ترکیہ کا سفر نامہ

 

​شاخِ زرّیں کے دائیں بائیں

​گرامی قدر ڈاکٹر فاروق عادل صاحب کا ترکیہ کا سفر نامہ ”شاخِ زریں کے دائیں بائیں“ زیرِ مطالعہ رہا۔ سفرنامے کے عنوان سے سر جمیس جارج فریزر کی 1890ء میں شائع ہونے والی کتاب The Golden Bough یاد آگئی جس کا اردو ترجمہ شاخ زریں کے عنوان سے مجلسِ ترقی ادب نے کئی دہائیاں پہلے شائع کیا تھا جس کی اشاعت نو کا اہتمام بھی وقتا فوقتا کیا جاتا ہے۔ سر جمیس کی یہ کتاب جادو اور مذہبی رسوم کے عمیق مطالعے پر مشتمل ہے۔

​اسلوبِ نگارش اور تہذیبی رنگ

​تذکرہ ہورہا تھا ڈاکٹر فاروق عادل صاحب کے سفرنامے کا، جن احباب نے علامہ اسد اور انتظار حسین صاحب کو پڑھا ہے، اس سفر نامے میں وہ ان ہر دو تحریروں کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ علامہ اسد کی افسانوی منظر کشی و رنگ اور اور انتظار حسین کا تہذیبی روایات کا رنگ دونوں نمایاں ہیں۔ مگر اس کے ساتھ تحقیق اور فکری مغالطوں کی اصلاح بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ سفرنامہ میں تصوف کی کیفیات بھی موجود ہیں خاص کر کہ جب وہ میزبان رسالتﷺ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار پر جاتے ہیں یا مساجد میں جاتے ہیں اور اپنی داخلی کیفیات کا ذکر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عادل صاحب کو اللہ نے الفاظ کا وہ ذخیرہ عطا کیا ہے جو ہمارے تہذیبی اور روایت کا امین ہے۔ مثال کے طور پر جب وہ ایک بچے کی شرارتوں کا ذکر کرتے ہیں تو ”کدکڑوں“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ مٹھائی کی ٹرے کی بجائے ”سینی“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ شہر کے گھڑیا ل نے آٹھ بجنے کا اعلان کیا تو ڈاکٹر صاحب اس کے لیے ”گجر“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ سفرنامہ کی ایک خاص بات اس کا مختصر مگر جامع معلومات کے ابواب پر مشتمل ہونا بھی ہے۔

​مغل اور عثمانی طرزِ تعمیر کا تقابل

​سفرنامے کے مطالعے سے معلوم ہوا کا کہ ترکی میں مسجدوں کے منبر کافی اونچے ہوتے ہیں۔ کم از کم محراب کی بلندی جتنے۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ مغل اور عثانی مساجد میں نمایاں فرق یہ ہے کہ مغل مساجد کے صحن بڑے اور ہال مختصر ہوتے ہیں، جب کہ عثمانی مساجد کے ہال بہت بڑے ہوتے ہیں جن میں ہزاروں افراد کی گنجائش ہوتی ہے۔ ترکوں نے اپنی مساجد کے پرانے وضو خانے محنت کے ساتھ محفوظ رکھے ہیں۔ جنھیں دیکھنے والا سینکڑوں برس پیچھے عثمانی عہد میں چلا جاتا ہے۔ عثمانی مساجد کے وضو خانے خوب صورت چھت والے پانی کے گول ٹینک جیسے ہوتے ہیں، جس سے نکلنے والی سنہری ٹونٹی کے سر کا نمونہ عثمانی سلطنت کے مونو گرام والے طغرے جیسا ہوتا ہے۔

​تحریکِ خلافت اور برصغیر کے مسلمانوں کا ایثار

​تحریک خلافت میں برصغیر کے مسلمانوں کا تاریخی کردار کسے یاد نہیں۔ استنبول کی ایک بڑی شاہراہ پر واقع ایک بلند و بالا عمارت کی جانب ڈاکٹر صاحب کی توجہ یہ بتاتے ہوئے دلائی کہ یہ بنک ہے، تو ڈاکٹر فاروق صاحب نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ شاید اُن کے ذہن کے کسی گوشے میں علامہ اقبال کا یہ شعر ہو کہ تعمیر رعنائی میں رونق میں صفا میں / گرجوں سے کہیں بڑھ کر ہیں بنکوں کی عمارات۔

​مگر جب اُنھیں بتایا گیا کہ یہ وہ بنک ہے جو اس سرمائے سے بنایا گیا جو تحریک خلافت میں برصغیر کے مسلمانوں نے پیٹ پر پتھر باندھ کے بھیجا تھا، تو ڈاکٹر صاحب اپنی مکمل توجہ اس عمارت پر مرکوز کی۔ ان کے میزبان جناب ڈاکٹر خلیل طوقار صاحب نے یہ بھی بتایا کہ جہاں برصغیر کے مسلمانوں کا اخلاص اور قربانیاں ہیں وہاں ترکوں کی فہم و فراست اور اس رقم کی دل و جان سے غیر ضروری استعمال سے بچاؤ کی کوششیں بھی ہیں کہ انہوں نے اس رقم کو مستقل نوعیت کے منصوبوں میں استعمال کرکے اپنی طاقت میں بدل دیا۔

​کمال اتاترک: فکری مغالطے اور حقیقت

​سفرنامے کا اہم باب کمال اتاترک سے متعلق فکری تعصب اور فکری مغالطے کے ازالے سے متعلق ہے ۔ڈاکٹر فاروق عادل صاحب بتاتے ہیں کہ بدقسمتی سے کمال اتاترک کی معروف سوانح The Grey Wolf سے خود ترک بھی مطمئن نہیں ہیں۔ جب کہ پاکستان میں جن لوگوں نے کمال اتاترک سے وابستگی کا دعویٰ کیا اُن کی وجہ سے بھی کمال اتاترک ایک عام پاکستانی کے لیے ایک متنازعہ شخصیت بنے۔ مگر جب ڈاکٹر صاحب نے ترکیہ کی تاریخ کو سنجیدگی کے ساتھ کھنگالا تو معلوم ہوا کہ وہ مُلّا تو ہرگز نہیں تھے لیکن اسلام کے باغی بھی نہیں تھے۔ کمال اتاترک کے خطبات اور تقاریر کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ہمیشہ حضور اکرم ﷺ کا نام ِگرامی لینے سے قبل فخر عالم کے الفاظ استعمال کیا کرتے تھے۔ ۷ فروری ۱۹۲۳ء بالی کسیر شہر کی زاغنوس پاشا کی مسجد میں اپنی ایک تقریر جو انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر کی تھی اس میں انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی ذات اور قرآن ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کے سوا رہنمائی کا کوئی اور ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ مصطفی کمال اتاترک مختلف مواقع پر نہ صرف جمعے کا خطبہ دیتے رہے بلکہ ضرورت پڑنے پر انہوں نے نماز کی امامت بھی کی۔

​مذہبی اصلاحات اور وحدتِ اسلامی

​لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کمال اتاترک نے اذان اور نماز کے بارے میں حکم دیا تھا کہ انھیں ترک زبان میں پڑھا جائے۔ یہاں ڈاکٹر فاروق صاحب استاذ محترم ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب کا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں کہ اگرچہ کمال اتاترک سے اس بات سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، لیکن اندازہ یہ ہی ہے کہ کمال اتاتر ک یہ سمجھتے ہوں کہ اجنبی یعنی عربی زبان میں اذان اور نماز کی ادائیگی سے خشوع و خضوع اور تربیت کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس حوالے سے جو نکتہ ڈاکٹر طاہر مسعود نے بیان فرمایا ہے اس کی تصدیق مصطفی کمال اتاترک کے دفتر سے جاری ہونے والے حُکم نامے کا متن کرتا ہے، جس میں یہی بات کہی گئی تھی۔

​حُسنِ ظن اپنی جگہ مگر بنیادی طور پر اذان تو مکمل طور پر عربی میں دی جانی چاہیے، جب کہ نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ اس کے ایک حصے کو لازم کردیا ہے وہ حصہ یہ ہے کہ آپ کو سورہ فاتحہ پڑھنی ہے اور قرآن کی کوئی چھوٹی سورہ، اور اتنی تعلیم ہر مسلمان کو ہونی ہی چاہیے۔ اس کے سوا آپ رکوع اور سجدے میں اپنی زبان میں جو چاہیں پڑھیں۔ نماز کا جو حصہ بلند آواز میں پڑھا جاتا ہے مثلاً اللہ اکبر یا سمع اللہ لمن حمدہ اور سورہ فاتحہ اور قرآن کے دیگر حصے کی تلاوت عربی ہی میں رکھی گئی ہے کہ دنیا کے تمام مسلمانوں میں وحدت رہے، اور اجنبیت نہ رہے کہ ہم دنیا کے کسی حصے میں بھی جائیں تو معلوم ہو کہ یہ خدا کی کتاب ہی پڑھی جارہی ہے۔

​ڈاکٹر فاروق عادل صاحب کا ترکیہ پر یہ سفر نامہ ، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل ، لاہور نے شائع کیا ہے۔

 

  • Muhammad Yasser Arafat Muslim - محمد یاسرعرفات مسلم

    محمد یاسرعرفات مسلم کالم نگار اور مصنف ہیں جو محقق، ادیب اور دانشور محمد اختر مسلم مرحوم کے صاحبزادے ہیں -
    ان کے کالم اور مضامین قومی اخبارات ،جرائد و رسائل اور ہم سب ڈاٹ کام پر باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں- ان کی تحریریں اور کالم مختلف موضوعات پر مبنی ہوتے ہیں، جن میں سیاست،
    معیشت، سماجی مسائل، مذہبی موضوعات اور کتابوں کا تعارف شامل ہے-

    View all posts