Khamenei Shaheed and Cell No 14
کتاب کا تعارف اور مترجم کی مہارت
کوٹھڑی نمبر ۱۴ سید علی خامنہ ای شہید Khamenei Shaheedکی انگریزی میں Cell No.14
کے عنوان سے لکھی جانیوالی خود نوشت کا ایک عمدہ اور رواں ترجمہ ہے ۔ ترجمہ ناصر فاروق نے نہایت خوبی اور چابکدستی سے کیا ہے۔ کتاب کی اہم بات اس کے حواشی ہیں جوترجمے میں بھی اپنی اسی شان کے ساتھ موجود ہیں۔ سید علی خامنہ ای شہید 1989ءمیں امام خمینی کے وفات کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ منتخب ہوئے اور اپنی شہادت تک اس عہدے پر فائز رہے۔اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
انقلابی فکر اور ڈاکٹر علی شریعتی کے اقتباسات
مترجم نے کتاب کے آغاز میں انقلاب ایران کے حوالے سے لکھی گئی مختار مسعود کی کتاب ”لوح ایام“ سے ڈاکٹر علی شریعتی کے چند اقتباسات بھی نقل کیے ہیں، جنھیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کوٹھڑی نمبر14 کی نوعیت کیا ہے۔مقصد کے حصول کے لیے جس استقامت اور جرات کی ضرورت ہوتی ہے ،یہ خودنوشت اسی کا بیان ہے۔
علامہ اقبال اور سید قطب سے فکری وابستگی
(Khamenei Shaheed)سید خامنہ ای شہید
شاعر مشرق علامہ اقبال کے فکر و شخصیت سے گہرا لگاﺅ رکھتے تھے ۔ وہ اپنی تقاریر اور تحریروں میں اقبال کے اشعار کا حوالہ دیتے تھے۔ ”اقبال مشرق کا بلندستارہ“ کے عنوان سے سید خامنہ ای شہید کی ایک تقریر نے بہت شہرت حاصل کی ۔ یہ تقریرانہوں نے مارچ 1986ء میں تہران یونیورسٹی میں میں منعقد ہونے والی علامہ اقبال بین الاقوامی کانفرنس میں کی تھی ۔ اس تقریر کا اردو ترجمہ بھی ناصر فاروق نے کیا ہے اور حال ہی میں شائع ہوا ہے۔
(Khamenei Shaheed)اس تقریر میں سید خامنہ ای شہید
ایران کی استقامت، خود اعتمادی اورمغرب کی پرفریب چکاچوند سے بے نیاز ہو کر اپنی منزل کی جانب بڑھنے کو اقبال کے افکار سے فیض کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ معروف مصری اسلامی مفکر اور ادیب سید قطب سے بھی گہری عقیدت رکھتے تھے اور ایران میں سید قطب کے افکار و نظریات کو روشناس کرانے کے لیے انہوں نے سید قطب کی کتاب ”المستقبل لہٰذا الدین“ اور ان کی تفسیر ”فی ظلال القرآن “کے منتخب حصوں کا فارسی ترجمہ بھی کیا۔
خاندانی پس منظر: والد محترم کا زہد و تقویٰ
(Khamenei Shaheed)سید خامنہ ای شہید
بتاتے ہیں کہ ان کے والد محترم سید جواد خامنہ ای، جنھیں وہ اپنا مُرشدبھی مانتے ہیں، وسیع علم کی حامل شخصیت تھے، وہ مشہد کے ایک تجارتی علاقے کی مسجد کے امام تھے، جہاں اکثریت صاحب ثروت افراد کی ہوتی تھی۔ لیکن انہوں نے ضبطِ نفس کے ذریعے تقویٰ کی وہ معراج حاصل کی کہ مال و زر کی طرف ان کی نظر جاتی ہی نہیں تھی۔ سید خامنہ ای (Khamenei Shaheed)شہید
یہ بیان کرتے ہیں کہ ان گھر میں غربت کی ایک بڑی وجہ ان کے والد کی گوشہ نشینی تھی۔ سید خامنہ ای شہید تنگدستی سے مجبور ہوکر اپنی عزیز ترین کتابیں توفروخت کردیتے تھے لیکن کسی سے مالی منفعت حاصل نہیں کرتے تھے۔
تعلیمی تربیت اور برصغیر سے نسبت
(Khamenei Shaheed)قرآنی تعلیم کے حوالے سے سید خامنہ ای شہید
نے اس خو دنوشت میں لکھا کہ انہوں نے استاد ملا عباسی سے بھی قرآنی تعلیم حاصل کی جو امام علی رضا علیہ السلام کے مزارِ مبارک کے صحن میں پڑھاتے تھے۔ ملاعباسی قرآن حکیم کے اس نسخے سے پڑھاتے تھے جو برِصغیر ہندوستا ن کے ہوتے تھے۔ ملا عباسی ہی سے سید خامنہ ای شہید کو یہ عادت ملی کہ وہ ملاقات اور رخصت کے وقت مکمل السلام علیکم کہا کرتے تھے۔ جب کہ ایران میںرواج تھا کہ السلام علکم صرف ملاقات پر ہی کیا جاتا اور رخصت کے وقت دیگر فارسی کلمات ادا کیے جاتے۔
ادبی ذوق: وکٹر ہیوگو اور عالمی شاہکار
سید خامنہ ای شہید نے دینی کُتب کے علاوہ تاریخ، ادب اور ناولوں کا مطالعہ بھی کیا اور وکٹر ہیوگو کے ناول بﺅساء(Les Miserables) کو عمرانیاتی شاہکار اورتاریخ کا ریکارڈ قرار دیتے ہیں ، ان کے نزدیک یہ ناول الہیات، مہربانی، ہمدردی اور محبت کے بارے میں ہے ۔ اسی وجہ سے سید خامنہ ای شہید نے نوجوانوں کو اس ناول کے مطالعے کا مشورہ دیا ۔ ہمارے یہاں یہ ناول” مضراب“ کے عنوان سے شائئع ہوا۔ یہ ترجمہ باقر نقوی نے کیا ہے۔
عربی ادب اور نواب صفوی کی انقلابی تحریک
سیدعلی خامنہ ای شہید نے مصر، شام اور عراق کے ادیبوں اور شاعروں کو بھی پڑھا ، لیکن انھیں زیادہ متاثر عراقی شاعر محمد الجواہری نے کیا اور خاص کر، ان کی نظم ”بھوکوں کی لوری“ (Lullaby for the Hungry)نے انھیں آبدیدہ کردیا۔ سید خامنہ ای شہید کی جستجو کاعالم ملاحظہ فرمائیں کہ 1992 ءمیں جب الجواہری کی آپ بیتی ” میری یادداشتیں“ شائع ہوئی تو نہ صرف اس کا مطالعہ کیا بلکہ ان یادداشتوں میں بیان کیے گئے واقعات کو پڑھ کر الجوہری کے شعری مجموعے سے بھی رجوع کیا کہ ان واقعات کو الجواہری نے اپنے (Khamenei Shaheed)اشعار میں کس طرح نظم کیا ہے۔ الجواہری کے علاوہ سید خامنہ ای شہید
نے اپنی شخصیت میں انقلاب کی پہلی تڑپ نواب صفوی سے متاثر ہو کر محسوس کی۔نواب صفوی ایک عالم اور فدایان اسلام گروپ کے بانی تھے۔انہوں نے ایرانی معاشرے میں عزم کی تقویت اور اسلام کے مقدسات کے تحفظ کا احساس پیداکیا۔
ایامِ اسیری: رمضان اور قرآن سے رشتہ
(Khamenei Shaheed)کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سید علی خامنہ ای شہید
نے قید و بند کے دوران کس طرح روحانیت اور قرآن حکیم سے استفادہ کیا ۔ انہوں نے تین رمضان جیل میں گزارے۔ اس دوران بقول ان کے رمضان میں یہ اسیری خدا کو کثرت سے یاد (Khamenei Shaheed)کرنے ، تزکیہ نفس اور آیاتِ قرآن پر تدبر کا بہترین موقع ثابت ہوئی۔ سید خامنہ ای شہید
اکثر مواقع پر رہنمائی کے لیے قرآن سے فال بھی نکالتے اور استخارہ بھی کرتے، جس کا ذکر کتاب میں کئی مقامات پر موجود ہے۔
فرقہ واریت سے بالا تر انقلابی شخصیت
(Khamenei Shaheed)بدقسمتی سے جرات اور استقامت کی علامت کے طور پر جانی والی ان جیسی معروف شخصیات کو فرقہ پرستی کی چادر میں چھپا دیا گیا اور سید خامنہ ای شہید
(Khamenei Shaheed)کی شخصیت کے انقلابی پہلو کو سامنے نہیں آنے دیا کہ سید خامنہ ای شہید
نے کس طرح شہنشاہیت، استعمار او رصہیونیت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے ایران کو ایک آبرومندانہ اور باوقار مقام دلوایا ۔ کتاب ایمل پبلیکشنز، اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔
یاسر عرفات مسلم کے مزید کالم پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں




