Life Story Of Yahya Siddiqui

یحییٰ

پہلی قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں 

یحییٰ

 پہلی قسط میں کیا ہے ؟

 1حصہ

دورانیہ00:00 – 05:30

 اس افتتاحی حصے میں یحییٰ صدیقی کا تعارف کرایا گیا ہے، جو اپنی ناسازئ طبع کے باوجود اپنے بزرگوں کے بارے میں بات کرنے پر راضی ہوئے۔ میزبان بتاتے ہیں کہ یہ سیشن خاص طور پر یحییٰ صاحب کے والد اور ان کے نانا، ابوجلال ندوی پر مرکوز ہوگا۔ یحییٰ صاحب یاد کرتے ہیں کہ ان دونوں شخصیات کا علمی اثر اتنا گہرا تھا کہ انہیں ان کے پائے کا کوئی دوسرا عالم نظر نہ آیا۔ وہ ایک منفرد بچپن کا ذکر کرتے ہیں جہاں ہم عمروں کے ساتھ کھیلنے کے بجائے انہوں نے بزرگوں کی صحبت کو ترجیح دی۔

اس انتخاب کے دوہرے اثرات ہوئے: ایک طرف انہیں گہری حکمت ملی، تو دوسری طرف وہ اپنی نسل سے کسی حد تک کٹ کر رہ گئے۔ گفتگو اس نسبی تعلق کی “برکات” اور علم کے ان “گھنے درختوں” کے سائے میں پرورش پانے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ زکریا صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ جہاں انہوں نے بہت کچھ پایا، وہیں انہیں یہ احساس بھی رہا کہ وہ جوانی کے روایتی تجربات سے محروم رہے۔ میزبان کے مطابق، ایسی عظیم شخصیات کی قربت نئی نسل کے لیے ایک نادر اعزاز ہے۔

حصہ 2

دورانیہ 05:30 – 11:00

 یحییٰ صاحب کمالِ انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں اور “کچھ نہیں جانتے”۔ میزبان اسے علم کی معراج قرار دیتے ہیں—یعنی یہ احساس کہ انسان کو ابھی کتنا کچھ سیکھنا باقی ہے۔ اس کے بعد گفتگو یحییٰ صاحب کے والد اور ابوجلال ندوی کے درمیان گہرے علمی تعلق کی طرف مڑتی ہے۔ وہ ذہنی طور پر ایک دوسرے سے اتنے قریب تھے کہ اکثر تحقیق اور مسودات پر ایک اکائی کے طور پر کام کرتے تھے۔ ابوجلال ندوی کے آخری ایام کا ایک رقت آمیز قصہ شیئر کیا گیا ہے

جب ان کی بینائی جواب دے گئی، تو انہوں نے زکریا صاحب کے والد سے قرآن کی تفسیر (خاص طور پر سورہ الانعام) لکھنے کو کہا۔ تاہم، ان کے والد بھی علالت کا شکار تھے اور زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ اس صورتحال نے بے بسی کا ایک ایسا لمحہ پیدا کیا جہاں دونوں کو احساس ہوا کہ ان کی جسمانی کمزوریاں ان کے علمی مشن میں حائل ہو رہی ہیں۔ دونوں کا انتقال ایک ہی سال کے اندر ہوا، جو مشترکہ تحقیق کے ایک منفرد باب کا اختتام تھا۔

حصہ 3

دورانیہ11:00 – 16:30

یحییٰ صاحب کے والد کی علمی گہرائی کا احاطہ کرتا ہے، جنہیں کوئٹہ میں ان کے ساتھی مفکرِ اسلام علامہ اقبال کے ہم پلہ قرار دیتے تھے۔ زکریا صاحب ایک اہم کتاب “ربا، زکوٰۃ اور ٹیکس” پر تبادلہ خیال کرتے ہیں، جو ان کے نانا کی تحقیق اور والد کی جدید بصیرت کا نچوڑ تھی۔ اس کتاب کا ان کی زندگیوں پر گہرا عملی اثر پڑا۔ زکریا صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے والد نے ایک بار پرنٹنگ پریس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا تھا۔

تاہم، سود کی ممانعت اور جدید ٹیکس کے نظام سے متعلق اس کتاب کی تحقیق پڑھنے کے بعد، انہوں نے اپنا ارادہ مکمل طور پر بدل دیا اور اخلاقی بنیادوں پر اس سرمایہ کاری سے دستبردار ہو گئے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی علمی خدمات صرف نظریاتی نہیں تھیں بلکہ ان کے ذاتی اور مالی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ اس حصے میں ان پیچیدہ علمی کاموں کو خاندان اور عوام تک پہنچانے کے چیلنجز کا بھی ذکر ہے، کیونکہ بہت سے لوگ ان بزرگوں کے حقیقی علمی مقام سے ناواقف تھے۔

حصہ 4

دورانیہ16:30 – 21:58

خاندان کے مذہبی پس منظر اور علمی کام کی اشاعت میں درپیش عملی مشکلات پر روشنی ڈالتا ہے۔ یحییٰ صاحب بتاتے ہیں کہ اگرچہ ان کا خاندان بعد میں مولانا مودودی کے افکار سے ہم آہنگ ہو گیا، لیکن ان کی جڑیں زیادہ روایتی تھیں۔ وہ بزرگوں کی علمی میراث کو زندہ کرنے کے لیے اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہیں، جیسے خاندان کے اندر بیٹھکوں کا اہتمام کرنا جس میں حضورﷺ کی زندگی پر مبنی ایک پرانے مسودے کی خوانی شامل تھی۔

اس حصے کا بڑا حصہ اس دور کی تکنیکی مشکلات پر مبنی ہے—یعنی ‘ان پیج’ سافٹ ویئر کے عام ہونے سے پہلے اردو مسودات کی کتابت اور کمپوزنگ کا کٹھن کام۔ زکریا صاحب کتابت شدہ نسخوں کے ضائع ہونے پر دکھ کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ اس وقت عربی آیات کی تصدیق کرنے والا کوئی میسر نہ تھا۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود، وہ اس علم کو “عام فہم اور قابلِ رسائی” بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ویڈیو کا اختتام میزبان کے اس تبصرے پر ہوتا ہے کہ کس طرح ایک واحد کتاب کسی انسان کی زندگی کا پورا راستہ بدل سکتی ہے، جیسا کہ زکریا صاحب کے والد کے کاروباری فیصلے میں نظر آیا۔

دوسری قسط مکمل دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

یحییٰ

دوسری قسط میں کیا ہے؟

حصہ 1

دورانیہ00:00 – 05:54

اس حصے کا آغاز گزشتہ گفتگو کے خلاصے سے ہوتا ہے جس کے بعد یحییٰ صاحب کے والد کی تعلیمی تاریخ پر توجہ دی جاتی ہے۔ تقسیمِ ہند کے ہنگاموں کے باوجود ان کے والد ایک بہترین طالب علم رہے اور ہمیشہ نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔ تاہم، انہیں ہندوستان میں امتحانات کے دوران انتظامی ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑا، جسے انہوں نے نہایت وقار کے ساتھ برداشت کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد، نئی معیشت میں روزگار کا حصول ایک بڑا چیلنج تھا۔

یحییٰ صاحب ایک دلچسپ دور کا ذکر کرتے ہیں جب ان کے والد روزگار کی تلاش میں گھر والوں کو بتائے بغیر ملک کے مختلف حصوں میں گھومتے رہے اور آخر کار کوئٹہ پہنچ گئے۔ ان کی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر انہیں پنجاب یونیورسٹی کے لیے بلوچستان کی مخصوص نشست پر پوسٹ گریجویٹ اسکالرشپ ملی۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ شدید نظریاتی کشمکش اور علمی ارتقاء کے دور سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے کوئٹہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا، حالانکہ مقامی قیادت کا خیال تھا کہ وہاں کا ماحول ابھی اس تحریک کے لیے سازگار نہیں ہے۔

حصہ 2

دورانیہ 05:54 – 11:47

یحییٰ صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے والد نے بلوچستان میں طلبہ تحریک کو منظم کرنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اپنائی۔ وہ اپنی تعلیم اور تحریک کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچتے تھے اور کبھی سیاسی کام کو کالج کے اوقات میں مداخلت نہیں کرنے دیتے تھے۔ اس نظم و ضبط کی وجہ سے انہیں دیرپا عزت ملی؛ یہاں تک کہ دہائیوں بعد بھی بلوچستان کے اعلیٰ حکام انہیں احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ یحییٰ صاحب مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ کمشنر کا قصہ سناتے ہیں جنہوں نے کراچی اور اندرونِ ملک کے مزاج میں فرق کے باوجود ان کے والد کی خدمات کا تہہِ دل سے اعتراف کیا۔

گفتگو میں اس بات کا بھی تذکرہ ہے کہ ان کے والد نے زیادہ کتابیں تصنیف نہیں کیں کیونکہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ “غمِ روزگار” کی نذر ہو گیا۔ اس کے بجائے ان کا اصل اثر ان کی ڈائریوں، نوٹس اور ان لوگوں میں نظر آتا ہے جن کی انہوں نے تربیت کی۔ ان کی نظریاتی پختگی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے عہدوں کے بجائے ہمیشہ تحریک کی ضرورت کو مقدم رکھا۔

حصہ 3

دورانیہ 11:47 – 17:40

تیسرا حصہ ان کے والد کے سیاسی موقف کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے تعلیمی اور ریاستی حکام کے ساتھ ان کا ٹکراؤ ہوا۔ یحییٰ صاحب ذکر کرتے ہیں کہ ان کے والد کا ایک مضمون سینسر کر دیا گیا، جس کا الٹا اثر یہ ہوا کہ لوگوں میں تجسس بڑھا اور سب نے اسے پڑھا۔ بالآخر، انہیں کالج سے نکال دیا گیا اور “ریاست مخالف سرگرمیوں” کے الزام میں سرکاری ملازمت سے بھی برطرف کر دیا گیا۔

یہ لیبل ان پر طلبہ تحریکوں سے وابستگی کی وجہ سے لگایا گیا تھا۔ ان حالات نے انہیں کراچی منتقل ہونے پر مجبور کر دیا، جہاں انہوں نے باقاعدہ ڈگری کے بغیر نئی زندگی شروع کی اور اسٹیشنری و پرنٹنگ کے کاروبار سے وابستہ ہو گئے۔ کراچی آنے کے بعد بھی سی آئی ڈی (خفیہ ادارے) نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا، یہاں تک کہ کوئٹہ میں ان کے بعض شاگردوں نے بعد میں اعتراف کیا کہ وہ دراصل ان کی نگرانی کے لیے بھیجے گئے تھے۔ یہ حصہ حق کی خاطر آواز اٹھانے والے مفکرین پر ریاستی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

حصہ 4

دورانیہ17:40 – 23:39

آخری حصہ “خیالات کی طاقت” پر مرکوز ہے اور اس میں زکریا صاحب اپنی گرفتاری کا ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں۔ وہ جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت کا ذکر کرتے ہیں جب انہیں اسلام اور آمریت کے تضادات پر عوامی تبصرہ کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ ایک مزاحیہ پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ پولیس اہلکار نے ان کی گفتگو سے لفظ “مابین” نوٹ کر لیا، جس پر یہ لطیفہ مشہور ہوا کہ زکریا صاحب سیاست کی وجہ سے نہیں بلکہ “بہت زیادہ اردو” بولنے کی وجہ سے پکڑے گئے ہیں۔

گفتگو کا اختتام اس فکر پر ہوتا ہے کہ جب انسان کسی نظریے سے وابستہ ہو جائے تو اس کا ذہن کتنا طاقتور ہو جاتا ہے۔ زکریا صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے نانا نے تحریکِ خلافت کے دوران جیل میں بھی اپنی ذہنی اور علمی قوت کو برقرار رکھا۔ میزبان اور مہمان نظامِ حکومت کے فلسفے پر تبصرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے والد کے خیالات کے مطابق بہت سے حکومتی ڈھانچے اپنی اصل میں ہی غیر جواز تھے۔ یوں یہ انٹرویو ایک علمی اور مزاحمتی ورثے کی یاد کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔

تیسری قسط مکمل دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

یحییٰ

تیسری قسط میں کیا ہے؟

حصہ 1

دورانیہ00:00 – 07:15

اس حصے کا آغاز گزشتہ قسط میں سنائے گئے گرفتاری کے واقعے پر ہلکے پھلکے تبصرے سے ہوتا ہے، جس کے بعد خاندان کی ادبی خدمات کا تذکرہ آتا ہے۔ زکریا صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے والد دوسروں کو آگے بڑھانے کے قائل تھے، خاص طور پر انہوں نے ‘سائنس ڈائجسٹ’ کے دفتر کے لیے اپنے گھر کی جگہ فراہم کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ ان کے والد کی روایتی صحافتی تربیت نہیں تھی، لیکن ان کا وسیع مطالعہ انہیں استعماری قوتوں کے خلاف نظریاتی جنگ میں مصروف رکھتا تھا۔

سال 1979 میں مولانا مودودی کے انتقال کے حوالے سے ایک جذباتی واقعہ شیئر کیا گیا کہ گھر کے معاشی حالات خراب ہونے کے باوجود ان کے والد نے انہیں جنازے میں شرکت کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹ کی پیشکش کی، جو ان کی اپنی قیادت سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔ گفتگو میں ان کے والد کی سیاسی بصیرت کا بھی ذکر ہے کہ انہوں نے 1971 کے بحران میں پہلے ہی بھانپ لیا تھا کہ مشرقی پاکستان اب الگ ہو جائے گا، مگر وہ انڈیا کا حصہ نہیں بنے گا۔ ان کا ماننا تھا کہ کوئی بھی فوج اپنے عوام سے نہیں لڑ سکتی۔

حصہ 2

دورانیہ 07:15 – 14:30

اس حصے میں یحییٰ صاحب اپنے صحافتی کیریئر کے آغاز کی بات کرتے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اس شعبے میں شوق سے نہیں بلکہ ضرورت کے تحت آئے۔ انہیں محسوس ہوا کہ “اسلامی صحافت” غلط رخ پر جا رہی ہے اور جابروں کا آلہ کار بن رہی ہے۔ پیشے کی اندرونی سیاست کو ناپسند کرنے کے باوجود انہوں نے 1992 میں ‘جسارت’ جوائن کیا اور 32 سال وہاں گزارے تاکہ نظریاتی سمت کو درست رکھا جا سکے۔

(Idea)  وہ اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ پہلے اعلیٰ کردار کے لوگ صحافت میں تھے لیکن وقت کے ساتھ اس میں گراوٹ آئی۔ ان کے خیال میں تکنیکیں بدلتی رہتی ہیں لیکن اصل اہمیت “خیال”

کی ہے۔ گفتگو میں جدید آلات کی حدود پر بھی بات ہوئی اور یہ کہ نئے آلات کو اپنانا ضروری ہے۔ یحییٰ صاحب نے مشہور جملہ دہرایا کہ “ویکیپیڈیا کی دانش” کبھی بھی حقیقی گہرے مطالعے کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، اور یہی بات آج وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے دور کے لیے بھی کہتے ہیں۔

حصہ 3

دورانیہ: 14:30 – 21:45

تیسرا حصہ پرنٹ میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف تیزی سے ہونے والی منتقلی پر مرکوز ہے۔ یحییٰ صاحب مشاہدہ کرتے ہیں کہ میڈیا کا ماحول اتنی تیزی سے بدلا کہ بہت سے ادارے اس کا ساتھ نہ دے سکے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ‘جسارت’ ان چند اخبارات میں سے تھا جو سب سے پہلے انٹرنیٹ پر آئے، لیکن قارئین کی تعداد اس طرح نہیں بڑھی جس کی توقع تھی۔ وہ آج کے دور کا سب سے بڑا بحران “اسکرین کا نشہ” قرار دیتے ہیں۔

(Concentration)ان کے مطابق “بریکنگ نیوز” کی ہر وقت تلاش اور اسکرین پر مسلسل اسکرولنگ نے انسان کی توجہ مرکوز کرنے

 کی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔ وہ اس کی مثال ایک فینسی کپڑے کی دکان سے دیتے ہیں جہاں گاہک کے داخل ہوتے ہی تیز روشنیاں جلا دی جاتی ہیں اور ڈھیروں کپڑے اس کے سامنے پھیلا دیے جاتے ہیں، جس سے اس کی قوتِ فیصلہ ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح آج کا میڈیا انسانی ذہن کو معلومات کے بھنور میں رکھتا ہے جس کی وجہ سے وہ کسی گہرے نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا۔

حصہ 4

دورانیہ21:45 – 29:03

آخری حصے میں ایک بڑی علمی کامیابی، یعنی ان کے نانا کی ہڑپہ اور موہنجودڑو کے رسم الخط پر تحقیق کا ذکر ہے۔ زکریا صاحب تصویروں سے حروفِ تہجی تک کے سفر کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ ایک دلچسپ تاریخی حقیقت بتاتے ہیں کہ کس طرح انگریزوں کے دور میں ریلوے لائن بچھانے کے دوران حادثاتی طور پر ان قدیم تہذیبوں کا پتہ چلا، جب مزدوروں نے اینٹوں کے لیے کھدائی کی اور قدیم آثار برآمد ہوئے۔

یحییٰ صاحب اپنے نانا کا ایک اختلافی مگر علمی نکتہ بیان کرتے ہیں کہ ہندوؤں کا زیادہ تر لٹریچر مسلمانوں کی آمد کے بعد تحریر میں آیا، جو کہ قبل از اسلام کی تاریخ میں ایک “گمشدہ کڑی” کی طرف اشارہ ہے۔ ویڈیو کا اختتام قرآن مجید کے “حروفِ مقطعات” کے گہرے لسانی نکتے پر ہوتا ہے، جس کے بارے میں ان کے نانا کی تحقیق قدیم تاریخ کے ذریعے ان حروف کی لسانی جڑوں اور معانی کو تلاش کرنے کی ایک کوشش تھی۔

چوتھی قسط مکمل دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

یحییٰ

چوتھی قسط میں کیا ہے؟

حصہ 1

دورانیہ 00:00 – 07:55

اس حصے کا آغاز میزبان کی جانب سے زکریا صدیقی کی صحت کے لیے دعا اور تشویش سے ہوتا ہے، لیکن وہ ابوجلال ندوی کی میراث پر بات چیت کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ نانا جیسی قد آور شخصیت، جو اپنی حیرت انگیز یادداشت اور کئی کام ایک ساتھ کرنے کی صلاحیت (Multi-tasking) کے لیے مشہور تھی، عالمی سطح پر اس طرح کیوں نہیں پہچانی گئی جس کی وہ حقدار تھی۔ زکریا صاحب بتاتے ہیں کہ تنظیمی ڈھانچے کی کمی اور مخلص پبلشرز کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کے بہت سے کام نامکمل رہ گئے یا شائع نہ ہو سکے۔

میزبان نئی نسل کو چیلنج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کے پاس جدید آلات موجود ہیں، لیکن ان میں وہ علمی گہرائی نظر نہیں آتی جو “داس کیپیٹل” جیسے بھاری لٹریچر پڑھنے والے بزرگوں میں تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک منقسم معاشرے میں، جو علم کے بجائے طاقت اور دولت کو اہمیت دیتا ہے، محققین کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

حصہ 2

دورانیہ07:55 – 15:50

یہ سیکشن علمی مواد کے ضائع ہونے کے المیے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ زکریا صاحب انکشاف کرتے ہیں کہ ان کے نانا کا ایک مکمل مسودہ گھر سے چوری ہو گیا تھا، جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا تاہم عابد رضا بیدار جیسے محققین کی کوششوں سے کچھ مضامین محفوظ رہے۔ نانا کی تحقیق کا بڑا حصہ یمن کی تاریخ اور قبل از اسلام کے رسم الخط پر تھا، جو قائم شدہ تاریخی بیانیوں کو چیلنج کرتا تھا۔

میزبان ایک عملی حل پیش کرتے ہیں کہ ہر بچ جانے والے کاغذ کو ڈیجیٹلائز کیا جائے۔ وہ اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ مسودات کو اسکین کروا کر اصل واپس کر دیں گے، کیونکہ پی ڈی ایف کی شکل میں یہ کام کم لاگت میں پوری دنیا تک پہنچ سکتا ہے۔ زکریا صاحب اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ان کے بزرگوں کا ایک “قرض” ہے جو ان پر واجب ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ان قیمتی نوٹس کو ابھی محفوظ نہ کیا گیا تو یہ “ردی” بن کر ضائع ہو جائیں گے۔

حصہ 3

دورانیہ15:50 – 23:45

گفتگو کراچی یونیورسٹی جیسے اداروں میں ہونے والی تحقیقی کوششوں کی طرف مڑتی ہے۔ زکریا صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے نانا کی لسانیات پر تحقیق کی بنیاد پر ‘جریدار’ جیسے تحقیقی رسائل کے خصوصی نمبر تیار کیے گئے تھے، لیکن اب وہ دستیاب نہیں ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کاموں کے کاپی رائٹس خاندان یا متعلقہ محققین کے پاس ہونے چاہئیں تاکہ ان کا غلط استعمال نہ ہو۔

میزبان کا کہنا ہے کہ خاندان میں وسائل اور ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، اگر ہر فرد تھوڑا سا حصہ ڈالے تو اعلیٰ معیار کی اشاعت ممکن ہے۔ وہ آج کل کے “پبلک ریلیشنز

 پبلشنگ” کے رواج پر تنقید کرتے ہیں جہاں کتابیں صرف سماجی حیثیت دکھانے کے لیے مہنگے کھانوں کے ساتھ لانچ کی جاتی ہیں، جبکہ توجہ کام کے معیار پر ہونی چاہیے۔ زکریا صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے نانا کا نام آج بھی علمی حلقوں میں اتنا معتبر ہے کہ صرف ان کے حوالے سے نئے دوست اور تعلقات بن جاتے ہیں۔

حصہ 4

دورانیہ 23:45 – 31:40

آخری حصے میں میزبان یحییٰ صاحب کے والد کے نوٹ بک سے ایک طاقتور اقتباس پڑھتے ہیں۔ اس میں دلیل دی گئی ہے کہ کسی گروہ کو دوسرے کا معاشی یا سیاسی استحصال کرنے کا حق نہیں ہے، اور آزادی دراصل حکمرانوں کے جبر سے تحفظ کا نام ہے۔ یہاں سے گفتگو معاشرتی اقدار میں گراوٹ اور بڑھتی ہوئی خود غرضی کی طرف مڑتی ہے۔ یحییٰ صاحب مشاہدہ کرتے ہیں کہ جدید دور کی روح “انفرادیت پسندی” بن چکی ہے۔

میزبان معاشرے کے ارتقاء کا تذکرہ کرتے ہیں کہ کس طرح ہم بڑے قبیلوں سے مشترکہ خاندانوں، پھر نیوکلئیر فیملی اور اب “میں، میرا اور میرے بچے” کی ثقافت تک پہنچ گئے ہیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ بزرگوں اور علامہ اقبال جیسے شاعروں کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان کوئی الگ تھلگ وجود نہیں ہے، بلکہ ہماری تخلیق کا مقصد دوسروں کے کام آنا اور انسانیت کی خدمت ہے۔ انٹرویو کا اختتام ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو شروع کرنے کے عزم اور زکریا صاحب کی جلد صحت یابی کی دعا کے ساتھ ہوتا ہے۔

 

دن دہاڑے چوری