والد کی سائیکل، گورڈن کالج اور بچپن کی حسین یادیں

Cycle

والد کا سائیکل سے عشق: یادوں کا ایک خوبصورت اور لازوال سفر

ہماری زندگی میں کچھ چیزیں محض مادی اشیاء نہیں ہوتیں، بلکہ وہ جذباتی لگاؤ اور خاندانی روایات کا ایک انمول حصہ بن جاتی ہیں۔ میرے خاندان میں بھی ایک ایسی ہی چیز تھی، جس نے محبت، ڈانٹ، اور سبق آموز یادوں کے کئی خوبصورت رنگ دیکھے۔ وہ تھی میرے والد کا سائیکل سے عشق۔ یہ صرف ایک سواری نہیں تھی، بلکہ والد صاحب کی زندگی کا ایک اہم ستون تھی جس سے وابستہ یادیں آج بھی میرے دل میں تازہ ہیں۔


والد کا سائیکل سے عشق اور والدہ کا تجسس

میرے والد کو اپنی اس سواری سے اس حد تک لگاؤ تھا کہ اسے والد کا سائیکل سے عشق کہنا مبالغہ نہ ہوگا۔ وہ ہر اتوار کا دن اس کے لیے وقف کرتے تھے۔ صبح سویرے ہی وہ کپڑا اور تیل لے کر بیٹھ جاتے، اور اس کی صفائی ستھرائی اور دیکھ بھال بڑے اہتمام سے کرتے تھے۔ اس چمچماتی ہوئی سائیکل کو دیکھ کر میری والدہ اکثر مسکراتے ہوئے چٹکی لیتیں اور کہتیں: “تمہارے ابا کی سائیکل میری سوکن ہے۔” ان کا یہ جملہ گھر بھر میں ہنسی کا باعث بنتا، لیکن والد صاحب اپنی دھن کے پکے تھے اور وہ اپنی یہ پیاری سائیکل کسی کو چھونے تک نہیں دیتے تھے۔

غفران بھائی کی سائیکل اور میرا کالج کا سفر

ہمارے گھر میں ایک اور سائیکل بھی تھی، جو میرے بڑے بھائی غفران امتیازی کے زیر استعمال تھی۔ وہ اس پر راولپنڈی کے مشہور گورڈن کالج اور ریڈیو سٹیشن آیا جایا کرتے تھے۔ مگر ان کا انداز والد صاحب سے بالکل مختلف تھا؛ وہ اس کی صفائی ستھرائی کا بالکل خیال نہیں رکھتے تھے۔ اسکول کے زمانے تک تو میرا سفر پیدل ہی طے ہوتا رہا۔

لیکن جب میں نے 1956 میں اسی گورڈن کالج میں فرسٹ ائیر میں داخلہ لیا، تو اسی سال غفران بھائی بی اے مکمل کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے سوشولیوجی میں ماسٹرز کرنے لاہور چلے گئے۔ خوش قسمتی سے ان کی وہ پرانی سائیکل مجھے مل گئی، اور یوں سمجھیے کہ میرے مزے آگئے۔ میں نے اس پر شان سے کالج آنا جانا شروع کر دیا اور شام کو دوستوں کے گھروں کے چکر بھی اسی پر لگتے تھے۔ مگر بھائی کی طرح، صفائی ستھرائی کے معاملے میں، میں بھی لاپروا ہی رہا۔


ایک شام کی غلطی: والد کی سائیکل پر سواری

زندگی کا یہ سفر ہنسی خوشی چل رہا تھا کہ ایک شام مجھ سے ایک بھول ہو گئی۔ مجھے کالج کے اسٹیج ڈرامے کی ریہرسل کے لیے ارجنٹ جانا تھا، لیکن جب میں نے اپنی سائیکل دیکھی تو وہ پنکچر تھی۔ مجھے دیر ہو رہی تھی اور والد صاحب اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے۔

میری نظریں صحن میں کھڑی والد صاحب کی چمچماتی ہوئی سائیکل پر پڑیں۔ وہ اس قدر صاف تھی کہ اس میں چہرہ نظر آ جائے۔ میں نے للچائی ہوئی اور پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا، دل نے ملامت کی لیکن وقت کی کمی کے باعث میں اس پر سوار ہو کر کالج روانہ ہو گیا۔ واپسی پر میں نے اسے انتہائی خاموشی سے اسی جگہ واپس کھڑا کر دیا، یہ سوچ کر کہ شاید کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔

والد کی باز پرس اور ڈانٹ

مگر والد کا سائیکل سے عشق ایسا تھا کہ وہ اس پر لگا ایک باریک ذرہ بھی پہچان لیتے تھے۔ اگلے روز جب وہ دفتر سے واپس آئے، تو انہوں نے مجھے پاس بلایا اور سنجیدگی سے پوچھا: “تم کل میری سائیکل پر کہیں گئے تھے؟”

میں نے ڈرتے ڈرتے اور سہمے ہوئے لہجے میں جواب دیا: “جی!” انہوں نے دوسرا سوال داغا: “کیوں؟” میں نے مرجھائی ہوئی آواز میں صفائی پیش کی: “میری سائیکل میں پنکچر تھا اور مجھے کالج جانا بہت ضروری تھا۔”

اس پر انہوں نے مجھے سخت ڈانٹ پلائی اور ایک ایسی بات کہی جو زندگی بھر کے لیے میرا اصول بن گئی۔ انہوں نے فرمایا:

“جب کوئی چیز یا سائیکل استعمال کرتے ہیں، تو اس کی دیکھ بھال بھی کرنی ہوتی ہے۔ اگر کالج جانا اتنا ہی ضروری تھا، تو ٹیکسی، رکشہ یا ٹانگے پر چلے جاتے۔ پیسے مجھ سے لے لیتے، لیکن میری سائیکل کو میری اجازت کے بغیر کیوں ہاتھ لگایا؟”

میں سر جھکائے، منہ لٹکائے ان کی باتیں سنتا رہا اور اپنی لاپرواہی پر شرمندہ ہوتا رہا۔


وقت کا بدلتا رنگ: ریٹائرمنٹ اور وراثت

وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور دن مہینوں میں بدلتے گئے۔ پھر زندگی میں وہ موڑ بھی آیا جب والد صاحب اپنی طویل ملازمت سے ریٹائر ہو گئے۔ عمر کے تقاضے اور بیماری کی وجہ سے ان کا سائیکل پر آنا جانا بالکل موقوف ہو گیا۔

ایک دن انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنی وہ عزیز ترین وراثت، یعنی اپنی سائیکل، ہمیشہ کے لیے میرے حوالے کر دی۔ یہ وہی سواری تھی جس سے والد کا سائیکل سے عشق پوری طرح عیاں تھا، اور اب اس کی حفاظت کی ذمہ داری میری تھی۔ جب مجھے وہ چمچماتی ہوئی سواری ملی، تو میں نے اپنی پرانی سائیکل کسی اور کے حوالے کر دی۔

الوداع اور بچپن کی حسین یادیں

والد صاحب اپنی طویل بیماری کے بعد، اسلام آباد میں بڑے بھائی کے پاس قیام پذیر تھے کہ اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے جانے کے بعد جہاں گھر میں ایک گہرا خلا پیدا ہوا، وہاں میری یادوں کے دریچوں میں یہ سارے واقعات ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے۔

آج بھی جب میں ماضی کی طرف دیکھتا ہوں، تو مجھے وہ اتوار کی صبح، وہ چمچماتی ہوئی سواری، اور والد صاحب کی وہ محبت بھری ڈانٹ یاد آ جاتی ہے۔ والد کا سائیکل سے عشق دراصل ان کی زندگی کے نظم و ضبط، اپنی چیزوں سے وفاداری اور اصول پسندی کا ایک خوبصورت آئینہ تھا، جس کی چمک میری یادوں میں آج بھی برقرار ہے۔

 میرے بچپن کے دن، کتنے اچھے تھےدن

 آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آ گئے
ثوبان امتیازی کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

سائیکل

  • Soban Imtiazi

    ثوبان امتیازی راولپنڈی کے گورڈن کالج سے وابستہ رہے، جہاں سے انہوں نے اردو زبان و ادب میں ایم اے اور لاہور کے لاء کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 32 سال تک ملک اور بیرون ملک بینکنگ میں خدمات انجام دیں۔ آپ شاعر، افسانہ نگار، مصنف، سٹیج اور ٹیلی ویژن کے تجربہ کار اداکار و صدا کار ہیں۔ PTV چکلالہ/راول پنڈی کے ابتدائی دور (بلیک اینڈ وائٹ) سے منسلک رہے اور اپنے زمانے کے منجھے ہوئے فنکار کے طور پر پہچانے گئے۔ آج کل لندن میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔
    کئی کتابوں کے مصنف ہیں؛ جن میں شاعری کے حوالے سے: "احساس کی لو" اور "شام ڈھلے"۔ اور نثر میں ان کی چند آپ بیتیاں، مضامین، خطوط، روزنامچے کے اوراق اور سفرنامہ ترکی پر مبنی "چند یادیں، چند باتیں" افسانوں کا مجموعہ "داستانیں مری، یہ فسانے مرے", سچے واقعات پر مبنی دلچسپ کتاب "باتیں ہماری یاد رہیں گی" شامل ہیں۔ آپ آج کل خود نوشت سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں، جو تکمیل کے مراحل میں ہے۔
    آپ 80  سال سے زائد عمر کے باوجود فعال ہیں۔ لکھتے، پڑھتے ہیں اور ادبی حلقوں سے جڑے رہتے ہیں۔

    View all posts