ہم کام کو عشق سمجھتے تھے: ڈاکٹر فیاض عالم کی جہدِ مسلسل کی

فیاض عالم

ہم کام کو عشق سمجھتے تھے: ڈاکٹر فیاض عالم کی جہدِ مسلسل کی داستان

​کام ،کام اور کام، جس سے زندگی بنتی بھی ہے اور یہ اس تواتر یا تسلسل سے نہ ہو تو زندگی بگڑتی بھی ہے یا یہ سُکڑ بھی جاتی ہے اورفروغ نہیں پاتی اور انسان ناکارہ ہوکر رہ جاتاہے! فاضل مصنف ڈاکٹر فیاض عالم نے اس فلسفے کو خوب سمجھ لیا اور اس فلسفے پر مشتمل نظریے اور افکار و خیال پر مبنی جس سنجیدگی سے سوچا اور سوچتے ہوءےاپنی زیر ِنظر تصنیف کا خاکہ ذہن میں مرتب کیا اور اس کی نہ صرف داغ بیل ڈالی بل کہ ایک ضخیم مستقل کتاب تصنیف کردی جو ہمارے ہاتھوں کی زینت بھی بنی اور ہمارے قلب و نظر کی تسکین کا باعث بھی بن گئی

 کتاب کاعنوان کہ ‘ ہم کام کو عشق سمجھتے تھے’، بظاہر نہ صرف منجھے ہوءے اور پختہ فکر انسانوں کی طرح فاضل مصنف کا بھی تصور ِ زندگی اور نظریہء حیات معلوم ہوتے ہیں بل کہ زیرِ نظر کتاب کا بنیادی و مرکزی خیال بھی یہی محسوس ہوتا ہےاور واقعتا” ہے بھی یہی !

​کتاب کا صوری و معنوی حسن

​کتاب اگرچہ صوری حسن کے اعتبار سے نہایت دیدہ زیب ، پُرکشش اور جاذبِ نظر ہے لیکن موضوع بھی اس کا یہی ہے کہ اگر قاری اسے پڑھنے کا ارادہ کرے اور اسے ہاتھ میں لے تو پھرپڑھے بغیر اسے نہ چھوڑے !بظاہر یہ ‘ایک سماجی کارکن کی سرگزشت’ ہے لیکن ایک زندگی کے حوالے سے اس میں کیا کچھ نہیں ہے

وہ اس کتاب کا انتساب ہو کہ جو بے پناہ کشادگی و وسعتِ قلب کے ساتھ افق کے اس پار جانے والوں کے نام بھی ہو کہ جن کی یادیں بسی ہیں دل کے اندر، پھر اپنے قلب و نظر کے ساتھیوں اور دوستوں کے لکھے ہوے تمہیدی کلمات وپیش نوایوں کے ساتھ، کہ جو ہر ایک اپنے اپنے میدان ِقلب و نظر کاماناہوا صاحبِ نظر قلم دوست اور فعال و سرگرم انسان بھی ہو

جن کے اثرات سے ان کا معاشرہ بھی متاثر ہوتارہاہو اور وہ اتنی قابلیت و اہلیت بھی ان میں رہی ہے کہ جو اپنے اپنے دائرے میں معاشرے اور بالخصوص نوجوانوں کو متاثر کرتی رہی ہو، ان کے بیان کردہ تاثرات بھی اس کتاب کی سمتوں کو متعین کرنے میں حد درجے معاون رہے ہوں، یہ سب اس تصنیف اور اس کے مشمولات و متن کو مزید پُرکشش بنانے میں قابلِ قدر خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔

​متن اور موضوعات کا احاطہ

​کتاب اپنے متن و مطالب کے لحاظ سے اولا” مصنف کی ذاتی زندگی و خاندانی احوال پر مشتمل ہے اور ان کے بعد مصنف کی سماجی و معاشرتی زندگی اور ان کی مصروفیات و تفصیلات اور خدمات کا احاطہ کرتی ہے جو خود مصنف کے الفاظ میں ‘کہیں کہانی کے انداز میں اور کہیں سادہ سپاٹ سی رپورٹ کی طرح’ تصنیف ہوئی ہیں۔

مصنف نے ان مطالب کو چاہے جس انداز اور لب و لہجے میں تحریر کیاہو لیکن وہ ‘ کہیں اور سناکرےکوءی’ کے مصداق ،مصنف کا ہر بیان بے حد دیانت دارانہ ،پُرکشش اور جاذبِ توجہ ہے اور ایسا ہے کہ یہ ہی سب پڑھنے کے دوران قلب و ذہن میں جذب ہوکر رہ جائیں!

​مصنف کا علمی و قلمی تعارف

​فاضل مصنف (فیاض عالم  )اگرچہ کثیرالتصانیف نہیں لیکن ان کے کالموں کاایک یا اولین مجموعہ ‘دوسرا رُخ’ اور ان کے پیشہ ورانہ تجربات کی مظہر ‘ پاکستان میں زیتون کی کاشت’ان کی دوتصانیف ان کے مزیدتعارف کے لیے موجود تھیں۔ جن میں سے دوسری تصنیف موضوع کی کاشت، تجربات اور امکانات کے موضوعات و مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔ان دونوں سے قطع نظر ان کی یہ زیر نظر تصنیف ایک پختہ کار اور باذوق و اہل سادہ و سلیس قلم کار مصنف کے طور پر قارئین سے خود کو متعارف کراتی ہے اور ہر ذوق و شوق کے قاری کے لیے اپنے میں بے پناہ کشش رکھتی ہے۔

​سماجی سرگرمیاں اور تصویری جھلکیاں

​اس سے بڑھ کر اس میں یہ بھی خوبی اہم اور نمایاں ہے کہ مصنف کے ذاتی تجربات کے ذیل میں مصنف کے عہد و معاشرے کے تناظر میں پیش آمدہ مسائل و حالات کا بھی اس طرح تذکرہ کرتی ہے کہ جن سے قاری اگر واقف نہ بھی رہے ہوں تو واقف ہوجائیں اور ان حالات و واقعات اور ان کے پس منظر و اثرات سے شناسائی رکھیں۔ فیاض عالم نے کتاب کو تو اپنی سماجی ومعاشرتی سرگرمیوں کے ذکر سے تو کوب دلچسپ و مفید بنایا ہے

متن کے ساتھ اس ساری نمائندہ سرگرمیوں اور صحبتوں کی تصاویر کو بھی شامل کرکے مزید دل چسپ اور پُرکشش بنادیاہے۔ان تصاویر کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتاہے کہ فاضل مصنف نے اس کتاب کی اشاعت کا منصوبہ بہت پہلے مرتب کرلیاتھا جو ان تصاویر کے توسط سے مصنف کے بیانات کی تشریح کے لیے بھی مفید ہیں ۔

​اکابرینِ ادب کی رائے اور ستائش

​اس تصنیف کے تنوع کو شاید کچھ قارئین یوں بھی سمجھ سکیں کہ یہ تصنیف ان کے خاص الخاص قارئین کے لیے ایک ‘عبقری کی سرگزشت'( مولاناسرج الحق) ،’سمجھے تو ڈاکٹر فیاض عالم ہی سمجھے؛(ہارون رشید)، ‘جاگتی آنکھوں کا خواب’ (تسنیم الحق فاروقی) بھی ہے اور اسے پڑھتے ہوءے یا پڑھ کر اس کے بارے میں خود کوئی رائے قائم کریں یا اپنی پسند کا اسےکوئی مناسب عنوان دیں۔

اس تصنیف کے سفارش کنندہ تینوں اکابرِ علم وادب اور تہذیب و معاشرت نے بجاطور پرفاضل مصنف کی ستائش اور حوصلہ افزائی کے لیے اپنا قلم استعمال کیاہے اور کچھ یقین سا ہوتاہے کہ فاضل مصنف کو ایسی مزید تصانیف کی بابت سوچنے اور ارادہ کرنے کاشوق دلایا ہے۔

​صنفِ آپ بیتی میں کتاب کا مقام

​یہ صنف یا موضوع یعنی خود نوشت یا آپ بیتی ایک مقبولِ عام صنفِ ادب ہے اور اردو زبان میں آءے دن متنوع تصانیف اس صنف ادب میں تخلیق پاتی رہتی ہیں اور قارئین کے قلب و نظرکو اپنی جانب متوجہ بھی کرتی رہتی ہیں۔ یقینا” ان تصانیف میں ایک سے ایک اچھی اور منتخب تصانیف بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں

جو صرف قارئین ہی نہیں اس صنف ِادب کے جانچنے اور پرکھنے والوں یا تنقید نگاروں کے توسط سے حال اور مستقبل کے لیےاپنا شمار بھی کرواتی رہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زیر ِ نظر تصنیف بھی ایک ایسی ہی تصنیف ہے جو اس صنف ِادب کی حالیہ منتخب اور معیاری تصانیف میں ضرورشمار ہوگی اور اپنا ایک مقام بھی حاصل کرے گی۔

​حرفِ آخر اور مبارکباد

​چناںچہ اس کی تصنیف پر اس کے استناد کے سبب ، جو محض مصنف کی یاداشتوں اور ذاتی حالات و واقعات پر مشتمل حافظے سے بڑھ کر ان کتابچوں، تصویروں ، اور معاصرین کے خطوط کی وجہ سے جو اس تصنیف کے فاضل مصنف ڈاکٹر فیاض عالم کے استفادے و ملکیت میں رہے اور اس تصنیف کے لیے ماخذ بنے ہیں اور اس کی اشاعت کے لیے ‘فضلی سنز ‘تہ دل سے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ایک عمدہ تصنیف کو اپنی ماہرانہ صلاحیتوں سے پیش کرنے کے لیے بہت مناسب اور دل نشیں انداز میں محرک اور سبب بنے ہیں

معین الدین عقیل کے بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی پوسٹ پر کلک کریں