سیرتِ رسولِ عربی اور ریاست مدینہ میں قومی زبان کا مقام
تعارف
تاریخ کا مطالعہ صرف واقعات کو دہرانے کا نام نہیں، بلکہ ان سے سیکھ کر اپنے حال کو بہتر بنانے کا عمل ہے۔ جناب اسلام الحق صاحب کی گراں قدر تصنیف “سیرتِ رسولِ عربیؐ اور ریاستِ مدینہ میں قومی زبان کا مقام” ایک ایسی تحقیق ہے جو ہمیں تاریخ کے آئینے میں زبان کی اہمیت، اس کے ارتقاء اور ایک مثالی ریاست میں اس کے کردار سے روشناس کراتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف سیرتِ نبویؐ کا ایک نیا زاویہ پیش کرتی ہے، بلکہ اردو زبان کے زوال پر بھی ایک گہرا فکر انگیز تبصرہ ہے۔
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
مصنف کا علمی پس منظر
جناب محمد اسلام نشتر صاحب کا علمی سفر 1978 سے شروع ہوا۔ کراچی یونیورسٹی میں آپ کو میجر آفتاب حسن جیسے شفیق اور صاحبِ بصیرت استاد کی سرپرستی نصیب ہوئی، جو خود تحریکِ قومی زبان کے روحِ رواں تھے۔ میجر صاحب کی تربیت نےمحمد اسلام نشتر کی صلاحیتوں کو نکھارا، جس کے نتیجے میں انہوں نے سائنس، تاریخ اور زبان کے موضوعات پر سو سے زائد کتب، تراجم اور انسائیکلوپیڈیا مرتب کیے۔ یہ کتاب ان کی تین سالہ انتھک تحقیق اور محنت کا نچوڑ ہے۔
کتاب کے تین بنیادی حصے
مصنف نے اس کتاب کو تین اہم ابواب میں تقسیم کیا ہے
اسوۂ حسنہ
سیرتِ طیبہ کے ان پہلوؤں کا احاطہ جن کا تعلق زندگی گزارنے کے اصولوں سے ہے۔
ریاستِ مدینہ کی تشکیل
یہ حصہ ریاست کے قیام اور اس کی لسانی و فکری بنیادوں پر روشنی ڈالتا ہے۔
ریاستِ مدینہ کا نظام اور زبان
اس میں بحث کی گئی ہے کہ ریاستِ مدینہ نے زبان کو کیسے ایک مؤثر نظام کے طور پر استعمال کیا۔
عربی زبان کا تاریخی سفر اور ارتقاء
ویڈیو میں اس بات پر خاص زور دیا گیا ہے کہ عربی زبان کی تاریخ کوئی ایک دن کی کہانی نہیں۔ شروع میں یہ صرف ایک بولی جانے والی زبان تھی۔ تحریری شکل اسے بعد میں ملی جب معاملات کو محفوظ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔
کتاب کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عربی زبان کی وسعت کا راز اس کا “دوسری زبانوں کو قبول کرنا” ہے۔ قرآنِ مجید کی عربی میں عبرانی، فارسی، ہندی اور یونانی زبانوں کے الفاظ کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک زندہ زبان وہی ہے جو دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنا کر خود کو ترقی دے۔
ریاستِ مدینہ اور لسانی تنوع
ریاستِ مدینہ میں صرف ایک زبان کا غلبہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک کثیر لسانی معاشرہ تھا جہاں مختلف پس منظر کے لوگ موجود تھے۔ اس دور میں زبان کو ایک نظام کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ پیغامِ حق کو دور دور تک پہنچایا جا سکے۔ اسلام کے آنے کے بعد عربی زبان نے جس تیزی سے ارتقاء کیا، وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔
اردو زبان کا موجودہ المیہ
کتاب کے ذریعے مصنف نے ایک کڑوا سچ بیان کیا ہے کہ جہاں عربی زبان ترقی کی منازل طے کرتی رہی، وہاں آج کی اردو مسلسل زوال کی طرف گامزن ہے۔ اس کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں
مطالعے کا فقدان
لوگ اب کتابیں پڑھنے اور لائبریری جانے سے دور ہو چکے ہیں۔
زبان کی پیچیدگی
مصنف کا ماننا ہے کہ جس طرح کچھ لوگوں نے مذہب کو مشکل بنا دیا ہے، اسی طرح ہمارے دانشوروں نے اردو کو عام آدمی کی پہنچ سے دور اور مشکل بنا دیا ہے۔
خلاصہ اور پیغام
یہ کتاب صرف تاریخ نہیں، بلکہ آج کے دور میں ہماری قومی زبان کے لیے ایک لائحہ عمل ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زبان کا ارتقاء اس کے کھلا پن رکھنے میں ہے۔ اگر ہم اردو کو بحیثیتِ قومی زبان زندہ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں مطالعے کی عادت ڈالنا ہوگی اور زبان کو سہل بنانا ہوگا۔
یہ کتاب ان تمام لوگوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے جو اپنی تاریخ، سیرتِ رسولِ عربیؐ اور لسانیات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔





