہو، پورے ہندوستان میں مستقل رہنے جا رہے ہو اور دو دن کے جہاز کے سفر کے لیے ڈر رہے ہو کہ وہاں مسلمان ہوں گے یا نہیں؟ وہاں تمہیں کون جگہ دلائے گا؟” اس جاہل کہلائے جانے والے شخص کی بات میرے دل میں گھر کر گئی اور اس نے مجھے ہندوستان میں رہنے کا حوصلہ دیا۔

تعلیمی سفر اور رسالہ “تعمیر”

ہندوستان واپسی کے بعد میں نے لکھنؤ میں مولانا ابوالحسن علی ندوی اور مولانا عبدالسلام قدوائی ندوی کے ساتھ مل کر ایک ادارے میں کام شروع کیا جس کا مقصد عربی زبان کو عام کرنا تھا۔ ہم نے “تعمیر” نامی رسالہ نکالا جس کا مقصد مسلمانوں میں اعتماد پیدا کرنا تھا۔ اس رسالے میں ہم فیض، ساغر نظامی اور ن م راشد کی نظمیں بھی اپنے مقصد کے لیے (موقع کی مناسبت سے تبدیل کر کے) شائع کرتے تھے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اعلیٰ تعلیم

شادی اور بچوں کے بعد میں نے محسوس کیا کہ عصری تعلیم ضروری ہے۔ میں نے سبینہ اسکول سے پرائیویٹ امتحان دے کر بی اے کیا اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ میں نے پروفیسر محمد مجیب کے ساتھ بطور ریسرچ اسسٹنٹ کام کیا اور ان کی کتاب “The Indian Muslims” کی تیاری میں مدد کی۔

کینیڈا کا سفر اور میکگل یونیورسٹی

1961 میں مجھے کینیڈا کی میکگل یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کے لیے سکالرشپ ملی۔ وہاں میں نے پروفیسر ولفریڈ کینٹ ویل سمتھ اور چارلس ایڈمز جیسے اساتذہ سے بہت کچھ سیکھا۔ ان چھ سالوں نے میری شخصیت کی تکمیل کی۔ میں نے سیکھا کہ اختلافِ رائے کے باوجود دوسروں کے دل کو دکھائے بغیر اپنی بات کیسے کہی جاتی ہے۔

پاکستان نہ آنے کی وجہ اور چارلس ایڈمز کا کردار

1968 میں جب میری پی ایچ ڈی مکمل ہوئی، تو میرے بھائی نے مجھے پاکستان بلانے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر فضل الرحمان (اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) مجھے وہاں پوزیشن دینے کو تیار تھے۔ لیکن میرے استاد چارلس ایڈمز نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے میرے بھائی سے کہا: “اگر مشیر پاکستان گیا تو وہ اپنی فکری آزادی کے ساتھ لکھ نہیں سکے گا، جبکہ ہندوستان میں اسے کوئی روکنے والا نہیں ہوگا۔” یہ بات مجھے برسوں بعد معلوم ہوئی، لیکن بالآخر میں نے ہندوستان ہی واپس جانے کا فیصلہ کیا۔


ڈاکٹر مشیر الحق کی زندگی کی کہانی – حصہ دوم

پٹیالہ یونیورسٹی میں تقرری

میں ہندوستان واپس آنے سے پہلے ہی مجھے دو جگہوں سے ملازمت کی پیشکش ملی تھی۔ چارلس ایڈمز نے میرا نام پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز شملہ کے لیے بھیجا تھا۔ پٹیالہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے فوری کارروائی کی اور میں جولائی 1968 میں وہاں بطور ریڈر جوائن کر لیا۔ میں اس پوری یونیورسٹی میں پہلا مسلمان تھا جسے ‘چیئر’ دی گئی تھی۔ وہاں میں نے شعبہ مذہبیات کی بنیاد رکھی، جہاں شروع میں میرے ساتھ صرف ایک کلرک اور ایک چپراسی تھا۔

شملہ انسٹی ٹیوٹ اور پٹیالہ سے علیحدگی

اسی دوران شملہ سے بھی بلاوا آگیا۔ پٹیالہ یونیورسٹی کی ملازمت مستقل تھی جبکہ شملہ کی ملازمت کنٹریکٹ پر تھی، لیکن میں نے پٹیالہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی دو وجوہات تھیں: ایک تو وہاں کی تحقیق کا انداز ایسا تھا جس میں میرا دل نہیں لگتا تھا، دوسرا وہاں سکھ یونیورسٹی ہونے کی وجہ سے تمباکو نوشی (سگریٹ پینے) پر پابندی تھی۔ جب یونیورسٹی کی نئی عمارت “گرو گوبند سنگھ بھون” بنی تو وہاں سگریٹ پینا بالکل ممنوع قرار دے دیا گیا، جو میرے لیے مشکل تھا۔ میں نے چھٹی کی درخواست دی لیکن قواعد کی وجہ سے چھٹی نہ ملی تو میں نے استعفیٰ دے دیا اور شملہ چلا گیا۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز، شملہ

شملہ میں مجھے ڈاکٹر نہار رنجن رے جیسے عظیم دانشور کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر رادھا کرشنن اور ڈاکٹر ذاکر حسین کی کوششوں سے قائم ہوا تھا۔ اس کا مقصد ایسے محققین کو موقع دینا تھا جو اپنی تدریسی مصروفیات کی وجہ سے تحقیق نہیں کر پاتے تھے۔ وہاں کا ماحول بہت آزادانہ تھا اور کام کرنے کی کوئی پابندی نہیں تھی۔

علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سفر

1970 میں، میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بطور ریڈر شامل ہوا اور تین سال تک وہاں انتظامی تجربہ حاصل کیا۔ 1973 میں، میری دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور میں اپنی مادرِ علمی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بطور پروفیسر آف اسلامک اسٹڈیز مقرر ہوا۔ وہاں میں نے مختلف انتظامی عہدوں پر کام کیا اور ایک وقت میں قائم مقام وائس چانسلر بھی رہا۔

کشمیر یونیورسٹی میں وائس چانسلری اور چیلنجز

1987 میں میرا انتخاب کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے ہوا۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ لوگ ڈراتے تھے کہ کشمیری طالب علم بہت جذباتی ہوتے ہیں اور وہ کسی غیر کشمیری کو قبول نہیں کریں گے، لیکن میرا تجربہ مختلف رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ اگر کشمیریوں سے ٹھنڈے دل اور محبت سے بات کی جائے تو وہ بات سمجھتے ہیں۔

ایک دلچسپ واقعہ: لائبریری اور متنازعہ کتاب

ایک بار کچھ طالب علم ایک کتاب کے خلاف احتجاج کرنے آئے جس میں مبینہ طور پر اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بارے میں نازیبا باتیں تھیں۔ میں نے ان سے کتاب منگوائی۔ کتاب کا نام “Folk Tales of Afghanistan” تھا۔ اس میں ایک لوک کہانی کی تصویر پر اعتراض تھا جس میں غارِ ثور کے واقعے کو دکھایا گیا تھا۔ میں نے طالب علموں کو اعتماد میں لیا اور انہیں اس بات پر قائل کیا کہ ہم اس کتاب کو ہٹا دیں گے، لیکن پوری پبلشنگ ہاؤس پر پابندی لگانا مناسب نہیں۔ میں نے ان طالب علموں کو خود لائبریری کی ایسی کتابوں کی نشاندہی کرنے کی پیشکش کی تاکہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو اور وہ علمی کام میں لگ جائیں۔

طلباء کے ساتھ مکالمہ

جب میں دفتر سے باہر نکلا تو سینکڑوں طلباء موجود تھے۔ مائیک کا انتظام نہیں تھا تو میں نے ایک طالب علم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی بات اونچی آواز میں کہی اور وہ اسے دہراتا گیا۔ اس طرح ایک پرتشدد ماحول خوشگوار ہو گیا۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر وائس چانسلر خود سامنے آکر طلباء سے بات کرے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

ادبی سفر اور نظریات

مجھے شروع سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔ میں نے “المنار” جیسے رسائل میں کام کیا اور مولانا ابوالحسن علی ندوی کے ساتھ بھی وقت گزارا۔ میں نے کسی سیاسی جماعت (جیسے جماعتِ اسلامی) کے ساتھ باقاعدہ وابستگی اختیار نہیں کی کیونکہ میں اپنی فکری آزادی کو کسی جماعتی پالیسی پر قربان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میری پہلی کتاب “Muslim Politics in Modern India” تھی جو دراصل میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا۔

انٹرویو کے دونوں مکمل حصے سننے کے لیے  نیچے کی امیج کو پریس کریں

مشیرالحق شہید پر ڈاکٹر اسلم فرخی کا خاکہ –نیچے کی امیج کلک کریں

Author