Life Story OF DR. AHMED NADEEM ABBASI
پہلی قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
پہلی قسط میں کیا ہے ؟
پہلا حصہ
ٹائم لائن: 00:00 – 07:04
انٹرویو کا آغاز پروفیسر احمد ندیم عباسی کے تعارف سے ہوتا ہے، جہاں وہ اپنے خاندان کی تاریخی جڑوں اور ہجرت کے سفر پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کے والد، جو دہلی کے ایک تعلیم یافتہ شخص تھے، نے 1947 میں ان ساتھیوں کے شکوک و شبہات کے باوجود پاکستان ہجرت کا فیصلہ کیا جن کا خیال تھا کہ یہ نیا ملک چھ ماہ سے زیادہ نہیں چلے گا۔ کراچی پہنچنے پر خاندان کو انتہائی سادہ حالات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ جیل روڈ پر ایک چھوٹے سے دو کمروں کے سرکاری کوارٹر میں مقیم ہوئے۔
پروفیسر عباسی ان جذباتی یادوں کو شیئر کرتے ہیں کہ کس طرح ان کا خاندان اپنی جگہ اور وسائل کی کمی کے باوجود جیکب لائنز کے مہاجر کیمپوں میں جا کر اپنے گاؤں کے لوگوں کو تلاش کرتا تاکہ انہیں اپنے گھر میں پناہ دے سکے۔
یہ حصہ ایثار و قربانی اور اس سماجی ہم آہنگی پر زور دیتا ہے جس نے پاکستان کے ابتدائی سالوں کو تشکیل دیا۔ پروفیسر ان معمولی حالات پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ نو بھائیوں اور ایک بہن نے اسی چھوٹے سے گھر میں پرورش پائی۔ ان حالات نے ان میں ہمدردی اور استقامت کا جذبہ پیدا کیا۔ وہ اپنے والد کے ایک محنتی بیوروکریٹ کے طور پر کیریئر کا بھی ذکر کرتے ہیں جنہوں نے عوامی خدمت کو ترجیح دی۔ یہ گفتگو اخلاقی اقدار اور مستقبل کی کامیابی کے لیے اپنی تاریخی جدوجہد کو یاد رکھنے کی اہمیت پر مبنی ہے۔
دوسرا حصہ
ٹائم لائن: 07:05 – 14:08
یہ حصہ پروفیسر احمد ندیم عباسیکے بچپن، کراچی کے لائنز ایریا میں ان کی منتقلی اور ان کی ابتدائی تعلیم کے سخت نظم و ضبط پر مرکوز ہے۔ وہ اپنے دور کے طرزِ زندگی کا موازنہ آج کے دور سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ آج کے بچوں میں اکثر اس صبر کی کمی ہے جو کردار سازی کے لیے ضروری ہے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ جب وہ ایک قدرے بڑے “ڈی ٹائپ” گھر میں منتقل ہوئے تو وہ اس وقت کسی عیاشی سے کم نہیں لگتا تھا۔ تعلیم کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا تھا؛ ان کے والد اور چچا پیشہ ورانہ رول ماڈل تھے جنہوں نے شدید بخار میں بھی کبھی کام سے چھٹی نہیں کی۔
پروفیسر احمد ندیم عباسی اپنے ‘ہیپی ہوم اسکول’ اور بعد ازاں ‘ڈی جے سائنس کالج’ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اساتذہ کا نافذ کردہ نظم و ضبط ہی ان کی ترقی کی بنیاد بنا۔
وہ اعتراف کرتے ہیں کہ بچپن میں ان کے پاس کوئی عالمی ماہر بننے کا بڑا خواب نہیں تھا، بلکہ ان کی توجہ صرف سخت محنت کر کے اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کرنے پر تھی۔ گفتگو میں محلے اور مقامی مسجد کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے جس نے ایک مستحکم سماجی اور روحانی ماحول فراہم کیا۔ یہ حصہ اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ ایک مضبوط تعلیمی بنیاد صرف گریڈز کا نام نہیں، بلکہ یہ کام کی لگن اور بڑوں کے احترام کا نام ہے۔
تیسرا حصہ
ٹائم لائن: 14:09 – 21:12
(Oncology) اس حصے میں پروفیسر احمد ندیم عباسی’ڈاؤ میڈیکل کالج’ کے اپنے سفر اور والد کے انتقال کے اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں جس نے ان کی زندگی بدل دی۔ وہ صرف 21 سال کے تھے جب ان کے والد کا کینسر کی وجہ سے انتقال ہوا، اور یہی وہ سانحہ تھا جو ان کے لیے کینسر کے شعبے
میں مہارت حاصل کرنے کی بنیادی وجہ بنا۔ بڑے بھائی ہونے کے ناطے انہیں اپنی طبی تعلیم اور بیوہ والدہ اور بہن بھائیوں کی ذمہ داری کے درمیان توازن برقرار رکھنا تھا۔ 80 کی دہائی کے آخر میں جب ان کے اکثر کلاس فیلو پرکشش کیریئر کے لیے امریکہ ہجرت کر رہے تھے، انہوں نے خاندانی ذمہ داریوں کی خاطر پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی۔
وہ ان پیشہ ورانہ مشکلات کا ذکر کرتے ہیں جن کا انہیں سامنا کرنا پڑا، بشمول 11 ماہ تک بغیر تنخواہ کے کام کرنا، کیونکہ اس وقت سرکاری شعبے میں کینسر کے ماہرین کے لیے ملازمتیں موجود نہیں تھیں۔ گزارہ کرنے کے لیے وہ شام کے وقت مختلف کلینکس میں کام کرتے تھے۔
انٹرویو کا یہ حصہ ان کی ثابت قدمی اور ان مشکل فیصلوں کی عکاسی کرتا ہے جو نوجوان پیشہ ور افراد کو ذاتی فائدے اور قومی خدمت کے درمیان کرنے پڑتے ہیں۔ یہ اس دور کے پاکستانی طبی نظام کے چیلنجز اور اس بات کی ایک واضع تصویر پیش کرتا ہے کہ کس طرح ایک ذاتی نقصان کو دوسروں کی خدمت کے مشن میں بدلا جا سکتا ہے۔
چوتھا حصہ
ٹائم لائن: 21:13 – 28:17
آخری حصہ پروفیسر احمد ندیم عباسی کی برطانیہ اور آئرلینڈ میں اعلیٰ تعلیم اور بالآخر پاکستان کی خدمت کے لیے واپسی پر محیط ہے۔ وہ ریڈی ایشن آنکولوجسٹ بننے کے لیے اپنے تربیتی دور کی تفصیلات بتاتے ہیں۔ بیرونِ ملک مستقل قیام کے مواقع کے باوجود انہوں نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی اور اپنی جڑوں سے جڑے رہتے (Examiner)ہوئے ایک عالمی لیکچرر اور ممتحن
کے طور پر دنیا بھر کا سفر کیا۔ وہ ‘رائل کالج’ کے ممتحن کے طور پر اپنے کردار اور ترکی و سعودی عرب کے طبی اداروں کے ساتھ تعاون کا ذکر کرتے ہیں۔ پروفیسر احمد ندیم عباسی جدید معاشرے میں بڑھتے ہوئے انفرادیت پسندی کے رجحان اور محلوں میں “توسیعی خاندان” والے احساس کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ 1965 اور 1971 کی جنگوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح قومی بحران لوگوں کو متحد کر دیتے تھے۔
انٹرویو کا اختتام اپنی جڑوں اور روحانی سکون کے لیے مسجد سے جڑے رہنے کے ایک طاقتور پیغام پر ہوتا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کامیابی ایک ٹیم ورک ہے جس میں پیرامیڈیکس اور
(Soft Image) سپورٹ اسٹاف شامل ہیں، اور اصل اطمینان عالمی سطح پر پاکستان کے “مثبت تشخص”
میں حصہ ڈالنے سے ملتا ہے۔ دو کمروں کے کوارٹر سے لے کر ایک بین الاقوامی طبی اتھارٹی بننے تک کا ان کا سفر نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
دوسری قسط مکمل دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
دوسری قسط میں کیا ہے؟
پہلا حصہ
ٹائم لائن: 00:00 – 07:08
انٹرویو کا آغاز پاکستان میں طبی ماہرین کے گہرے مذہبی رجحان پر گفتگو سے ہوتا ہے۔ پروفیسر احمد ندیم عباسی بتاتے ہیں کہ ڈاکٹرز زندگی اور موت کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں، جو انہیں فطری طور پر ایمان اور خدمتِ خلق کی طرف مائل کرتا ہے۔ وہ ان مخیر ڈاکٹروں کی مثالیں دیتے ہیں جو خاموشی سے غریب مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں۔ اس حصے کا ایک بڑا حصہ ڈاکٹر مہر اللہ ترین کی یاد کے لیے وقف ہے، جو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک باصلاحیت نوجوان آنکولوجسٹ تھے اور حال ہی میں ایک بم دھماکے میں شہید ہو گئے۔
پروفیسر احمد ندیم عباسی انہیں اپنے صوبے کے لیے امید اور لگن کی علامت قرار دیتے ہیں۔ وہ طبی عملے کو درپیش خطرات، بشمول مریضوں کے لواحقین کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعات کا بھی ذکر کرتے ہیں، جس کی بڑی وجہ طبی شعور کی کمی اور نظام کی خرابیاں ہیں۔ ان خطرات کے باوجود، کمیونٹی اپنے ہیروز کو ہسپتال کے وارڈز اور اسکالرشپس ان کے نام منسوب کر کے خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ یہ حصہ طبی پیشہ ور افراد کی حساسیت اور اس جذباتی بوجھ کو اجاگر کرتا ہے جو وہ ایک ایسے معاشرے میں کام کرتے ہوئے اٹھاتے ہیں جہاں اکثر طبی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھا جاتا۔
دوسرا حصہ
ٹائم لائن: 07:09 – 14:17
یہ حصہ طبی شعبے کے بارے میں عوامی تاثرات اور پاکستانی ڈاکٹروں کے بیرونِ ملک منتقل ہونے (برین ڈرین) پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ پروفیسر احمد ندیم عباسی اس خیال کو چیلنج کرتے ہیں کہ بیرونِ ملک جانے والے ڈاکٹر محض “فراری” ہیں؛ وہ پاکستان میں ملازمتوں کی کمی اور جونیئر عملے، خاص طور پر خواتین ڈاکٹروں کے استحصال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ سقراط کے ایک مشہور قول کا حوالہ دیتے ہیں کہ “عظیم ذہن نظریات پر بحث کرتے ہیں جبکہ چھوٹے ذہن لوگوں پر،” اور عوام پر زور دیتے ہیں کہ وہ انفرادی کوتاہیوں کے بجائے نظامی مسائل پر غور کریں۔
(SIUT) پروفیسر احمد ندیم عباسی کے مطابق، پاکستان کی سب سے بڑی طاقت یہاں کا رضاکارانہ جذبہ اور خیراتی کام ہیں۔ وہ ایس آئی یو ٹی
کے ڈاکٹر ادیب رضوی جیسی شخصیات کا ذکر کرتے ہیں جو بے غرض خدمت کی ایک روشن مثال ہیں۔ تاہم، وہ قانون اور اکاؤنٹنگ سمیت مختلف شعبوں میں جونیئر پیشہ ور افراد کے استحصال پر بھی تنقید کرتے ہیں، جہاں سینئرز اکثر مناسب معاوضہ یا رہنمائی فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پروفیسر ذہنیت کی تبدیلی کی وکالت کرتے ہیں تاکہ سینئرز اپنے جونیئرز کو بااختیار بنائیں اور انہیں مالی و جذباتی طور پر اتنا مستحکم کریں کہ وہ وقار کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے سکیں۔
تیسرا حصہ
ٹائم لائن: 14:18 – 21:26
اس حصے میں گفتگو کا رخ حقیقی علم کی تعریف اور صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اخلاقی چیلنجز کی طرف مڑ جاتا ہے۔ پروفیسر احمد ندیم عباسی کے نزدیک علم یہ ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ وہ کیا نہیں جانتا اور وہ سیکھنے کے لیے تیار رہے، جبکہ جہالت اپنے نظریات دوسروں پر زبردستی تھوپنے کا نام ہے۔ وہ معاشرے میں گہری مطالعہ کی عادت اور تنقیدی سوچ کے زوال پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ لوگ اکثر آزادانہ تحقیق کے بجائے میڈیا کے مخصوص فلٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔
گفتگو میں طرزِ زندگی کے انتخاب کے المناک نتائج کا بھی احاطہ کیا گیا ہے، جیسے گٹکے کا بے دریغ استعمال، جو کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔ پروفیسر اس بات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں کہ لوگ اپنی محدود آمدنی صحت یا غذائیت کے بجائے نشہ آور اشیاء پر خرچ کر دیتے ہیں، لیکن وہ “اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے” کے اسلامی اصول پر قائم رہتے ہیں۔ وہ اس غلط فہمی کو بھی دور کرتے ہیں کہ معیاری علاج صرف مہنگی فیسوں سے ہی ممکن ہے۔
ایک ایسے مریض کا قصہ سنا کر جو بہتر علاج کی ضمانت کے لیے “مہنگے ڈاکٹر” کی تلاش میں تھا، وہ معاشرے کے اس غلط معیار کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں قیمت کو قابلیت کا ترازو سمجھ لیا گیا ہے۔
چوتھا حصہ
ٹائم لائن: 21:27 – 28:35
انٹرویو کا آخری حصہ پیرامیڈیکل اور نرسنگ اسٹاف کے ناگزیر کردار پر روشنی ڈالتا ہے، جنہیں پروفیسر احمد ندیم عباسی صحت کے نظام کا “دل” قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنے والد کے آخری لمحات کا ایک ذاتی قصہ سناتے ہیں، جہاں نرسوں نے انتہائی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاندان کو ان روحانی آیات کے بارے میں بتایا جو آخری سانسوں کے دوران تلاوت کرنی چاہئیں۔ ان کے بقول، ہمدردی کا یہ درجہ اکثر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے جو صرف لیڈ ڈاکٹر پر توجہ دیتے ہیں۔
پروفیسر عباسی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک سرجن شاید بہترین آپریشن کر دے، لیکن مریض کی صحت یابی کا 90 فیصد دارومدار اس نرسنگ کیئر پر ہوتا ہے جو
(Physicists) اسے بعد میں ملتی ہے۔ وہ کینسر کے علاج میں پسِ پردہ کام کرنے والے ماہرِ طبیعات
اور ٹیکنالوجسٹ سمیت پوری طبی ٹیم کے اعتراف اور ان کی قدر دانی کی وکالت کرتے ہیں۔ پروفیسر سامعین کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ ہسپتالوں یا ریستورانوں میں کام کرنے والے خدمت گاروں کا شکریہ ادا کریں، کیونکہ اس سے ایک زیادہ ہمدرد معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ وہ اس خیال پر بات ختم کرتے ہیں کہ صحت کی فراہمی ایک اجتماعی کوشش ہے، اور ٹیم کے ہر رکن کی قدر کر کے ہی ہم پاکستان میں مریضوں کے علاج اور پیشہ ورانہ حوصلے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
تیسری قسط مکمل دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
تیسری قسط میں کیا ہے؟
پہلا حصہ
ٹائم لائن: 00:00 – 07:16
(Alumni)انٹرویو کا آغاز طبی پیشے کی غیر جانبدارانہ اور عظیم فطرت پر بحث سے ہوتا ہے۔ پروفیسر احمد ندیم عباسی س بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر کے لیے ہر مریض برابر ہے، قطع نظر اس کے کہ اس کا پس منظر یا ماضی کیا ہے—خواہ وہ کوئی ہیرو ہو، عام مجرم ہو یا قیدی۔ وہ طبی اداروں کے سابق طلبہ
(DOGANA)، خاص طور پر ‘ڈاؤ المنائی’
کے کردار کو اجاگر کرتے ہیں، جو انڈس ہسپتال اور پیشنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن جیسے فلاحی منصوبوں کے ذریعے معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں۔ گفتگو میں “برین ڈرین” (ذہانت کا اخراج) کے نظریے پر بھی بات کی گئی ہے، جہاں وہ بتاتے ہیں کہ بہت سے ڈاکٹرز شہروں میں مہارت حاصل کرنے کے بعد بلوچستان جیسے دور دراز علاقوں میں اپنے آبائی شہروں کو واپس جاتے ہیں تاکہ وہاں کیمپ لگا کر اپنی کمیونٹی کی خدمت کر سکیں۔
وہ زیارت کے ‘الہجرہ اسکول ماڈل’ کو ایک بہترین مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں جو دور دراز علاقوں کے باصلاحیت مگر غریب بچوں کا انتخاب کرتا ہے اور انہیں ایسے پیشہ ور افراد میں بدل دیتا ہے جو بالآخر اپنی مٹی کی خدمت کرتے ہیں۔ یہ حصہ اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ پیشہ ورانہ تنظیمیں اور انفرادی کوششیں دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کے خلا کو پُر کر سکتی ہیں۔
دوسرا حصہ
ٹائم لائن: 07:17 – 14:32
(GPs)اس حصے میں پروفیسر احمد ندیم عباسی پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم کی ڈھانچہ جاتی ناکامیوں، خاص طور پر بنیادی اور ثانوی علاج کی کمی پر بات کرتے ہیں۔ وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ بڑے ہسپتالوں پر بوجھ اس لیے زیادہ ہے کیونکہ گلی محلوں میں جنرل پریکٹیشنرز
کا بنیادی نیٹ ورک ٹوٹ چکا ہے۔ اس کی وجہ سے عالمی سطح کے کینسر سرجنز اپنا وقت ان معمولی مسائل پر ضائع کرتے ہیں جنہیں ایک عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر بھی حل کر سکتا ہے۔پروفیسر احمد ندیم عباسی پاکستان کے ٹیلنٹ کے بارے میں مثبت نقطہ نظر رکھتے ہیں اور ملک کی منفرد فکری صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے “تیسری دنیا” کہنے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ پیشہ ورانہ کردار سازی میں والدین کی رہنمائی اور گھر کے ماحول کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں۔
انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر عبدالباری کی مثال دیتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ان کے والد کی دعاؤں اور عوامی خدمت کی طرف خصوصی تربیت نے ایک بڑے ہیلتھ کیئر نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔ بحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لالچ پر مبنی گھرانہ لالچی پیشہ ور پیدا کرے گا، جبکہ خدمت پر مبنی گھر “خاموش مجاہد” پیدا کرے گا جو اپنی کمائی غریبوں کے علاج پر خرچ کرتے ہیں۔
تیسرا حصہ
ٹائم لائن: 14:33 – 21:48
(Attitude) یہ حصہ پیشہ ورانہ کامیابی کے جدید تقاضوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور
“KSA” (علم، مہارت اور رویہ) کا تصور متعارف کرواتا ہے۔ پروفیسر احمد ندیم عباسی ایک گہری حقیقت بتاتے ہیں کہ طبی تعلیم علم اور مہارت پر توجہ دیتی ہے (جو کامیابی کا صرف 13 فیصد ہے)، جبکہ بقیہ 87 فیصد کا انحصار “رویے”
(EI) اور جذباتی ذہانت
پر ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ آج کل طبی پیشہ ور افراد کی بھرتی کے عالمی معیارات میں صرف امتحانی نمبروں کے بجائے وقت کی پابندی، ٹیم ورک اور ہمدردی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ “اسکول اسمارٹ” افراد، جو ہمیشہ کلاس میں ٹاپ کرتے ہیں، اکثر عملی زندگی میں ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں قیادت اور مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔
پروفیسر خود کو ایک بادشاہ کے بجائے “کنگ میکر” (بادشاہ بنانے والا) قرار دیتے ہیں اور اپنی توانائی دوسروں کو قیادت سکھانے پر صرف کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ بین الاقوامی ملازمتوں کے 87 فیصد سوالات اب خود آگاہی اور ہمدردی سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ حصہ پاکستانی تعلیمی نظام کے لیے ایک بیداری کا پیغام ہے کہ رٹا سسٹم سے نکل کر جذباتی ذہانت کو فروغ دیا جائے۔
چوتھا حصہ
ٹائم لائن: 21:49 – 29:04
ویڈیو کا آخری حصہ پیشہ ورانہ ترقی میں زبان اور ثقافتی شناخت کی اہمیت پر بات کرتا ہے۔ پروفیسر احمد ندیم عباسی انگریزی زبان کے غلبے کو چیلنج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تاریخ میں کسی بھی قوم نے غیر ملکی زبان اپنا کر ترقی نہیں کی۔ وہ چین اور ہنگری کے نوبل انعام یافتہ افراد کی مثال دیتے ہیں جو انگریزی داں نہیں تھے، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ سائنسی فضیلت کا زبان سے کوئی تعلق نہیں۔ گفتگو تاریخی رخ اختیار کرتی ہے اور مولانا شفیع عثمانی جیسے علماء کی اس تجویز کا حوالہ دیتی ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان اور عالمِ اسلام کے درمیان تعلق جوڑنے کے لیے عربی کو اپنایا جائے۔
پروفیسر احمد ندیم عباسی افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ ٹیلنٹ کے باوجود پاکستانی مشرقِ وسطیٰ میں “بے زبان” رہ جاتے ہیں کیونکہ انہیں عربی نہیں آتی۔ وہ ایک سہ لسانی تعلیمی نظام (اردو، انگریزی اور عربی) کی وکالت کرتے ہیں تاکہ عالمی اسلامی برادری سے بہتر طور پر جڑا جا سکے۔ انٹرویو کا اختتام سائنس کو “ہمدردی” کے ساتھ جوڑنے پر ہوتا ہے۔پروفیسر احمد ندیم عباسی کا مشورہ ہے کہ جدید دنیا میں آگے رہنے کے لیے پاکستانی پیشہ ور افراد کو مغربی طبی ترقی کو اپنی روایتی اقدار اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویے کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔
چوتھی قسط مکمل دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
چوتھی قسط میں کیا ہے؟
پہلا حصہ
ٹائم لائن: 00:00 – 11:53
(IQ) “KSA” (علم، مہارت اور رویہ) کے تصور کی گہرائی سے ہوتا ہے۔پروفیسر احمد ندیم عباسی بتاتے ہیں کہ آئی کیو
علم اور مہارت کا احاطہ کرتا ہے جو پیشہ ورانہ کامیابی کا صرف 13 فیصد ہے، جبکہ بقیہ 87 فیصد کا دارومدار جذباتی ذہانت (EQ) اور روئیے پر ہے۔ وہ تجربے کو اس “کنگھی” سے تشبیہ دیتے ہیں جو انسان کو تب ملتی ہے جب وہ گنجا ہو چکا ہوتا ہے، لہٰذا وہ تجربہ کار افراد کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی دانش نوجوانوں کو تب منتقل کریں جب ان کے پاس اسے استعمال کرنے کے لیے “بال” (وقت اور توانائی) موجود ہوں۔
(Reference)(AI) ایک دلچسپ کہانی شیئر کی گئی ہے جہاں ایک شخص غریب بچے سے کنگھیاں صرف اس لیے خریدتا ہے تاکہ وہ کسی ضرورت مند کو دے سکے، جو کہ ایک ہمدرد معاشرے میں فلاحی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ پروفیسر آرٹیفیشل انٹیلیجنس
کے ابھار پر بھی بات کرتے ہوئے متنبہ کرتے ہیں کہ اے آئی ڈیٹا پروسیسنگ میں تو انسان کو شکست دے سکتی ہے، مگر انسانی ایمان یا ہمدردی کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتی۔ وہ ایک بین الاقوامی ملازمت کے حوالے کا ذکر کرتے ہیں جہاں 87 فیصد معیار امتحانی نمبروں کے بجائے ٹیم ورک، ہمدردی اور چھوٹے عملے کے ساتھ سلوک پر مبنی تھا۔
دوسرا حصہ
ٹائم لائن: 11:54 – 23:46
یہ حصہ “استاد” اور “مینٹور” (اتالیق) کے درمیان اہم فرق پر مرکوز ہے۔ پروفیسر عباسی کہتے ہیں کہ استاد صرف ایک مضمون پر توجہ دیتا ہے، مگر مینٹور طالب علم کی پوری زندگی، بشمول اس کے گھر کے حالات اور روحانی صحت پر نظر رکھتا ہے۔ وہ خاندانی اخلاقیات پر ایک گہری بات بتاتے ہیں کہ ایک بچے کا سب سے بڑا “مضمون” اس کے والدین ہیں۔ ان کے بقول، اگر ایک طالب علم فنی مضامین میں ناکام بھی ہو جائے مگر اپنے والدین کی خدمت اور احترام میں 100 فیصد نمبر لے لے، تو وہ بنیادی طور پر کامیاب ہے۔
پروفیسر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایک جذباتی استعارہ بیان کرتے ہیں کہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد انہیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت تھی کیونکہ وہ دعائیں اب ان کی ڈھال نہیں تھیں جو انہیں لغزشوں سے بچاتی تھیں۔ وہ ان کامیاب پیشہ ور افراد پر تنقید کرتے ہیں جو اپنے بوڑھے والدین کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اسے تعلیم کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔ وہ بوڑھے والدین کے ساتھ بھی وہی نرمی اور جذباتی مارجن دینے کی تاکید کرتے ہیں جو ہم بچوں کی ضد پر دکھاتے ہیں۔
تیسرا حصہ
ٹائم لائن: 23:47 – 35:40
تیسرے حصے میں پروفیسر برصغیر میں رائج “زہریلے مقابلے کے کلچر” کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مغرب میں تعلیمی نظام ٹیم کی کامیابی پر توجہ دیتا ہے بجائے ان بچوں کو شرمندہ کرنے کے جو “پہلی تین پوزیشنز” میں نہیں آتے۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ ہر فرد کا اپنا منفرد ٹیلنٹ ہوتا ہے—بالکل ویسے ہی جیسے مچھلی درخت پر نہیں چڑھ سکتی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناکام ہے۔ گفتگو والدین کی اس ذمہ داری کی طرف مڑتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی ملکیت سمجھ کر ان پر اپنے ادھورے خواب مسلط کرنے کے بجائے انہیں ایک الگ شخصیت کے طور پر تسلیم کریں۔
وہ بچوں کو ان کی مرضی کے خلاف ڈاکٹر یا انجینئر بننے پر مجبور کرنے سے منع کرتے ہیں۔ اس حصے کا بڑا حصہ اے آئی (AI) کے خطرات کے لیے وقف ہے، جسےپروفیسر احمد ندیم عباسی سے نکلا ہوا گھوڑا” یا “بندر کے ہاتھ میں استرا” قرار دیتے ہیں۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ ماضی کی عظیم تہذیبیں تبھی تباہ ہوئیں جب انہوں نے خدائی قوانین میں مداخلت شروع کی، لہٰذا وہ نئی نسل کو ٹیکنالوجی کے انتہائی محتاط اور روحانی استعمال کی تاکید کرتے ہیں۔
چوتھا حصہ
ٹائم لائن: 35:41 – 47:34
سیریز کا آخری حصہ “برین ڈرین” اور ڈاکٹروں کے لیے بین الاقوامی مواقع کی موجودہ صورتحال پر بات کرتا ہے۔پروفیسر احمد ندیم عباسی خبردار کرتے ہیں کہ مغرب کی طرف ہجرت کا آسان دور ختم ہو چکا ہے کیونکہ وہاں مارکیٹیں سیر ہو چکی ہیں اور مشرقی یورپ و چین سے مقابلہ بڑھ گیا ہے۔ وہ ڈاکٹروں کو مشورہ دیتے ہیں (Wales) کہ وہ اپنی عزتِ نفس برقرار رکھیں اور صرف باہر جانے کی خاطر ادنیٰ شعبوں کو قبول نہ کریں۔ گفتگو سہ لسانی ہونے کی اہمیت کی طرف مڑتی ہے۔ وہ ویلز
کا ایک ذاتی قصہ سناتے ہیں جہاں مقامی حکومت نے پی ایچ ڈی ماہرینِ لسانیات مقرر کیے تاکہ بائی لنگوئل بچے اپنی مادری زبان (اردو) نہ بھولیں، کیونکہ مادری زبان جاننا دماغ کو زیادہ ورسٹائل بناتا ہے۔ وہ اردو یا عربی کے بجائے صرف انگریزی کو ترجیح دینے کو “غلامانہ ذہنیت” قرار دیتے ہیں، کیونکہ زبان شناخت کی پہلی تہہ ہے، جس کے بعد ثقافت اور پھر مذہب آتا ہے۔ وہ ایک طاقتور پیغام پر بات ختم کرتے ہیں: مسجد سے جڑے رہیں، والدین کا احترام کریں اور کسی بھی شعبے میں ایک “اچھا انسان” بننے پر توجہ دیں








