اردو ادب کا سفر اور پروفیسر جاوید محسن ملک کا علمی ورثہ
اردو ادب کا سفر پروفیسر جاوید محسن ملک کی شخصیت میں سائنسی عقل اور ادبی لگن کا ایک نایاب سنگم پیش کرتا ہے۔ ماہرِ حیاتیات ہونے اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے لیے 40 سے زائد درسی کتب لکھنے کے باوجود ان کا اصل عشق اردو زبان کی خدمت ہے۔ ان کی تازہ ترین تصنیف “اردو ہے جس کا نام” ان کی 370 صفحات پر مشتمل گراں قدر ادبی خدمات کا ایک شاندار ثبوت ہے۔
کتاب “اردو ہے جس کا نام” کی ترتیب
اردو ادب کا سفر ہمیں ایک ایسی کتاب کی طرف لے جاتا ہے جو نہ صرف ضخیم ہے بلکہ نہایت جامع بھی ہے۔ اس کتاب میں پہلے 267 صفحات نثر کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جس میں ممتاز ادیبوں، نقادوں اور اردو ادب کے مؤرخین کے مضامین شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کتاب کے آخری 100 صفحات حصہ نظم کے لیے رکھے گئے ہیں، جہاں اردو زبان کے حسن پر مختلف ادوار میں لکھی جانے والی نظمیں اور غزلیں بڑی محنت سے اکٹھی کی گئی ہیں۔ یہ حصہ ان لوگوں کے لیے بے حد اہم ہے جو اردو ادب کا سفر قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اشعار کا برمحل استعمال کرنا چاہتے ہیں۔


تاریخی ارتقاء کی دلچسپ کہانی
اردو ادب کا سفر ڈاکٹر محمد عطا اللہ خان کے مضمون میں 1857 سے لے کر حال تک کے حالات کو سمیٹتا ہے۔ یہ مضمون اردو کے ایک علاقائی بولی سے لے کر عالمی زبان بننے تک کی مکمل کہانی بیان کرتا ہے۔ اس میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا گیا ہے کہ اردو کے ابتدائی قواعد اور لغات یورپی مبلغین نے مرتب کیے تھے تاکہ وہ یہاں آکر تبلیغ کر سکیں۔ اٹھارویں صدی تک یورپ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبے قائم ہو چکے تھے، جو اردو ادب کا سفر جاری رکھنے اور اس زبان کی عالمگیریت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سرکاری حیثیت کا قیام
اردو ادب کا سفر 1837 کے اس اہم موڑ سے جڑا ہے جب فارسی کی سرکاری حیثیت ختم ہوئی۔ 1839 میں اردو کو پہلی بار شمال میں سرکاری زبان قرار دیا گیا، جس نے اسے عوامی اور دفتری حلقوں میں جڑیں مضبوط کرنے کا موقع دیا۔ اس مضمون میں ذکر ہے کہ فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج نے نثر کو سادہ بنایا۔ اسی دوران قران کریم اور دیگر مقدس کتابوں کے اردو تراجم ہوئے، جس نے اردو ادب کا سفر ہر گھر تک پہنچا دیا، جسے سر سید احمد خان نے اردو اسلوب کے لیے ایک مستند دستاویز قرار دیا۔

اکابرینِ ملت کی خدمات
اردو ادب کا سفر ان محسنوں کے تذکرے کے بغیر ادھورا ہے جنہوں نے اسے اپنے خونِ جگر سے سینچا۔ غالب نے اردو نثر کو بے تکلفی اور سادگی دی، جبکہ سر سید، حالی، شبلی اور آزاد جیسے اکابرین نے اردو ادب کو عالمی معیار کے برابر لا کھڑا کیا۔ اردو نے پنجاب، بہار اور دکن جیسے خطوں کو ایک لسانی کڑی میں پرو دیا۔ تاہم، یہی سرکاری سرپرستی 1867 میں اردو ہندی تنازع کا سبب بنی، جس نے اردو ادب کا سفر متاثر کیا اور آگے چل کر برصغیر کی سیاست اور تقسیم میں اہم کردار ادا کیا۔
فورٹ ولیم کالج کا کردار
اردو ادب کا سفر فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ اس ادارے کا مقصد انگریز افسران کو مقامی زبانوں سے روشناس کرانا تھا، مگر اسی بہانے اردو نثر کو ایک نئی زندگی اور علمی وقار حاصل ہو گیا۔ ڈاکٹر جان گلکرسٹ اس ادارے کی اصل روح تھے، جنہوں نے اردو ادب کا سفر جاری رکھنے اور اردو کو ایک باوقار علمی حیثیت دلوانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس کالج نے میر امن دہلوی، حیدر بخش حیدری اور للو لال جیسے ادیبوں کو ایک جگہ جمع کر کے اردو نثر کے ذخیرے میں بیش بہا اضافہ کیا۔

قلم و تلوار کے شاہسوار
اردو ادب کا سفر منصور آفاق کے ایک دلچسپ مضمون کے ذریعے یہ انکشاف کرتا ہے کہ اردو کے کئی عظیم سپاہی صرف الفاظ کے غازی نہ تھے بلکہ میدانِ جنگ کے شاہ سوار بھی تھے۔ فیض احمد فیض سے لے کر ن م راشد تک اور منیر نیازی سے لے کر حفیظ جالندھری تک، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے میں تلوار تھام رکھی تھی۔ امیر خسرو سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ غالب تک پہنچتا ہے، جو سپاہی تو نہ تھے مگر ان کی سو پشتوں کا پیشہ سپاہ گری رہا ہے، جو دراصل اردو ادب کا سفر ہی تھا۔

نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ
اردو ادب کا سفر پروفیسر جاوید محسن ملک کی اس متحرک شخصیت کے ذریعے آج بھی جاری ہے جو 78 برس کی عمر میں بھی علمی کاموں میں جتے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کا شعبہ کوئی بھی ہو، اگر دل میں اپنی زبان اور ثقافت کی تڑپ ہو تو وہ تنہا ہی اپنی ذات میں ایک انجمن بن جاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اردو ادب کا سفر اور اس کے حسن کو اجاگر کرتی ہے بلکہ نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے۔
شاعری کی شاندار میراث
پروفیسر جاوید محسن ملک کی اس تالیف کا سب سے خوبصورت اور قیمتی حصہ بلاشبہ اس کا شعری حصہ ہے، جو کے شاعرانہ سفر کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ کتاب کے آخری 100 صفحات خاص طور پر ‘حصہ نظم’ کے لیے وقف کیے گئے ہیں، جو مختلف ادوار میں اس زبان کی فنی اور جمالیاتی ترقی کے ایک متحرک ریکارڈ کا کام کرتے ہیں۔ اس حصے میں بڑی محنت سے ایسی منتخب غزلیں، نظمیں اور کلاسیکی اشعار جمع کیے گئے ہیں جو براہِ راست اردو زبان کی شیرینی، خوبصورتی اور اس کے گہرے جذباتی اثر کو بیان کرتے ہیں۔ عام قارئین اور محققین دونوں کے لیے یہ حصہ یہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح قافیہ اور ردیف نے ہمیشہ کے تشخیصی سفر میں ایک اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔


اردو پر جوش ملیح آبادی کی نظم دلیپ کمارک کی زبانی سننے کے لئے امیج کو پریس کریں
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
اس قسم کے مزید تبصرے پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر یس کریں






