روشن حویلی اور جمنا مل حویلی 1920 کی تاریخی داستان

1920

روشن حویلی اور جمنا مل حویلی 1920 کا تاریخی پس منظر

[ یہ عمارت 1920 جمنا مل نے تعمیر کی قیام پاکستان کے بعد یہ اعجاز تالپور کو ملی 1978 میں روشن فمیلی نے اعجاز تالپور سے خریدلی. اب یہ حویلی میں روشن فیملی کے پاس ہے] جمنا مل حویلی کی 1920 میں تعمیر ہوئی

یہ ٹنڈو آدم شہر کی ابتدائی عمارت ہے جو اب تک اپنی اصل شکل میں موجود ہے.حویلی کا ایریا تقریباً 1200 گز ہے .اس حویلی میں 15 سے زائد کمرے ہیں . یہ حویلی ایک بلند ٹیلہ پر تعمیر کی گئی ہے. اس حویلی کی اصل خوبصورتی کو محسوس کرنے کے لیے ہمیں آنکھ بند کرکے ماضی کا سفر کرنا پڑے اور اس زمانے میں جانا پڑے گا ۔ جس وقت یہ تعمیر ہوئی تھی ۔

ریلوے اسٹیشن سے شہر کی جانب سفر اور 1920 کا ماحول

آے چلتے ہیں ماضی میں یہ 1920 ہے ۔ حیدرآباد سے خیبر میل ٹرین کے ذریعے ٹنڈو آدم کے ریلوے اسٹیشن پر اتار ہو ۔ مجھے سیاحت کا شوق ہے. اس سلسلے میں ٹنڈو آدم آیا ہو ۔ یہ ایک چھوٹا شہر ہے ۔ جس کی بنیاد شہیدِ آدم خان مری نے رکھی تھی ۔ اب بھی اس شہر پر آدم خان مری کے خاندان رئیس خیر محمد مری کا اثرو رسوخ ہے ۔

ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن بہت خوب صورت ہے اس ریلوے اسٹیشن سے زرعی اجناس ہندوستان اور کراچی بندر گاہ جاتا ہے ۔ میں اسٹیشن سے باہر نکلا تو میرے دائیں جانب مسافر خانہ اور ٹکٹ گھر ہے ۔ اس کے سامنے ایک بڑا میدان ہے ۔اس میدان میں درخت 🌲 لگے ہوئے تھے اور درختوں کے نیچے تانگہ ۔ بیل گاڑیاں ۔ اونٹ گاڑیاں اور گھوڑے بندھے ہوئے تھے ۔

میں پیدل ہی شہر کی جانب روانہ ہوا تو تھوڑے فاصلے پر ایک عمارت نظر آئی جو 1907 میں تعمیر ہوئی یہ ریلوے ناکہ ہے جو یہ مختلف اشیاء پر لگا آکٹر ٹیکس وصولی کرتی ہے اس کے ساتھ ایک چھوٹی ریلوے لائن بھی تھی جو تھوڑے فاصلے پر کلری کاٹن فیکٹری میں جاتی ہے

وکٹوریہ اسکوائر کے تاریخی دفاتر اور مائی مریم مسجد 1920 کے دور میں

DIWAN TEKCHAND ROAD میں نے

 کے فٹ پاتھ پر چلنا شروع کیا فٹ پاتھ کے ساتھ درخت لگے ہوے تھے روڈ دائیں جانب این کے نارائن داس اکیڈمی ( 1912 ) ہے اسی کے ساتھ میونسپل کمیٹی آفس بلڈنگ اور اس کے ساتھ رانی پارک ( گلشن صدیقی پارک) ہے اس ایک بڑا چوک میں پہنچا ( وکٹوریہ اسکوائر) چوک کے چاروں طرف پارک بنے ہوئے ہیں اور چوک کی ایک جانب شہر کی پہلی واٹر سپلائی ٹنکی اور پانی کا کنواں ہے اس کے برابر ایک اسکول ہے جس GOVERNMENT VERNACULAR SCHOOLکا نام

 (1868)  اور سامنے کی جانب پولیس اسٹیشن ۔ (1907) اور مختیار کار آفس ( 1902) آفس ہے ان کے پچھے ایک ٹیلہ پر مجھے ایک خوبصورت حویلی نظر آئی جس کی خوبصورتی نے مجھے متاثر کیا اور میں اس حویلی کو دیکھنے کے لیے اس کی طرف چلا۔ میں وکٹوریہ اسکوائر سے پولیس اسٹیشن کی طرف چلا اور تھوڑی مسافت بعد میں حویلی کے سامنے کھڑا تھا

نماز ظہر کا وقت ہوگیا تھا اور پیاس بھی لگ رہے تھی قریبی ہی ایک مسجد کے گنبد نظر آئے اس مسجد کا طرز تعمیر کلہوڑو دور ہے اس مسجد نام مائئ مریم مسجد ( میمن مسجد ) ہے یہ شہید آدم خان مری کی بہن نے تعمیر کروائی تھی اس کے ساتھ مھٹے پانی کا کنواں بھی موجود ہے کنواں کے پانی سے اپنی پیاس بجھائی اور وضو کرکے نماز ادا کی اور مسجد کے پاس کافی گھر نظر آے. ایک مکان پر جس پر نصب ایک تختی پر

MOT RAM GOPAL DAS

 1920 تحریر ہے ۔ اب میں واپس اس حویلی کے سامنے آگیا اور ایک ایسی جگہ کی تلاش شروع جس سے مجھے اس حویلی مکمل طور پر نظر آے ۔اس وقت تک اس کے پاس ابھی تک عمارتوں کی تعمیر شروع نہں ہوئی تھی ۔

سانگرو کی جھیل اور حویلی کی خوبصورتی کی 1920 میں تصویر کشی

(HINGORAN DHAND) کافی تلاش کے بعد مجھے ایک ایسی جگہ مل گئی ۔ یہ ایک ریت کا ٹیلہ ہے جو کہ ماضی میں یہاں سے گزرنے سانگرو کی یادگار ہے. اس کے پیچھے ایک خوبصورت جھیل

ہے جس میں ملاح مچھلی پکڑ رہے ہے اور اس کے ساتھ پھلوں کے باغات ہے ۔میں اس جگہ پر بیٹھ گیا اور تھیلے سے کاغذ قلم اور دوات نکلی اور اس حویلی کی خوبصورتی کو اپنے قلم سے کاغذ پر منتقل کرنے لگا ۔ میں کافی دیر تک اس حویلی کی خوبصورتی اور اس کے بنانے والے کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیتا رہا ہے ۔ یہ حویلی اس طرح ڈائزین کی گئئ ۔ دیکھنے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ حویلی جھیل کی پانی کی لہروں پر ( لہر کا ڈائزین دائیں سیڑھی جانب موجود ہے)بنائی گئی ہے ۔

اور اس کے دونوں پلر ( ستون ) جو کہ دوزاے کے دائیں اور بائیں جانب ہے ۔ جھیل کی لہروں پر موجود کنول کے پھول ( یہ پھول ہندو مت اور بدھ مت میں اہمیّت ہیں ) سے نکلے رہے ہیں ۔ اور پلر کے ساتھ جو دیوار پر ہے اس میں پرندوں کی شکل بنائی گئی ہے خاص طور پر بطخ کی اور ان کے درمیان پھولوں کی اشکال بھی بنائی گئی ہے ( اب ان کو ختم کریں کرکے(1920) ان کی جگہ انگش حروف بنا دیں گئے ہیں) مغربی سمت کی دیوار پر ابھی پھولوں کی اشکال موجود ہے.

حویلی کی دیواریں سطح زمین 30 فٹ اونچی ہے۔ یہ دیوار مشرقی سمت سے مغربی سمت اور شمالی سمت سے جنوبی سمت تک ہے ۔ یہ حویلی پکی بڑی اینٹوں اور مٹی چونے کے مصالحہ سے تعمیر کی گئی ہے. دیوار کے ساتھ ایک چبوترہ ہے ۔ اور ساتھ میں لوہے کی جالی بھی لگی ہوئی ہے. حویلی کی دیوار پلر کے ساتھ منسلک ہے ۔ دیوار کی موٹی ڈھاٹی سے تین فٹ ہے

حویلی کی جنوبی سمت اور مرکزی دروازے کی 1920 میں بناوٹ

جنوبی سمت :- حویلی کا مرکزی حصہ جنوبی سمت ہے ۔ اس سمت میں حویلی کا مرکزی دوزاہ ہے ۔اس کے دائیں جانب دو دوزاے اور دو کھڑکیاں اور ہو دان ہے ۔ ایک دوزاہ انتظار گاہ کا اور دوسرا دوزاہ دیوار کے آخر میں اندر کی طرف یہ ایک گلی میں کھلتا ہے . یہ دوزاہ خواتین اور ملازمین کے استعمال میں ہے ۔ مرکزی دوزاہ کے بائیں جانب ایک دوزاہ ہے یہ حویلی کے کمرہ میں کھلتا ہے ۔ اور پانچ کھڑکیاں ہے اور تین ہوا دان ہے. دیوار کے اوپری حصے پر خوبصورت ٹاٹل کی ایک قطار لگی ہوئی ہے.

1920
روشن حویلی اور جمنا مل حویلی 1920

اسلامی، مغل اور ہندو فنِ تعمیر کا شاہکار اور مرکزی دروازہ

مرکزی دوزاہ :- اس عمارت کی اصل خوبصورتی مرکزی دوزاہ ہے ۔جس میں اسلامی ۔ ہندو مت اور مقامی دستکاری کا خوبصورت انداز میں استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ دوزاہ ایک چبوترہ پر بنایا گیا جو کہ ایک پانی کی لہر 🌊 کی شکل میں ڈائزین کیا گیا ہے ۔ اس پلر کے ( ستون )دو کنول کے پھول بنائے گئے ہیں جن میں سہہ رکنی پہلو پلر تعمیر کیے گئے ہیں۔

1920
روشن حویلی اور جمنا مل حویلی 1920

یہ پلر دیواروں اور حویلی کی چھت کو سہارا دے رہے ہیں ۔ ان پلروں کے درمیان ایک ڈائزین ہے ۔جس کو “كريس” (karnis) کہا جاتا ہے۔ کارنیس ایک آرائشی مولڈنگ ہے جو عام طور پر دیوار یا عمارت کے اوپری حصے میں رکھی جاتی ہے جہاں یہ چھت یا چھت سے ملتی ہے۔ ان کے درمیان خوبصورت ٹاٹل لگے ہوئے ہیں. اس طرح کے کارنیس ہر پلر میں دو ہے.

اس کے اوپر ایک خوبصورت کارنیس بنایا ہے اور اس پر درخت بنایا گیا ہے جو کہ کھجور یا پتے کے درخت سے مماثلت رکھتا ہے. پلروں کے ساتھ تین اطراف خوبصورت ٹاٹل لگے ہوئے ہیں جن پر جیومیٹرکیل ڈیزائن کے ساتھ پیٹرن میں ہلکے سبز رنگ کا ہے اور درمیان میں ایک چھوٹا، سرخی مائل گلابی بیضوی رنگ ہے ۔ ٹاٹل کے ساتھ دوزاہ کے عمودی حصہ پر ایک خوبصورت بیلسٹر ہے۔

بیلسٹرز عمودی معاون ہوتے ہیں، یہ آرائشی پھولوں کے ہوتے ہیں، اس کے ساتھ بیلسٹر ہے اس کے اوپر اور نیچے آرایشی پھول بنے ہوئے ہیں ان کے ساتھ خوبصورت آرچ بنا ہوا ہیں ، آرچ کے درمیان مور کے پروں بنے ہوئے ہیں ( مور مغل کا نشان اور ہندو مت میں اہم مقام ہے) محراب کے نیچے ہالا کی خوبصورت نکاشی کی گئی ہے ۔

جو کہ ایک آسمان کا منظر پیش کرتا ہے اس کے ساتھ ایک خوبصورت ڈیزائن ہے اور دائیں سے بائیں جانب بنایا گیا ۔۔ تصویر میں ڈیزائن ایک آرائشی شکل ہے یہ میں مغل دور کے فن تعمیر میں پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے ڈائرین ۔ لاہور قلعہ ۔ مسجد وزیر خان ۔ بادشاہی مسجد ۔ اس طرح کے آرائشی اشکال ہندوستان اور پاکستان کے مغل تعمیرات میں عام ہے حویلی کے مرکزی دوزاہ قیمتی لکڑی کا بنا ہوا ہے ۔

1920
روشن حویلی اور جمنا مل حویلی 1920

جس پر خوبصورت جیو میٹریکل ڈائزین بنے ہوئے ہیں ۔ اس دوزاہ تک پہنچے کے لیے چھ سیڑھیاں بنائی گئی ہے جن پر سنگ مرمر لگا ہوا ہے ۔ مرکزی دوزاہ کے اوپر کی طرف ایک خوبصورت ڈیزائن بنا ہوا ہے ۔ جو کہ اس وقت رائج تھا

زمیندار سیٹھ جمنا مل سے ملاقات اور اندرونی صحن کا نقشہ

جمنا مل سے ملاقات:- میں لکھنے میں مصروف تھا کہ اچانک حویلی کا دوزاہ کھلا ۔ اس میں ایک شخص نکل کر سیدھا میری طرف آیا اور مجھے مخاطب ہوکر کہا آپ کو زمیندار صاحب نے بلایا ہے یہ کون شخص ہے جو کافی دیر سے ٹیلہ پر بٹھا ہے اس کو حویلی میں بلا کر لاؤ ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کس کی حویلی ہے اس نے بتایا یہ ٹنڈو آدم شہر کے مشہور زمیندار اور سیٹھ جمنا مل کی ہے ۔

میں اس کے ساتھ اس کی حویلی کی طرف روانہ ہوا ۔ سیڑھیاں چڑھ کر حویلی کے مرکزی دوزاہ اندر داخل ہوا تو سامنے ایک اور دوزاہ تھا میں دائیں جانب والے چھوٹے دوزاہ سے حویلی میں داخل ہوا . درمیان میں ایک بڑا صحن ہے ۔ جو کہ خوبصورت ٹاٹلوں سے بنا ہوا ہے ۔ اس کے مشرق کی جانب باورچی ۔اسٹور روم اور بیت الخلا بنے ہوئے ہیں ۔ ان کی بیرونی دیوار پر اوپر کی جانب خوبصورت ٹاٹل لگے ہوئے ہیں.

1920
روشن حویلی اور جمنا مل حویلی 1920

مغربی کی جانب کمریں بنے ہوئے ہیں ۔ یہ حویلی دو منزلہ ہے اوپری حصہ زنانہ خانہ اور نیچلہ حصہ مردانہ خانہ ہے ۔ مغربی سمت کی طرف ایک برآمد ہے . برآمد کے دو ستون کے درمیان ایک آرچ بنی ہوئی ہے ۔برآمد کے ستون دونوں طرف سے سہہ رکنی پہلو ہے. صحن کی طرف کا ستون کا حصہ روایتی ہندوستانی فن تعمیر آرائشی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایئں ۔ ۔یہ آرائشی اشکال سے سجاوٹ کی گئی جو کہ مغل طرز تعمیر سے مثماثلت رکھتا ہے. حویلی کی چھت ٹیر۔ گاڈر اور خوبصورت اینٹوں سے بنائی گئی ہے ۔

زنانہ خانے کی لکڑی کی سیڑھیاں اور جمنا مل کا طرزِ زندگی

سیڑھیاں:- شمالی اور جنوبی جانب لکڑی کی سیڑھیاں ہے جو کہ زنانہ جانے کو جاتی ہے ۔ لکڑی کی سیڑھیاں اس وقت حفاظتی نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی تھی ( لکڑی کی سیڑھی پر کوئی بھی تیزی سے چڑھ یا اتار نہں سکتا )۔ سیڑھیاں کو لکڑی کی چھت سے ڈھکا گیا ہے اور حفاظت کے لیے لکڑی کی جالیاں بھی بنائی گئی ہے سیڑھیاں کے داخلی دوزاہ بھی ہے۔

مجھے ملازم نے ایک کمرے میں لے کر گیا . اس کمرے دو حصے ہیں ایک حصہ چھوٹا ہے اور دوسرا بڑا ہے ۔ طرز تعمیر سادہ ہے ۔ کمرے میں الماریاں دیواروں میں لگی ہوئی ہے کمرے میں کھڑکیاں مشرقی اور مغربی جانب ہے ۔ دوزاہ لکڑی کے ہے ۔ چھوٹے کمرے میں ایک لکڑی کے تختے روئی کے گدے پر روایتی لباس ملبوس جمنا مل بیٹھا ہوا تھا ۔

اس کے دائیں طرف ایک چھوٹی میز تھی ۔ جس پر رجسٹر رکھے ہوئے تھے ۔ اس نے مجھے میرا تعارف معلوم کیا ۔ میں نے اس کو بتایا کہ مجھے نگر نگر گھومنے کا شوق اور پھر اس کتاب تحریر کرتا ہوں ۔ کافی دیر تک بات ہوتی رہی ۔ اب سورج ڈھلنے لگا تھا . اور مجھے واپس بھی جانا ہے ۔ اس لیے جمنا مل سے اجازت لے کر حویلی سے نکلا حویلی سے نکل کر میں نے مغربی سمت کی معلومات تحریر کی.

حویلی کی مغربی سمت کے جھرونکے اور دکانوں کا منظر

مغربی سمت :- اس طرف ایک خوبصورت چبوترہ اور اس پر لوہے کی جالی لگی ہوئی ہے ۔ دیوار تقریباً 30 فٹ سے زیادہ اونچائی ہے ۔ اس طرف 5 کھڑکیاں اور 5 ہوا دان ہے اور اوپر حصہ کے 8 ہوا دان ہے۔ اوپری دیوار میں کوئی کھڑکی میں ہے ۔اس طرف دو دوزاہ ہے ۔(1920) ایک دوزاہ زیادہ تر خواتین یا گھریلو ملازمین استعمال کرتے ہیں . اس دوزاہ کے ساتھ سیڑھیاں بنی ہوئی ہے ۔اور اس پر ایک چھوٹی خوب صورت چھت بھی ہے . کیونکہ اس ملکہ وکٹوریہ مارکیٹ اور دیگر دکانیں ہے ۔ اس دوزاہ کے ساتھ بیت الخلا بنے ہوئے ہیں. دوسرا دوزاہ مشرقی سمت کے کونے والے کمرہ کا ہے ۔

شاہی بازار، مچھلی مارکیٹ اور اسٹیشن کی طرف واپسی کا احوال

DHARA MDAS ROADمیری منزل شاہی بازار ہے جہاں پر ملکہ وکٹوریہ مارکیٹ ہے ۔ لیکن راستے میں بھی اور دکانیں ہے اور نئی تعمیرات بھی ہورہی ہے ۔ میں شاہی بازار سے ہوکر

 پر پہنچا تو کونے پر ایک ہوٹل ہے اور سامنے گھوڑے اور تانگہ کھڑے تھے ۔ سامنے مچھلی مارکیٹ (1913 ) کی خوبصورت عمارت اور ڈاک خانہ کی عمارت ہے اس کے سامنے خالی میدان میں درخت اور ایک کنواں ہے ۔ میں روڈ ساتھ فٹ پاتھ پر چلنا شروع کیا راستے میں میونسپل ڈسپنسری ( 1884 ) اور سامنے ایک چھتری نظر آئی جس پر ایک سنتری کھڑا تھا ۔ اس روڈ پر کافی جگہوں پر نئی تعمیرات ہورہی ہے . میں بائیں RADHA BAZARجانب رخ کیا تو

 شروع ہوگیا ۔ تھوڑی مسافت کے بعد ریلوے اسٹیشن آگیا ٹکٹ گھر سے ٹکٹ لے کر ریلوے پلٹ فارم پر ٹرین کا انتظار کرنے لگا۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

1920