گوری ہو گوری : رفیق حسین صاحب کے افسانوں کے مجموعے سے انتخاب

دن دہاڑے چوری

افسانے کا آغاز اور تعارف

یہ سلسلہ خوبصورت سہیلیوں کا ہے۔ اسی سلسلے میں جناب رفیع حسین صاحب کا تحریر کردہ ایک نہایت ہی خوبصورت کلاسک افسانہ پیش ہے، جس کا عنوان ہے “گوری ہو گوری”۔ رفیع حسین صاحب کی خاص بات یہ تھی کہ وہ نقاشِ فطرت تھے اور انسان، جانور اور قدرت کے درمیان قائم اس گہرے رشتے پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے جو اس زمین پر ہزاروں سال ایک ساتھ رہنے سے قائم ہوا ہے۔

سیلاب کی وہ ہولناک رات

بھادوں کی اندھیری اور طوفانی رات تھی۔ بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور پیپل کے درخت پر الو بول رہا تھا۔ بسنتی نے کروٹ لی، اپنے منہ پر مچھر مارا اور اپنے شوہر مادھو سے بولی، “اٹھو جی! دیکھو کیسی تیز ہوا چل رہی ہے اور الو بول رہا ہے، کہیں کوئی آفت نہ آ جائے”۔ مادھو گھبرا کر اٹھا اور جیسے ہی اس نے چارپائی سے نیچے پیر لٹکایا، فوراً خوف زدہ ہو کر اوپر کھینچ لیا۔ دھیمی روشنی میں اس نے دیکھا کہ پورے کچے گھر کے اندر پانی بھر چکا تھا۔

بسنتی اور مادھو نے اپنے بچوں کو جگایا۔ آٹھ برس کی دُبلی پتلی رام کلیا، چھ برس کا بھیکا اور گود میں دودھ پیتی بچی، سب جاگ گئے۔ باہر سے پانی کا تیز شور آ رہا تھا۔ اچانک باہر سے کسی نے آواز دی، “مادھو بھیا! اٹھو، باہر نکلو، سیلاب آ گیا ہے!”۔ چاروں طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ مادھو نے جلدی جلدی بچوں کو سنبھالا اور بسنتی گھر کا ضروری سامان، اناج اور برتن سمیٹنے لگی۔ باہر انسان اور جانور سب خوف سے چلا رہے تھے۔

اندھیرے میں بیٹی کا بچھڑنا

اسی گڑبڑ، اندھیرے اور افرا تفری میں لوگ ان کے گھر میں گھس آئے اور مادھو اور بسنتی کا ہاتھ پکڑ کر باہر کھینچنے لگے کہ پہلے جان بچاؤ، سامان چھوڑو۔ لالٹین بجھ چکی تھی۔ بسنتی نے اندھیرے میں چلّاتے ہوئے کہا کہ کوئی رام کلیا کو گود میں لے لے، مگر تیز طوفان، بادل کی گرج اور کمر کمر تک بھرے پانی میں سب اپنی جان بچانے کے لیے اندھیرے میں آگے بڑھتے گئے۔

دیہاتیوں نے ریل کی اونچی پٹری کا رخ کیا جو پانی سے محفوظ تھی۔ مادھو اور بسنتی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے، دو بچوں کے ساتھ کسی طرح پٹری پر پہنچ گئے۔ انہیں لگا کہ رام کلیا کو کوئی اور دیہاتی اپنے ساتھ لے آیا ہوگا۔ پٹری پر پہنچ کر جب لوگوں اور جانوروں کو گنا گیا تو معلوم ہوا کہ مادھو کے تمام جانور تو سلامت ہیں، مگر ان کی لاڈلی بیٹی رام کلیا وہاں نہیں تھی۔ بسنتی اپنی بیٹی کی جدائی میں تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔ ان کی گائے “گوری” بھی بسنتی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی اور درد بھری آوازیں نکالنے لگی جیسے وہ بھی اس دکھ کو سمجھ رہی ہو۔

چھت پر اکیلی معصوم جان

دوسری طرف، معصوم رام کلیا سیلاب کے پانی میں ڈوبتے ہوئے ایک مکان کی چھت کے کونے پر اکیلی بیٹھی خوف سے کانپ رہی تھی۔ اسی چھت کے دوسرے کونے پر ایک کالا سانپ بھی کُنڈلی مارے بیٹھا اپنی زبان نکال رہا تھا۔ چاروں طرف صرف پانی ہی پانی تھا۔ رام کلیا روتے ہوئے اپنی ماں کو پکار رہی تھی کہ اچانک اسے گوری گائے کی آواز سنائی دی، “تو کہاں، تو کہاں…”۔

گوری گائے تیرتی ہوئی باغ کی اوٹ سے باہر آئی۔ پہلے وہ اپنے بچھڑے کے پاس گئی جو پانی میں بندھا ہوا تھا۔ وہ بچھڑے کو چاٹنے لگی، لیکن بچھڑا رسی کی وجہ سے تیر نہیں پا رہا تھا۔ جب رام کلیا نے دور سے آواز دی، “گوری ہو گوری!” تو گوری نے رخ بدلا اور چھت کے قریب پہنچ گئی۔ آٹھ سال کی نڈھال بچی ڈرتے ڈرتے چھت سے سرک کر پانی میں آئی اور چپکالی کی طرح گوری کی پیٹھ پر سوار ہو کر اس سے چمٹ گئی۔

بچھڑے کی آزادی اور واپسی

گوری ایک بار پھر اپنے بچھڑے کے پاس آئی۔ اب رام کلیا بھی گائے کا مقصد سمجھ چکی تھی۔ اس نے گوری کی پیٹھ پر لیٹے لیٹے ہی اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور بچھڑے کے گلے سے رسی کی گانٹھ کھول کر اسے آزاد کر دیا۔ آزاد ہوتے ہی بچھڑا اور گوری گائے، دونوں پانی کے بہاؤ کے ساتھ تیرنے لگے۔

تقریباً ڈھائی گھنٹے کے طویل اور کٹھن سفر کے بعد، دن کے بارہ بجے گوری گائے ریل کی پٹری کے قریب پہنچی۔ جب دیہاتیوں اور بسنتی نے دیکھا کہ گوری کی پیٹھ پر رام کلیا سلامت بیٹھی ہے اور پیچھے پیچھے بچھڑا بھی آ رہا ہے، تو پورے مجمع میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بسنتی نے روتے ہوئے اپنی بیٹی کو گلے سے لگایا اور گوری گائے کو پیار کیا۔ تمام لوگوں نے جذباتی ہو کر گوری گائے کی اس عظیم ممتا اور وفاداری پر بلند آواز میں نعرے لگائے، “بول گوری میا کی جے! بول گؤ ماتا کی جے!” اور اسی خوبصورت منظر پر یہ افسانہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
گوری